سنگھ کو قانوناً جواز بخشنے والے لوگ

Spread the love


جیتیندر کمار (نیوز لانڈری، 7نومبر 2019)
90 کی دہائی میں جب سچن تندولکر بلندی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے تب ان کا موازنہ کرکٹ میں لازوال شہرت پانے والے آسٹریلیا کے بلے باز ڈان بریڈمین سے کیا جانے لگا تھا۔ جیساکہ ہونا ہی تھا ہندوستانی ٹیم کے آسٹریلیا دورہ پر سچن ڈان بریڈمین سے ملنے گئے۔ جب سچن ڈان بریڈمین سے مل کر نکلے تو بریڈمین کی اہلیہ نے پوچھا کہ تم کیسا کرکٹ کھیلتے تھے کہ آج بھی اس کا اتنا چرچا ہے، اس پر بریڈمین نے اپنی اہلیہ کو جواب دیا "میں کیسا کھیلتا تھا اگر یہ جاننا ہو تو تم سچن کو کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھ لینا، میں تقریبا ویسا ہی کھیلتا تھا۔ "
پتا نہیں اس میں کتنی سچائی ہے، لیکن اسے ہندوستان کے تقریباً تمام اخبارات نے اس وقت چھاپا تھا۔ یہ سیاق اس لیے ہے کہ اگر اس وقت کی کانگریس کو دیکھنا چاہیں یا تصور کرنا چاہیں تو ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ آج کی بی جے پی کی طرح ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ کانگریس جنوبی ہندوستان میں بھی موجود تھی اور بی جے پی اپنی کامیابی کے دور میں بھی جنوب میں ندارد ہے۔ لیکن اس کے برعکس بھی کہا جاسکتا ہے کہ آج جس طاقت کے ساتھ بی جے پی شمالی اور وسطی ہند میں موجود ہے، اتنی طاقت کانگریس کی کبھی نہیں رہی۔
چونکہ بی جے پی اتنی بڑی ہوگئی ہے اس لیے پچھلے کچھ سالوں میں یہ بحث کافی تیز ہوئی ہے کہ جے پرکاش نارائن(جے پی ) وہ تنہا شخص ہیں جنہوں نے آر ایس ایس کو ملک کے مین اسٹریم میں قانوناً جائز قرار دینے اور ‘گاندھی کے قاتل’ کی شبیہ سے باہر نکالنے میں سب سے اہم رول ادا کیا ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو پائینگے کہ یہ بات سچ ہے لیکن ایک حد تک۔ یہ سچ ہے کہ گاندھی جی کے قتل کے بعد سنگھ اس وقت تک ملک میں اچھوت بنا رہا جب تک کہ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ختم نہیں کردیا۔
لیکن آر ایس ایس کو قانونا صحیح قرار دینے کے لیے صرف ایک شخص کی طرف انگلی اٹھانا درست نہیں ہے۔ اس کے لیے کئی لیڈران ذمہ دار ہیں، جو آزادی سے لے کر آج تک وقت وقت پر پھلتے پھولتے اور مرجھا تے رہے۔ آزادی کے بعد آر ایس ایس نے گاندھی کے خلاف جس طرح پورے ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کیا اس کا انجام گاندھی کے قتل کی شکل میں واقع ہوا۔ قتل کی جانچ میں کئی تار آر ایس ایس سے جڑے ہوئے پائے گئے۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ آر ایس ایس کے کسی بڑے لیڈر کو اس کے لیے سزا نہیں دی گئی۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اس کے کئی لیڈران سے پوچھ گچھ ہوئی اور اس کی مشکوک سرگرمیوں کو دیکھ کر ہی اس وقت کے موجودہ وزیر داخلہ سردار وللبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی تھی۔
اس پوری بحث میں ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ آر ایس ایس کی پہونچ اور گرفت سماج میں شروع سے ہی تھی۔ یعنی آر ایس ایس کے تشہیر کاروں کو سماجی اعتبار سے جگہ بنانے میں اور اپنی بات کہنے میں بھلے ہی دقت ہوئی ہو لیکن معاشی وسائل میں مشکلات کا سامنا انہیں کبھی نہیں کرنا پڑا، اس دور کی سماجی تنظیموں اور تحریکوں میں کانگریس کے بعد سب سے زیادہ وسائل آر ایس ایس کے پاس ہی تھے۔ آر ایس ایس کے پاس کس شکل میں کتنے سماجی وسائل تھے اس کا اعداد و شمار کے ساتھ کوئی ذکر اس لیے ممکن نہیں ہے(اور آج بھی نہیں ہے) کیونکہ اس کے ذرائع اور وسائل کا کا کوئی آڈٹ وغیرہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی یہ کسی سرکاری نظم و ضبط کے تحت آتا ہے۔
اس لیے آر ایس ایس پر جب بات ہو تو اس بات کو ہمیشہ مرکز میں رکھا جانا چاہیے کہ سماجی اعتبار سے اس کی کسنے کتنی مدد کی؟ جب کانگریس اپنے عروج پر تھی تو کانگریس پارٹی کے خلاف سب سے پہلے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے غیر کانگریسیوں کی وہ زمین تیار کی تھی جہاں جن سنگھ اور سماج وادی اندر ہی اندر تال میل بٹھا رہے تھے۔ یہی سبب تھا کہ1967 کے انتخاب میں جب سات صوبوں میں کانگریس پارٹی ہار گئی اور متحدہ ودھایک دل کی حکومت بنی تو اس میں جن سنگھ بھی شامل تھا۔ جن سنگھ یعنی موجودہ بی جے پی کی پرانی شکل۔ یہ آر ایس ایس کی ہی سیاسی ابتدا تھی۔
اس لیے جب ملک میں آر ایس ایس کو قانونا صحیح قرار دینے کی بات ہوتی ہے تو ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے رول کو نظر انداز کرنا قطعی مناسب نہیں ہوگا۔ لوہیا کے بعد دوسرے اہم لیڈر جے پی ہیں جنہوں نے1975 میں اندرا گاندھی کے ذریعہ ایمرجنسی نافذ کئے جانے کے بعد سنگھ کے فعال تعاون کے ساتھ ایک سیاسی محاذ قائم کیا جس میں جن سنگھ سب سے اہم تھا۔ جب جارج فرنانڈیز جیسے سماج وادی نظریات کے لیڈروں نے آر ایس ایس کے فرقہ وارانہ ماضی پر سوال اٹھایا تو جے پی نے مشہور بیان دیا:” اگر سنگھ فرقہ پرست ہے تو جے پرکاش نارائن کو بھی فرقہ پرست مانئے "۔
سنگھ کو مین اسٹریم میں قانونا جائز قرار دینے کی کڑی میں تیسرا اہم نام جارج فرنانڈیز کا ہے۔ جارج کی بڑی حیثیت تھی۔ مزدور لیڈر کے طور پر پورے ہندوستان میں لوگ انہیں جانتے تھے۔ وہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے شروع سے ہی مخالف تھے۔ لیکن جب ان کی خود کی سیاسی زمین کمزور ہوئی اور پارٹی پر گرفت ڈھیلی ہونے لگی تو اقتدار میں بنے رہنے کے لیے انہوں نے بی جے پی سے کچھ شرطوں پر معاہدہ کر لیا۔ یہ 90 کی دہائی تھی۔ مندر مسجد کے ماحول میں بی جے پی کی شبیہ پوری طرح سے فرقہ وارانہ ہو چکی تھی۔ سنگھ اور بی جے پی کو آزادی کے بعد دوسری بڑی پریشانی کا سامنا تھا۔ بابری مسجد گرانے کی وجہ سے بی جے پی کے دامن پر ایسا داغ لگا تھا کہ ملک میں امن چاہنے والے مان چکے تھے کہ بی جے بی سچ میں مسلم مخالف ہے۔ لیکن جارج نے اس کے باوجود بی جے پی سے سیاسی معاہدہ کیا۔
بی جے پی کی فرقہ وارانہ شناخت کو درکنار کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہاتھ ملانے والوں میں چوتھا بڑا نام سماج وادی اور سماجی انصاف کے کھلاڑی نتیش کمار کا ہے۔ جس بی جے پی کو1990 سے پہلے فرقہ پرست اور مسلم مخالف سمجھا جاتا تھا، منڈل کمیشن کی سفارشات کی مخالفت کرنے کے بعد اس پر پسماندہ اور دلت مخالف داغ بھی لگ چکا تھا۔
مانا جاتا ہے کہ منڈل کی کاٹ میں ہی بی جے پی سنگھ نے کمنڈل کا داؤ کھیلا تھا۔ بی جے پی اس دور میں منڈل کمیشن کی مخالفت نہیں کر پارہی تھی لیکن اس کے اعلی کمان میں دلت اور پسماندہ طبقہ کے لیڈران کی عدم موجودگی اس شبیہ کو پختہ کرتی تھی۔ ایک کلیان سنگھ کو چھوڑ کر بی جے پی کی قیادت میں اس وقت تک ایک بھی پسماندہ لیڈر شامل نہیں تھا۔ نتیش کمار کی سمتا پارٹی نے1996 میں جب بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا تو اس سے بی جے پی کی فرقہ وارانہ اور اعلی ذات والی پہچان میں تھوڑی کمی آئی۔
اس کڑی میں ایک نام کانشی رام کا بھی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سماج وادی اور بہوجن سماج وادی کا اتحاد بنا۔ نتیجہ میں ملائم سنگھ زبردست جیت کے ساتھ وزیر اعلیٰ بنے۔ یہ1993 کی بات ہے۔ اسے دلت، پسماندہ اور اقلیتوں کی سیاست کا سب سے مضبوط سیاسی دوست کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ لیکن کچھ ہی مہینوں کے بعد جب مایاوتی کے ساتھ سماج وادی پارٹی کا اختلاف ابھر کر سامنے آیا تو بہوجن سماج وادی پارٹی کے چیف کانشی رام نے بی جے پی کے ساتھ مل کر مایاوتی کی قیادت میں سرکار بنوانے کو اپنی رضامندی دی۔
اعلی ذات کی سیاست کر رہی بی جے پی کا یہ سب سے کامیاب منصوبہ بند قدم تھا کیونکہ اس سے بی جے پی دلتوں کے درمیان یہ پیغام دینے میں کامیاب رہی کہ وہ ان کے خلاف نہیں ہے۔ اس طرح بی جے پی کو ذات کی بنیاد پر اچھوت ماننے والے دلتوں کے من میں اب بی جے پی کو لیکر اتنی نفرت نہیں رہ گئی۔ مایاوتی کی قیادت میں بہوجن سماج وادی پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ تین بار اتحاد کیا۔ اور حد پار کرتے ہوئے مایاوتی گجرات فسادات کے بعد اترپردیش کی وزیر اعلیٰ کے طور پر گجرات میں نریندر مودی کی انتخابی تشہیر کرنے بھی گئی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کانشی رام کے ایک غلط قدم سے بی جے پی کو کئی قدم آگے جست لگانے میں مدد ملی۔ بی جے پی نے اپنے اوپر سے فرقہ واریت اور ذات پرست ہونے کا داغ ہٹا دیا۔
آر ایس ایس اور بی جے پی کو سماج میں قبولیت دلانے کے معاملے میں بہار کے دو بڑے لیڈران کا ذکر کیا کئے بغیر یہ فہرست ناقص رہ جائیگی۔ شرد یادو اور رام ولاس پاسوان۔ وی پی سنگھ کی سرکار میں منڈل کمیشن کی تجویز کے بعد اس کا پورا کریڈٹ سرکار میں شامل شرد یادو اور رام ولاس پاسوان نے آپس میں بانٹنا چاہا۔ دونوں لیڈران منڈل کمیشن کے نفاذ کے بعد اس دور میں بی جے پی کو اعلی ذات کی پارٹی کے طور پر شناخت کرواتے تھے۔ لیکن جیسے ہی ان کی اپنی حیثیت جنتا دل میں کمزور ہوئی دونوں اسی برہمن وادی بی جے پی سے جاملے. اب بی جے پی ان کے لیے پسماندہ اور دلتوں کا حق مارنے والی پارٹی نہیں رہی۔
شرد یادو اور رام ولاس پاسوان کا بی جے پی قیادت کے سایہ میں آجانا سماجی انصاف کے دھارے کی طرف سے یہ مان لینا تھا کہ آر ایس ایس اور بے جے پی سچ میں دلت اور پسماندہ مخالف نہیں ہے ورنہ وی پی سنگھ کے بعد منڈل کمیشن کے دو سب سے بڑے ‘مسیحا’کیسے بی جے پی کے ساتھ ہوتے؟ اس طرح بی جے پی کی پسماندہ اور دلتوں میں مقبولیت گہری ہوگئی.
یہ سبھی لیڈران اپنی ذاتی خواہشات کی وجہ سے پہلے جن سنگھ سے ملے، پھر بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور آر ایس ایس کو اپنی زمین مضبوط کرنے میں تعاون دیا۔ حقیقت میں رام منوہر لوہیا پہلے سیاستدان تھے جو اس خطرہ کو سب سےپہلے اچھی طرح سے جانتے تھے پھر بھی انہوں نے یہ غلطی کی تھی۔ لوہیا پہلے سماج وادی لیڈر تھے جو اقتدار کی منتقلی کے لیے نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کے لیے لڑ رہے تھے۔ اگر لوہیا کچھ دن اور زندہ رہتے تو یقینی طور پر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا ہوتا۔
رام منوہر لوہیا نے برسوں پہلے ہند و پاک کی تقسیم پر ایک کتاب لکھی تھی-‘تقسیم ہند کے گنہگار’. بغیر نام کا ذکر کئے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ گنہگار کون ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ اگر آج لوہیا زندہ رہتے تو شاید ان کی کتاب کا نام ہوتا-‘آر ایس ایس کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کے گنہگار’۔
جو صاف گوئی اور ایمانداری ڈاکٹر لوہیا میں تھی، وہ بلا تردد یہ لکھتے کہ کیسے انہوں نے اکیلے آر ایس ایس کو’گاندھی کے قتل’کے پاپ سے آزاد کیا ہے۔ لیکن منڈل کے دونوں کھلاڑی شرد یادو اور رام ولاس پاسوان آج بھی اپنے لیے بی جے پی کے تنبو میں بڑا موقع تلاش رہے ہیں!

(مترجم: احمد الحریری، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی)
یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے