وجودِ باری تعالیٰ

Spread the love



عبیدالرحمن🔰
جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

(نوٹ: مضمون کی تیاری میں ڈاکٹر مصطفی محمود مصری کی عربی تحریر "لم یلد و لم یولد” سے استفادہ کیا گیا ہے، استدلال کیلئے جو ڈائیلاگ اپنایا گیا ہے وہ اسی تحریر سے ماخوذ ہے۔)

میرا دوست مسٹر جورج جرمنی سے فلسفہ پڑھ کر آیا ہے، اسی لیے فلسفہ کا کیڑا ہمیشہ اس کے سر پر سوار رہتا ہے، جب دیکھو کج بحثی پر اترا رہتا ہے، ایک دن جو فلسفہ کا بھوت سوار ہوا تو کہنے لگا، تم مسلمان بھی نہ بڑے بیوقوف ہو، بس خرافات پہ یقین رکھتے ہو، جنت اور حور عین وغیرہ کی لالچ میں بلا وجہ زندگی کی لذتوں سے خود کو محروم رکھتے ہو، اف بولو تو سہی یہ اللہ کون ہے جس کے بارے میں تم لوگ کہتے ہو اس نے ہر چیز بنائی، اور تم لوگ دلیل بھی کیا خوب دیتے ہو، یہاں قانونِ سببیت کارفرما ہے، جسکے تحت ہر مصنوع کا کوئی نہ کوئی صانع ضرور ہونا چاہیے، جس طرح تصویر سے مصور، مخلوق سے خالق اور ایجاد سے موجد کا علم ہوتا ہے، لہذا اسی منطق کے تحت یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ کائنات کو بھی بنانے والی کوئی قادر مطلق ہستی ضرور ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات، چلو میں نے تمہاری یہ منطق مان لی، لیکن جب اسی منطق کے تحت ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اللہ کو کس نے بنایا تو تمہاری پیشانیوں پر بل کیوں پڑنے لگتے ہیں۔

اسکی کج بحثیاں سن سن کر پک گیا تھا، لیکن آج پانی سر سے کافی اونچا ہوگیا تھا، اسی لئے جی میں آیا کہ عدم تشدد و شَدُّدْ کو خیر باد کہہ کے لگاؤں دو چار تھاپ، لیکن فورا ہی قرآن کی آیت وجادلہم بالتی ہی احسن(اور ان سے بہترین انداز میں بحث و مباحثہ کیا کریں) ذہن میں آئی، اسلئے تھوڑا ٹھنڈے مزاج اور شائستگی کے ساتھ اس سے کہا:
میرے دوست آپکا اعتراض نہایت ہی بے بنیاد ٹائپ کا لگتا ہے،ایک طرف آپ یہ مان رہے ہیں کہ اللہ خالق ہے، پھر دوسری طرف یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا، یعنی آپ ایک طرف جسے خالق مان رہے ہیں دوسری طرف خود اسکی ذات کی تخلیق پر سوال اٹھاکر اسے مخلوق بھی گرداننے پر تلے ہوئے ہیں، یہ تو سراسر تضاد ہے، آپ کا سوال اسلئے بھی بے بنیاد ہے کہ آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ خالق اپنے مخلوق کے قانون کے زیرِ اثر رہے، سببیت کا جو قانون ہے وہ تو بس صرف مخلوقات پر لاگو ہو سکتا ہے جو زمان و مکان کے حدود و قیود میں رہتی ہیں، اور اللہ رب العزت کی ذات تو زمان و مکان کی قید سے بالاتر ہے، وہ تو ایک ٹائم لیس اینڈ اسپیس لیس فیکٹ (Timeless and spaceless fact) یعنی لازمان اور لامکان حقیقت ہے، آپ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ زمین پر اترنے کیلئے اللہ کو بھی ہم انسانوں کی طرح پیراشوٹ کی ضرورت ہے، یعنی سارے انسانی مفروضے آپ نے اللہ پر فٹ کردیئے، جرمنی کا مشہور فلاسفر کانٹ اپنی کتاب ( Critique of pure reason)
"خالص عقل کی تنقید” میں لکھتا ہے "میرا ماننا ہے کہ عقل چیزوں کی حقیقت کی تہہ تک پہنچ ہی نہیں سکتی اسکی رسائی محض جزئیات اور ظواہرِ اشیاء تک ممکن ہے” جب اشیاء کے سلسلے میں انسانی عقل کی بے بسی کا یہ عالم ہے تو بھلا یہ بتائیں اللہ کی ذات کی حقیقت کو وہ کہاں تک جان سکتی ہے، ارسطو کہتا ہے” کرسی لکڑی سے، لکڑی درخت سے اور درخت بیج سے وجود میں آیا اور بیج کو باغبان نے بویا، خالق اور مخلوق کا یہ لا متناہی سلسلہ یونہی چلتا رہیگا بالآخر ایک ایسی ذات پر آکر ٹھہرنا ہوگا جسے موجود ہونے کیلئے کسی سبب کے سہارے کی ضرورت ہی نہیں” یہ وہی بات ہوئی ناں جو ہم اللہ کے بارے میں کہتے ہیں. یعنی وہ مسبب الأسباب ہے، موجود بالذات ہے، علت و معلول(cause and effect) کے زمانی اور مکانی قوانین سے بالا تر ہے۔.
جس طرح روشنی دن کے وجود میں آنے کا سبب ہے، دن روشنی کا سبب نہیں، اسی طرح کائنات اللہ رب العزت کے سبب وجود میں آئی نہ کہ اللہ رب العزت کائنات کے سبب، بس اللہ ہی علۃ العلل (Ultimate Cause) ہے، گلاب کی خوشبو ، بیل بوٹوں کی عطر بیزی، بلبل کے زمزمے، مور کا رقص، لیل و نہار کی گردش، ابرِ نیساں کی تراوش، تاروں کی چمک، غنچوں کی چٹک، غرض کائنات کی ہر چھوٹی بڑی شئے میں اسی کی قدرت کار فرما ہے، اگر ہم یہ کہیں کہ یہ کائنات بس اتفاقا وجود میں آگئی ہے اور دنیا کے سارے حیرت انگیز کرشمے اور تماشے محض اتفاق سے ہو رہے ہیں، تو ہم جب یوں ہی کوئی بکواس کرتے ہیں تو وہ اتفاقاً شکسپئر کا کوئی ڈرامہ یا ورجل اور ہومر کا کوئی شاہکار کیوں نہیں بن جاتی، آخر ہماری بکواس میں بھی تو اے ٹو زیڈ وہ الفاظ موجود ہوتے ہیں جو شکسپئر، ہومر اور ورجل کی شاہکار تخلیقات میں موجود ہیں، جب ایلیمنٹس اور عناصر وہی ہیں تو اتفاقاً ایسا ہونا چاہیے نا؟؟؟
اور ہاں دوسری بات یہ کہ ہم نے اللہ رب العزت کو فطری طلب سے پہچانا ہے نہ کہ عقلی گورکھ دھندے سے، جسطرح ہماری پیاس ہمیں پانی کی تلاش پر مجبور کرتی ہے، ہمارا عدل و انصاف کا تقاضا ہمیں کسی عادل و منصف کی چوکھٹ پر لا کھڑا کرتا ہے، اسی طرح ہماری فطرت کی آواز اور بے بسی اور کمی کا احساس اللہ رب العزت کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے، بس ہماری فطری طلب ہی اسکے وجود کے ثبوت کیلئے کافی ہے۔
اتنا سنکر جورج کہنے لگا آپ کی بات واقعی قابل غور ہے، میں نے کبھی ان پوائنٹس پر غور نہیں کیا جنکی طرف آپ نے اشارہ کیا، اچھا اس پر ابھی اور اسٹڈی کرتا ہوں، پھر ڈبیٹ کرونگا۔
میں نے اللہ کا شکر ادا کیا چلو آج کم ازکم فلسفے کا بخار تو اترا مزاج سے۔.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے