آزادئی نسواں

Spread the love


آج ایک ویڈیو سننے کا موقع ملا، اس ویڈیو میں ایک لڑکی اپنے باپ سے طوائف بننے کی خواہش ظاہر کرتی ہے، اور مختلف قسم کے آرگیومنٹ دیتی ہے، یہ ایک گروپ میں شئیر کیا گیا تھا، میں نے سوچا آپ لوگوں سے بھی شئیر کروں اور اس سماجی اور معاشرتی برائی کی طرف اشارہ کروں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے اثر و نفوذ کو بڑھاتی جارہی ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ فیسبوک نے اس پہ پراپرٹی رائٹ لگا رکھا ہے، جس کی وجہ سے اسے فیسبوک پہ شئیر نہیں کیا جاسکتا، یہ نہایت ہی دکھ کی بات ہے کہ جہاں کوئی مسلمان ذرا سا ترقی کے مدارج کو طے کرتا ہے وہ آزاد خیالی اور روشن خیالی کا حامی ہوجاتا ہے، اسے برقعہ حجاب سب ماضی کی یادگار اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ لگنے لگتے ہیں.
اس ویڈیو کو سننے کے بعد احساس ہوا کہ مغرب آزادی اور حقوق نسواں کے نام پہ عورت کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں، اللہ رب العالمین کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں، ہمارے پاس محمد عربی صلی اللہ کا لایا دین موجود ہے، اخلاقی تعلیمات ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ اس ٹائپ کا جو لٹریچر پروڈیوس کیا جارہا ہے، اس کی مسلم معاشروں تک رسائی کو ناکام بنانے کے لئے ہم بھی اسلامی لٹریچر اسی شدت سے پروڈیوس کریں، جس شدت سے ویسٹ کررہا ہے.
ایک بات دھیان میں رکھئیے، لٹریچر پہلے آتا ہے، رائے عامہ اس کے بعد بنتی ہے، جب برائی کی حمایت میں لاکھوں ویب سائٹس، میگزین، رسائل و جرائد پروڈیوس کئے جائیں گے، اور لوگ اسے ہر قدم، ہر گھڑی اپنے سامنے حاضر پائیں گے تو دھیرے دھیرے ان کے ذہن سے یہ بات نکلتی چلی جائے گی کہ یہ برائی ہے، مثال کے طور پہ آپ Seventies یا Eighties کا زمانہ دیکھئیے، ایک وہ دور تھا جب فلموں میں لڑکی کو گلے لگانا یا اس کے ساتھ فحش سین کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا، یا لڑکے یا لڑکیوں کو ایک ساتھ پڑھنا Elite طبقوں میں بھی برائی شمار کی جاتی تھی، یا اگر کبھی کہیں کوئی لڑکی یا لڑکا ایک ساتھ دکھائی دیتے تو سب اس طرح ناک چڑھاتے گویا کہ لڑکے اور لڑکی نے ایک جرم کا ارتکاب کیا ہے، معاشرہ اس کو برا مانتا تھا، مگر اب دیکھئیے، زمانہ کتنا بدل گیا ہے، اب تو فلموں اگر سیکس بھی کرلیا جائے تو معاشرہ اس کو غلط نہیں سمجھے گا.
اسی کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے “اخلاق باختہ لٹریچر کا بے انتہا پھیلاؤ”، اگر ایک بچہ بچپن سے انہیں ساری چیزوں میں گھر جائے گا، بچپن سے ڈانس، ناچ گانا کرتے دیکھے گا، اس کے گھر جو رسالے آئیں گے اس میں بے حیا تصویریں ہوں گی، یا اس کا پالا ایسی کتابوں سے پڑے گا جو اسے آزادی کی راہ دکھلائیں گی، یا جو اسے شہوانیت کو اصل زندگی سمجھنے پہ آمادہ کریں گے تو جب بڑا ہوگا تو پھر ایسے ہی مظاہر سامنے آئیں گے جو اس ویڈیو میں دکھلایا گیا ہے، اس کے پاس بھی وہی آرگیومنٹ ہوں گے، مذہب اسے دقیانوسی لگے گا، اخلاقیات اس کے لئے حماقت قرار پائے گی، اسے پتہ ہی نہیں ہوگا کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے.
لاکھوں ویب سائٹس، اخبارات اور میگزین ہیں جو دن رات برائی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں، اور ایک ہم ہیں کہ اس کے مقابل میں ذرہ برابر بھی کام نہیں ہے، یاد رہے ہم میں سے ہر فرد ذمہ دار ہے، “کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیته” کی مکمل تصویر، ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ جب وہ کوئی برائی دیکھے تو اس کے روک تھام کے لئے کام کرے، زبان کے ذریعہ، قلم کے ذریعہ، کتاب کے ذریعہ، ویڈیوز کے ذریعہ، ویب سائٹس اور نیوز پیپیرز کے ذریعہ، غرضیکہ ہر اس چیز کے ذریعہ جو فحش لٹریچر کے بہاؤ کو روکنے میں معاون بن سکیں، اس قسم کے لٹریچر کے بہاؤ کو روکنا، اور اس کے بالمقابل اسلامی لٹریچر کے بہاؤ کو تیز کرنا، نوجوان نسلوں کو دین اسلام اور اس کے اخلاقی تعلیمات سے متعارف کرانا، اس کے حدود فرائض سے آگاہ کرانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، یہاں تک کہ اگر اسے ایک آیت یا کوئی ایک اسلامی بات، واقعہ یا قصہ جو روح و ایمان کو تازہ کردے معلوم ہو تو لوگوں تک پہونچانا ضروری ہے، اور یہ کام اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگلش میں بھی ہونا چاہیئے، اور انگلش میں خاص طور سے اس وجہ سے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا جو کریم اور ایلیٹ طبقہ ہے وہ اپنے بچوں کے ہاتھوں میں بچپن سے انگلش میگزین، رسالے اور شارٹ اسٹوریز کی کہانیاں ہی پکڑاتا ہے، ضروری ہے کہ جتنی بھی مسلمانوں کی تنظیمیں، جمیعتیں اور جماعتیں ہیں، وہ انگلش اور ہندی میں بچوں کے لئے رسالے نکالیں، بھلے ہی محدود پیمانے پہ کیوں نہ ہو، اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے واقعات کو مختصر شکل دیکر دیدی زیب ٹائٹل کی شکل پروڈیوس کریں، زمینی سطح پہ کام کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ مغرب ہماری آنے والی نسلوں کو اپنے لٹریچر اور فکر کے ذریعہ مغرب زدہ بنا لے جائے، اور ہم مغرب کو کوستے رہ جائیں گے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے