تین طلاق

Spread the love

۲۲ اگست ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
تین طلاق کا مسئلہ اس وقت زیر بحث ہے، ایک بھائی نے میرے پاس میسیج کیا کہ آپ کا اس پہ کوئی مضمون نہیں آیا، میں نے کہا بھائی اس پہ کیا لکھیں، سالوں سے اس بحث میں ہمارے اکابرین ایسے الجھے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہے یا ایک کہ جو اصل، صحیح اور شرعی طریقہ تھا اسے لوگوں کو بتایا ہی نہیں، طلاق طلاق طلاق کی رٹ اتنی لگا دی گئی کہ اکثر مسلمان یہی سمجھنے لگے کہ جب تک تین بار طلاق کا لفظ نہ بولا جائے، طلاق واقع ہی نہیں ہوگا، اور تو اور بعض جاہلوں نے یہ گمان کرلیا کہ جب تک یہ نہ کہا جائے کہ میں تمہیں "تین طلاق” دے رہا ہوں، تب تک طلاق نہیں ہوگا.
جو صحیح، اسلامی اور شرعی طریقہ تھا، لوگوں نے اسے بھلا دیا، اور جو غلط طریقہ تھا وہ لوگوں میں رواج پذیر ہوگیا، بہت سارے کیسز میری نظر کے سامنے سے ایسے بھی گزرے جس میں شوہر بیوی سے کہتا ہے کہ میں تمہیں "تین طلاق” دیتا ہوں، یعنی وہ تین بار "طلاق، طلاق، طلاق” بھی نہیں کہتا، صرف تین کے ذکر پہ اکتفا کرلیتا ہے، پھر بیوی کو چھوڑ کے چل دیتا ہے، اس میں غلطی صرف اس کی نہیں، پورے مسلم سماج، مسلم معاشرے، مسلم مدارس، علماء، اکابرین، مسلم پرسنل لاء بورڈ سب کی غلطی ہے، کیوں نہیں اس بات کی کوشش کی گئی کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ طلاق کا صحیح طریقہ کیا ہے، اس کا پورا پروسیزر کیا ہے، کس طریقے سے طلاق دیا جائے، کچھ بھی نہیں کیا گیا، الٹا دوسرا طریقہ حلالہ ایجاد کرلیا گیا.

اگر تین طلاق کے وقوع یا عدم وقوع پہ بحث کرنے کے بجائے لوگوں میں یہ بیداری لائی گئی ہوتی کہ طلاق کا صحیح اور شرعی طریقہ کیا ہے، تو شاید آج حکومت کو اس میں انٹرفئیر کرنے کا موقع بالکل بھی نہیں ملتا.

یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ انڈین کانسٹیوشن نے حکومت کو ان مذہبی معاملات میں انٹرفئیر کرنے اور سوشل ریفارم کرنے کی اجازت دی ہے جو فرد کے بنیادی حقوق سے متصادم ہوتے ہیں، اب یہ انٹرفیرینس کس حد تک صحیح ہوگی یہ پورا سیاق ڈیفائن کرے گا، تین طلاق میں مداخلت بھی اسی بنیاد پہ کی جارہی ہے کہ یہ عورتوں کی Right to Equality, اور Right to Dignity کے خلاف ہے، اور اسی بنیاد بنا کے "ستی” کی پریکٹس کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، یا پھر جیسے مندروں میں شودروں کے آنے پہ پابندی تھی، اس پابندی کو ہٹا کر قانونی طور پہ انہیں بھی برابری کا حق دیا گیا.
میں تو یہی کہوں گا کہ ہماری ہی غلطیوں اور کمیوں کی وجہ سے آج فاسشٹ طاقتوں کو موقع ملا ہے کہ وہ اسے بنیاد بنا کے ہمارے پرسنل معاملات میں مداخلت کررہے ہیں، اگر ہم نے زیادہ زور طلاق کا صحیح طریقہ بتانے پہ زور کیا ہوتا تو نہ لوگ الٹے سیدھے طریقے سے طلاق دیتے، نہ حلالے کا سسٹم رواج پذیر ہوتا، اور نہ ہی مسلم عورتیں انصاف پانے کے لئے قاضیوں کے نجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتیں.
یہاں ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ حکومت کا مقصود اصلی طلاق، نکاح بالکل بھی نہیں ہے، اور نہ ہی وہ مسلمانوں کی اتنی بڑی ہمدرد ہے کہ ان میں اصلاح کرنے اور انہیں قرانی تعلیمات پہ گامزن کرنے کے لئے یہ سب کچھ کررہی ہے، بالکل نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے، کوئی بھی شخص حکومت کے اس اقدام سے دھوکا نہ کھائے، یہ صرف اور صرف یکساں سول کوڈ لانے اور پورے ملک کو ایک یونیفارم لاء سے جوڑ دینے کی ایک اہم کوشش ہے، اگر حکومت اپنے اس اقدام میں کامیاب ہوجاتی ہے، اور طلاق کے لئے شریعت سے ہٹ کے کوئی اور قانون بناتی ہے، تو پھر اس کے بعد نکاح، وراثت، اوقاف اور دیگر مذہبی معاملات پہ الگ سے قانون بنانے کی کوشش کرے گی، اس لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو چاہیئے کہ اس پہ جو بھی قدم اٹھائے مضبوطی کے ساتھ اٹھائے، اور ٹرپل طلاق کے پریکٹس کو ہر ممکنہ طور پہ ختم کرنے کی کوشش کرے، اگر کوئی بندہ ٹرپل طلاق جیسے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت ایکشن لے، اور اس کے اوپر غیر شرعی طریقے سے طلاق دینے کی وجہ سے کرمنل کیسز کے چارجز بھی لگائے جائیں، ٹرپل طلاق کا پریکٹس غیر شرعی ہے، اور بورڈ ایک غیر شرعی عمل کو روکنے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرے ورنہ پھر کف افسوس ملنے کے لئے بھی وقت نہیں ملے گا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے