یورپین یونین کے 27ارکان پارلیمان کا دورہ جموں کشمیر: چند اہم گوشے

Spread the love


کاشف شکیل
(مختلف ویب سائٹس سے ان پٹ کے ساتھ)
یوروپین یونین کیا ہے؟:

یورپی اتحاد ( European Union) براعظم یورپ کے28 ممالک کا اتحاد ہے۔ اس کے قیام کے پیچھے اقتصادی و سیاسی مقاصد ہیں۔ اس کے 28 میں سے 18 رکن ممالک یوروکرنسی استعمال کرتے ہیں۔ یورپی ممالک کوسیاسی و اقتصادی طور پر متحدکرنے کے لیے اور یورپ کو کسی تیسری جنگ سے بچانے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے برابر اقتصادی قوت بننے کے لیے مشترکہ اقتصادی قوت تخلیق کرنا۔دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے ممالک پرامن انداز میں رہنا اور ایک دوسرے کی معیشت کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ 1952ء میں مغربی جرمنی، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ نے کوئلے و اسٹیل کی واحد یورپی کمیونٹی تشکیل دی۔1957ء میں اس کے رکن ممالک نے اطالوی دارالحکومت روم میں ایک اور معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے یورپی اقتصادی کمیونٹی تشکیل دی۔ اب یہ کمیونٹی کوئلے، اسٹیل اور تجارت کے لیے تھی۔ بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے یورپی کمیونٹی رکھ دیا گیا۔1992ء میں معاہدہ ماسٹرچٹ کے تحت اس کا نام یورپی یونین رکھا گیا۔ اب یہ ممالک نہ صرف سیاست اور اقتصادیات میں بلکہ دولت، قوانین اور خارجی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ شینجن معاہدے کے تحت 13 رکن ممالک نے اپنی سرحدیں ایک دوسرے کے لیےکھول دیں اور اب ان کے باشندے بغیر کسی پاسپورٹ یا ویزے کے ان ممالک کے درمیان سفر کرسکتے ہیں۔ 2002ء میں 12 رکن ممالک نے اپنی قومی کرنسیوں کی جگہ یورو کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ 2004ء میں 10 اور 2007ء میں 2 نئے ممالک نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔ 2014ء میں کرویئشا نے شمولیت اختیار کیا۔ اب یورپی یونین کے کل ارکان کی تعداد 28 ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک کا کوئی بھی باشندہ تنظیم کے کسی بھی رکن ملک میں رہائش اختیار کرنے کے علاوہ ملازمت، کاروبار اور سیاحت کر سکتا ہے اور اس کے لیے اسی پاسپورٹ، ویزا یا دیگر دستاویزات کی کوئی ضرورت نہیں۔ بالکل اسی طرح کسی ایک ملک کی مصنوعات بھی دوسرے ملک میں کسی خاص اجازت یا اضافی محصولات کے بغیر معیاری مصنوعات کے قانون کے تحت فروخت کی جاسکتی ہیں۔
یورپی یونین کے ممبران اسمبلی کو وادی کے دورے کی دعوت کس نے دی؟
این ڈی ٹی وی کو موصولہ خصوصی معلومات کے مطابق مادی شرما نے یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ کو دورہ کرنے کے لیےای میل کے ذریعہ دعوت نامہ بھیجا تھا۔جوایک غیر سرکاری تنظیم بنام ’’ویمن ایکو نومک اور سوشیل تھینک ٹینک(ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی)‘‘ چلاتی ہیں۔ انھوں نے ہی یوروپی اتحاد کے ممبران کے جموں اور کشمیر میں جاری کشیدہ حالات کے درمیان ایک روزہ دورے کا انتظام کیاہے۔کانگریس ترجمان منیش تیواری نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ”یہ یوروپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ جنھوں نے جموں اورکشمیر کادورہ کیاہے۔ اس کی حقیقت بڑی دلچسپ ہے او ریہ پراسرار این جی او‘ ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی کون چلاتا ہے جس کی مدد سے دور ہ او راس کی میزبانی کی گئی ہے۔ کوئی جانکاری ہے؟؟۔ کوئی اندازہ نہیں یہاں پر۔ـ
انڈیاٹوڈے نے حقائق کی جڑتک پہنچانے کاکام کیاہے۔انڈیاٹوڈے کی جانچ میں دستیاب سرکاری ریکارڈس سے اس بات کاپتہ چلا ہے کہ ڈبلیوای ایس ٹی ٹی چھ سال قدیم این جی او ہے۔مذکورہ غیرمنافع بخش تنظیم کاراجسٹریشن 19ستمبر2013کو سیکشن 4برائے ای یو تھینک ٹینک اینڈ ریسرچ ادارے کے“ زمرے میں ہوا ہے۔اپنی جانب سے این جی او دعوی کرتی ہے کہ 14ممالک میں اس کی نمائندگی ہے مگر انڈیاٹوڈے کو جانکاری ملی ہے کہ اس بجٹ نہایت کم ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر اپریشن کی انجام دہی کرسکے۔ای یو کے سرکاری ریکارڈس کے مطابق جو پچھلے معاشی سال کے دوران ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی کو جملہ فنڈس حاصل ہوئے ہیں وہ ایک اندازے کےمطابق 19لاکھ ہیں۔ مذکورہ غیرمنافع بخش ادارے کو سالانہ فنڈایک ہی شخص سے ملتا ہے۔ریکارڈس میں این جی او کے بانی/ڈائرکٹر کی شناخت بھی ماڈی شرما عرف مدھو شرما نام سے ہوئی ہے۔ ہند نژاد اس برطانوی شہری مادھوکا دعویٰ ہے کہ وہ سموسے تیار کر کے فروخت کرتی تھی اور اب وہ ایک ایسی این جی او کی ڈائرکٹر ہے جو جنوبی افریقہ ، یورپی ممالک اور ہندوستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا دعوی کرتی ہے۔مذکورہ این جی او نے دعوی کیا ہے کہ اس کے نمائندے اور اراکین مختلف ممالک میں ہے جس میں بلجیم‘ کروشیا‘ فرانس‘ پولینڈ‘ مذکورہ یو کے‘ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ چین‘انڈیا‘ نیپال‘ پاکستان او رترکی جیسے ممالک شامل ہیں۔مگر ریکارڈس سے ظاہر ہے کہ تنظیم کی ٹیم پانچ لوگوں پر مشتمل ہے‘ ان میں سے ایک ہی مکمل وقت دے رہے ہیں باقی عالمی سطح پر مختلف جگہوںپر رضاکارانہ طور پر کام کررہے ہیں۔
یورپی یونین کےوفد کی ہندوستان آمد
جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ختم کرنے کے بعد ریاست کے تازہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے یورپی یونین کے 23 رکنی پارلیامان کا ایک وفد منگل کو سرینگر پہنچ گیا۔ افسروں نے بتایا کہ دو روزہ دورے پر آئے ای یو رکن پارلیامان کو سرکاری افسران وادی کے حالات کے علاوہ جموں و کشمیر کے دیگر حصوں کی حالت کے بارے میں جانکاری دیں‌گے۔ یہ وفد سماج کے مختلف طبقوں سے بھی بات چیت کر سکتا ہے۔افسروں نے بتایا کہ اس وفد میں بنیادی طور پر 27 رکن پارلیامان کو ہونا تھا، لیکن ان میں سے چار کشمیر نہیں آئے۔ بتایاجاتا ہے کہ یہ رکن پارلیامان اپنے اپنے ملک لوٹ گئے۔ جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹری ریاستوں میں تقسیم کرنے کے بعد یہ پہلا غیر ملکی وفد کشمیرکے دورے پر آیا ہے۔اس بیچ شہر پوری طرح سے بند ہے اور وادی اور سرینگر کے الگ الگ حصوں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں چار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ یورپی رکن پارلیامان کے ان ممبروں نے اپنے دو روزہ کشمیر دورے کے پہلے،سوموار کو وزیر اعظم نریندر مودی سے نئی دہلی میں ملاقات کی تھی۔ وزیر اعظم مودی نے ان کا استقبال کرنے کے ساتھ امید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر سمیت ملک کے دیگر حصوں میں ان کا دورہ کامیاب رہے‌گا۔ پی ایم او نے ایک بیان جاری کرکے کہا، ‘ اس دورے سے وفد کو جموں، کشمیراور لداخ کی ثقافتی اور مذہبی تنوع کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملے‌گی۔اس کے ساتھ ہی وہ اس علاقے کی ترقی اور حکومت سے انتظامیہ سے متعلق ترجیحات کی صحیح حالت سےواقف ہوں‌گے۔ ‘قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے مہمانوں کو دوپہر کی دعوت دی اور ان کو جموں و کشمیر کے حالات کی جانکاری دی تھی۔ کچھ ہفتہ پہلے امریکہ کے ایک سینیٹر کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
کشمیر میں آنے والےیوروپی یونین کے ممبران اسمبلی کا تعارف :
پہلے تو ہم قارئین کو یہ بتاتے چلیں کہ یہیوروپی یونین کا کوئی سرکاری دورہ نہیں ہے یہ لوگ مودی حکومت کے بلاوے پر آئے ہیں اور اس دورے کے پیچھے معروف بزنس بروکر مادی شرما کا ہاتھ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان تمام ارکانِ پارلیمان کا تعلق یورپ کی دائیں بازو کی جماعتوں سے ہے۔ ان میں سے کچھ کا تعارف یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو اندازہ ہوسکے کہ یہ ایم پی کس نظریہ کے حامل ہیں اور یہ عملی زندگی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔کچھ دن قبل فرانس میں ایک مسجد پر حملہ ہوا جس میں دو 80 سالہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان دونوں افراد کا تعلق اُسی پارٹی سے ہے جس کے پانچ ارکان اسمبلی اس وقت مودی گورنمنٹ کی طرف سےدورہِ کشمیر پر مامور ہیں، اور ان سب کا تعلق نیشنل ریلی کمپین سے ہے۔ ان پانچ ارکان کے نام درج ذیل ہیں:1- جولی لیکھنٹکس 2- میکذتے پرباکاس۔ 3- ورجینیے جوران۔ 4- فرینس جیمٹ 5- نکولاس بے۔

یہ تمام لوگ فرانس میں مسلمان امیگریشن کے خلاف ہیں خصوصاً جو عرب اور افریقہ کے مسلمان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ پردے پر پابندی لگائی جائے اور فرانس میں نقاب پر پابندی لگانے کی مہم چلانے کا سہرا بھی اسی پارٹی کے سر جاتا ہے۔2018 میں الجزیرہ نیوز کی انویسٹیگیشن ٹیم نے اس بات کا کھوج لگایا تھا کہ نیشنل ریلی اور یورپ میں موجود اسلام مخالف تنظیمیں جوکہ یورپ سے مسلمانوں کی بے دخلی کے لیے سرگرم عمل ہیں، ان کے آپس میں روابط ہیں۔اس کے بعد انگلینڈ سے شامل ہونے والے چار ارکان یہ ہیں:
1- ڈیویژن ریچرڈ بُل 2- ایلگزینڈر فیلپس 3- جیمز ویلز 4- نیتھن گِل۔
نیتھن گِل برطانوی سیاست دان نائجل فراج کی نیو بریکسٹ پارٹی کا حصہ ہیں اور ان کا خاصہ ہے مسلمانوں کے خلاف اشتعال اور نفرت انگیز بیانات اور تبصرے کا کھل کر اظہار کرنا۔اٹلی سے ایک رکن جیانس جینسیا شامل ہیں جو لیگا نارڈ سے منسلک ہیں اور ان کی پارٹی تارکینِ وطن کے خلاف نفرت اور اینٹی امیگرنٹ کمپین کے لیے مشہور ہے۔بیلجیم سے ٹام وینڈن ڈریشے جن کا تعلق ولام بیلانگ نامی جماعت سے ہے اور ان کی پارٹی خود کو بہت بڑا اسرائیلی حمایتی تصور کرتی ہے اور ان کے مطابق یہ پارٹی اسرائیل کے ساتھ مل کر ریڈیکل اسلام مختلف مہمات چلانے میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔جرمن کی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم اے ڈی ایف سے دو رکن شامل ہیں جن کے نام برین ہارڈ زمنوئیک اور لارس پیٹرک برگ ہے یہ بھی مسلمانوں کے اور تارکینِ وطن مہاجرین کے خلاف جرمنی میں سرگرم ہیں۔سپین VOX سے ہیر من ٹارٹش شامل ہیں جہنوں نے سپین سے دس ہزار مسلمان مہاجرین کو ملک بدر کروایا۔ پولنگ سے تعلق رکھنے والے چار پارلیمنٹیرینز کے نام یہ ہیں:1 ۔کوسوموزو لوٹووسکی 2۔ بوگڈن ریزونس 3- جوونا کوپسنسکا 4- گرزیگورز توبووسکی۔ان سب کا تعلق لا اینڈ جسٹس سے ہے۔ان کی تنظیم پی آئی ایس پولینڈ میں مہاجرین کے خلاف ایک شرمناک پروپیگنڈا میں مصروفِ عمل ہیں اور ان کی تنظیم کے نظریات کے مطابق مہاجرین اپنے ساتھ انفیکشن اور بیماریاں لے کر آئیں گے جو ہمارے لوگوں میں پھیل سکتی ہیں۔یہ تو ان ارکانِ پارلیمان کا ان کے اپنے ممالک میں سیاسی کردار ہے جو مودی جی سے کافی ملتا جُلتا ہے۔جیسے مودی جی اپنے ملک میں فاشسٹ، نسل پرست اور انتہا پسندی کے لیے جانے ہیں ویسے ہی ان ارکانِ پارلیمان نے اپنے ملک میں دوسری اقوام کے خلاف نفرت اور نسل پرستی کو ہوا دی ہے۔
وفد کے دورۂ کشمیر کا مقصد؟:
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ مودی جی کا پبلسٹی اسٹنٹ ہے اور دنیا کو یہ بتانا کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔دراصل کشمیر میں آج کرفیو کوپورے 86 روز ہو گئے ہیں۔ مواصلاتی نظام سے لے کر تعلیمی اور معاشی نظام سب کچھ میں درہم برہم ہے۔ بیرونِ ملک کشمیری اپنی عزیزوں سے رابطے کے لیے ہر دم پریشان ہیں۔ ہسپتالوں اور میڈیکل سٹوروں کی حالتِ زار قابل رحم ہے۔اُوپر سے مودی گورنمنٹ نے تمام لوکل، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر کشمیر کے اندر رپورٹنگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی انڈیا کی جانب سے پابندی عائد ہے اور اتنی پابندیوں میں گنے چُنے افراد کو کشمیر لے جا کر اپنی آرمی کے ہائی آفیشلز اور پنچائت کے ارکان سے اُن کی ملاقات کروا رہی ہے جبکہ اُسی موقع پر کشمیر کے اندر سری نگر میں شدید قسم کے مظاہرے ہو رہے ہیں اور مختلف علاقوں سے پتھر بازی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔اسی اثنا میں یو این کا کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا اور یوروپین پارلیمان کی جانب سے بھی ان 27 ارکان کے دورہ کشمیر سے لاتعلقی کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔یاد رہے کہ راہل گاندھی کو 24 اگست کو سری نگر ایئرپورٹ سے واپس دہلی بھیج دیا گیا تھا اور وفاقی حکومت کی طرف سے اُنھیں کشمیر میں عام لوگوں سے ملنے کی اجازت تو دُور اُنھیں ایئرپورٹ سے باہر آنے کی بھی اجازت نہ ملی تھی۔ وہیں اگر ہم دیکھیں کہ کانگریس کے ایک اور فعال رکن پارلیمان غلام نبی آزاد کو بھی ایئرپورٹ سے واپس دہلی بھیجا گیا مگر وادی میں جانے کی اجازت نہ دی گئی۔جب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انڈیا کی سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں رکھتیں وہیں ان حالات میں ان ارکانِ پارلیمان کو ذاتی حیثیت میں کشمیر بلانا اور وہ بھی اُس دن جس دن کشمیر میں میڑک کا پہلا پیپر تھا۔اس کا مقصد تو ان لوگوں کو تعلیمی اداروں کی سیر کروانا ہے تاکہ انہیں باور کروایا جائے کہ کشمیر میں تعلیمی نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ امتحانات اپنے وقت پر ہو رہے ہیں جبکہ دنیا جانتی ہے کہ 86 دن سے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند پڑی ہیں۔ کیونکہ والدین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچے سکول بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ فون سب بند ہے تو ہم اپنے بچوں کی خیریت کیسے دریافت کریں گے؟

یوروپین یونین ممبران پارلیمنٹ کا بیان:
یوروپین یونین ممبران پارلیمنٹ کی ٹیم نے بدھ کو پریس کانفرنس کر کے کہا کہ بھارت ایک پرامن ملک ہے اور کشمیر کے لوگوں کو بھارت سے کافی امیدیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اس دورے کو سیاسی چشمے سے دیکھا جانا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ ہم صرف یہاں حالات کا جائزہ لینے آئے ہیں۔ آرٹیکل -370 اور 35 اے کو جموں و کشمیر سے ہٹائے جانے پر ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اس کے بعد کشمیر میں امن و ترقی کا دور شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کو امن قائم کرنی ہے تو دونوں ممالک کو آپس میں بات چیت کرنی ہوگی۔ ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ اس دورے کے دوران ہمیں وادی کشمیر میں رہنے کا زیادہ وقت نہیں ملا اور اس دوران ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں نے نہیں مل پائے۔یوروپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے مسئلے پر بھارت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ اسی درمیان انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ یورپی پارلیمنٹ میں اپنے کشمیر دورے کی رپورٹ پیش نہیں کریں گے۔ اس دوران یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ نے اسد الدین اویسی کے بیان پر کہا کہ ہم لوگ نازی وادی نہیں ہیں، امن مذاکرات کے حق میں ہیں۔ اگر ہم ایسے ہوتے تو ہمیں کبھی منتخب نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے نازی لفظ کے استعمال پر بھی اعتراض کیا۔ بتا دیں کہ اسد الدین اویسی نے یوروپی ممبران پارلیمنٹ کا مقابلہ نازی لورس سے کرتے ہوئے ان پر حملہ بولاتھا۔

کشمیر دورے پر آئےیوروپی یونین کے رکن پارلیمنٹ نکولس فیسٹ نے حکومت پر تنقید کی: یوروپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ کے کشمیر دورہ پر اٹھ رہے سوالوں کے درمیان یوروپی یونین کے ایک رکن پارلیمنٹ نکولس فیسٹ نے بڑا بیان دیا ہے۔ فیسٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کو بھی کشمیر دورہ کی اجازت دیں۔ نکولس فیسٹ نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ اگر آپ یوروپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ کو کشمیر جانے دیتے ہیں، تو آپ کو ہندوستان کے اپوزیشن لیڈران کو بھی ایسا کرنے دینا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ عدم توازن ہے اور اس کا حل مودی حکومت کو تلاش کرنا چاہیے۔
یوروپی یونین کے ممبران اسمبلی کے دورے پر سیاسی کے تبصرے:

سبرامنیم سوامی: بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنیم سوامی نے کہا کہ یہ ہماری قومی پالیسی کے برعکس ہے۔ سوامی نے اس دورے کو ردکرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا، ‘ مجھے تعجب ہے کہ وزارت خارجہ نے یورپی یونین کے رکن پارلیامان کے ذاتی طور پر (یورپی یونین کے سرکاری وفد کے طور پر نہیں) جموں وکشمیرکے علاقے کا دورہ کرنے کے انتظام کئے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی پالیسی کے برعکس ہے۔ میں حکومت سے یہ دورہ رد کرنے کی اپیل کرتا ہوں کیونکہ یہ غیراخلاقی ہے۔ ‘
پرینکا گاندھی: کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ یوروپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کو کشمیر جانے اور وہاں مداخلت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ ہندوستانی ارکان پارلیمنٹ اور قائدین کو ایرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا تھا ۔ یہ ایک عجیب اور انوکھی قوم پرستی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ قومی قائدین کو اپنے ہی ملک کی ریاست کا دورہ کرنے سے روک کر بیرونی قائدین کو پوری سیکوریٹی کے ساتھ دورہ کی اجازت دینا حیرت انگیز اور قابل اعتراض ہے۔
کانگریس پارٹی:کانگریس نے یوروپی اراکین پارلیمنٹ کے کشمیردورے کو ہندوستانی ڈپلومیسی کا ’بلنڈر‘ قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جےپی) کی مرکزی حکومت نے گذشتہ 70 برس کی جانچی پرکھی خارجہ پالیسی میں ردوبدل کر دیا ہے اور ہندوستانی پارلیمنٹ، اراکین اور اقتدار اعلیٰ کی تذلیل کی ہے کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہاں پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے کہاکہ گذشتہ تین روز سے بی نے پی حکومت غیر پختہ اور ٖغلط طریقے سے رابطہ عامہ کی مہم چلا رہی ہے۔ یوروپ کے 27 اراکین نے پارلیمنٹ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے ، ان کی معتبریت پر سوال اٹھتے ہیں۔ ان میں 23 اراکین نے کشمیر کا دورہ بھی کیا ہے مسٹر سرجے والا نے کہا کہ گذشتہ 70 سال سے ہندوستان کی جانچی پرکھی پالیسی ہے کہ کشمیر داخلی مسئلہ ہے اور اس میں کسی تیسرے کا عمل دخل ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ بی جے پی حکومت نے ہندوستانی پارلیمنٹ اور جمہوری نظام کو ذلیل کیا ہے۔ حکومت نے ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ اور اپوزیشن کے رہنماؤں کو کشمیر میں ہوائی اڈے پر ہی حراست میں لے لیا لیکن یوروپی اراکین پارلیمنٹ کے لیے ’سرخ قالین‘ بچھائے گئے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی): پی ڈی پی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جموں و کشمیر کی حقیقی صورتحال کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پی ڈی پی نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈویل کے ظہرانہ میں اس نے شرکت نہیں کی اور خود کو اس سے الگ بتایا ۔ اجیت ڈویل نے ظہرانہ پر یوروپین یونین کے 27 ارکان پر مشتمل وفد سے ملاقات کی جو جموں و کشمیر کے دورۂ پر ہے۔ لنچ تقریب میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی لیڈر و سابق ڈپٹی چیف منسٹر مظفر حسین بیگ اور دوسروں نے شرکت کی۔ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد یہ پہلا بیرونی وفد ہے جو ریاست کا دورہ کر رہا ہے ۔ بیرونی وفد کے دورہ کو کشمیر کی صورتحال سے متعلق پاکستان کے بیان کا جواب دینے کیلئے حکومت کے سفارتی اقدام کے طورپر دیکھا جارہا ہے ۔ پی ڈی پی نے پارٹی کے کسی لیڈر کی لنچ میں شرکت سے متعلق کہا کہ وہ اس کا شخصی معاملہ ہے جبکہ مظفر حسین بیگ کے علاوہ پی ڈی پی کے ایک اور لیڈر الطاف بخاری نے بھی ڈویل کے لنچ میں شرکت کی ۔
مایاوتی(بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ ): بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ کشمیر وادی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے حکومت کو یوروپی یونین کے وفد کو روانہ کرنے سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کو دورہ کی اجازت دینی چاہئے تھی ۔ یوروپین یونین کا 23 ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل وفد دو روزہ دورہ پر آج کشمیر پہنچ گیا جہاں وہ سرکاری عہدیداروں کے علاوہ مقامی قائدین اور بعض عوامی نمائندوں سے ملاقات کرے گا ۔ مایاوتی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ پہ لے ہماری ایم پیز خاص طور پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو دورہ کشمیر کی اجازت دی جاتی تو بہتر ہوتا۔
راہل گاندھی :کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے یورپین ممبران پارلیمنٹ کو جموں و کشمیر جانے دینے اور ہندوستانی ارکان پارلیمنٹ پر پابندی کو لے کر سوال اٹھائے تھے۔راہل نے ٹویٹ کیاکہ یورپ کے ممبران پارلیمنٹ کو جموں و کشمیر کے دورے کے لئے خوش آمدید لیکن ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ پر پابندی ہے اور انٹری نہیں ہے،اس میں کہیں نہ کہیں بہت کچھ غلط ہے۔
بیرسٹر اسد الدین اویسی:اے آئی ایم ایم پی اسد الدین اویسی نے کہاکہ یوروپین یونین کے ایم پی اسلام فوبیا نام کی بیماری میں مبتلا ہیں، وہ مسلم اکثریتی وادی میں جا رہے ہیں۔غیروں پہ کرم، اپنوں پر ستم، اے جان وفا، ایک ظلم نہ کر، رہنے دے اب تھوڑا سا دھرم۔
شیو سینا :شیو سینا نے یورپی ممبران پارلیمنٹ کے جموں کشمیر دورے پر اعتراض جتاتے ہوئے بدھ کے رو ز کہا کہ کشمیر عالمی مدعا نہیں ۔ شو سینا کے اخبار ‘سامنا’ میں کے ایک اداریہ میں یورپی وفد کے کشمیر دورے کا ذکر کیا گیا ہے۔مضمون میں لکھا گیا ہے کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے ، عالمی مدعا نہیں ہے ۔ دفعہ 370 کو ختم کرنے کے بعد دہشت گروں کے خلاف سخت کاروائی ہوئی اور قومی پرچم سرینگر میں لہرایا گیا۔ اس کے لئے ہمیں نریندر مودی اور امت شاہ پر فخر ہے، لیکن اگر کشمیر میں سب کچھ درست ہے تو بیرونی وفد کو وہاں کیوں بھیجا گیا؟ کیا کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔اس میں لکھا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ممبران پارلیمنٹ کا دورہ ہندوستان کی آزادی اور خود مختاری میں مداخلت نہیں ہے؟ ۔ اس کے ساتھ ہی اداریہ میں غیر ملکی ٹیم کو جموں کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت کے پیچھے کیا منطق ہے اس پر بھی سوال اٹھایا گیاہے ۔اس میں پوچھا گیا کہ جب نہرو کے اس مدعے کو یو این (اقوام متحدہ ) لیجانے کی آج تک تنقید ہوتی ہے اور ان کا وہ قدم آج بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے، تو یورپی یونین کے وفد کو جموں کشمیر جانے اجازت کیوں دی گئی ۔ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے تو یورپی یونین کے وفد کو لانے کا کیا مقصد ہے؟شیوسینا کے ترجمان اخبار میں لکھا گیا ہے کہ ‘ ملک کے وزیر داخلہ کو جواب دینا ہوگا کہ آج تک (15 اگست کے بعد)اپوزیشن کے لیڈران کو کشمیر نہیں جانے دیا گیا ہے لیکن غیر ملکی وفد کشمیر جا رہا ہے اور معائنہ کر رہا ہے۔ ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ وفد کے کشمیر دورے کا آنے والے وقت میں کوئی اثر نہ دیکھا جائے۔شو سینا نے کہا کہ یورپی یونین کے ممبران کو سیاحوں کے طور پر کشمیر کا دورہ کرکے چپ چاپ چلے جانا چاہئے اور وہاں کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہئے ۔
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI):سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آرٹیکل 370کے تحت جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدزمینی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے یورپین یونین کے 27ارکان پارلیمان کو حکومت ہند کی طرف سے دورہ جموں کشمیر کی اجازت دئیے جانے کو میچ فکسنگ قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے ایک بیان میں سوال کیا ہے کہ اگر آرٹیکل 370کو ختم کرکے کشمیر کو ہندوستان میں ضم کردیا گیا ہے تو پھر ہندوستانی سیاست دانوں کو ریاست کے دورے سے کیوں روکا گیا؟۔ اس کے بجائے، جی ای او کے ذریعہ دائیں بازو اور فاشسٹ جھکاؤ رکھنے والے یورپی یونین کے ارکان پارلیمان کے ایک گروپ کوجموں کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایم کے فیضی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن جموں کشمیر میں کیا دیکھیں گے اور وہ کس کو رپورٹ کریں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ یورپین یونین کے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے جعلی توثیق حاصل کرکے کشمیر کے حالت زار کے بارے میں دنیا کو دھوکہ دینے کیلئے ایک منظم ڈرامہ کیا جارہا ہے۔ مودی حکومت دائیں بازو کے قانون ساز جن کے دورے کی مالی معاونت کی گی ہے ان سے جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہونے کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
برٹن کی لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن پارلیامان کرس ڈیوس کا اہم بیان:
برطانوی رکن پارلیمان کرس ڈیوس کا کہنا ہے کہ کشمیر دورہ کے لئے ان کو دی گئی دعوت کو حکومت ہند نے واپس لے لیا کیونکہ انہوں نےسکیورٹی کی غیر موجودگی میں مقامی لوگوں سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔کرس ڈیوس کا کہنا ہے کہ کشمیر دورے کے لئے ان کو سات اکتوبر کو دعوت نامہ بھیجا گیا تھا لیکن کوئی وجہ بتائے بغیر تین دن بعد اس کو واپس لے لیا گیا۔کرس ڈیوس نے کہا، ‘ میں نے اس شرط پر کشمیر جانے کی دعوت کو قبول کیا تھا کہ جہاں بھی میں جانا چاہوں‌گا وہاں مجھے بلا روک ٹوک جانے دیا جائے‌گا۔ میں جس سے بھی بات کرنا چاہوں‌گا اس سے ایسا کرنے کے لئے آزاد رہوں‌گا۔ میرے ساتھ فوج ، پولیس ، سکیورٹی اہلکار نہیں ہوں گے ، صرف صحافی ہو سکتے ہیں۔ ‘انہوں نے کہا، ‘ وہ نریندر مودی حکومت کے پروپیگنڈہ کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں تھے اور وہ یہ دکھاوا نہیں کرنا چاہتے تھے کہ جموں وکشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ بہت واضح ہے کہ کشمیر میں جمہوری‎ اقدار کو طاق پر رکھا گیا اور دنیا کو اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ‘ اے ایف پی کے مطابق، ڈیوس نے کہا، ‘ ایسا کیا ہے، جس کو حکومت ہند کو چھپانا پڑ رہا ہے؟ حکومت صحافیوں اور رہنماؤں کو مقامی لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی چھوٹ کیوں نہیں دے رہی؟ ‘انہوں نے کہا، ‘ ہندوستان فوجی حکومت نافذ کرکےکشمیری لوگوں کا دل نہیں جیت سکتا اور ان سے ان کی آزادی نہیں چھین سکتا۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ صحیح طرح سے ختم نہیں ہونے والا۔ ‘ ڈیوس نے کہا کہ وہ شمال مغربی انگلینڈ کے انتخابی حلقہ سے ایسے کئی لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کے رشتہ دار جموں و کشمیر میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے بات کرنا چاہتے ہیں اور ان کی آواز سننا چاہتے ہیں۔
یورپی اراکین پارلیمان کا کشمیر دورے پر اظہار خیال:

وادی کشمیر کے دو روزہ دورے پر آنے والے یورپی اراکین پارلیمان نے دفعہ 370کی منسوخی کو ہندوستان کا اندرونی معاملے قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یورپی یونین کو کوئی رپورٹ پیش نہیں کریں گے ۔ یورپی وفد نے کہا کہ کشمیر میں ملی ٹینسی صرف ہندوستان کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے مسئلہ ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ کشمیر دوسرا افغانستان بنے ۔انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامل یورپی اراکین پارلیمان پر مشتمل اس وفد نے بدھ کی صبح یہاں چنندہ میڈیا اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی۔ تاہم قریب 99 فیصد کشمیری صحافیوں کو پریس بریفنگ میں مدعو نہیں کیا گیا۔ وفد نے ہندوستان کو ایک پرامن ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ زندگی گزارنے کے لئے امن ضروری ہے ۔یورپی وفد نے یورپی یونین کو کوئی رپورٹ پیش نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ‘چونکہ دفعہ 370 انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے ، اس لئے ہم یورپی یونین کو کوئی رپورٹ پیش نہیں کریں گے ‘۔وفد کے ایک رکن نے کہا: ‘اگر ہم دفعہ 370 پر بات کریں گے تو وہ انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے ۔ ہمارا تشویش دہشت گردی ہے جو ایک عالمی لعنت ہے ۔ ہمیں دہشت گردی کے ساتھ نمٹنے کے لئے بھارت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں پانچ معصوم مزدوروں کی ہلاکت ہوئی ہے ، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں’۔ ایک اور رکن کا کہنا تھا: ‘کشمیر، یہاں پائی جانے والی صورتحال کی وجہ سے پسماندہ ہے ۔ ہمیں یہاں معلوم ہوا کہ سٹیٹس میں تبدیلی کی وجہ سے صورتحال میں بدلائو آئے گا’۔یورپی اراکین پارلیمان کے وفد نے اپنے دورے کے پہلے دن منگل کے روز فوج کے علاوہ قریب پندرہ وفود سے ملاقات کی تھی۔ یہ مرکزی حکومت کے پانچ اگست کے فیصلوں، جن کے تحت جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کئے گئے اور اسے دو حصوں میں منقسم کرکے دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کیا گیا، کے بعد کسی بھی غیر سرکاری و غیر ملکی وفد کا پہلا دورہ کشمیر تھا۔وفد کے ایک رکن نے کشمیر میں ملی ٹینسی کو عالمی برادری کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا: ‘کشمیر میں دہشت گردی صرف انڈیا کے لئے مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ ہمارے لئے بھی مسئلہ ہے ۔ یہ انٹرنیشنل کیمونٹی کے لئے مسئلہ ہے ۔ ہمیں اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لئے انڈیا کی مدد کرنی چاہیے ۔ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ۔ ہم مسائل کو سمجھنے کے لئے یہاں آئے تھے ‘۔وفد کے ایک رکن نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ کشمیر دوسرا افغانستان بنے ۔ ان کا کہنا تھا: ‘میں سیاست سے وابستہ رہنے کی وجہ سے کشمیر کے بارے میں کئی چیزیں پڑھتا ہوں۔ یہاں کا دورہ کرکے مزید جانکاری حاصل ہوئی۔ میں جانتا ہوں کہ دہشت گردی آپ کے ملک کو ختم کرسکتا ہے ۔ مجھے یاد ہے جب میں افغانستان میں تھا۔ میں گزشتہ ماہ شام میں تھا۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے ۔ یہ فرانس اور یورپ کے لئے بھی مسئلہ ہے ۔ میں نہیں چاہتا کشمیر دوسرا افغانستان بنے ‘۔یورپی وفد جس نے پیر کے روز قومی راجدھانی نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں، میں شامل ایک رکن نے ہندوستان کو ایک پرامن ملک قرار دیتے ہوئے کہا: ‘یورپ ایک پرامن جگہ ہے ۔ ہزاروں برسوں تک ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد سن 1945 سے ہم امن کے ماحول میں مل جل کر رہ رہے ہیں۔ بہتر زندگی گزارنے کے لئے امن ضروری ہے ۔ ہندوستان ایک پرامن ملک ہے ۔ یورپ اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں۔ ہم یہاں حقیقت جاننے کے لئے آئے تھے ۔ ہم آپ کے دوست ہیں۔ ہم جاننے کے لئے آئے تھے کہ ہم کیسے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم کیسے یہاں کی صورتحال میں بہتری لانے کے لئے کیا کرسکتے ہیں’۔وفد نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں پانچ غیر ریاستی مزدوروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ‘ہمیں دہشت گردوں کے ہاتھوں پانچ شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہے ۔ معصوم لوگوں کی زندگیاں ختم کی گئی ہیں۔ ہم سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی ہلاکتوں نہیں ہونی چاہیں’۔وفد کے ایک رکن نے ممبر پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی کی طرف سے نازی کہلائے جانے پر کہا: ‘ہم نازیوں کے حامی نہیں ہیں۔ اگر ہم ہوتے تو چنے نہیں جاتے ۔ ہم نازی حامی کہلائے جانے پر مایوس ہیں۔ ہم یہاں سیاست میں مداخلت کے لئے نہیں آئے ہیں۔ ہم یہاں حقیقت جاننے کے لئے ہیں’۔ایک اور رکن نے کہا: ‘ہم یہاں کسی سیاسی جماعت کی دعوت پر نہیں ہے ۔ کل میں نے نیوز چینل میں دیکھا کہ ہم پر نازی ہونے کا لیبل لگایا گیا۔ میری صحافیوں سے اپیل ہے کہ اگر ہمارے بارے میں کچھ لکھ رہے ہیں تو کم از کم پہلے ہمارے پروفائل کو پڑھ لیں’۔وفد کے ایک رکن نے دورے کے منتظمین کی سراہنا کرتے ہوئے کہا: ‘ہم یہاں حقائق اور معلومات جاننے کے لئے آئے تھے ۔ ہمارا دورہ بہت اچھا رہا۔ منتظمین نے اس کو بہت اچھے انداز میں منتظم کیا تھا’۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے کل سول سوسائٹی گروپوں کے ساتھ میٹنگیں کیں۔ ہم نے بہت سے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی۔ ہم نے ٹیچروں کے ساتھ ملاقات کی۔ ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ ہندوستانی کشمیر میں بہت کرپشن ہورہا تھا۔ مرکزی حکومت سے جب رقومات آتی تھیں تو وہ راستے میں ہی کہیں غائب ہوجاتی تھیں’۔ایک اور رکن نے کہا: ‘ہم سے ملاقات کرنے والے لوگوں نے ہم سے کہا کہ ہم ہندوستانی شہری ہیں۔ ہم اسی رفتار سے ترقی چاہتے ہیں جس رفتار میں ملک کے باقی حصوں میں جاری ہے ‘۔یورپی پارلیمان کا یہ وفد دراصل 27 یورپی اراکین پارلیمان پر مشتمل تھا جن میں سے چار اراکین نئی دہلی سے ہی اپنے وطن واپس ہوئے تھے جس کے نتیجے میں اس وفد کی تعداد سمٹ کر 23 پر آگئی تھی۔ملک کی اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کانگریس نے یورپی اراکین پارلیمان کے دورہ کشمیر پر سوال اٹھائے تھے ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جب ملک کے سیاستدانوں کو جموں وکشمیر میں لوگوں سے نہیں ملنے دیا جارہا تو یورپی پارلیمان کے اراکین کو اس کی اجازت کیونکر دی گئی۔ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر آنے والے یورپی پارلیمان کے تین اراکین کو چھوڑ کر باقی سب کا تعلق یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں سے تھا۔ وہ مبینہ طور پر اسلام مخالف بیان بازی کے لئے بھی مشہور ہیں۔بتادیں کہ 5 اگست، جس دن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کئے اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں منقسم کیا، سے وادی کشمیر میں ہڑتال ہے ۔ وادی میں ہر طرح کی انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں، تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل ہے ، اس کے علاوہ ریل خدمات بھی بند ہیں۔ تاہم لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر عائد پابندیاں ہٹائی جاچکی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کشمیر میں جاری پابندیوں پر اظہارِ تشویش:
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک پینل نے ایک بیان میں بھارتی حکومت کی طرف سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں جاری پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق بحال کرے۔بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کے نقل و حمل اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی رابطوں پر عائد پابندیوں کے بارے میں شکایات نمٹانے کے سلسلے میں سست روی کا مظاہرہ کیا ہے اور یوں کشمیریوں کے مصائب بدستور جاری ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق پینل کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارتی حکومت نے جموں اور لداخ کے کچھ علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو کی پابندیاں ہٹا لی تھیں، یہ پابندیاں وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بدستور موجود ہیں جن کے باعث لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔پینل نے وادی میں اکادکا احتجاجی مظاہروں کے دوران شدید طاقت کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں چھ شہریوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق پینل نے مزید کہا ہے کہ اس بارے میں دائر ہونے والے مقدمے نمٹانے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے بھی سست روی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پینل نے کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ سمیت سیکڑوں سیاسی رہنماؤں کو مسلسل زیر حراست رکھے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ جموں اور کشمیر میں صورت حال رفتہ رفتہ معمول پر آ رہی ہے اور پابندیاں بتدریج نرم کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ آج جموں و کشمیر دو مرکزی علاقوں میں تقسیم ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے