شکریہ امت شاہ

Spread the love


عزیر احمد
اف یہ رات بھی کس قدر خوفناک تھی، چہرے پر غم اور غصہ، دل حزن و ملال کی تصویر، آنکھ آنسوؤں سے بھری ہوئی، تصویریں دیکھ دیکھ کر دل کٹا جارہا تھا، واش روم میں پڑے ہوئے، ہاٹھ کٹے ہوئے، سر پھٹے ہوئے، بہنوں کا حجاب کھینچتے ہوئے، قیامت صغری کا منظر لگ رہا تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے کشمیر کو دہلی لے آیا گیا ہو، پولیس خود ہی آگ لگا رہی تھی اور خود ہی مظلوم ہونے کا ناٹک بھی کر رہی تھی، جامعہ کے گارڈ تک کو نہیں بخشا گیا جو کہ عموما ریٹائرڈ فوجی ہوا کرتے ہیں، لائبریری کے شیشے توڑ دئیے گئے، کتابیں، لیپ ٹاپ، انسان غرضیکہ جو سامنے آیا، ظلم و جبر کا نشانہ بنتا چلا گیا، مگر سلام طلباء کے حوصلے اور جذبے کو، کہ وہ ڈرے نہیں، وہ جھکے نہیں، شام ہوتے ہی پھر جس کو موقع ملا، دہلی پولیس ہیڈکوارٹر پر پہونچ گیا۔

میں بہت پہلے کہا کرتا تھا کہ "مودی اور امت شاہ مسلمانوں کی نشأة ثانیہ کا سبب بنیں گے”، اس لئے نہیں کہ مودی اور امت شاہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کام کریں گے، ان کی تعلیمی و معاشی ترقی میں اپنا یوگدان دیں گے، بلکہ اس لئے کہ وہ ہر ایسا قانون لے کر آئیں گے جس سے مسلمانوں کو دبایا جا سکے، اور کچھ حد تک وہی ہورہا ہے۔
جس دن امت شاہ نے وزیر داخلہ کی گدی سنبھالی تھی، مجھے یقین ہوگیا کہ اب ہندوستان کے برے دن شروع ہونے والے ہیں، جو بندہ گجرات کا وزیر داخلہ تھا تب اس نے گجرات جلا دیا تھا، اب ہندوستان کا وزیر داخلہ ہے تو نجانے ابھی کتنے تماشے سامنے آئیں گے۔
بہرحال میں یہ مضمون امت شاہ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں، شاید امت شاہ نہ ہوتا تو ہم میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری نہ آتی، نوجوانوں میں سیاسی Awareness نہ پیدا ہوتی، ہم مسلمان قوم ایک خاموش قوم بن کر رہ گئے تھے، جو اپنے اوپر ظلم ہوتا دیکھ کر بھی صبر کی تلقین کرتے، ہمارے بھائی موب لنچنگ میں مرتے رہے، ہم خاموش رہے، ہم نے سوچا، کہاں وہ ہمارے گھر پریوار کے لوگ ہیں، پسماندہ طبقات پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے، ہم خاموش رہے کہ کہاں وہ ہمارے ہم مذہب ہیں، کسان خود کشی کرتے رہے، ہم یہ کہہ کر پلڑا جھاڑتے رہے کہ اس سے ہمارا کیا لینا دینا، نجیب غائب ہوگیا، منہاج کو مار دیا گیا، سوشل ایکٹیوسٹوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، مگر ہم نے ہمیشہ چپی کو ترجیح دی، ہم میں سے ایک خاموش رہتا، دوسرے خاموش رہنے کی تلقین کرتا کہ حالات اچھے نہیں ہیں، نہیں بولنا ہے، مگر بھلا ہو امت شاہ کا، کہ اس نے مسلمانوں کے وجود پر ہی انگلی اٹھا دیا، سو تب بھی کیا بیدار ہوتے اگر طلباء نے پہل نہ ہوتی ہے، یہ امت جے.این.یو کے ان مخلصین مسلم طلباء کی ہمیشہ شکر گزار رہے گی جنہوں نے این.آر.سی اور کیب کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے فورا مسلم اسٹوڈنٹس آف جے.این.یو کے نام سے تنظیم بنا کر دہلی میں طلباء و عام افراد کو موبلائز کرنے کا کام کیا، مسجدوں میں جا کر پرچے بانٹے، یہ امت جامعہ کے ان طالبات کی بھی ہمیشہ شکر گزار رہے گی کہ جب ایسے وقت میں کہ قائدین چوڑیاں پہن کر گھر بیٹھے رہنے کو ترجیح دے رہے تھے، وہ اپنی نسوانیت کو بالائے طاق رکھ کر آگے آئیں اور اتنا بڑا موومنٹ کھڑا کر دیا کہ اس کا اثر ان شاء اللہ آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا، یہ امت جامعہ، جے.این.یو اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ان طلباء کی ہمیشہ شکر گزار رہے گی کہ جن کے تحریک کی وجہ سے نوجوانوں کے دلوں تک یہ بات پہونچی کہ ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے، اور اس پر انہیں لڑنا ہے، اور اگر اب نہیں لڑے، تو پھر شاید کبھی کسی مسئلے پر نہیں لڑ سکیں گے۔
میں گزشتہ کئی مرتبہ سے اپنے ہر مضمون میں "Resistance” کا ذکر کرتا تھا، کہ ہم میں مزاحمت کا مادہ بالکل نہیں، ہم ہر چیز کو بس ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں کہ جب حکومت سنے گی ہی نہیں تو ہمارے احتجاج کا فائدہ کیا ہے، اب بھی بعض افراد یہی کہہ رہے کہ کاغذات بنوانے پر فوکس کرنا چاہئے، نہ کہ احتجاجات پر، مگر اس معاملے میں ہمیں دلتوں سے سیکھنا چاہئے، جے.این.یو طلباء سے سیکھنا چاہئے، وہ مدعا جیتنے کے لئے نہیں اٹھاتے ہیں، بلکہ یہ بتانے کے لئے اٹھاتے ہیں کہ ہم اس سے خوش نہیں ہیں، تم زبردستی کرو تو الگ بات ہے کیونکہ تمہارے ہاتھ میں پاور ہے، مگر اسے تم ہمارے دل و دماغ پر لاگو نہیں کرا سکتے۔
مزاحمت ہی تو ہے، جو قوموں کے زندہ ہونے کو درشاتا ہے، امت شاہ کے بل پاس کروانے کے بعد وہ مزاحمت جس کی مجھے تلاش تھی وہ طلباء میں نظر آئی، اور یہی وہ طلباء ہیں جنہوں نے اس مزاحمت کو اپنے ارد گرد موجود ہر افراد تک پہونچا دیا، ورنہ ابھی کچھ سالوں پہلے تک حالت یہ تھی کہ ارد گرد کیا ہورہا ہے، ہماری قوم کو کچھ لینا دینا نہیں ہوتا تھا، اس کے نوجوانوں کو یہی احساس دلانا ہی مشکل تھا کہ غازہ، گلال، اور عارض سے باہر بھی ایک دنیا بستی ہے، مگر بھلا ہو، مودی اور امت شاہ کا، جو آئے تو ضرور، مگر اپنے ساتھ یہ مخالف قوم کے لئے ایک مقصد بھی لے کر آئے، اب جو حالات دکھ رہے ہیں، مجھے امید ہے کہ ہم بہت جلد مسلمانوں کو ہر قومی معاملے پر انٹرسٹ لیتے دیکھیں گے، ہر حکومتی پالیسی پر اپنے پسند و ناپسند کا اظہار کرتے دیکھیں گے، یہ جو چنگاری لگائی گئی ہے، بس اسے ایک صحیح دشا دینے کی ضرورت رہے گی، اس مزاحمت کو کانسٹیٹیوشنل فریم ورک میں لانا ہوگا، ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہماری لڑائی ہندو قوم کے خلاف نہیں ہے، ہندو توا کے خلاف ہے، جو لوگ اس ملک کے سیکولر فیبرک کو توڑنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف ہے، ہمارا لڑائی حق کی لڑائی ہے، ایک ملک کا باعزت شہری بن کر رہنے کی لڑائی ہے، کانسٹیوٹیوشن کو بچانے کی لڑائی ہے، جو زہر فضاؤں میں گھولا جارہا ہے، ہمیں اس کے تریاق کے طور پر کام کرنا ہے، سنگھ کی آئیڈیالوجی کتنی خطرناک ہے، اس سے برادران وطن کو آگاہ کرنا ہے، بس کوئی غیر قانونی قدم نہیں اٹھانا ہے، کہ ہمیں سانپ کو مارنا ہے، اور لاٹھی بھی نہیں توڑنا ہے۔
سو امت شاہ تمہارا شکریہ کہ تمہاری وجہ سے طلباء نے بے حس، بے ضمیر اور مردہ ہورہی قوم کو دوبارہ بیدار کرنے کا کام کیا۔
امت شاہ تمہارا شکریہ کہ جو کام مجھ جیسے ہزاروں رائٹرز لکھ لکھ کر بھی لوگوں کو سمجھا نہیں پارہے تھے۔ تم ایک مسلم مخالف بل لا کر سمجھا دئیے۔
امت شاہ تمہارا شکریہ کہ تمہارے اس قانون کی وجہ سے نوجوان بیدار ہوئے اور انہیں شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ ان کا تعلق اس قوم سے ہے کہ جس کی بربادیوں کے مشورے ہر دن ایوان میں ہوتے ہیں۔
امت شاہ تمہارا شکریہ کہ تم نے آزادی کے ساتھ جینے کا حق چھین لینے والا قانون ضرور بنایا، مگر اسی قانون نے لوگوں کو جینے کا ایک ریژن دے دیا۔
شکریہ تمہارے ظلم کا،
شکریہ تمہاری غنڈہ نما پولیس کا،
شکریہ تمہاری ظلم و بربریت کا،
کب تک ظلم کروگے، تم جتنا ظلم کروگے اتنا ہی ہم مضبوط ہوتے جائیں گے، یقین نہ ہو تو جاکر دیکھو، لاکھوں لوگ کیب کی مخالفت میں اتر چکے ہیں، تم خود ڈر کی وجہ سے آسام، بنگال نہیں جا پارہے ہو، پوری دنیا تمہارے اس ظلم کو دیکھ رہی رہی ہے، لوگ آوازیں اٹھا رہے ہیں، خود تمہارے ہی ہم مذہب تمہارے خلاف ہیں، اور سیکولرازم کو بچانے کے لئے لاٹھیاں کھانے میں بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں, یہی تو جیت ہے ہماری, اور یہی تو ہار تمہاری۔
یہ انقلاب کی آمد ہے جو یوں فضاؤں میں شور برپا ہے۔
ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں،
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے