موجودہ ہندوستان میں گاندھی جی کی معنویت

Spread the love


ڈاکٹر ثناء اللہ ساگر صادق تیمی✍
عام طور سے 2 اکتوبر کو گاندھی جی کے سلسلے میں بہت کچھ لکھا اور بولا جاتا ہے ۔ گاندھی جی فادر آف نیشن ہیں تو یہ بہت فطری بات ہے کہ ان کے سلسلے میں گفتگو ہو ۔ انہوں نے آزادی کی لڑائی کی قیادت کی اور ہندوستان آزاد ہوا ۔ جاننے والی بات یہ بھی ہے کہ گاندھی جی پنڈت نہرو کے برعکس عملی ہندو تھے ، وہ نہ صرف ہندو ازم پر یقین رکھتے تھے بلکہ وہ اس دھرم کے مطابق چلتے بھی تھے بلکہ بالعموم خالص سیکولر اور لبرل ذہن کے لوگوں کو گاندھی جی سے بجا طور پر یہ شکایت ہے کہ سیکولر سیاست میں مذہبی اصطلحات کی پیوستگی اور دھرم کا سیاسی استعمال گاندھی جی کے ذریعہ ہی عمل میں آیا, لیکن جاننے والی بات یہ ہے کہ گاندھی جی اتنے مذہبی ہونے کے باجود ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی تعداد کے بھی رہنما کی حیثیت رکھتے تھے ۔ انہیں لگ بھگ تمام مذہبی گروہوں کا اعتماد حاصل تھا ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی دینداری حقیقی دینداری تھی ، وہ اپنے دین پر عمل کرنے کے ساتھ دوسروں کو اپنے دین پر عمل کرنے کا حق بھی دیتے تھے اور اسے ضروری بھی سمجھتے تھے ۔ اسی لیے جہاں گئو رکچھا اور دوسرے ہندو حقوق سے متعلق ان کے مذہبی رویے سامنے آتے ہیں وہیں وہ آزادی کے بعد فسادات کو روکنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور غصہ پر قابو پانے کے لیے انشن بھی کرتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ مذہب کا وہ روپ جس کی بنیاد نفرت اور غصہ پر ہو وہ ہمیشہ وطن کے لیے گھاتک ہی ثابت ہوگا ۔ افسوس کہ ان کا اندیشہ صحیح ثابت ہوا اور انہیں اسی مذہبی جنون کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا ۔

ناتھو رام گوڈسے آرایس ایس کے تربیت یافتہ تھے ، سنگھ گاندھی کو اپنے نظریے کے لیے نقصاندہ سمجھتا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ جب گاندھی ہندو مسلم سماجی ہم آہنگی کے لیے کوشش کررہے تھے تو اسی کوشش سے تنگ آکر ناتھو رام گوڈسے نے انہیں گولیوں سے بھون دیا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج ملک پر ان لوگوں کی حکومت ہے جو خود کو ہندو دھرم سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ، جن کے پوجا کی باضابطہ نمائش کی جاتی ہے اور جن کا ماننا یہ ہے کہ ہندو دھرم اور کلچر پوری دنیا کو روشنی پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ہماری نظر میں اگر یہ رویہ گاندھی جی کے رویے کے جیسا ہوتا تو یہ بڑی اچھی بات تھی ، ہم میں سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوتی لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ دھرم پریم گاندھی کی بجائے گوڈسے سے زيادہا پریرت نظر آتا ہے ۔ کبھی دہشت گردی کی کوئی ملزمہ پارلیمانی سیٹ کے لیے انتخاب لڑتی ہے اور نہ صرف جیت جاتی ہے بلکہ گوڈسے کی تعریف کرتی ہے کہ اس نے گاندھی کو قتل کرکے کچھ غلط نہیں کیا اور کمال یہ ہے کہ اس کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ، کبھی سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ کھڑا ہوتا ہے اور گاندھی جی کو چالاک بنیا کہ کر یاد کرتا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ گاندھی کے دیس میں بڑی بڑی ملکی ذمہ داریوں کو سنبھالے ہوئے لوگ گوڈسے کی مورتی کے آگے ہاتھ جوڑے نظر آتے ہیں ۔
ایسے میں گاندھی جی کی معنویت کیا ہے ؟ گاندھی کی معنویت اس توازن میں چھپی ہے جس میں مذہب اچھائی کا پرتیک ہے ، انسانوں کے بیچ بھید بھاؤ کی بجائے ہم آہنگی کا داعی ہے اور نفرت اور گھرنا کے خلاف ایک باضابطہ ہتھیار ہے ۔ آج کے حکمرانوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ بانٹو اور راج کرو کی نیتی گاندھی کی بنیادی تعلیم اور ان کے بنیادی آدرشوں کے خلاف ہے ۔ کیا معلوم ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سمیت پوری برسراقتدار پارٹی اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کبھی تیار ہوگی بھی یا نہیں ۔ اقبال نے کہا ہے ؛
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے۔
(مضمون نگار جامعۃ الامام محمد بن سعود، سعودی عرب میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے