دنگا نہیں، مسلمانوں کا سیاسی مرڈر ہے!

Spread the love


زیادہ سوچنے کے لئے وقت نہیں ہے آپ کے پاس۔
مشرف عالم ذوقی
کیا ہم ایک ایسی گھٹن اور غلامی کا شکار نہیں، جہاں سارے راستے بند ہیں اور اس کے باوجود ہم میں سے بیشتر لوگ سکون اور سہولت پسند زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یا یہ طریقہ ایسے لوگوں نے صرف اس لئے اختیار کیا ہے کہ ان پر کسی طرح کی آنچ نہ آئے اور وہ حالات کے جبر سے محفوظ رہ سکیں۔ جبکہ ایسے لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ حالات کا شکنجہ آہستہ آہستہ ان پر بھی کستا جا رہا ہے۔

سینکڑوں بار لٹنے اور آباد ہونے والی دلی کا مزاج اس بار مختلف رہا۔ نہ یہ غدر تھا، نہ حملہ نہ تقسیم کی جنگ۔ نشانہ مسلمان تھے۔ اور یہ بات اسی وقت ثابت ہو گئی تھی جب ناگپور سے نشنلزم یعنی راشٹر واد کا فتویٰ جاری ہوا۔ دنگے اور بھاگوت کی ٹائمنگ دیکھ لیجئے۔ راشٹر واد کو بھاگوت نے ہٹلر ، نازی ازم اور فاشزم کا نام دیا۔ یہ اس ہٹلر کے نام پر مہر لگانا تھا جس نے جرمنی کو آگ کے شعلوں میں جھونک دیا۔ ٩ لاکھ یہودی ہلاک ہوئے۔ چھ برسوں میں ٹارگیٹ مسلمان رہے۔ہلاک مسلمان ہوئے۔ مسلمانوں سے وابستہ نشانیاں تبدیل ہوئیں۔ شاہراہ اور سڑکوں کے نام بدلے گئے۔ کھلا کھیل شروع ہوا جس نے بھاگوت تک یہ بات پنہچا دی کہ اب بر سر اقتدار حکومت کا موازنہ جرمنی سے ہو رہا ہے۔ مودی کے گجرات ماڈل کو نازی ازم اور فاشزم سے جوڑا جا رہا ہے۔ ملک میں شاہین باغ بننے لگے تو پولیس اور بھگوا مظاہرین کا وہی رخ سامنے آیا جو گجرات میں سامنے آ چکا تھا۔ پولیس بھی ہندو ہوتی ہے۔ ہاشم پورا سے لے کر مظفر نگر اور اب دلی تک ہزاروں تشدد کے واقعات ہیں، جو پولیس نے انجام دئیے۔ یہی وقت تھا جب اندھے بھکتوں کو ہٹلر بن جانے کا پیغام جاری ہوا۔ جب جے این یو ، علیگڑھ ، جامعہ کو جلایا جا رہا تھا ، جب ملک کے ہندو ، سکھ ، دلت مسلمانوں کی حمایت میں سامنے آ چکے تھے ، ہندو راشٹرواد کے نعرے کے ساتھ دلی کو تین دنوں تک آگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ طوفان گزر گیا۔ اس سے کہیں زیادہ خوفناک طوفان دوبارہ بھی آ سکتا ہے۔ بلکہ یہ آگ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی ہے۔
دلی میں آگ لگانے والے ، ہلاک کرنے والے یہ نعرہ بھی لگاتے رہے کہ دے دو ان کو شہریت۔ موت کے خونی کھیل سے مسلمانوں کو شہریت دینے کا کام تین دنوں تک جاری رہا۔ سیاسی پارٹیاں خاموش رہیں۔ کیجریوال خاموش رہے۔ جبکہ اس کھیل کا ایک بڑا حصّہ کیجریوال بھی تھے۔ مسلمانوں نے متحد ہو کر کیجریوال کو دلی کی سلطنت دی تھی اور کیجریوال کے حق میں دعا بھی مانگی گیی تھی۔ کیجریوال اور امت شاہ ایک دوسرے کے جانی دشمن جب ایک ساتھ پریس کانفرنس میں نظر آئے ، اسی وقت یہ اشارہ بہت حد تک مل چکا تھا کہ آئندہ کیجریوال کس کردار میں ہوں گے۔ یہ مسلمانوں کی شہریت کو لے کر اٹھنے والا دھواں بھی تھا ، جس کا پہلا بڑا ٹارگیٹ اس بار دلی کو بنایا گیا۔ اور دلی کو اس لئے بنایا گیا کیوں کہ دلی سے اٹھنے والی آواز کا اثر پورے ہندوستان پر ہوتا ہے۔
پیٹرول بم چھوڑے گئے۔ دوکانیں بے رحمی سے جلا دی گئیں۔ مکانات جلاے گئے۔ مودی اور امت شاہ پر بے لگام بولنے والے کیجریوال تیسری بار انتخاب جیتنے کے بعد نئے ، کمزور اور بہت حد تک ظالموں کا خاموش ساتھ دینے والے کردار میں ہیں۔ سونیا کی باتوں کا اثر نہیں ہوتا۔ راہل بابا خاموش رہے۔ کسی کو بھی اپنی پارٹی بچانے سے کب فرصت ہے کہ مسلمانوں کی حمایت میں اترے۔ گجرات فقط ریہرسل ، دلی پوری فلم ، اور اس فلم میں وہ بھی دہرایا گیا جو گجرات میں ہوا۔ مگر فلم ابھی باقی ہے۔
یہ دنگا نہیں ، مسلمانوں کا سیاسی مرڈر ہے۔ اس سیاسی مرڈر کے بعد اس تصویر پر نہ جائیے جہاں میڈیا کے کچھ چینل ہندو مسلم ملت کی باتیں دھرا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو بچانے کی کہانیاں دکھا رہے ہیں۔ یہ جنگ تقسیم سے زیادہ خوفناک رنگ اختیار کرے گی۔ شاہین باغ اجڑ جائیں گے۔ حمایت کرنے والے پہلے اپنا گھر دیکھیں گے۔ مسلمان ڈیٹینشن سینٹر بھیجے جانے سے قبل ہی شہریت پا چکے ہونگے۔ جو ہو سکتا ہے ، ہم ضرور کریں۔ مگر یہ ضرور سوچیں کہ اس خوفناک آنے والے طوفان کا مقابلہ کیسے کریں۔ وہ دلی ہار کر بھی جیت گئے۔ ہم جیت کر بھی ہار گئے۔
تحفظ دینے والی ایک ایسی پناہ گاہ ،جسے حکومت کہتے ہیں ،جب اسکا ہر قدم آپکے خلاف ہو تو یہ سوچنا لازمی ہو جاتا ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟ اور آج کے خوفناک حالات کا جبر ہمیں کب تک سہنا ہوگا۔…؟ ایک ایسی حکومت جس نے ہر اس شخص یا حکمران سے دوستی کی جو مسلم مخالف ہے…اسرائیل، امریکہ کے بعد یہ سلسلہ روہنگیا سے آگے بھی قائم ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی اسی طرح چلتا رہے گا۔ یاد کیجئے، جب روہنگیائی مسلمانوں کو نوبل انعام یافتہ حکمران کے اشاروں پر ملک بدر اور ہلاک کیا جا رہا تھا، ہمارے محافظ نے اس حکمران سے ملنے کے لئے وہی وقت مقرر کیا۔ جب معصوم بچے ،جوان نا بالغ لڑکیوں کی عصمت لوٹی جا رہی تھی، جب توپ کے گولوں سے انھیں اڑایا جا رہا تھا، ایک خفیہ میٹنگ میں در بدری کے فرمان کی حمایت کی جا رہی تھی۔ جب اسرائیلی فتنہ فلسطین پر موت کی بارش کر رہا تھا، جب امریکی حکمران ٹرمپ مسلم ممالک پر پابندیاں عاید کر رہا تھا، ہمارے محافظ حکمران ان حکمرانوں سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کر رہے تھے۔ اور اب ٹرمپ کی آمد کے ساتھ دلی کو نشانہ بنایا گیا, پریش ورما ، انوراگ ٹھاکر ، کپل مشرا فقط مہرے ، کھیل کوئی اور رہا ہے۔ کل ان کی جگہ دوسرے مہرے ہوں گے۔ کیا اب بھی یہ خیال یا یہ سوچنا دشوار ہے کہ ہمارے محافظ ، ہمارے حکمران ہم سے انتقام کی سیاست کر رہے ہیں۔ اور ہمیں اس ملک میں برداشت کرنا نہیں چاہتے ؟
سچ بولنے والوں کی زبان خاموش کر دی جائیں گی۔ اس معاملے میں بیشتر پارٹیوں کا کردار مشکوک رہا ہے اور آگے بھی رہے گا۔ کچھ دانشوروں میں جرأت تھی۔ بولنے کا حوصلہ تھا, موت کو گلے لگانے کی آزادی تھی۔ یہ آزادی اس لئے حاصل تھی کہ ان لوگوں نے ذہنی غلامی پر حق بات کو فوقیت دی تھی۔ غور کریں تو یہ وہ لوگ تھے جو ہمارے لئے بھی لڑتے رہے۔ ہمارے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا جواب دیتے رہے, لیکن ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم میں جرات اور حوصلے کی کمی کیوں ہے؟ اپنی قوم کا تجزیہ کرتا ہوں تو ایک سوئی ہوئی بد قسمت قوم کا تصور سامنے آتا ہے۔ کہانیاں ، غزلوں ،افسانوں سے ملک کے حالات نہیں بدلیں گے۔ ہم میں نہ کویی برکھادت ہے نہ راج دیپ سر دسائی، نہ کویی گوری لنکیش ہے نہ کوئی شوبھا ڈے, نہ ابھیسار، نہ رویش۔ کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔ ہماری آواز سو دو سو کی تعداد میں شایع ہونے والے اخبارات اور بلوگس میں سمٹ آتی ہے۔ ہمارے احتجاج کی آخری حد فیس بک ہے۔ جہاں لایکس اور کچھ توصیفی کلمات پڑھ کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ قدیم مصر کی کہانیوں میں مردہ جسم محفوظ کو ممی میں محفوظ کرنے کی کہانیاں آپ نے بھی پڑھی ہونگی۔ اہرام کی تعمیر کے عظیم دور میں یہ رسم تھی کہ ہرم کے وسط میں فرعون کی لاش ایسے کمرے میں رکھتے جسے ایک چٹان تراش کر بنایا جاتا۔ لاش دفنا تے وقت مختلف رسومات ادا کی جاتیں۔
خیال آتا ہے کہ وقت اور حالات نے ہمیں انہی چٹانوں کے حوالے کر دیا ہے۔ ہم زندہ ممی ہیں۔ محافظ حکمرانوں نے مسلسل اذیت کے بعد ہمارے مردہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ میں خوف و دہشت کے ویرانے میں خوشیوں کے چراغ روشن نہیں کر سکتا– میں آہ و فغاں کی دردناک آوازوں کو سن کر خود کو فریب نہیں دے سکتا۔ میں موت کی آہٹوں کو سن کر بے نیازی کا نغمہ گنگنانے کو فرار کا نام دیتا ہوں۔ وہ دستکیں قریب آتی جا رہی ہیں، جہاں ہلاکت کے ہر عالمی فرمان پر ہمارا نام لکھا ہے۔ روہنگیا ،شام ،فلسطین ،عراق ،افغانستان ہو یا ہندوستان یا پاکستان – میں ان لہو لہان وادیوں میں اذیت، جبر، دہشت اور ظلم کے گھنے سایے میں کسی عید، کسی دیوالی ،کسی ہولی کا خیر مقدم نہیں کر سکتا۔ ان سلگتی وادیوں میں ایک آگ ہے جو مجھے جلا رہی ہے۔ ایک خوفناک آندھی ہمکلام ہے کہ تم زندگی کی پر فریب حقیقتوں کے قیدی بن کر قاتل اور دشمنوں کے سر میں سر ملا رہے ہو ، جوزف برا ڈسکی کی نظم یاد آ رہی ہے۔
جب تم انجانے خداؤں کو یاد کرتے ہو ، لوگ مر رہے ہیں۔
جب تم ٹائی کی ناٹ باندھتے ہو ،لوگ مر رہے ہیں۔
جب تم اپنے گلاسوں میں وہسکی انڈیلتے ہو ،لوگ مر رہے ہیں۔
یہ ہم کہاں آ گئے کہ موت نے ہمارے ہی گھر کا راستہ دیکھ لیا؟ عالمی سطح پر ہونے والی سازشوں نے ہمیں ہی آسان شکار سمجھ کر ہمارا خون بہانا شروع کر دیا۔ آگے اور بھی فرمان آہیں گے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تربیت اب زعفرانی رنگ میں ہوگی۔ اس زعفرانی سیاست میں ہمیں قدم قدم پر شکست اس لئے ملے گی کہ ہمارے ہی کچھ لوگ اس خوفناک سازش اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں انکا ساتھ دے رہے ہیں۔ تیس کروڑ کی آبادی پر ہندوتو کے درشن اور فلسفے خاموشی سے اور اب کھلے طور پر مسلط کئے جا رہے ہیں۔
میں اس جنگ میں دور تک خاموشی دیکھتا ہوں۔ لکھنے کی حد تک بھی ، ہماری جنگ میں شمولیت ایک فی صد بھی نہیں ہے۔ تیسس کروڑ کی آبادی نے سہولت پسند زندگی کا انتخاب کیا ہے۔ ہمارے محافظ حکمرانوں کی اذیت پسند تحریک میں وہ لوگ بھی نشانے پر ہوں گے جو خاموش ہیں۔
ہم دلتوں ، سکھوں ، عیسائیوں ، اور دیگر پارٹیوں کے ساتھ بڑی طاقت بن کر سامنے نہیں آئے تو این پی آر بھی ہوگا۔ سی اے اے بھی۔ ہماری شناخت کے آگے ڈی لکھا جائے گا اور ہماری خوش فہمیوں کے تابوت میں کیلیں ٹھوک دی جائیں گی۔
(مضمون نگار سینئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے