علاقائی نیشنلزم کا خطرہ

Spread the love


مانس فراق بھٹا چرجی
(دی ہندو18 جون 2019)
1961میں جواہر لال نہرو نے امریکی سیاسی صحافی نارمن کوزنس سے بات کرتے ہوئے اپنے نظریہ جمہوریت کا اظہار ان لفظوں میں یوں کیا تھا: "میں کہنا چاہوں گا کہ جمہوریت کا تعلق نہ صرف سیاسی اور اقتصادی چیزوں سے ہے بلکہ اس کا تعلق ذہن و دماغ کی کچھ چیزوں سے بھی ہے”۔
نہرو نے جمہوریت پر زور ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ” اس میں دوسروں حتی کہ دوسروں کے خیالات کے لیے ایک خاص طرح کی قوت برداشت ہونی چاہیے… اس میں ایک خاص طرح کا متفکر رجحان اور سچ کے لیےتجسسانہ تلاش کا جذبہ ہونا چاہیے”۔
نہرو کے نزدیک جمہوریت کی مثال اس سیاسی تہذیب کی طرح ہے جہاں سیکڑوں خیالات پروان چڑھتے ہیں۔
2014 میں جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے تب سے جمہوری ذہن حملہ کی زد میں ہے، تنوعات اور اختلافات کے تئیں عدم برداشت جیسی صورت حال ہے، جمہوریت کو سیاسی آمریت کا سامنا ہے، مرکز میں مودی حکومت کی دوبارہ واپسی نے سیاسی بیانیہ پر ہندوتوا کی گرفت اور بھی مضبوط کردی ہے۔
زرعی بحران، جاب کی بےچینی اور نوٹ بندی کی مشکلات کے باوجود انتخابی نتیجہ بی جے پی کے حق میں رہا، تفرقہ انگیز زبان کے استعمال،اصل مسائل پر ملک کے تحفظ کے خطرے کے کھیل اور بالاکوٹ پر ہوائی حملے جیسی چیزوں نے بی جے پی کے لیے کام کیا۔
ملک کا نظریہ
ہندوتوا ایک سیاسی پارٹی کا سیاسی نظریہ نہیں رہا ہے، لیکن اب یہ ملک ہندوستان کا ایک نظریہ ہے، 2015 میں جب چالیس قلمکاروں اور فنکاروں نے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ذریعہ قلمکاروں کے قتل پر خاموشی کے خلاف احتجاجاً اپنے ساہتیہ اکادمی کے انعامات واپس کئے تھے، تو وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اسے"لیفٹ یا نہرو نظریہ رکھنے والے”قلمکاروں کے ذریعہ” تیار کردہ کاغذی بغاوت” کہا تھا. اس طرح قلمکاروں کے قتل کو ایک نظریاتی الزام کے ذریعہ نظر انداز کرکے ایک سیاسی حربہ کے ذریعہ عوامی ضابطہ اخلاق کے مسئلہ کو دوست اور دشمن کی بحث میں تبدیل کردیا گیا۔

2016 کے جے این یو واقعہ کے بعد سے ہی بی جے پی ممبران کے ذریعہ"ملک مخالف "اصطلاح کو مرکزی دھارے میں شامل کۓ جانے کا ہم مشاہدہ کرتے رہے ہیں، جس کسی نے بھی کشمیریوں پر تشدد کے خلاف تشویشات کا اظہار کیا، جنگ کے خلاف آواز اٹھائی، قلمکاروں اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے صحافیوں کی حمایت کی، ہندوستان میں پاکستانی فنکاروں کے تصور کا استقبال کیا، بیف کے استعمال یا گائے ذبح کرنے کے الزام میں مسلمانوں پر ہورہے حملوں کے خلاف کچھ بولا، یا حکومت سے صرف سوال کیا تو اس پر ملک مخالف ہونے کا الزام لگادیا گیا. آج بی جے پی قومی تحفظ اور فخر کا تنہا محافظ بن چکی ہے۔
نہرو کے نظریہ ہندوستان کا دفاع
کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں کے بجائے ہندوستان کی سول سوسائٹی جماعتوں نے نہرو کے نظریہ کا دفاع کیا ہے.لیکن مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کی ایک جماعت اپنی اخلاقیات کو بالاۓ طاق رکھ کر حکومت کی راہ پر چل پڑی ہے. سچائی پوچھنے کے لیے صحافیوں کی ایک مختصر سی جماعت قانونی، جسمانی اور زبانی دھمکیوں کے باوجود سینہ سپر ہے. جب صحافی رویش کمار نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے پوچھا کہ انہوں نے کیوں” نہرو کی وراثت "کا دفاع نہیں کیا، تو مسٹر گاندھی نے اس سوال کو ٹال دیا، مسٹر گاندھی نے اپنے الیکشن کمپین میں نفرت کے خلاف اور پیار و محبت کے حق میں تقریر بھی کی، لیکن وہ نفرت کی سیاست کے حقیقی متاثرین کا نام لینے میں کتراتے ہوۓ دکھے، یہی وہ چیز ہے جس نے جوابی بیانیہ کو کمزور کردیا ہے اور راۓ دہندگان میں اعتماد بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی کے اقلیت مخالف ایجینڈا کو سنجیدگی سے لیا، آسام میں نافذ کئے جارہے این آر سی کی مخالفت کرکے عوامی ناراضگی کا خطرہ مول لیا اور اپنی ریاست میں مہاجرین کا استقبال کیا۔
اس سے پہلے وہ مرکزی حکومت کے موقف کے خلاف روہنگیاؤں کو پناہ دینے میں اقوام متحدہ کے ساتھ کھڑی تھیں، وہ بہت ہی معمولی فتح حاصل کرسکیں، لیکن وہیں غیر معمولی40/% ووٹ شراکت کے ساتھ بی جے پی نے اپنی زبردست انٹری درج کروائی. سی پی آئی(ایم ) کے جنرل سیکرٹری سیتا رام یچوری نے یہ قبول کیا ہے کہ لیفٹ حامیوں نے اپنی تائید بی جے پی کو دی تھی. لیفٹ جماعتوں کا مقصد مقامی حریف کو شکست دینا تھا نہ کہ بی جے پی کو، اور اسی چیز نے بی جے پی کے مقصد میں تعاون کیا، لورڈ ایکٹن کا برمحل استعمال کرتے ہوئے قدامت پرست قلمکار نیرد سی چودھری نے اپنی کتاب "Thy hand, great anarch” میں خبردار کیا تھا کہ"طاقت کا خسارہ بدعنوان بناتا ہے اور مطلق طاقت کا خسارہ مکمل بدعنوان بناتا ہے”۔
کیا ہندوستان کا دماغ"The mind of India” (نہرو کی تعبیر مستعار لیکر)دایاں بازو کی طرف منتقل ہو گیا ہے؟ اگر دماغ نے جمہوریت کی روح کو ترک کردیا ہے اور علاقائی مالیخولیا کا شکار ہوگیا ہے، تب تو یہ صحیح ہے۔
We or our Nationhood Defined, کتاب میں شدت پسند ہندو کے نظریاتی گرو، ایم ایس گولوالکر نے ملک کی تعریف "موروثی علاقہ” کے طور پر کی ہے، ہندوتواایک علاقائی پراجیکٹ ہے،علاقہ کی تحدید و تعیین جو کہ خود کے تحفظ کا ایک عمل ہے اس سے فکر و خیال مرجاتا ہے، یہ اخراج کے قوانین کو فروغ دیتا ہے، جیسا کہ یہ ہمیں قومی سطح پر این آر سی کے نفاذ کے عمل میں دیکھنے کو ملا، اس سے غریب مہاجرین کی زندگی ایک دلدل میں پھنس جائے گی. غیر ملکیوں کی گرفت، حراست اور جلاوطنی سے لوگ بے حقوق غیر ریاستی آبادیوں میں تبدیل ہوجائیں گے۔
٭ گوالکر کے مطابق، "ہندو مذہب، ہندو تہذیب اور ہندو زبان(سنسکرت کی قدرتی فیملی اور اس کے پروردہ) ملک کے تصور کو مکمل کرتے ہیں، ہندوستان یک اساسی مذہب، تہذیب اور زبان کے طور پر جانا جاتا ہے، اقلیتوں کے تعلق سے گولوالکر کے یہ اختیارات تھے کہ اقلیت یا تو اکثریت کے مذھب کو قبول کرلے یا پھر اس کے رحم و کرم پر زندہ رہے، جب ہندوؤں کے ٹھیکیدار مسلمانوں کو” جے شری رام "اور” بھارت ماتا کی جے ” کے نعرے لگانے کے لیے مجبور کرتے ہیں تو نہ یہ کہ یہ ایک مسخ شدہ تہذیبی فخر ہوتا ہے بلکہ دوسروں کی تذلیل میں انہیں اضافی خوشی بھی ملتی ہے۔
2014 سے ہندوستان کو قوم پرست بیانیہ میں ایک ایسا قلعہ سمجھا جارہا ہے جس کی حفاظت مفروضہ دشمنوں، ناپسندیدہ سیاسی مخالفین اور اقلیتوں سے کرنا ضروری سمجھ لیا گیا ہے، نظریاتی مخالفین کو اختلاف کے ہر لفظ اور عمل سے ڈرنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے، مسلمانوں کو صرف گائے ذبح کرنے یا بیف کھانے کے الزام میں اذیت دی جارہی ہے حتی کہ انہیں قتل بھی کیا جارہا ہے، علاقائی نیشنلزم ایک ایسا شکاری نظریہ ہے جس کا مقصد دشمنوں کا شکار کرنا ہے۔
تہذیبی تنوع
نہرو نے اپنی کتاب The discovery of India میں لکھا ہے کہ "ہندوستان کا بدھسٹ اور جین صد فیصد ہندوستانی تہذیب اور تصورکا پیداوار ہے، نہ کے عقیدہ کے اعتبار سے ایک ہندو، چنانچہ ہندوستانی تہذیب کو بطور ہندو تہذیب کے پیش کرنا سراسر غلط نظریہ ہے، نہرو کا نطریہ یہ ہے کہ ہندوستان کسی عقیدہ سے کم نہیں ہے، آ گے چل کر نہرو لکھتے ہیں کہ یہ تہذیب بڑے پیمانے پر اسلامی تہذیب کے اثر سے متأثر ہوئی، اور اب تک یہ واضح طور پر ہندوستانی ہی ہے”ہندوستان میں مذاہب کی تہذیبی منتقلی اس کے تنوع کی بنیاد اور ایک تاریخی حقیقت ہے، نہرو کے روشن نظریہ کے مطابق ہندوستان ایک ہندو نظریہ یا ایک ہندو ملک نہیں ہے۔

شاعر اور نقادOctavio paz نے اپنی کتاب light of Indiaمیں لکھا ہے کہ”ہندوستان ملک اور تاریخ کے اعتبار سے ہندو ازم سے بہت بڑا ہے، ہندو فن تعمیر اور ہندو نظریہ کی قدردانی کے باوجود پاز دوسری تہذیبوں کی بے پناہ حصہ داریوں سے واقف تھے۔
تہذیبوں کی حیات کے لیے عاجزی و انکساری ایک مطلوبہ صفت ہے، اگر ہندوستان علاقائی مالیخولیا اور اخراج کے جذبہ کے ساتھ جیتا ہے تو وہ اپنا دماغ گم کردے گا۔

(مترجم:احمد الحریری، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے