ٹوپی اور برقعہ ہی نشانے پر کیوں؟

Spread the love

۱۰ اپریل ۲۰۱۸ (عزیر احمد، بلاگ)
کچھ دنوں نے پہلے ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ ہرش مندر نے انڈین ایکسپریس میں ایک مضمون لکھا، جس میں انہوں نے بیان کیا کہ کس طرح سیکولر پارٹیاں ٹوپی اور برقعے کو اپنی ریلیوں میں ناپسند کرنے لگیں ہیں، ان کو لگنے لگا ہے کہ اگر مسلمان اپنے شناخت کے ساتھ شریک ہوں گے تو ہندو ووٹ ان سے دور ہوجائے گا، مضمون میں انہوں نے ایک بڑے دلت لیڈر کے اس قول کو بھی نقل کیا کہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ "ہر ممکنہ طریقے سے ہماری ریلیوں میں بھاری تعداد میں آئیں، لیکن ٹوپی یا برقعہ پہن کے مت آئیں” اس کے جواب میں نامور تاریخ داں رام چندر گوہا نے ایک متنازعہ مضمون لکھا جس میں انہوں نے مسلمانوں کا سیاسی پارٹیوں کی ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں ٹوپی اور برقعے کی ساتھ شریک ہونے کو کمیونل بتایا اور لکھا کہ میرے نزدیک برقعے اور ترشول میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی مذہبی شدت پسندی کی علامت ہیں۔

ہرش مندر اور رام چندر گوہا کے دونوں مضامین نے ایک نیشنل ڈیبیٹ کی بنیاد رکھ دی، سیکولر، لبرل، اور اسلامسٹ غرضیکہ مختلف افکار و نظریات کے حامل لوگوں نے رام چندر گوہا کی مخالفت کی اور برقعہ کو ترشول سے تشبیہ دیئے جانے پہ افسوس کا اظہار کیا، ان تمام مضامین کو پڑھنے کے بعد ایک امید بھی بندھی کہ بی.جے.پی کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی ہندوستان میں جہاں ایک طرف رام چندر گوہا جیسے لوگ موجود ہیں وہیں دوسری طرف ایک ایسا انٹلکچول طبقہ بھی موجود ہے جو مسلمانوں کی حمایت میں کھل کے لکھ سکتا ہے، اور بول سکتا ہے، اسے یہ نہیں ڈر ہے کہ اس پہ مسلم نواز ہونے کا الزام عائد کیا جائے گا، یا اس کی ہی کمیونٹی کے لوگ اسے ڈرائیں گے ،دھمکائیں گے، سچ کے ساتھ کھڑے ہونا ہی ان کا شیوہ ہے، اور میں اگر کہوں تو شاید غلط نہ ہو کہ ہندوستان میں اگر ایسے لوگ مختلف محاذوں پہ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی حمایت یا دفاع کرنے کے لئے موجود نہ ہوں تو شاید مسلمانوں کا رہنا بالکل دوبھر ہوجائے۔

میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد لوگوں کے توجہ کو اسی سلسلے کی ایک کڑی کی طرف مبذول کرانا ہے، ابھی دو دن کی بات ہے جناب آسوتوش صاحب نے بھی ایک مضمون لکھا، یاد رہے آسوتوش صاحب عام آدمی پارٹی کے ترجمان ہیں، اس مضمون میں انہوں نے استثنائی صورت حال کے لئے استثنائی موقف اختیار کرنے کی بات کی، اور دبے لفظوں میں رام چندر گوہا کہ حمایت کی، اور یہ کہا کہ اگر ہمیں فرقہ وارانہ طاقتوں کو ہرانا ہے تو اس کے لئے یہی اسٹریٹجی اپنانی پڑے گی کہ مسلمان پبلک میں اپنی مذہبی علامتوں کے پہننے سے اجتناب کریں، اور ایسا ان سے مطالبہ کرنا صرف کمیونل طاقتوں سے لڑائی کرنے کے لئے ہے، ان کا کہنا ہے کہ آر.ایس.ایس اس اسٹریٹجی پہ کام کررہی ہے کہ وہ اسلام کو بطور دشمن ہندؤوں کے ذہنوں میں راسخ کردے، اسی وجہ سے وہ اس قسم کے پروپیگنڈے پھیلا رہی ہے کہ اسلام کے ماننے والے زیادہ متحد اور جنگجو ہیں، اور ان کا مقابلہ اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ ہندو متحد ہوں، آسوتوش کا کہنا ہے کہ جب مسلمان پبلک ریلیوں میں بھاری تعداد میں ٹوپی یا برقعے میں دکھائی دیتے ہیں تو ہندوتوا کے متعصبوں کے لئے نہایت ہی آسانی ہوجاتی ہے کہ وہ مذہبی خطوط کی بنیاد پہ لوگوں کو پولرائز کرسکیں۔ اس کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے آسوتوش نے لکھا کہ اروند کیجریوال نے 2014 میں وارانسی سے الیکشن لڑا، لیکن وہ ووٹوں کے ایک بڑے فرق کے ساتھ ہار گئے، اس ہار کی ایک وجہ مدنپورہ میں پولنگ سے دو دن پہلے ہوئے روڈ شو میں مسلمانوں کی "Visible Participation” یعنی "واضح مشارکت” تھی، آسوتوش صاحب نے اس کے علاوہ ایک دو مثالیں اور بیان کیں ہیں جیسے تری لوک پوری اور بوانہ میں فساد کے بعد عام آدمی پارٹی کا کسی بھی قسم کی موومنٹ جیسے بیان دینا یا مظلوموں کے ساتھ فوٹو وغیرہ کھینچوانے سے احتراز کرنا، نیز عاپ کی حمایت میں جامع مسجد کے امام کے ذریعہ جاری کردہ بیان کی کھلے بندوں مخالفت کرنا، تاکہ بی.جے.پی اسے مسلمانوں کی پارٹی کے طور پہ پروجیکٹ کرنے میں کامیاب نہ ہوپائے۔
آسوتوش صاحب ان مثالوں کے ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ رام چندر گوہا اپنے پوائنٹ میں صحیح ہیں، پبلک ریلیوں میں مذہبی علامتوں کو ظاہر نہ کرنے کی بات اقلیتوں کی شناخت کو دبانے کے مترادف نہیں ہے، بلکہ یہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے صرف ایک اسٹریٹجی ہے، لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس قسم کی اسٹریٹجی صرف مسلمانوں ہی کے لئے کیوں بنائی جاتی ہے، ہندؤوں سے تو کبھی مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے کہ وہ پبلک مقامات میں ہاتھوں میں کڑے یا بھگوا رنگ کے کپڑے پہن کے نا گھومیں یا اپنے ہندو ہونے کی شناخت کو نہ ظاہر کریں تاکہ کمیونل ہارمونی برقرار رہے۔
میرا اپنا ماننا ہے کہ چاہے رام چندر گوہا ہوں کا آسوتوش یا ان کے ہم خیال و ہمنوا کوئی بھی، اس قسم کے مشورے مسلمانوں کو دینا کہ وہ ریلیوں میں بغیر ٹوپی یا برقعے کے آئیں ان کے ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے، جمہوریت صرف تنہا مسلمانوں کے کندھوں پہ رکھا ہوا بوجھ نہیں ہے، یہ تو ہندوستان کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کی حفاظت اور اس کے بقاء کے لئے کام کرے، بغیر اس بات کو ذہن میں لائے ہوئے کہ دوسرے کا مذہب کیا ہے، اس کی شناخت کیا ہے، کیا پہنتا ہے، کیا کھاتا ہے، ان سب چیزوں سے قطع نظر وہ مختلف رنگوں اور مختلف پہناؤں کو قبول کرے، جمہوریت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں اختلافات و تنوعات کے ساتھ رہا جاتا ہے، ہر قوم کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شناخت کے ساتھ سر اٹھا کے جی سکے، اور اگر یہی چیز جمہوریت میں باقی نہ بچے تو پھر جمہوریت فاسد اور خراب ہوجاتی ہے۔
بی.جے.پی کو ہرانے کے لئے اسٹریٹجی بنانا ہے، ضرور بنائیے، مگر اس طریقے سے نہیں کہ مسلمان اپنی شناخت ہی کھو بیٹھیں، ہر مسلمان داڑھی نہیں رکھتا ہے، اور نہ ہی ہر مسلمان ٹوپی پہنتا ہے، اسی طرح نہ ہی ہر مسلم عورت برقعہ کا التزام کرتی ہے، لیکن اس کا مطلب نہیں کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان سے مطالبہ کیا جائے کہ جب وہ ریلیوں میں آئیں، یا کسی سیاسی اجتماع میں شریک ہوں، یا ایسے ہی پبلک مقامات پہ بھی ہوں تو ٹوپی یا برقعہ پہننے سے احتراز کریں، کیونکہ اس قسم کا مطالبہ اس Fundamental Rights "بنیادی حقوق” کی خلاف ورزی ہے جو دستور ہند نے مسلمانوں کو عطا کیا ہے۔
لوگوں کا ڈبل اسٹینڈرڈ دیکھئیے، انہیں کبھی ہمت نہیں ہوتی ہے کہ سکھوں سے مطالبہ کریں کہ آپ لوگ جب ہماری محفلوں میں آیا کریں تو اپنے پگڑی کو اتار کے آیا کریں، اپنی کرپان کو اپنے گھروں میں چھوڑ دیا کریں، نہ ہی کبھی یہ بدھسٹوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک ہی قسم کا کپڑا نہ پہنا کریں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ادھر ان کے قلم سے الفاظ نکلے ادھر سارے لوگوں کو ان کے خلاف کھڑے ہوجانا ہے، لیکن انہیں مسلمانوں کو فری کا مشورہ ضرور دینا ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ حضور والا یہ کون سی اسٹریٹجی ہے کہ ٹوپی اور برقعہ کو غائب کردو، اگر آپ کو اسٹریٹجی بنانی ہی ہے تو کچھ ایسا بنائیے کہ مسلمانوں کو اپنی شناخت غائب بھی نہ کرنی پڑے، اور ہندوستان میں جمہوریت بھی شان و شوکت سے برقرار رہے۔
آپ اسٹریٹجی بنائیے کہ ہم مختلف کمیونٹی کے لوگوں کو ساتھ میں لے کے چلیں گے، بی.جے.پی پولرائز نہ کرسکے، اس کے لئے مختلف مذاہب کے دھرم گرؤوں کو بھی ایک اسٹیج پہ لے آئیں گے، اگر ایک طرف داڑھی والے ہوں گے، تو دوسری طرف ہندو بھائی بھی اپنے ظاہر اور واضح مذہبی علامتوں کے ساتھ ہوں گے، محبت، اخوت اور بھائی چارہ کی بولی بولیں گے، کمیونل طاقتیں لاکھ توڑنے کی کوشش کریں، پروپیگنڈہ پھیلائیں یا جھوٹ کا سہارا لیں، لیکن ہم ہر ممکنہ حد تک ان کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھنے کی کوشش کریں گے، یہی سیکولر پارٹیوں کی اسٹریٹجی ہونی چاہیئے اور یہی ذمہ داری بھی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ یہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں کھلے دل سے مسلمانوں کو قبول نہیں کرتی ہیں، بلکہ ان کا استعمال صرف ووٹ بینک کے طور پہ کرتی ہیں، اسی لئے ان کے لئے سب سے آسان یہی لگتا ہے کہ مسلمانوں کی شناخت کو اپنی پارٹیوں کے اسٹیج سے ختم کردو، ہندو ووٹ ہماری طرف متوجہ ہوجائے گا، مسلمان بیچارے ویسے بھی سیاسی طور پہ یتیم ہیں، وہ جائیں گے کہاں، ان کو تو لا محالہ ہمیں ہی ووٹ دینا ہے ورنہ بی.جے.پی آجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے