شرجیل کی تقریر پر لیفٹ-لبرل کا غیر منصفانہ رد عمل!

Spread the love


(ہندوستان کی سالمیت اور اتحاد کے نام پر اقلیتوں کو خاموش کرنے کے لیے،حقیقت میں لیفٹ-لبرل کیا کرتے ہیں؟ اپوروانند جھا اور محمد عاصم کے مضامین جبکہ فیس بک پر شودھابرتا سین گپتا کی پوسٹ فکر و خیال کے اسی دریچہ سے ہمیں متعارف کراتی ہیں)

تحریر:ایوتا داس، اکشت جین اور شاہ رخ خطیب۔

شرجیل امام ایک کمپیوٹر سائنس دان اور جدید تاریخ کے ایسے اسکالر ہیں جو وقت کے بہت ہی اہم مسئلوں مثلاً اکثریت پر مبنی جمہوریتوں میں اقلیتوں کے مقام، عوام کی حساسیت پر لیفٹ بیانيہ کی اجارہ داری؛ تاریخ نگاری میں مخالف آوازوں کو دبانا؛ اپنے دعویٰ کردہ علاقوں کو ظالمانہ فوجی طاقت کے استعمال کے ذریعہ قابو میں رکھنے والے نیشن اسٹیٹس کے اتحاد و سالمیت اور آج کی سامراج اور نوآبادیاتی مخالف جد و جہد میں روایتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خصوصا اسلام کے رول جیسے موضوعات پر لکھتے اور بولتے رہتے ہیں،وہ اس ملک کے نوجوانوں کی رہنمائی ایک ایسی سمت میں کررہے ہیں جس سمت میں چند ہی لوگ رہنمائی کرپاتے ہیں-
انہوں نے ایسے مضامین لکھے ہیں جو نہ صرف بلند خیالات پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ایک ایسے متبادل نظریہ کی تشکیل کرتے ہیں جس کے ذریعہ کارپوریٹ کی ظالمانہ ریاست پسندی کے خلاف لڑائی چھیڑی جاسکتی ہے-
شرجیل ساری دنیا کی اقلیتوں کی جدوجہد کے لئے اس صورت میں بہت ہی مفید ثابت ہوسکتے ہیں اگر ان کو زندہ رہنے دیا جائے کیونکہ اس لڑائی میں اخیر تک انہیں اپنا کنٹریبیوشن پیش کرنا ہے۔
اوائل جنوری میں شرجیل نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تقریر کی تھی جس تقریر میں انھوں نے سیٹیزن شپ امینڈمینٹ ایکٹ اور سی اے اے کی مذمت کی تھی،17 جنوری کو ان کی اس تقریر کا ویڈیو یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا گیا اور چھ روز کے بعد ہی ان پر غداری کا الزام لگا کر جلد ہی ان کو بہار کے شہر جہان آباد سے گرفتار کرلیا گیا- تب سے بہت سے ایسے مضامین اور پوسٹیں شرجیل کے تعلق سے آچکی ہیں جو کہ خود اس کی تحریروں کی عکاس ہیں- اب “شرجیل امام” کے نام سے گوگل سرچ اس کی تحریروں کے بجائے اس پر لکھے مضامین کی طرف لیکر چلی جاتی ہے۔
بی جے پی کے مطابق شرجیل غدار وطن ہے، اس تعلق سے پارٹی کا موقف بالکل صاف اور واضح ہے: شرجیل ہندوستان کا دشمن ہے اور اس کے ساتھ دشمنوں جیسا ہی سلوک کیا جانا چاہئے، اس موقع پر ہندوستان کے لیفٹ-لبرل کے موقف کو کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی جہالت اور منافقت کو پورے طور پر بے نقاب کیا جاسکے- شرجیل صاف صاف کہتے ہیں کہ جو کوئی بھی موجودہ انڈین اسٹیٹ کے نام نہاد اتحاد اور اس کے آئین پر یقین رکھتا ہے وہ اس کا دشمن ہے- اسی وجہ سے بی جے پی نے ایک دشمن کی طرح اپنا قدم اٹھایا اور خود کو اس کا ایک دشمن قرار دے دیا -حالانکہ لیفٹ-لبرل بھی انڈین نیشن اسٹیٹ کی قربان گاہ پر سر خم کرتے ہیں لیکن ان میں خود کو دشمن قرار دینے کی سکت نہیں ہے- شاہین باغ میں کشمیر سمیت پورے ہندوستان کا ایک نقشہ دکھایا گیا ہے حتی کہ اس نقشہ میں چین اور پاکستان کے قبضہ والے علاقے بھی دکھائے گئے ہیں،لیکن پھر بھی مظاہرہ کے ذمہ داران یہ قبول نہیں کرتے کہ وہ ان کشمیریوں کے دشمن ہیں جنھوں نے اس طرح کے جنگجویانہ خیال کو بہت پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔
لیفٹ-لبرل نے شرجیل امام کے تئیں جو موقف اختیار کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس کی باتوں سے اتفاق نہیں رکھتے، لیکن اس پر غداری کا الزام نہیں لگانا چاہئے تھا- غداری کی جگہ اس کے خلاف یہ الزامات لگائے جاسکتے ہیں:

*شرجیل غیرمسلموں سے کہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی شرطوں کے ساتھ کھڑے ہوں،یہ ایک طرح کی فرقہ پرستی ہے۔
*شرجیل کی تقریر بی جے پی کے لئے تعاون کا کام کر رہی ہے کیونکہ ” یہ وقت ٹھیک اور مناسب نہیں ہے” یہ ایک سیاسی حماقت ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ لیفٹ-لبرل نے یا تو تقریر سنی ہی نہیں یا پھر وہ اسے سمجھ نہیں پائے، اس موقع پر اس حیرت انگیز ستم ظریفی کو یاد کیجئے کہ آزادی سے پہلے کانگریس،اس کے حامیوں اور دیوبندی علماء نے بریلوی علماء کے خلاف اسی طرح کے الزامات لگاتے ہوئے لیفٹ-لبرل والا ہی موقف اختیار کر رکھا تھا- شرجیل ہمیں بریلویوں کے ناقابل تلافی جرم یعنی کانگریس کی مخالفت کرنے کی یاد دلاتے ہیں- آج شرجیل کا ناقابل معافی جرم بھی بالکل اسی طرح کا ہے اور وہ ہے لیفٹ-لبرل کی مخالفت کرنا- وہ شرجیل کے موقف کی درستگی کو اسی وقت تسلیم کریں گے جب وہ بی جے پی کے خلاف لیفٹ-لبرل کے موقف کی حمایت کرینگے،ورنہ انہیں خاموش کردیا جائے گا اور ان مسلمانوں کی حمایت میں انہیں الگ تھلگ کردیا جائے گا جو لیفٹ-لبرل قسم کے ہندو نیشنلزم کے زیادہ موافق اور سازگار ہیں- شرجیل یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان دیوبندی اور بریلوی کی بحث اب بھی جاری ہے،کانگریس اور لیفٹ جماعتوں کی بہترین کوششوں کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں نے دیوبندیوں کو اپنے واحد ‘اجداد’ کے طور پر تسلیم نہیں کیا،انہوں نے ہندو لیفٹ-لبرل کے تصور اسلام کی مخالفت کرکے بریلوی روایت کو زندہ رکھا ہے۔
ہم یہاں دو مضامین اور ایک فیس بک پوسٹ جو شرجیل کی گرفتاری کے بعد والے ہفتہ میں لکھے گئے تھے کو لیفٹ-لبرل موقف کے کھوکھلے پن اور دانشورانہ بددیانتی کے نمائندہ اور نمونہ کے طور پر پیش کرینگے،ان میں سے ایک مضمون نگار برہمن اور سماجی انصاف کے علمبردار ہیں، دوسرے ایک مسلم صحافی ہیں جو ہندوستان کے سیکولر اور سوشلسٹ نظریہ پر یقین رکھتے ہیں اور تیسرے ایک برہمن ، معاصر آرٹسٹ اور فن کار ہیں، ایک گاندھی واد، ایک لیفٹسٹ اور ایک لبرل ہیں۔

پہلا مضمون پروفیسر اپوروانند جھا کا ہے جو دہلی یونیورسٹی میں ہندی کے استاد ہیں،وہ ملک کے یومیہ امور پر کثرت سے لکھنے والے ایک بڑے لکھاری ہیں، دی وائر پر ان کا مضمون اس عنوان کے تحت چھپا تھا، "شرجیل امام کی تقریر وحشت انگیز اور غیر ذمہ دارانہ تھی، لیکن کیا یہ غداری کے زمرہ میں آتی ہے؟”جھا جو خود کو اقلیتوں کے حقوق کا بے لوث محافظ قرار دیتے ہیں،شرجیل کے آزادی اظہار کے حق کا دفاع کرتے ہوئے اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:
اس کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ غیرمسلموں کو شہریت کے قانون کے خلاف جدوجہد میں ہماری شرائط سے اتفاق کی صورت میں ہی شامل ہونا چاہئے،حالانکہ یہاں لوگوں کو متحد کرنے والا چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ایک سادہ اصول ہے اور وہ ہے مساوی شہریت کا حق، مساوی شہریت کی لڑائی میں کوئی دوسری شرط نہیں ہوسکتی ہے،اس کے علاوہ کچھ کہنا یک جہتی کے امکان کو مسترد کرنا ہے،لوگ جانتے ہیں کہ مظلوموں کی لڑائی صرف مظلوموں کے لڑنے سے نہیں جیتی جاسکتی ہے-
جھا کے مضمون میں حقیقت پر مبنی ایک ایسی واضح غلطی ہے جو شرجیل کی تقریر کے اصل مواد میں ان کی عدم دلچسپی کو صاف صاف بیان کر رہی ہے، شرجیل نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مظلوموں کی لڑائی مظلوم ہی لڑینگے بلکہ وہ تو اس کے برعکس کہہ رہا ہے:
بطور اسکالرز کم از کم ہم لوگ ایک غیر مسلم ساتھی کو اپنے ساتھ لا سکتے ہیں، یہ دہلی میں موجود اسکالرز کی ذمہ داری ہے،ہم دہلی میں 500 مسلم اسکالرز کی ایک ٹیم بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب انہیں فوری ضرورت پڑیگی تو 500 ہندو ساتھی ان کی حمایت میں نکلیں گے، ہم نے یہاں زندگیاں گزاری ہیں، ہم نے اس کے لئے بہت زیادہ کام کیا ہے، ہماری کوشش 500 مسلم اور اسی طرح 500 ہندو دوستوں کو اپنی شرائط پر سڑکوں پر لانے کی ہونی چاہئے،کیا ہم سب ایک ہندو دوست کو اپنی شرائط پر ساتھ لا سکتے ہیں؟ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو پھر ہمیں کسی کے مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی، اگر ہم اپنے اوپر فرقہ پرستی کا ٹیگ لگنے سے بچنا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ٹیگ کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ اصل میں پولیس بربریت اور اس کے ذریعہ بری طرح سے تنہا پیٹے جانے کا ہے- میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ دہلی میں فرقہ پرست ٹیگ جیسی چیز کا بہت ذکر ہوتا ہے، دہلی میں ہماری کوشش ایک ایسے مجمع کو اکٹھا کرنے کی رہی ہے جس میں غیرمسلم ہمارے ساتھ نعرہ تکبیر لگائیں اور ہمارے ساتھ ہماری شرطوں پر کھڑے ہوں، اگر ہماری شرطیں انہیں قبول نہیں ہیں، تب اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ ہمیں اور ہمارے مجمع کو استعمال کررہے ہیں- اور یہی کام وہ گزشتہ 70 سالوں سے کرتے آرہے ہیں، اب غیر مسلموں کو صاف صاف بتانے کا وقت آ پہونچا ہے کہ اگر ہمارے تئیں ان کے اندر ہمدردی ہے تو وہ ہماری شرطوں کے ساتھ ہمارے ساتھ آئیں، اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سمجھا جائیگا کہ وہ ہمارے ہمدرد نہیں ہیں-

یہ بالکل واضح ہے کہ شرجیل مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں کو شانہ بشانہ دیکھنا چاہتے ہیں، اب پروفیسر اپوروانند کا یہ کہنا کہ مساوی شہریت کی لڑائی میں کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے،لیک سوال یہ ہے کہ آخر شرط کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ جھا اس کی تفصیل بتانا ضروری نہ سمجھتے ہوئے وہ مساوی شہریت کی اپنی ایک خاص گاندھی وادی تعبیر بیان کرتے ہیں جیسے کہ وہ فطرت کا کوئی قانون ہو،آئیے اب مساوی شہریت کی ایک دوسری تعبیر پر ہم نظر ڈالتے ہیں ،اور وہ ہے محمد علی جناح کی تعبیر کہ:”سیاسی حقوق سیاسی طاقت سے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں ".اس بات کو شرجیل نے جناح پر اپنے ایک مضمون میں ذکر بھی کیا ہے کہ” اگر دو برادریاں ایک دوسرے کی عزت کرنا نہ سیکھے اور ایک دوسرے سے خوف کھاتی رہے اور ڈرتی رہے تو کسی بھی معاہدہ کی اہمیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہوگی ".
سیاسی طاقت کی یقین دہانی پر مساوی شہریت کو اس طرح مشروط کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح کی حمایت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اسی طرح کی مدد بھی دی جائے، فوج، پولیس، ایڈمنسٹریشن اور عدلیہ میں ریزرویشن ایک ایسی پیشگی شرط ہے جس کا مطالبہ اقلیتیں مساوی شہریت کی لڑائی میں کر رہی ہیں، جھا کا خیال ہے کہ وہ اپنا ”سرنیم” ہٹا کر مساوی شہریت کی ضمانت دے رہے ہیں، یہ بات حیران کن ہوسکتی ہے کہ مساوی شہریت علامتی اشاروں سے کہیں زیادہ کا مطالبہ کررہی ہے، ہندوستان کی اونچی ذات کے لوگوں کو اس وقت تک ذات پات سے خود کو آزاد تصور کرنے سے دور رہنا چاہئے جب تک کہ سماجی اور معاشی حالات سچ میں ان کو ذات پات سے آزاد نہ کردیں-
جھا شرجیل کی حمایت کرنا تو چاہتے ہیں مگر وہ خود اپنی شرطوں پر ایسا کرنا چاہتے ہیں،اور اس میں انہیں کوئی دقت نہیں ہے، حالانکہ شرجیل صاف صاف کہتے ہیں کہ وہ غیرمسلموں کی حمایت اپنی شرطوں پر چاہتے ہیں لیکن ایک غیر مسلم اس کی شرطوں پر اتفاق کئے بغیر اپنی حمایت اس پر زبردستی تھوپ رہا ہے۔
یہ قدیم روایت رہی ہے کہ اظہار یک جہتی کے طور پر برادریاں ایک دوسرے کے تیوہار کو مل جل کر مناتی ہیں، ایک ہندو مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کی خاطر دیوالی منانا ترک نہیں کر سکتا ہے، اور ساتھ ہی وہ مسلم برادری کے ساتھ عید بھی مناتا ہے، اظہار یک جہتی کی اس بنیادی فطرت کو اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار جھا جب نظر انداز کرتے ہیں تو دراصل وہ یہ ظاہر کررہے ہوتے ہیں کہ وہ خود اظہار یک جہتی سے کس قد دور ہیں، اس کے برعکس شرجیل ،ثاقب سلیم کے ساتھ ایک مشترکہ مضمون میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں اور ہندؤں کو ایک دوسرے کا تیوہار اسی طرح منانا چاہئے جس طرح وہ تقسیم سے پہلے مناتے تھے-
اس جنماشٹمی پر ہم امید کرتے ہیں کہ تمام ہندوستانی اپنی عظیم شخصیتوں کو ہندو اور مسلم بناکر پیش کرنا بند کردیں گے، ہمیں جدید خیالات کی طرف پیش رفت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اجداد کی اچھی تعلیمات کو اپنانے کی ضرورت ہے، فلسفہ کو فرقہ وارانہ نظر سے دیکھنے کے عمل نے اس ملک کو دیگر چیزوں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی نقصان پہنچایا ہے، یہاں اقبال کے ایک شعر کا ذکر ہم اس خواہش کے ساتھ کر رہے ہیں کہ اس جنماشٹمی کے موقع پر ہمارے سماج سے مذہبی تعصب کا خاتمہ ہوجائے گا-

یہ آیۂ نو، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر
گِیتا میں ہے قرآن تو قرآن میں گیتا

دوسرا مضمون صحافی محمد عاصم کا ہے جسے دی وائر نے ہی چھاپا ہے، تو چلئے پھر ہم اس مضمون میں موجود اصل نقص اور غلط بیانیوں سے اپنی بات شروع کرتے ہیں، صحافی عاصم کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام لوگ جو آج شہریوں پر ہو رہے فاشسٹ حملہ کے خلاف متحد ہیں وہی لوگ شرجیل کے مکمل نشانہ پر ہیں۔
انہوں نے بڑی آسانی سے اس حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ شرجیل فاشزم کے ان از خود مقرر شدہ دفاع کاروں کو بالکل پسند نہیں کرتا ہے،عاصم نے شرجیل کے الزام پر توجہ بھی نہیں دی۔
آگے عاصم دعویٰ کرتے ہیں کہ شرجیل کے لئے یہ لڑائی محض مسلمانوں کی لڑائی ہے، وہ شہریوں کے ہمہ گیر مظاہرہ کے نظریہ کا مذاق اڑاتا ہے۔
ہم پہلے ہی بتا چکے کہ یہ دعوی بالکل ہی جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔
جامعہ کی رابطہ کمیٹی- جے سی سی کے ساتھ شرجیل کو یہ پرابلم تھا کہ اس میں سارے مسلمان شامل نہیں ہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہیں۔
یہ دعویٰ اس قدر شرمناک جھوٹ پر مبنی ہے کہ عاصم کی نیتوں اور اس کے صحافی ہونے کی قابلیت پر ایک سوالیہ نشان ہے، جے سی سی کے ساتھ شرجیل کا مسئلہ کیا تھا؟ اگر عاصم نے شرجیل کی تقریر سنی ہوتی تو اسے ضرور یہ معلوم ہوتا کہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ اس میں ہندو اور مسلمان کیوں ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ اس کمیٹی سے اللہ اکبر کے نعرہ پر اصرار کرنے والے لوگوں کو خاص طور سے نکال دیا گیا تھا۔
جے سی سی کے ساتھ شرجیل کا مسئلہ ہمہ گیری نہیں تھا بلکہ اس کا سوال جے سی سی کے غیر ہمہ گیر نیچر پر تھا، خود شرجیل کے یہ الفاظ ہیں:
یہ جے سی سی جو انھوں نے بنائی ہے،اس تعلق سے ان کی رائے ہے کہ یہ بہت زیادہ ہمہ گیر ہے، بقول ان کے گروپ میں ‘اللہ اکبر’ کا نعرہ لگانے والوں کے علاوہ سارے لوگ شامل ہیں، یہ ہے ان کی ہمہ گیر فطرت، اللہ اکبر والوں کے علاوہ اس گروپ میں تقریباً چار سو سے زائد طلباء جے سی سی میں شامل ہیں، یہ کس طرح کی ہمہ گیریت ہے؟ یہ تو اس وقت ہمہ گیر ہوتا جب اس میں اللہ اکبر گروپ بھی شامل ہوتا، وہ اللہ اکبر گروپ سے نفرت کرتے ہیں اور خود کو ہمہ گیر کہتے ہیں۔
شرجیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عاصم کہتے ہیں کہ شرجیل احتجاج کو "جے بھیم” اور "جے سمویدھان” کی بازگشت سے جوڑ کر نہیں دیکھتے ، یہ ایک دوسری جھوٹ ہے، شرجیل "جے سمویدھان” سے احتجاج کو جوڑنے کے خلاف ہیں لیکن "جے بھیم ” سے انہیں کوئی دقت نہیں ہے، عاصم ان دونوں کو ایک ساتھ جوڑ کر شرجیل کے منہ میں الفاظ ڈالنے کی غلطی کر کے وہ اپنے کیس کو خود ہی غلط طریقہ سے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔
اخیر میں عاصم کہتے ہیں کہ”اس طرح کی بےکار باتوں سے کس کو فائدہ ہوگا؟ آپ کا قیاس اتنا ہی اچھا ہے جتنا کہ میرا” یہاں ہم صرف یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ عاصم ہمیں یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ شرجیل کی تقریر سے بی جے پی کو ہی فائدہ پہونچے گا، آخر اس تقریر سے ہندوتواپارٹی کو کیسے فائدہ پہونچے گا؟ بلکہ اس کی تقریر سے اپنے من کی بہت سی باتوں کو اٹھا لینے والی حرکتوں سے حکومت کے مقصد کی تکمیل ہوگی۔
کیا عاصم یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ کسی شخص کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جس کے سیاق و سباق کو ہٹ کر لئے جانے کا اندیشہ اور اسے غلط ارادوں کے ساتھ استعمال کئے جانے کا امکان ہو؟گویا کہ ان باتوں کے ذریعہ بی جے پی کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے شرجیل کی اشد ضرورت تھی،اور اگر مان بھی لیں کے شرجیل کے دلائل بی جے پی کو فائدہ پہونچاتے ہیں تو کیا اس سے شرجیل غلط ہو جائیں گے؟اور اگر ان کے دلائل غلط ہیں تو ان کے لیے کسی عذر کی ضرورت نہیں ہے، عاصم کے مشورہ سے یہ لگتا ہے کہ ایسے تمام دلائل جو بی جے پی کے لیے مفید ثابت ہوں وہ نہ صرف غلط ہیں بلکہ اس طرح کے دلائل اور بیان بالکل نہیں دئے جانے چاہئے، اس سے ان کے اس یقین کا اندازہ ہوتا ہے کہ بحث کے دوران صرف انہیں درست دلائل کی اجازت ہونی چاہئے جنہیں ہندوتوا لیفٹ-لـبرل کے خلاف استعمال نہ کرسکیں۔

اس منطق کے اعتبار سے تو لیفٹ- لبرل پر کبھی بھی آسانی سے تنقید نہیں جاسکتی ہے کیونکہ وہ بی جے پی کے دشمن ہیں،انہوں نے دوسری تمام آوازوں کو ایک طرف کر کے یہ فرض کرلیا ہے کہ بی جے پی کے اصل مخالف وہی ہیں ، اور جب بھی الگ سے کوئی آواز اٹھتی ہے تو اس کو یہ کہتے ہوئے خاموش کردیا جاتا ہے کہ لیفٹ-لبرل ہی فاشزم کے خلاف واحد امید ہیں،حالانکہ لیفٹ- لبرل خود کو براہ راست فاشسٹ طریقوں میں ملوث نہ کرکے وہ اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کے لئے بی جے پی کے دوسرے درجے کے فاشزم کا سہارا لیتے ہیں۔

آئیے عاصم کے ان سوالات کا ایک حقیقی جواب دینے کی ہم کوشش کرتے ہیں، شرجیل کی تقریر ان سب کے لئے مفید ہے جو ہندوستانی ریاست اور آئین میں موجود جھوٹ اور فریب سے عاجز آچکے ہیں، یہ تقریر ان تمام لوگوں کے لئے معاون ہے جن سے اس ملک میں تقسیم کے وقت سے صرف جھوٹے وعدے کئے گئے، یہ تقریر ان لوگوں کے لئے بھی معاون ہے جو اپنے دشمنوں سے اپنے اتحادیوں کو الگ کرنا اور پہچاننا چاہتے ہیں،وہ لوگ جو شرجیل کی حمایت نہ صرف غداری کے الزام کے خلاف کررہے ہیں بلکہ ساتھ ہی ان کے دلائل کی بھی حمایت کررہے ہیں تو وہ اب شرجیل کے اتحادی ہیں اور جو ان کے خلاف ہیں وہ ان کے اتحادی نہیں ہیں۔

شرجیل کی تقریر بلکل صاف اور واضح ہے لیکن ان ہندوستانی لیفٹ- لبرل کا یہ الزام غیر معمولی بالکل نہیں ہے جو عوام کے دل و دماغ سے اپنا کنٹرول کھوتے جارہے ہیں- لیفٹ- لبرل کے ڈسکورس کو جو ہمیں کمزور کرتے ہیں کو توڑنے میں اکثریت پر مبنی اس جمہوریت میں سیاسی طور پر کمزور اقلیتوں کے لئے شرجیل کی یہ تقریر معاون ہے، یہ تقریر اقلیتوں کو یہ بتانے میں معاون ہے کہ اقلیت لیفٹ-لبرل سے ایجینسی چھین کر خود اپنے لیے بول سکتی ہے اور اپنے لئے کام بھی کر سکتی ہے، اس کے برعکس شرجیل کے خلاف عاصم کا مضمون کس کی مدد کرتا ہے وہ آپ اندازاہ کرسکتے ہیں؟

اخیر میں ہم آرٹسٹ، کیورٹر اور لکھاری شودھابرتا سینگپتا کے ذریعہ فیس بک پر لکھی گئی پوسٹ کا جائزہ لیں گے، وہ اس پر زور دیتے ہوئے اپنی بات شروع کرتے ہیں کہ وہ شرجیل کی حمایت نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ شرجیل پر چھ بار بیوقوفی، حماقت اور مکمل بے دماغی کا الزام لگاتے ہیں،- شودھابرتا حمایت نہ کریں تو ٹھیک ہے لیکن ان کی اپنی بے دماغی اس مضحکہ خیز بات سے ظاہر ہورہی ہے کہ ‘اللہ اکبر’ کا نعرہ لگانے سے وہ مسلمان ہوجائیں گے۔
” شرجیل امام اصل میں یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی طرف میری موجودگی کو صرف اور صرف اس وقت تسلیم کرینگے جب میں بھی صاف لفظوں میں مسلمانوں کے عقیدہ ‘نعرہ تکبیر، اللہ اکبر’ کا اظہار و اعتبار کرونگا۔
یہی وہ بات ہے جسے وہ اپنی یک جہتی کی پیشگی شرط کہتے ہیں- اس کا یہ مطلب ہے کہ اس وقت وہ مجھے اپنی جانب سمجھیں گے جب میں مسلمان ہوجاؤنگا۔

شودھابرتا نے اتنی بے باکی سے مضحکہ خیز بات کرنے سے پہلے گوگول سرچ کرنے کی زحمت بھی نہیں کی، یہی وہ مضحکہ خیز بات ہے جو ہمیں آج ہندوستانی فنون کے براہمن وادی ہونے کے بارے میں سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے اور حقیقت میں غیر ارادی طور پر مسلمان ہونا اسی کو کہتے ہیں ؟
مسلمان ہونے کے لئے اقرار ‘ نعرہ تکبیر،اور اللہ اکبر نہیں ہے، حتى کہ بغیر نیت کے یونہی کلمہ پڑھ لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہوجاتا ہے، ایک جین یا دلت کنگڈم کے آنے پر کلمہ پڑھ سکتا ہے لیکن اسلام کو اپنا مذہب تسلیم کیے بغیر مسلمان نہیں بن سکتا ہے، بھدرا لوک بنگالی دلتوں کے ساتھ محض "جے بھیم” کا نعرہ بلند کرنے سے بھدرالوک بنگالی ابھدرا نہیں بن جاتے ہیں،اسی لئے سین گپتا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، شرجیل نے کبھی بھی غیرمسلموں کو اسلام قبول کرنے کے لئے نہیں کہا، بلکہ اس نے جو کچھ بھی کہا اسے اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔

شودھابرتا شرجیل کی تقریر پر بی جے پی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ:”
اگر شرجیل نہ ہوتا تو بے جی پی اسے تلاش اور ایجاد کرتی ".
سین گپتا کسی فرانسیسی فلسفی کی دانشورانہ اتحاد سے کسب فیض کئے بغیر والٹئر کے مداح معلوم دیتے ہیں،ان کے اس مذاق کا جواب دیتے ہوئے ہم کہنا چاہیں گے کہ چونکہ شرجیل موجود ہے، اسی لئے شودھابرتا جیسے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ فاشسٹوں کا خوف دلا کر اسے خاموش کردیں، شودھابرتا کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ بھی نہ کہو اس لئے کہ اس سے بی جے پی کی مدد ہوتی ہے۔
اپنے ساتھی برہمن جھا کی طرح سینگپتا کو شرجیل کی غیر برہمن ایجنسی کی جگہ خالص تر ایجنسی کو تسلیم کرنے میں کوئی دقت نہیں ہے،وہ اس طرح کے داؤ پیچ کھیلنے کے ماہر ہیں، وہ اپنی ساری زندگی فرض شناسی کے ساتھ مسلسل بولنے کے دعوے دار رہے ہیں، شرجیل اپنی تقریر میں صاف کہتے ہیں کہ جو کوئی میرے ساتھ کھڑا ہے اسے نعرہ تکبیر لگانا ہوگا،اور جو ایسا نہیں کریگا وہ گویا میرے ساتھ کھڑا نہیں ہے، شودھابرتا نعرہ تکبیر لگانا نہیں چاہتے،لیکن وہ شرجیل پر اپنی حمایت اسی طرح زبردستی تھوپنا چاہتے ہیں جس طرح وہ کشمیریوں پر اپنی حمایت تھوپتے ہیں، آپ کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک کہ آپ یہ نہ جان لیں کہ وہ کس طرح آپ کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتا ہے،اگر آپ سے کوئی کھانا مانگے اور آپ اسے کرسی دے کر کہیں کہ میں آپ کے لئے بس یہی کرسکتا ہوں ، حالانکہ اس نے آپ سے کرسی نہیں مانگی تھی، اس عمل سے کسی کی مدد تو نہیں ہوتی لیکن ہاں اس سے آپ کے ضمیر کو سکون ضرور ملتا ہے- ہمارے نزدیک شودھابرتا کی شرجیل کے لیے حمایت کی بس یہی قیمت ہے، اور یہی وہ قیمت ہے جو اس ملک میں اقلیتوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ہم یعنی اس مضمون کے لکھنے والے جن میں ایک جین، ایک دلت اور ایک مسلمان ہیں شرجیل کی کہی اور لکھی ہوئی باتوں کی حمایت کرتے ہیں اور خود اس کی شرطوں پر کھڑے ہونے سے اتفاق رکھتے ہیں۔

سین گپتا کے مطابق شرجیل کی شخصیت ایک طرح کے اعصابی شکل میں ایک انتہاپسند مرد کی سی ہے اور وہ خود کو بہت بڑا باغی دانشور خیال کرتا ہے، اسی طرح وہ خود کو ایک ایسا عالم و فاضل تصور کرتا ہے جسے قدرتی طور پر ‘قائد’ کا خطاب عطا کیا گیا ہو، یہ وہ معروضی فیصلہ ہے جسے وہ یہ دعویٰ کرنے کے بعد صادر کرتے ہیں کہ وہ شرجیل پر اشتہاری حملے نہیں کریں گے بلکہ وہ صرف اس کے دلائل کی جانچ کریں گے، اصل میں وہ شرجیل کے دلائل پر اس قدر کم توجہ دیتے ہیں کہ ایک جگہ وہ اسے لیفٹ سے جوڑ دیتے ہیں۔

سین گپتا کہتے ہیں کہ:
” اس حالت میں ایک رجعتی سیاست کی تنقید پر اصرار ہی اصولی اور اخلاقی موقف ہے، اور اسی وقت بغاوت کے قانون کی مخالفت پر زور دیا جاسکتا ہے، اس کا اطلاق خاص طور سے اس شخص پر ہوگا جس نے خود کو تنقید کے لیے چنا ہو۔
وہ شرجیل کی سیاست کو رجعت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں،اور صرف اپنی سیاست کو اصولی اور اخلاقی موقف کا حامل قرار دیتے ہیں اور اس پر سارے لوگ اس ‘عقلمند برہمن’ کی تعریف و توصیف بھی کرتے ہیں، آخر شرجیل کی سیاست میں رجعت پسندی کہاں سے آگئی ؟شاید اس میں رجعت پسندی کی وجہ یہ ہے کہ سین گپتا اسے فرقہ پرستانہ اور آئیڈینٹی پولیٹکس کو بڑھاوا دینے والا بتاتے ہیں، اس کا مناسب جواب شرجیل نے پہلے ہی دے رکھا ہے:

” کمیونل کمیونٹی سے مربوط ایک شئی ہے، اور نوآبادیاتی دور میں اس اصطلاح کا استعمال اسی مفہوم میں بہت سارے مفکرین اور سیاست دانوں نے کیا ہے،کانگریس کے ذریعہ اس لفظ کے استعمال کی وجہ سے اس لفظ کو منفی انداز میں دیکھا اور سمجھا جاتا ہے، ‘کمیونل’ کا مطلب دوسروں کے خلاف نفرت اور تعصب بھڑکانا نہیں ہے، اس کا مطلب کسی کمیونٹی کی شناخت اور پہچان بھی ہوتا ہے، آگے چلکر اشتراکی اصطلاح ‘آئیڈینٹی پولیٹکس’ کا اضافہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا گیا ہے کہ دلت کی طرح مسلمان بھی ایک محصور اقلیت ہیں، یہ ان کا حق ہے کہ لوگوں کو متحرک اور بیدار کرنے کے لئے اپنی شناخت کا استعمال کریں،جب دلت کاسٹ آئیڈینٹی کی سیاست کرتے ہیں تو ہمارے لبرل کاسٹ سے بالکل آزاد ہوجاتے ہیں،اور جب اسی طرح مسلمان تقسیم نو کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہی لبرل فوراً سیکولر ہوجاتے ہیں اور ہم پر ‘آئڈینٹیٹی پولیٹکس’ کا الزام لگانے لگتے ہیں۔
ان ساری باتوں سے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرجیل کی تقریر کو توجہ سے سنے بغیر اور عوام کے بیچ دستیاب ان کے مضامین کو پڑھے بغیر اسے غلط انداز سے نقل کرنے،اسے غلط انداز سے پیش کرنے اور بدنام کرنے سے آخر ان لوگوں کا کیا فائدہ ہے؟ شرجیل نے اس کا جواب ہمیں پہلے ہی دے دیا ہے:
” ایسے لوگوں کی نیت سیاسی طاقت حاصل کرنا یا پھر کانگریس کی مدد حاصل کرنا ہوسکتا ہے "
مزید ،ہندوستانی نیشن اسٹیٹ پراجیکٹ پر ان کی اعلانیہ حمایت انہیں ایسے استدلالی گوشوں میں گھسنے پر مجبور کرتی ہے جہاں ان کے پاس ایسے نیچ حملوں اور قصداً جہالت اختیار کرنے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے۔
خود کو کچھ شخصی تجزئے میں مصروف کرنا، ان کا واضح جھوٹ شخصیت کی ایک ایسی قسم کو ظاہر کرتا ہے جوکہ ایک غیرمحفوظ طرح کے طریقہ میں منافق اور غیر مخلص ہے اور خود کو ایک ایسا انسانیت پسند ، اخلاق پرست، باغی اور تمام برائیوں کے مخالف طبیعت والا سمجھتا ہےجسے تمام لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے منصب پر فائز کیا گیا ہو۔

لیفٹ- لبرل نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا ہے کہ شرجیل کے دلائل غلط ہیں لیکن اس پر غداری کا الزام نہیں لگانا چاہئے،کیونکہ وہ غداری کے دفعہ کے خلاف ہیں، ایسا لگ سکتا ہے کہ وہ شرجیل کی حمایت میں لکھ رہے ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے، وہ لوگ ہمیشہ اس کے خلاف تھے، ہیں اور رہیں گے، شرجیل کے خلاف ایک موقف اپنا کر انہوں نے اپنے اس رنگ کو ظاہر کر دیا ہے جس کا اظہار شرجیل کرتے رہتے تھے، کوئی کہہ سکتا ہے کہ شرجیل نے درست انداز میں اپنے تئیں ان کے ردعمل کی پیشن گوئی پہلے ہی کردی تھی، وہ اسے کمیونل اور بی جے پی کا ایجنٹ کہتے ہیں چاہے یہ غیر شعوری طور پر ہی کیوں نہ ہو، اور یہی وہ بات ہے جس کی پیشن گوئی انہوں نے پہلے ہی کر دی تھی کہ وہ اسے ایسا ضرور کہیں گے کیونکہ انھوں نے شرجیل جیسے ہر شخص کو ہمیشہ ایسا ہی کہا ہے۔
وہ تقسیم سے قبل ہندو انتہا پسند کانگریس پارٹی کے شجرہ کو تلاشتے ہیں اور وہ اس میں صحیح بھی ہیں ، کیونکہ آج بھی ان کا بنیادی موقف وہی ہے جو موقف انتہا پسند ہندو کانگریس کا اس وقت تھا، وہ ان تمام مسلم اسکالرز اور رہنماؤں پر من گھڑت الزامات لگاتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے جو ان کے موقف کی درستگی پر آوازبلند کرنے کی جرأت و ہمت کرتے تھے،اور جو مسلمانوں کو یہ مشورہ دینے کی جرأت کرتے کہ وہ ایک برادری کے طور پر سوچیں، اور جو جناح اور شرجیل کی طرح سیاسی قوت کی شراکت داری کے لئے بغیر ٹھوس اقدامات اٹھائے بغیر اچھے سلوک کے وعدے کو قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے،انھوں نے سوچنے والے مسلمانوں کو ایک ایسے گوشے میں ڈال دیا جہاں سے پہلے ریڈیکل مطالبات کرنے پر ان کو مجبور کیا گیا اور پھر مسلمانوں پر ہی ایسے مطالبات کا الزام لگایا گیا۔
دلت، آدی واسی، کشمیری، آسامی، ناگا اور منی پوری میں سے ہر ایک ایسی ہی دلیلیں دیتے ہیں جیسی کے شرجیل نے دی ہے، آپ مسلمانوں کی جگہ انہیں خود ان کی شناخت سے تبدیل کر دیں، تو ہر ایک لیفٹ- لبرل کی جانب سے اسی سلوک کا شکار ہوں گے،شرجیل بجائے مسلم کے مسلم برادری سے اقلیتی حقوق کے ایک اسکالر ہیں،اس کی مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوستان کی ساری اقلیتوں کو نیشن-اسٹیٹ کے پچاری لیفٹ- لبرل کے ساتھ اسی طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہئے جو طنز،طعن و تشنیع، انتہا پسندی اور حماقت کے الزامات کا رویہ وہ اقلیتوں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں، لیفٹ- لبرل ان تمام گروپوں کی نمائندگی کرنے اور ان سے ہمدردی کا دعوی تو کرتے ہیں، لیکن یہ گروپ لیفٹ-لبرل کی خصوصیتوں سے متفق نہیں ہے ،سوال یہ ہے کہ لیفٹ-لبرل آخر کس کے ہمدرد اور نمائندہ ہیں؟ ہندوستان کے اتحاد و سالمیت کے نام پر اقلیتوں کی آوازوں کو خاموش کرانے کے علاوہ حقیقت میں وہ کرتے کیا ہیں؟
اچھی طرح سے یہ جاننے کے لئے کہ شرجیل کون ہے اور وہ کس مقصد کے لیے کھڑا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کی تقریر کا مکمل متن پڑھیں اور ساتھ ہی 20ویں صدی کے اوائل کی اردو شاعری میں ہندوستان کے تصور کے بارے میں ان کے مضامین جو انہوں نے اپنے ساتھی کے ساتھ ملکر لکھا ہے کو پڑھیں،جناح کے کردار کے بارے میں بھی ان کے لکھے ہوئے مضمون کو پڑھیں جسے کانگریس نے بہت ہی مسخ کرکے پیش کیا ہے- گزشتہ سو سالوں میں گائے سے متعلق نفرت پر مبنی جرائم پر قائم نظریہ ، بیگوسرائے کے پارلیمانی الیکشن میں کنہیا اور ہندوستانی لبرل کی منافقت،اردو شاعروں کے کام میں کرشن کی تعریف اور 1980ء میں مراد آباد میں مسلمانوں کے قتل عام جو کہ لیفٹ اور سیکولر سیاست کے لیے فرد جرم کی حثیت بھی رکھتا ہے پر ان کے مضامین کو ملاحظہ کریں،اس نے بنگال کی لفٹ کے بارے میں بھی لکھا ہے جس نے وہاں کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا، اس نے لیفٹ گروپ میں مردوں کے غلبے پر بھی لکھا ہے جو کہ ومین امپاورمنٹ پر زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کرتے، جےاین یو کی مسلم مخالف لیفٹ اور مغربی میڈیا میں حلب پر کوریج کو لیکر بنیاد پرست- سامراجیت کے باہمی گٹھ جوڑ پر شرجیل کے لکھے ہوئے مضامین کو بھی پڑھنے کی ضرورت ہے۔
ہم یعنی اس مضمون کے لکھنے والے جن میں ایک جین، ایک دلت اور ایک مسلمان ہیں شرجیل کی کہی اور لکھی ہوئی باتوں کی حمایت کرتے ہیں اور خود اس کی شرطوں پر کھڑے ہونے سے اتفاق رکھتے ہیں۔

نعرہ تکبیر- اللہ اکبر۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے