افکار و نظریات، تنقید اور پروپیگنڈہ

Spread the love

۵ جولائی ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
ایک محاورہ ہے "بات جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی”، آج کے دور میں یہ محاورہ تقریبا الٹا ہوگیا ہے، اب اگر کہنا ہو تو کہا جائے گا کہ جنگل کی آگ بات کی طرح پھیل گئی، مطلب یہ ہے کہ آج کے دور میں باتیں اتنی تیزی سے پھیلتی ہیں کہ جنگل کی آگ بھی اتنی تیزی سے نہیں پھیل سکتی _
حقیقت میں یہ دور پروپیگنڈوں کا ڈور ہے، جھوٹ کی کثرت ہے، سچ اور جھوٹ کی تمیز مشکل ہے، ویب سائٹس اور فیسبوک پیجز کی معتبریت ہی سچ سمجھی جانے لگی ہے، باوجود یکے کہ ان میں بھی جھوٹ کا امکان ہوتا ہے، بسا اوقات معتبر سمجھے جانے والے سائٹس اور پیجز بھی نہایت ہی خوبصورت اور واضح جھوٹ کو بطور سچ پھیلا دیتے ہیں، ہر فرد تک سوشل میڈیا کی پہونچ نے پروپیگنڈوں کو مزید آسان بنا دیا ہے، کسی بھی مذہب، مسلک اور دین کے خلاف جھوٹ گھڑ کے پھیلا دینا ایک نہایت ہی آسان کام بن چکا ہے، عوام الناس کی اکثریت ہے، جو پڑھے لکھے ہیں ان کو بھی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ خبر کے سچ اور جھوٹ ہونے کے بارے میں تلاش کریں، جب کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جب کوئی بندہ کوئی خبر دیتا ہے، تو اس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا امکان غالب ہوتا ہے، اب یہ اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ اس خبر کے بارے میں تحقیقی کریں، اور اسے شئیر کرنے سے پہلے مزید کئی ویب سائٹس پر اس خبر کی اصلیت کو جان لیں _
سارے ویب سائٹ آدمی ہی چلاتے ہیں، فرشتے نہیں، اور نہ ہی ان کی بات من جانب اللہ ہوتی ہے، یہ بات یاد رہے کہ ہر آدمی کے پاس اپنا ایک نقطہ نظر ہوتا ہے، وہ اسی نقطہ نظر کے مطابق لکھتا ہے، اگر وہ کسی فرد، مجمتع، ملک یا حکومت کے خلاف ہے تو اس کی ساری کوشش اسی پہ مرکوز ہوگی کہ وہ کس طرح سے اس کو عوام الناس میں Demoralize کرسکے، بہت مشکل ہوتا ہے لوگوں کا جانبدار ہوکے لکھنا، اکثر لوگ یہاں تک کہ مشہور و معروف قلم کاروں کے تجزیے بھی یکطرفہ ہوا کرتے ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ پہلے ذہن میں خاکہ بنا لیتے ہیں، کہ کون صحیح کون غلط، پھر اسی اعتبار سے لکھنا شروع کرتے ہیں، اور اخیر تک پہونچتے پہونچتے یہ ظاہر کردیتے ہیں کہ ان کا مطمح نظر کیا ہے _
پروپیگنڈے تقریبا دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک بازاری/اخباری پروپیگنڈے، اور ایک کو ہم تقریبا علمی پروپیگنڈہ کا نام دے سکتے ہیں _
بازاری پروپیگنڈہ، کسی جھوٹی خبر کو بطور سچ سمجھ کر عوام الناس میں منافرت پھیلانا، یا کسی کے مذہب کی توہین کرکے دنگے و فساد کرانے کی کوشش کرانا، یہ آج کے دور میں تقریبا جاہل قسم کے لوگ کرتے ہیں جیسے ابھی کچھ دنوں پہلے کا واقعہ ہے کسی نے خانہ کعبہ کے اوپر فوٹوشاپ کے ذریعہ ہنومان کی تصویر بنادی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات بر انگیختہ ہوئے اور شرپسندوں کے خلاف ایف.آئی.آر درج کرایا گیا _
پروپیگنڈے کی ایک دوسری قسم کو ہم علمی پروپیگنڈہ کا نام دے سکتے ہیں، یہ اکثر ایک قوم دوسری قوم کے خلاف، ایک مذہب دوسرے مذہب کے خلاف، یا کسی ایک مذہب میں سے مختلف مسالک ایک دوسرے کے خلاف علمی تحقیق اور تنقید کے نام پہ پھیلاتے ہیں، حقیقت میں یہ ان کی تنقیص ہی ہوتی ہے جسے وہ تنقید کا نام دیتے ہیں، کیونکہ اس قسم کے پروپیگنڈوں میں دلائل سے زیادہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، اسی ہم "الغزو الفكري” یا "انٹلیکچول وار” کا نام دے سکتے ہیں، اس میں ہر مذہب والا دوسرے مذہب کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے، اور اس کے لئے اس سے جو بن پڑتا ہے، کہتا اور لکھتا ہے، اس میں بھی زیادہ تر پروپیگنڈوں ہی کا استعمال کرتے ہیں، مثال کے طور پہ "اسلام دہشت گردی پھیلاتا ہے” کو ثابت کرنے کے لئے مستشرقین یا یوروپین انٹلکچولز قران و سنت سے کانٹ چھانٹ کر اور کتربیونت کرکے پورے عالم کی نظر میں اسلام کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے پروپیگنڈے کرتے ہیں، یا جیسے خود مسلمانوں سے بعض خودساختہ مفکر اسلام کو "قدامت کا داعی” "جدیدیت کا مخالف” اور "دور حاضر کے چیلنجوں سے نپٹ نہ پانے والا مذہب” قرار دیتے ہیں، اور اسے ثابت کرنے کے لئے دلائل سے زیادہ پروپیگنڈوں سے اور جھوٹ سے کام لیتے ہیں _
اسی قسم میں سے ایک قسم وہ ہے جو ہم مسلمان مختلف مسالک یا مختلف مکتب فکر والوں کے ساتھ کرتے ہیں، جب ہم مخالف کے خلاف لکھنا شروع کرتے پہں تو عدل و انصاف کو پس پشت ڈال کے وہی لکھتے ہیں جو ہمارے مسلک یا ہمارے فکر والے ہم سے لکھوانا چاہتے ہیں، باوجود یکے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم غلط کررہے ہیں، اس کے لئے ہم دلائل اور علمی باتوں سے زیادہ تنقیص، اہانت، برائی اور گالی گلوچ سے کام لیتے ہیں، غرضیکہ ہم مخالف کو گرانے میں کسی بھی قسم کا دقیقہ فرو گزاشت نہیں رکھتے ہیں، اگر چہ ہمیں مخالف کو گرانے کے لئے اسرائلیات (اسرائیلی ویب سائٹس) کا سہارا ہی کیوں نہ لینا پڑا، ہم اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جس کا سہارا لیکے ہم مخالف کے خلاف لکھ رہے ہیں، وہ تو ہمارا ان سے بڑا مخالف ہے _
یاد رکھیں، علمی تنقید ضرور کریں، اور تنقید برداشت کرنا بھی سیکھے، ایک صحت مند معاشرہ کے لئے تنقید نہایت ہی ضروری ہے، کیونکہ تنقید ہی سے کسی چیز کے مثبت اور منفی پہلو کھل کے سامنے آتے ہیں، مگر یہ تنقید دلائل و براہین کی بنیاد پہ ہونا چاہیئے، اس میں جھوٹ اور پروپیگنڈوں کی آمیزش نہیں ہونی چاہیئے، اور نہ ہی اس پہ تنقیص کا پہلو غالب ہونا چاہیئے، کیونکہ اگر آپ تنقید کے نام پہ روشنی جلانے کے بجائے جھوٹ پھیلانا شروع کردیں گے، مخالف کو برا بھلا کہیں گے، تو ظاہر سی بات ہے مخالف کے منہ میں بھی زبان ہے، اس کے پاس بھی قلم کی طاقت ہے، پھر رد عمل کے طور پہ وہ بھی آپ کو وہی سب کچھ کہے گا جو آپ اسے کہیں گے، آپ جھوٹی خبروں کو بنیاد بنا کے اس کے خلاف پروپیگنڈہ کریں گے تو وہ بھی پیچھے تو نہیں رہے گا، وہ بھی ایسے ویب سائٹس کی تلاش کرے گا جس میں آپ کے نظریات کی نفی کی گئی، یا آپ جیسے نظریہ رکھنے والوں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا ہو، پھر وہ اسے بنیاد بنا کے آپ کے خلاف عوام الناس میں پروپیگنڈہ پھیلائے گا، اس وقت آپ چیخیں گے، چلائیں گے، مگر کیا فائدہ، اس نے تو وہی سب کیا جو آپ نے کیا، اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جو آپ نے کیا ہو صحیح اور دوسریں کریں تو غلط _
یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اختلاف نظریات یہ انسانی فطرت "ہیومن نیچر” ہے، اور اس نیچر سے بغاوت ممکن نہیں، مگر اختلاف نظریات میں عدل کا دامن کبھی بھی نہیں چھوٹنا چاہیئے اور نہ ہی اپنے نظریات کی ترویج و اشاعت کے لئے پروپیگنڈے اور جھوٹ کا سہارا لینا چاہیئے کیونکہ یہ پھر علمی کمزوری کہلائے گی یا علمی خیانت _

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے