آیا صوفیا کا حالیہ فیصلہ اور کچھ اندیشے!

Spread the love


حسنین اشرف

1994م میں پہلی بار ایک کویتی اخبار کو انٹریو دیتے ہوئے طیب اردوگان نے کہا تھا کہ وہ استانبول میں اسلامی شناخت واپس لائیں گے اور ساتھ ہی أیا صوفیا کے مسجد کا درجہ بحال کریں گے۔ اردوگان اس وقت استانبول کے مئیر تھے اور آج وہ پوری ترکی کے صدر ہیں۔ انہوں نے پچھلے الیکشن میں اسے ایک انتخابی مدعا بنایا اور 10 جولائی کو ایک عدالتی فیصلہ کے ذریعہ اس وعدہ کو حقیقت کا روپ دے دیا گیا۔ اور 24 جولائی بروز جمعہ کو أیا صوفیا میں 80 برس کے بعد پہلی نماز جمعہ ادا کی جائیگی۔
چھٹی صدی عیسوی میں جسٹنین اول کی بنائی ہوئی یہ عمارت آرتھوڈوکس چرچ کا مرکز ہوا کرتی تھی، جسے سلطان محمد الفاتح نے 1453م میں قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد پادریوں سے خرید کر (جیسا کہ ترکی حکومت نے دعوی کیا اور عدالت نے اسے صحیح مانا) مسجد میں تبدیل کر دیا۔ پھر 1934م میں کمال اتاترک (سیکولر ترکی کا بانی) نے ایک پارلیمانی بل کے ذریعہ اسے میوزیم بنا دیا اور اب اعلی انتظامی عدالت کے فیصلہ کے ذریعہ اسے دوبارہ نمازیوں کیلئے کھول دیا گیا ہے اور اس کی مسجد کی حیثیت بحال کر دی گئی ہے۔
اس فیصلہ کے سیاسی اور شرعی طور پر صحیح یا غلط ہونے پر بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے۔ فتح بیت المقدس سے لیکر مسجد قرطبہ اور دیگر ہزاروں مسجدیں جسے گرجا گھروں یا بار میں تبدیل کر دیا گیا اور یوروپ میں گرجا گھروں کے بیچے جانے کا عام رواج اور اسے مسجد بنانے کی شرعی حیثیت، ان سب پر لکھا گیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہےگا۔ حسب توقع چہار جانب سے اس اقدام کی تنقید کی گئی، اور یہ ترکی کے لئے ہرگز کوئی حیرت کی بات نہ تھی، مغربی ممالک، روس، یونان اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی لکھاریوں نے بھی قلمی قلابازیاں دکھائیں۔ مودی اور طیب اردوگان کے بہم نہرو اور کمال اتاترک کو بھی میدان میں لایا گیا۔ (گو کہ کمال اتاترک، نہرو اور انکے خوابوں کا ملک اور آئیڈیولوجی ایک الگ موضوع بحث ہے۔) مگر جو چیزیں مودی اور اردوگان کے ما بین مماثلت کو جائز قرار دیتی ہیں وہ دونوں لیڈران کے زیر قیادت ملک کا اپنی سیکولر چھاپ سے آزادی کی خواہش جس میں نریندر مودی کا ہندوستان ثقافتی دھارناؤوں پر مبنی ہندو نیشنلزم کی ترویج کر رہا ہے۔ تو دوسری طرف اردوگان کا ترکی اسلام پسندی کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اسی طرح دونوں ملکوں کا اپنی دینی و نسلی اقلیت (ہندوستان میں مسلمان اور ترکی میں کرد) کے تئیں مختلف رویہ, اور تیسری وجہ بابری مسجد اور آیا صوفیا کے سابقہ درجہ کو عدالتی فیصلہ کے ذریعہ بدل دینا۔
ایسا نہیں ہےکہ ترکی میں طیب اردوگان پہلے شخص ہیں جن کی یہ خواہش تھی بلکہ ان سے پہلے1996م میں نجم الدین اربکان نے بھی اسے انتخابی مدعا بنایا تھا، مگر اپنی مدت وزارت میں مغربی ملکوں کے دباؤ کیوجہ سے اسے عملی جامہ نہیں پہنا سکے اور پھر ترکی کی سیکولر فوج نے ان پر سیاست اور مذہب کی علیحدگی کے اصول کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا، نتیجتا انہیں 1997م میں تخت چھوڑنا پڑا اور آج جب ترکی کی اس دیرینہ خواہش کو عملی شکل دی جارہی ہے تو سب سے شدید تر مخالفت انہیں مغربی ممالک کی طرف سے آیا، خصوصاً روس اور یونان (جہاں آرتھوڈوکس چرچ کے متبعین کی اکثریت آباد ہے)۔ آرتھوڈوکس چرچ (جسکا ہیڈکواٹر روس میں ہے) کے صدر بطریک کیریل نے موجودہ فیصلہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "اس فیصلہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ أیا صوفیا کو درپیش کوئی بھی خطرہ درحقیقت پوری مسیحی تہذیب اور ہماری تاریخ اور روحانی اقدار کو خطرہ ہے۔” کیتھولک چرچ (جسکا ہیڈکواٹر Vatican City میں ہے) کے سربراہ پوپ فرانسس نے بھی اپنے درد کا اظہار کیا اور کہا کہ "میں بہت دل گرفتہ ہوں اور اس وقت میں استانبول کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ ” اسی طرح یونان کے وزیر ثقافت اینامندونی نے کہا کہ "ترکی کا أیا صوفیا کو مسجد بنا دینے کا فیصلہ مہذب دنیا کیلئے اشتعال انگیز عمل ہے۔”اسکے علاوہ امریکہ, جرمنی, فرانس اور یونیسکو نے بھی غم و غصہ کا اظہار کیا۔ انہیں بیانات اور تلخ رد عمل کیوجہ سے کہنے والے کہنے لگے کہ یہ فیصلہ تہذیبی تصادم کی طرف لے جائے گا۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تصادمی کھیل کافی پرانا ہے اورصدیوں سے تہذیبوں کے درمیان چلا آ رہا ہے، یہ فیصلہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے ٹکراؤ کے ٹریگر کو دبا دے۔

اس اقدام کے بہانے ترکی "معاہدہ لوزان” کے خاتمہ سے پہلے اپنی جس خود مختاری کو مضبوط ترین کر دینا چاہتا ہے کیا اس کا نتیجہ ترکی کے مفاد میں ہوگا یا پھر یہ قدم مسلم امہ کا ایک اور بامیانی فیصلہ ثابت ہوگا کیونکہ یونیسکو جس طریقہ سے اسے آثار قدیمہ کا مسئلہ بنا کر زندہ رکھنا چاہ رہا ہے، اس سے ناگوار اندیشوں کا جنم لینا بعید از قیاس نہیں ہے، ہر لمحہ بدلتی اور متحرک عالمی سیاست اور پوری دنیا طاقت کا بدلتا ہوا توازن مستقبل میں کون سی کروٹ لے اس کے بارے کچھ بھی حتمی کہنا ذرا مشکل ہے، بنتے اور بگڑتے اتحاد کے تناظر میں صرف قیاس اور اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔

چونکہ سوال کسی مذہب کے مقدس مقام اور ایک تاریخی میراث کا ہے اس لئے مسلم ممالک نے بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کھل کر مخالفت کی ،خصوصا وہ ممالک جنکا ترکی کے ساتھ سیاسی اقتدار کی ٹھیکداری کی زعم بازی چل رہی ہے۔ ایسے کچھ ممالک تو گویا پہلے سے ہی اس سانحہ عظمی کے انتظار میں تھے ، مصر کے مفتی اعظم نے کچھ دنوں پہلے ہی قسطنطنیہ پر محمد فاتح کی فتح کو "عثمانی قبضہ” سے تعبیر کیا تھا، مگر جب انہیں بشارت نبوی یاد دلائی گئی تو انہوں نے اپنا فتوی واپس لیا۔ سعودی حکومت بھی حالیہ دنوں میں ریاض میں عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان القانونی نامی سڑک کو بدل چکی ہے۔ امارات اور ترکی کے درمیان سیاسی اختلافات و عزائم لیبیا میں چل رہی کشمکش سے بلکل ظاہر ہے۔ لہذا موقع کو گراں سمجھتے ہوئے امارات کے کلچرل منسٹر نوری الکعبی نے ترکی کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہوں نے کہا کہ "أیا صوفیا ہزاروں سال پرانی تاریخی نشانی ہے, اس میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ انسانی جوہر کیساتھ چھیڑ چھاڑ ہے……. .وہ ایک انسانی نشانی ہے جو ہمیشہ گفتگو کا مرکز اور تہذیب وثقافت کی ہم آہنگی کا Icon رہی ہے۔ خلیجی ممالک بلکہ عربی ممالک کی سیاست میں انہیں ممالک کی دھاک ہے، یہاں سے تائید کا نا حاصل ہونے کے اپنے معانی ہیں جسکو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسیحی ممالک کی اشتعال بیانی اور مسلم ممالک کی متوقع ناراضگی کے باوجود آخر وہ کون سے سیاسی مفادات ہیں جس کے لئے طیب اردوگان نے ان سارے خطرات کو یکسر نظر انداز کردیا ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2016م کے ناکام فوجی انقلاب کے بعد ترکی میں حکومتی شکل کو بدلنے کیلئے ایک ریفرنڈم (جس کے بموجب وزارت کے بجائے صدارتی شکل کو اختیار کیا گیا اور فوج سے اضافی اختیارات چھین کر اسے صدارتی حکم کے تابع کر دیا گیا) ہوا جس میں اردوگان کی پارٹی کو محض دو فیصد کی اکثریت سے جیت حاصل ہوسکی۔ اس کے بعد 2018م کے عام انتخابات میں بھی اردوگان کو حاصل شدہ ووٹس کا فیصد 52.59 تھا گو کہ باقی ووٹس باقی پانچ آپوزیشن پارٹیوں میں منقسم تھے اور ان میں سب سے زیادہ ووٹس پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کےلیڈر محرَم اِنس کو 30.64 فیصد حاصل ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ کسی بھی اہم سیاسی جماعت نے اس فیصلہ کی مخالفت نہیں کی بلکہ سبھی نے کھل کر اسے سراہا اور خیر مقدم کیا، سبھی نے بیک زبان اسے ترکی کاداخلی مسئلہ قرار دیا جو اسکی خود مختاری سے متعلق ہے۔ سابق وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو جو اردوگان کے طرز سیاست کے مخالفین میں سے ہیں نے کہا کہ "یہ ایک خواب تھا جس کی تعبیر کا انتظار تھا ".پیپلز پارٹی کے سابق لیڈر اور عام انتخابات میں اردوگان کے مقابلہ میں کھڑے ہونے والے محرم اِنس نے کہا کہ "أیا صوفیا ترکی کی خود مختاری کا مسئلہ ہے۔ روس، امریکہ، یوروپ اور یونان یا کوئی بھی دوسرا ملک یا ادراہ اس معاملہ میں دخل اندازی نہیں کر سکتا۔” ان اہم لیڈران کے بیان ترکی میں عوامی جوش و خروش اور برسوں کی ذہن سازی – جس کا نتیجہ ہم نے 2016م میں فوجی انقلاب کو کچلنے کیلئے اپنے صدر کی ایک آواز پر بےخوف سڑکوں پر نکل آنے کی شکل میں مشاہدہ کیا – کیوجہ سے ترکی فی الحال طیب اردوگان کی مقبولیت اور اور اس اقدام نے وہاں کی سیاسی سرزمیں کو ووٹوں کی کاشتکاری کےلئے کس قدر ہموار کیا ہے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا طیب اردوگان اس قدر خود پرست ہیں جو اپنی صدارت کے عوض ملک کو درپیش متوقع خطرات کو یکسر نظر انداز کرنے پہ آمادہ ہیں ؟ یہ ایک دوسرا اہم سوال ہے،جس کا جواب ترکی کا مستقبل اور اس کی استقامت و استقرار کے بارے میں بتاتا ہے، خصوصا اس وقت جب کہ افغانستان اور عراق میں بہتی خون کی ندیاں ابھی خشک بھی نہیں ہو پائی ہیں۔
ترکی وہ ملک ہے جوNATO کا ممبر ہونے کے باوجود روس سے جنگی سازو سامان کی خریداری علی الاعلان کر رہا ہے اور امریکہ اس پر سوائے اپنے دانت کھٹے کرنے کے کچھ نہیں کر سکا، یہ بات اس لئے اہم اور قابل ذکر ہے کیونکہ وہ ممالک جن سے أیا صوفیا کی حیثیت کی تبدیلی پر شدید تر مخالفت کی توقع کی جا رہی تھی ان میں روس اور یونان اول درجہ پر تھے۔ اور روس اپنی جنگی قابلیت اور دولت عثمانیہ کے قدیم ترین حریف کی حیثیت سے کچھ زیادہ ہی اہمیت کا حامل تھا، مگر روس کا حکومتی بیان توقع کے برعکس آیا۔ فیصلہ کے اگلے روز نائب وزیر خارجہ سیرغی فرسین نے کہا کہ "یہ معاملہ ترکی کے داخلی امور سے تعلق رکھتا ہے، لہذا ہمیں اور دوسروں کو بھی چاہئے کہ اس معاملہ میں دخل اندازی نہ کریں” مگر کیا روس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے جس نے شام میں امن بحالی کی تمام کوششوں کو ناکام کردیا اور ceasefire کی آڑ میں ترکی کے ذریعہ فتح کئے گئے تمام علاقوں کو اس سے چھین کر دوبارہ بشار کے قبضہ میں دیدیا۔ لیبیا میں ترکی اگر وفاقی حکومت کے ساتھ ہے تو روس حفتر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ روس پر کس حد تک بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہر حال روس کے ساتھ فی الحال اچھی دوستی ہونے کے علاوہ ترکی دوسرے ممالک اور بالخصوص مسلم ممالک کے درمیان اپنے نئے اتحادی کی تلاش میں ہے اور بڑی حد تک ایک نئی گروہ بندی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اس کے نئے اتحادیوں میں پاکستان (جسکی ترکی کیطرف میلان جگ ظاہر ہے) ایران (جس پر تمام تر امریکی پاندیوں کے باوجود ترکی نے اس سے خرید و فرخت بند نہیں کیا)اور قطر (جس نے 2018م میں امریکی پاندیوں کے نتیجہ میں آئے اقتصادی بحران کے وقت ترکی کی مدد کی اور قریبا 15 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اور دسمبر 2019 میں مزید 7 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی) شامل ہے۔ تیونس وہ واحد ملک ہے جہاں سے عرب بہاریہ کا آغاز ہوا اور کامیاب بھی رہا، ترکی کا ہم مزاج ہے۔ لیبیا میں وفاقی حکومت (جس کو ترکی انٹیلجنس اور جنگی مدد فراہم کر رہا ہے )تیزی سے فتح کیطرف بڑھ رہی ہے۔ صومالیہ میں اسکا Military Base پہلے سے موجود ہے، اس کے علاوہ مہاتر محمد کے زیر قیادت ملیشیا (مگر پچھلے مہینہ اقتدار کی تبدیلی کے بعد ملیشیا کے موجودہ صدرکا اس سلسلہ میں کیا موقف ہوگا یہ ابھی تک پردۂ خفا میں ہے) سے بھی اچھے تعلقات ہیں اسی طرح مسلم ممالک کا ایک نیا اتحاد بھی ابھر کر سامنے آ رہا ہے ،جسے عالمی سیاست میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بہر حال اس اقدام کے بہانے ترکی "معاہدہ لوزان” کے خاتمہ سے پہلے اپنی جس خود مختاری کو مضبوط ترین کر دینا چاہتا ہے کیا اس کا نتیجہ ترکی کے مفاد میں ہوگا یا پھر یہ قدم مسلم امہ کا ایک اور بامیانی فیصلہ ثابت ہوگا کیونکہ یونیسکو جس طریقہ سے اسے آثار قدیمہ کا مسئلہ بنا کر زندہ رکھنا چاہ رہا ہے، اس سے ناگوار اندیشوں کا جنم لینا بعید از قیاس نہیں ہے، ہر لمحہ بدلتی اور متحرک عالمی سیاست اور پوری دنیا طاقت کا بدلتا ہوا توازن مستقبل میں کون سی کروٹ لے اس کے بارے کچھ بھی حتمی کہنا ذرا مشکل ہے، بنتے اور بگڑتے اتحاد کے تناظر میں صرف قیاس اور اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔

حسنین اشرف
Follow Him

حسنین اشرف

Hasnain Ashraf is a Research Scholar in Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے