تجارت اور مسلمان!

Spread the love


سیف ازہر

شاید یہ جان کر آپ کو بھی حیرت ہو کہ بھارتی معیشت میں مسلمانوں کی حصہ داری یہی کوئی 3 فیصد کے آس پاس ہے اور مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14 فیصد کے آس پاس ہے ۔۔۔ جس بھی کمیونٹی کی معاشی حصہ داری اتنی کم ہے وہ یقینا غربت کی شکار ہو گی ۔۔۔ اور اس سے کوئی پیچھا نہیں چھڑا سکتا کہ بھارتی مسلمان ایک غریب کمیونٹی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے۔۔۔؟
یاد رکھئے کہ آپ غریب گھر میں یقینا پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اگر آپ غربت میں زندگی گزار دیتے ہیں تو الا ماشاء اللہ وہ آپ کی مرضی یا کوتاہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
بہت کچھ ہماری سوچ پر منحصر ہے ۔۔۔ اگر آپ کی سوچ چالیس پچاس ہزار کی نوکری کرکے سیٹل ہونے کی ہے تو یقین مانیے اگر لاٹری نہیں لگتی تو آپ کبھی بھی بیس پچیس کروڑ نہیں کما سکتے ، کروڑ کی بات چھوڑ دیجیے لاکھ بھی نہیں کما سکتے ۔۔۔خود سوچئے جب آپ نے صرف دلی جانے کا پلان بنا رکھا ہو تو امریکہ کیسے پہنچ جائیں گے ۔۔۔ یاد رہے ابھی ہمارے دیش کی فلائٹ آتم نربھر نہیں ہوئی ہے ۔۔۔ اور بس یا ٹرین امریکہ جاتی نہیں ہے۔
اگر آپ کی سوچ ہے کہ ہمیں ایک بہت بڑا بزنس مین بننا ہے تو یقین جانیے کہ آپ بزنس مین ضرور بنیں گے، بھلے کوئی بہت بڑا بزنس مین نہ بن سکیں ۔۔۔ ایسے ہی جیسے آپ پڑھ لکھ کر کر بڑی بڑی ڈگریاں لے کر زیادہ پیسہ کمانے والا اور بڑا نوکر بننا چاہتے ہیں اور آپ ایک نہ ایک دن نوکر بن بھی جاتے ہیں یہ اور بات کہ سوچ کے مطابق نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ مجبورا چھوٹی موٹی نوکری پر ہی انحصار کر جاتے ہیں ۔۔۔ بھلا سوچئے کہ اگر ایسے ہی مجبورا چھوٹی موٹی نوکری کے بجائے کسی چھوٹے موٹے بزنس پر انحصار کرنا ہو تو وہ برا ہے یا نوکری۔۔۔؟
آپ کہہ سکتے ہیں کہ جن کے پاس اسٹارٹ اپ کے لیے کچھ نہ ہو ان کے لئے یہ سب بے معنی ہے ۔۔۔ بالکل صحیح بات ہے ۔۔۔ لیکن انہیں بھی کس نے مجبور کیا ہے کہ پوری زندگی نوکری ہی کریں ۔۔۔ کچھ دن کرکے اسٹارٹ اپ سرمایہ اکٹھا کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کی سوچ ہے کہ ہمیں ایک بہت بڑا بزنس مین بننا ہے تو یقین جانیے کہ آپ بزنس مین ضرور بنیں گے، بھلے کوئی بہت بڑا بزنس مین نہ بن سکیں ۔۔۔ ایسے ہی جیسے آپ پڑھ لکھ کر کر بڑی بڑی ڈگریاں لے کر زیادہ پیسہ کمانے والا اور بڑا نوکر بننا چاہتے ہیں اور آپ ایک نہ ایک دن نوکر بن بھی جاتے ہیں یہ اور بات کہ سوچ کے مطابق نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ مجبورا چھوٹی موٹی نوکری پر ہی انحصار کر جاتے ہیں ۔۔۔ بھلا سوچئے کہ اگر ایسے ہی مجبورا چھوٹی موٹی نوکری کے بجائے کسی چھوٹے موٹے بزنس پر انحصار کرنا ہو تو وہ برا ہے یا نوکری۔۔۔؟

ایک سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بہت سارے لوگوں کے پاس بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں ہے جو آپ نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔ بالکل صحیح بات ہے مجبوریاں ہر جگہ ہوتی ہیں ۔۔۔ مگر ایک بات بتائیے ایسی مجبوری والے کتنے بندے ہیں جو حسب حیثیت اپنی شادیاں دھوم دھام سے نہیں کرتے ہیں ۔۔۔ایسے لوگوں کے لئے مشورہ ہے وہی سرمایہ اسٹارٹ اپ میں لگائیں اور چائے کی میز سجا کر نکاح کر لیں۔
ایک بات اور ہو سکتی ہے وہ یہ کہ تجارت بہت رسکی چیز ہے ۔۔۔ تو یاد رکھیں ناڑا کھولنا بھی بہت رسکی چیز ہے تو کتنے لوگوں نے ناڑا کھولنا یا پاجامہ پہننا چھوڑ دیا۔
تجارت کیجئے ۔۔۔ یاد رکھئے جس طرح شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے اسی طرح نہ جھوٹی موٹی تجارت بہت بڑی بڑی نوکریوں سے کہیں بہتر ہوتی ہے ۔۔۔ ایک چیز اور یاد رکھیے ۔۔۔ اس وقت جتنے حقوق نوکروں کو دستیاب نہیں ہیں اس سے کہیں زیادہ حقوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلم اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے زمانے میں غلاموں کو دستیاب تھے ، لیکن غلامی کو پھر بھی کراہیت کی نگاہ سے دیکھا گیا اور باقاعدہ غلامی ختم کرنے کی مہم چلائی گئی ۔۔۔ ہم نے کبھی سوچا کہ ہم نوکری پرتھا ختم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔
اس سے بڑی بات میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ تجارت نبی کی سنت ہے اور جمہور صحابہ کا طریقہ ۔۔۔ نوکری جمہور صحابہ کا طریقہ ہے اور نہ نبی کی سنت۔
تجارت کیجئے نوکری نہیں ۔۔۔ یقین جانیے آج آپ معیشت میں میں تین فیصد حصہ داری رکھتے ہیں کسی دن ان شاء اللہ تیس فیصد بھی رکھیں گے لیکن اگر نوکری پر اسی طرح انحصار کرتے رہے تو یہ رہی سہی تین فیصد بھی ان شاء اللہ گنوا دیں گے۔

سیف ازہر
Latest posts by سیف ازہر (see all)

سیف ازہر

Saif Azhar is a social activist, blogger and writer. Currently he is studying in Jamia Millia Islamia, New Delhi. His articles are published in various web portals and newspapers.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے