سیاست کا مطلب کیا؟

Spread the love


ڈاکٹر سعد احمد
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
ہم اُس دور میں تقریباً سو سال پہلے ہی داخل ہو چکے تھے جب خاص طور کے لوگوں کی تمام باتوں کو فکرِ نو کی سپرد کر دینا بہت ضروری تھا۔ فکر نو کی بنا تو رکھی گئی تھی جسمیں تمام دور بیں اور دور اندیش لوگ شامل تھے مگر اس کو آگے بڑھانے والے مزید بڑھنے کے بجائے ہر روز کم ہوتے رہے۔ فکرِنو وہ تمام ارادے اور کوششیں تھیں جس کی بنیادیں زمین سے جڑی تھیں۔ زمین سے جڑنے کا مطلب یہ تھا کہ ہر وہ مخلوق جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے اس دل میں ایک عام مسلمان اور علماء کی عظمت بیٹھی ہوئی ہو۔ یہ عظمت اس باخبری کی وجہ سے تھی جس کی وجہ سے وہ یہ جانتے تھے کہ کاز اور مقصد کے لئے جینا ہر مسلم کا منشور ہے، ہر مسلمان کا معمول ہے۔ اس بات سے تمام ہندوستانی واقف تھے، تاریخی طور سے اس کا مشاہدہ کرتے آرہے ہیں۔ آج ایک سِکھ کا سکھ وجود غیرت، سچائی اور دھارمک اصولوں کی پابندی کے لئے جانا جاتا ہے۔ کبھی مسلمان وعدہ وفانبھانے کے لئے اور عہد و پیمان پہ قائم رہنے کے لئے بھی جانے جاتے تھے۔ہندوستان کے دور دراز دیہاتوں میں آج بھی اس کی بازگشت ملتی ہے۔ ہندوستانی مٹی یہی جانتی تھی ترک (مسلم) کبھی اپنے وعدے سے نہیں پھرتے۔
پچھلی کئی دہائیوں سے بالخصوص ہندوستان اور مذہبی سوچ کے حوالے سے پیٹرو۔ڈالر کے بارے میں بڑی دلچسپ حقیقتوں اور افواہوں کا ہم مشاہدہ کر رہیں ہیں۔ اس کے کئی نکتے بھی ہیں۔ پہلا نکتہ یہ کہ مسلمان عالمی پیمانے پہ دو قسم کی دینیاتی۔سامراجی جد وجہد میں بٹ چکا ہے جس میں سعودی عرب اور ایران کا مرکزی کردار ہے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ اب مسلم معاشروں کی دینیاتی تشکیل اس طور سے ہورہی ہے جس میں یا تو وہ نظام موافق سنی ہوں گے یا پھر تحریک موافق سنی۔شیعہ۔ ان دو وجہوں سے سب سے بڑا نقصان یہ رہا کہ مسلمان بالخصوص برصغیر میں یا ہندوستان میں ان تمام اصطلاحات اور حقیقتوں کا انکاری ہو گیا جس میں وہ رہتا ہے۔ گر چہ آزادی سے پہلے مسلمان کے لئے جدید دور، سیکولرزم اور نظری جمہوریت سے کوئی خاطر خواہ پریشانی نہیں تھی مگر اچانک آزادی کے بعد ان تمام اقدار کو اپنانے اور جینے میں وہ اس قدر سست رو کیوں ہو گئے ؟ بجائے جمہوریت کے اصولوں کو اسلامی اصولوں سےگفت شنید کرنے کے انہیں اسلام کی سیاسی اصطلاحات مثلا خلافت اور شریعت کی فکر زیادہ کیوں ہونے لگی ؟ یہ رجحان مسلم سوچنے سمجھنے والے طبقے کے اندر کیوں آیا؟ پچھلی تین دہائیوں سے سب سے بڑا نقصان جو محسوس کیا جارہا ہے وہ ہندوستانی علماء کا معاشرتی جواز کم سے کم ہو نے کے تعلق سے ہے۔ معاشرے سے علماء اور مدارس دور ہوگئے۔ بلکہ یہ کہہ دیا جائے کہ مسلم علماء کا اب معاشرے میں کوئی جواز ہی نہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ اب یہ اندازہ کیا جانے لگا گویا مدارس کی تعلیم صرف اسلام کے ضروری ارکان (طلاق، طہارت کے فتوے، امامت، جنازے) کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ وہیں مدارس بنا کسی خارجی اظہار کے مجہول طریقے سے دو۔دینیاتی (جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا) تصور کو ڈھونے کے ادارے بھی بنے رہے۔ انہیں حقیقت کی دنیا جسمیں آج برصغیر کے مسلمان جی رہے ہیں اس سے خاطر خواہ غرض نہیں (ظاہرا)۔ لہذا اسٹیٹ جو کہ اپنی ساخت میں سیکولر ہے اسے تعلیم و تعلم کے ان اداروں اور تہذیبی بیک گراونڈ پہ انگلی اٹھانے کے کافی مواقع ہاتھ آجاتے ہیں اور اس کے پاس پہناوے کی بنیاد پہ بغاوت کے بین الاقوامی سیاق کو جوڑنے کی بہترین دلیلیں ہوتی ہیں ۔
کیا مسلمان ’معاشرتی برہمچاری‘ ہیں؟
معاشرتی برہماچاری سے مراد یہ ہے کہ کیا مسلمان معاشرے سے قریب ہونے اور مہیا سیاست کے مخالف ہے یا نہیں۔معاشرے میں ہونے کی ایک شرط اور ضرورت سیاسی ہونا بھی ہے۔ یعنی انسان حیوانِ ناطق ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی حیوان بھی ہے۔ معاشرے کا پہلا طبقہ سوچنے والا طبقہ ہوتا ہے۔ دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی مسلم معاشرے کا پہلا طبقہ سوچنے والے کو کہا جاتا ہے۔ مدارس کا وجود اسی کام کے لئے ہے کہ وہ سوچے کیسے اس کی دینیات اور تصور ہر روز کی زندگی سے متعلق ہے۔ کیسے ہر روز لوگ زندگی گذارتے ہیں اور کیسے ان سے جڑا جا سکتا ہے۔ معاشرے میں رہنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہر معاشرہ اگر اپنے اصولوں کی وجہ سے دوسرے سے الگ ہے تو کچھ بود و باش اور کچھ اقدار کی وجہ سے ایک دوسرے کے مثل بھی ہے۔ لہذا ان میں باہم ربط رہتا ہے ، کبھی بہت گہرا ہوتا ہے اور کبھی بہت ہلکا۔ معاشرے میں ایک دوسرے سے یا تو انسانیت کی وجہ سے تعلق گہرا کرتے ہیں یا سیاست کی وجہ سے۔ ایک معاشرے کا تعلق دوسرے معاشرے سے اگر خراب ہوتا بھی ہے تو وہ بھی سیاست کی وجہ سے مگر انسانیت کی وجہ سے نہیں۔اس کے برعکس سیاست سے تعلق ختم کر لینا یہ کسی بھی معاشرے کےلئے اچھا نہیں۔آپ اگر غیر سیاسی انسان یا غیر سیاسی مسلمان ہیں تو آپ معاشرتی برھمچاری ہیں ،جس کی ضرورت بہت اعلی درجے کے بالغ افراد کو پڑتی ہے اور ایسے لوگ جنگلوں میں پائے جاتے ہیں۔ پٹرو۔ڈالر کی حقیقتوں نے ایک برا اثر ہندوستانی مسلمانوں پہ یہ ڈالا ہے کہ وہ زمین کی ساسیت اور زمین پہ رہنے کی معنویت کو کم اہمیت دینے لگے ہیں، وہ ان چیزوں کے پیچھے بھاگنے لگیں ہے جس کی کوئی زمینی اور ماددی حقیقت نہیں۔
خلافت مر چکی ہے!
ہندوستان کے مسلمان اس بات سے واقف ہیں کہ خلافت مر گئی یعنی اب خلافت کی بات کرنے سے زیادہ جمہوریت کی بات کرنا ضروری ہے ۔ آج کی حقیقت جمہوریت ہے خلافت نہیں۔ مجنونانہ اور مکمل طور سے غیر عقلی حرکت کر کے کوئی بھی مردہ چیز کو زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مردہ شئی کو زندہ کرنے کے قواعد سے آپ واقف ہیں تو پھر اس کی عملی ترکیبیں بھی ہوں گی جسے خلافت کی بات کرنے والے چھپا جاتے ہیں۔ مسلم علماء نے بنا خلافت کے سیاسی ہونے کے موڈل اور امکانات پہ بھی بحث کیا ہے۔ لہذا، جہاں خلافت، سلطنت، اسلامی حکومت کے نام کا چلن نہیں وہاں بھی مسلم سیاست کا وجود ہے۔ موجودہ دور میں خلافت کے سارے نعرے دراصل مسلم ذہن کو بلیک میل کرکے ”جذباتی مکر“ میں پھنسانے کا عمل ہے جسکےبعدہرمسلمان کو پوری دنیا سازشی محسوس ہوتی ہے۔ اسلام کی ان تاریخی سیاسی اصطلاحات کا استعمال مسلمان کو حقیقت کی دنیا سے ایک چٹکی میں کاٹ دیتا ہے۔
شریعت کہاں رہتی ہے؟
شریعت کا مسئلہ دراصل اتنا آسان نہیں جتنا ایک عام شخص، سیکولر ذہن یا اسلام پسندوں کو لگتا ہے۔آسان جملوں میں شریعت قرآن و احادیث کی تشریحات کا نام ہے وہیں اسے اسلامی قانون بھی کہا گیاہے، اسمیں قیاس اور اجماع جیسے فقہ کے اہم میتھڈ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں منزل من اللہ احکامات اور ان کے ذریعے سے عوام الناس کے معاملات کو مخاطب کرنا ، عدل قائم کرنے کی ترکیبیں ڈھونڈنا اور عوام اور خدا سے ایک تعلق کو بیان کرنے کو شریعت کہا جا سکتاہے۔( تعریف کےلئے علماء سے رابطہ کریں)۔ موجودہ دور میں زیادہ تر مسلم ممالک میں سیکولر قانون اور شرعیہ کے قانون ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ خلیجی ممالک اور سعودی عربیہ میں شرعیہ پر عمل پیرا ہونے کے لئے اول صدی میں مقننین کے بیان کئے گئے اصولوں پہ کمربند ہونے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں قومی قانون کامل طور سے کوڈیفائیڈ نہیں ہے اور ان کی تشریح کے لئے علماء کی خاصی ضرورت پڑتی ہے۔ ایران بھی ایک حد تک اول صدی والے اصولوں یا کلاسیکی شرعیہ کو مانتا ہے مگر اسکے قوانین کوڈیفائیڈ ہیں ۔ شریعت کہاں رہتی ہے یہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اسے ایپلائی کرنے کی بات کی جاتی ہے، مثال کے طور پرایک طرف اسلامی اسکالرس ہیں جو اسلام کے اصول کو مد نظر رکھ کر اسے ایپلائی کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف جدید مسلم مفکرین یہ چاہتے ہیں کہ شریعت کو نافذ کرنے کے لئے جدیدیت کے پیدا کئے گئے اقدار مثلا، حقوق کی بحثیں، مساوات، عقلیت، شہری حقوق، جمہوریت،قومیت اور ترقی کو مد نظر رکھنا چاہیے۔وہ ممالک جہاں مسلم اقلیتیں ہیں وہاں مسلم پرسنل لاءبھی عمل میں ہیں جس کی بڑی مثال اسرائیل اور ہندوستان ہیں۔ مختصر جملوں میں یہ جان لیں کہ شریعت صحیح اور غلط، اچھی اور بری طرز حیات کے لئے جہاں ایک طرف ہدایت نامے مہیا کرتی ہے وہیں بنیادی حقوق کو سمجھنے کے لئے واضح سانچہ بھی دیتی ہے۔ اب بات یہ پیدا ہوتی ہے کہ شرعیت کی بات کرنے والے اور اسے ہمیشہ اپنی زندگی کا ایک حصہ ماننے والے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ شرعیت کو عین حقیقت بنانے کے لئے ایک خاص سیاسی خلافت نامی سیاق چاہیے تو ایسا کرنے اور سوچنے کی کوشش برابر نفسیاتی صورتحال پیدا کرتی رہے گی۔ مسلمانوں کی حقیقی جدوجہد دو۔دینیاتی دھڑ میں بٹنے کی وجہ سے بدتر ہی نہیں بلکہ بدصورت بھی ہوگئی۔ شریعت کا تعلق یہود و نصارٰ کی دینیات سے بھی انتہائی گہرا ہے وہیں عرب کلچر، ان کی روایت اور تراث سے بھی ہے۔ اس عمل میں مستشرقین نے رومی تصور قانون کی اہمیت کو بھی ضروری بتانا چاہا ہے۔ اس تعلق سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ شریعت اسلامی تمام شہریوں پہ ایپلائی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟تو ہندوستان میں اورنگزیب وہ شخص ہیں جنہوں نے اسے تمام شہریوں پر نافذ کرنے کی کوشش کی مگر ان کی اس کوشش سے کئی طرح کی بغاوتیں جنم لینے لگیں۔
شہریت کیا ہے ؟
شہریت دراصل وہ قانونی حیثیت ہے جسکا کوئی شخص متحمل ہوتا ہے اور کسی خود مختار ملک کا فرد یا ممبر تصور کیا جاتا ہے۔ بعض مغربی ریسرچرز کہتے ہیں کہ شہریت آزادی کا سب سے اعلی معیار ہے۔ علم سیاسیت میں شہریت کے تصور کی پوری تاریخ بیان کی جاتی ہے جسکا تصور سلطنت روما میں خاصہ نکھر کر آیا تھا۔ دنیا کے دیگر ممالک تصور شہریت کے لئے مختلف معیار وضع کرتے ہیں۔علم سیاسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ شہریت کا تصور تین عناصر سے بنتا ہے۔ پہلا کلی طور سے قانونی ہے جسے شہری ، سیاسی اور سماجی حقوق کے ذریعے سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک شہری حرکات و سکنات اور قانون سے حفاظت کی درخواست کرنے کے لئے آزاد ہے۔ دوسرا عنصر ایک شہری ایک سیاسی فرد یا پالیٹکل ایجینٹ کے طور سے مانتا ہے جو معاشرے کے سیاسی اداروں میں فعال ہوکر اپنی خدمتیں انجام دیتا ہے۔اور تیسرا عنصر کا مطلب شہری کے بطور ایک سیاسی طبقے کا فرد ہونے کی حیثیت سے طے ہوتا ہے جو ایک الگ ہی طرح کے تشخص کا ذریعہ ہے۔ ان تینوں عناصر کے درمیان تعلق بہت گہرا ہے یعنی اگر شہری اپنے حقوق سے محظوظ ہوتا ہے تو بہت سیاسی کاروئیوں کی تشریح بھی کرتا جاتا ہے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی بیان کرتا ہے کہ کیسے شہریت اس کی خود کے احترام کرنےکے عمل میں ایک نئے تشخص کے پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہے (جان رالز، ۱۹۷۲، ص ۵۴۴)۔ ایک مضبوط شہری (سِوِک) تشخص دوسرے شہریوں کے معاشرے کی سیاسی زندگی میں حصہ لینے کے لئے برابر متاثر کرتا رہے گا۔
سیکولر اور سیکولرزم کا مسئلہ:
مسلم علماء اور مفکرین میں سیکولرزم سے متعلق بڑی غلط فہمیاں بھی ہیں۔ جس طرح ایک مسلمان جب اسلام کے اصولوں پر ”سختی“ سے کاربند ہونا شروع ہوتا ہے تو اپنے آپ کو عرب کے اول درجے کے علماء سے بڑھا ہوا پاتا ہے ،اسی طرح مفکرین اور دانشمند علماء شئی کی تفہیم میں امپورٹ ایکسپورٹ کے نکتے کو غالبا اپنا لیتے ہیں۔ اس معاملے میں عرب ممالک میں سیکولرزم کے تجربات خاصے جارحانہ رہے ہیں۔ عرب ممالک میں سیکولرزم کی نظریاتی تفہیم اسلام مخالف باور کرائی جاتی ہے۔ لہذا جیسے ہی ایک مولوی یا عالم یا علامہ سیکولرزم کا نام سنتے ہیں بحث کو فورا جنتی دینیات کی طرف کر دیتے ہیں چاہے وہ عرب اور یورپ کے لے علاوہ کسی اور ملک میں ہوں۔ اس کے برعکس آپ یہ جان لیں کے معاشرتی علوم کے ماہرین، بالغ نظر علماء اور قانون دانوں کے نزدیک ہندوستان میں سیکولر اور سیکولرزم کی بحثیں یورپ اور عرب دونوں سے مختلف ہیں۔ ہندوستان میں سیکولرزم دراصل ایک شہری کا سیاسی اختیار ہے۔ یہاں، سیکولر اقدار کی پاسداری میں علماء سب سے زیادہ شریک رہے ہیں اور یہ شرکت دینی سیکولرزم کو بتاتی ہے۔ لہذا،شہریت کی تمام جدوجہدجسمیں پروٹسٹ، مظاہرے اور امن کے ساتھ اپنی مانگیں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں یہ دراصل وہ عمل ہیں جو خالص آئینی، سیکولر، ملک موافق، قوم موافق اور انسانیت موافق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے