راستہ دکھانے کے لئے شکریہ زکوۃ فاؤنڈیشن!

Spread the love


عزیر احمد
اس بار یوپی ایس سی کا رزلٹ آیا، مگر مسلمانوں کی امیدوں کے شاید برعکس آیا، کیونکہ اس میں ڈیڑھ سو رینک تک صرف ایک مسلمان جگہ بنا پایا، لیکن گزشتہ دو تین تین سالوں سے ایک تبدیلی یہ دیکھنے کو ملی کہ مسلمانوں کے اگزام پاس کرنے کا پرسینٹیج الحمد للہ بڑھتا جارہا ہے، جس میں زکوۃ فاؤنڈیشن کا ایک اہم رول ہے، یو پی ایس سی میں مسلمانوں کا یہ بڑھتا ہوا شئیر بھکتوں کی نیند حرام کرنے کے لئے کافی ہے، نیچے ایک کاریہ کرتا کی ٹوئیٹ ملاحظہ کریں اور سوچیں کہ ایک زکوۃ فاؤنڈیشن نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، اگر مسلمان اپنے پیسے کا صحیح جگہ استعمال کریں تو کتنی تبدیلی آسکتی ہے، یہ وقت اب تعلیمی/معاشی ترقی کا متقاضی ہے، سیاسی حریف بن کر شاید ہم کچھ نہ حاصل کرسکیں، بلکہ ممکن ہے کہ ہم ایک Constant Hindu Muslim Rivalry میں مبتلا رہیں، مگر تعلیمی حریف بن کر شاید ہم بہت کچھ حاصل کرسکیں. سو زکوۃ فاؤنڈیشن کو ڈھیروں مبارکباد کہ اس کی کوششیں نہ صرف رنگ لا رہی ہیں، بلکہ وہ سنگھیوں کی نیند حرام کرنے میں معاون اور مددگار بھی ہیں، کام کرنے والے لوگ کام کر رہے ہیں، حالات ایسے ہیں کہ ہمیں مضبوطی کے ساتھ ان پہلؤوں پر کام ہے جو Constructive ہیں، اور جس کا فائدہ لانگ ٹرم میں ملنے والا ہے، یہ سیاست کے گلیاروں میں ستر سال سے چکر لگاتے لگاتے ہم راستہ بھٹک چکے ہیں، ہمارے قائدین ہمیں بیچ کھانے والے ثابت ہوئے ہیں، ان کے بالمقابل دیگر افراد نے کام زیادہ کیا ہے۔

کانگریس سپا، بسپا اور ملائم کا سہارا لے کر اپنے لیڈران/قائدین نے راجیہ سبھا کی سیٹیں حاصل کیں/ممبر پارلیمنٹ بنے، اپنے خاندان کو فائدہ پہونچایا، قوم کو ان سے "جملے بازی” کا فائدہ ہوا، آج ساری پارٹیاں سوفٹ ہندوتوا کا دامن تھام چکی ہیں، تو ظاہر سی بات ہے کہ جب "ہارڈ ہندوتوا” موجود ہے، تو "سوفٹ ہندوتوا” سے ہندؤوں کو بیوقوف کیسے بنایا جاسکتا ہے، سیکولرزم کا ریوائیول اب ان پارٹیوں سے ممکن نہیں، اور نہ ہی مسلمانوں کو اب اس ریوائیول کی ضرورت ہونی چاہئے۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ راستہ ڈھونڈتی ہیں، عزیمت کی داستانیں مشکلات کے راہوں سے ہوکر گزرتی ہیں، کہانیاں مشقتوں کی بھٹی میں تپ کر تیار ہوتی ہیں، اس گھٹا ٹوپ تاریکی میں ہماری امیدوں کا محور کا وہ مسلم کانسٹبل بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے ڈیوٹی پر رہتے ہوئے امتحان پاس کر لیا، پاتال لوک میں بھی ہم نے ایک مسلم کانسٹبل کو ڈیوٹی کرتے کرتے امتحان پاس کرتے دیکھا تھا، پر سوچا نہ تھا کہ کوئی سرپھرا بعینہ وہ کردار حقیقت کی دنیا میں بھی ادا کردے گا، انسپریشن لینے کے لئے ہمارے اردگرد ایسے ہزاروں کردار بکھرے پڑے ہیں جو گرتے ہیں، اٹھتے ہیں، جھکتے ہیں، مگر ٹوٹتے نہیں، اور وہی تو اصل ہے کہ امیدوں کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوڑا نہ جائے، اگر تنکے کے سہارے سمندر نہیں پار کی جاسکتی ہے تو لکڑی کی تلاش کیوں چھوڑی جائے؟ کیا ضروری ہے کہ ہمارے صاحب جبہ و قبہ و دستاران پارلیمنٹ میں ہی جا کر بیٹھیں تبھی قوم کی حالت کی سدھرے گی؟

ہم سچائی قبول کریں، نہ کریں، مگر مودی جی نے اپنے بہت سارے انتخابی کو پورے کرکے ہندؤوں میں انتہا درجے کی مقبولیت حاصل کرلی ہے، ابھی فی الحال ان کے مد مقابل کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا، وہ پولیٹکل انالسٹ جو کہا کرتے تھے کہ اگر تین سو ستر ہٹا تو کشمیر جل جائے گا، وہی کشمیر جل تو رہا ہے، مگر گورنمنٹ نے اس کے ارد گرد اتنی بڑی دیواریں کھڑی کردی ہے کہ اس کی آنچ ہم تک پہونچ ہی نہیں پا رہی ہے، سو کہنے کا مطلب بس اتنا ہے کہ ترجیحات متعین کیجئے، اور کچھ وقتوں کے لئے انہیں ترجیحات کے حصول میں لگ جائیے، زندہ قومیں شکایتیں نہیں کرتی ہیں، بلکہ راستہ ڈھونڈتی ہیں، عزیمت کی داستانیں مشکلات کے راہوں سے ہوکر گزرتی ہیں، کہانیاں مشقتوں کی بھٹی میں تپ کر تیار ہوتی ہیں، اس گھٹا ٹوپ تاریکی میں ہماری امیدوں کا محور کا وہ مسلم کانسٹبل بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے ڈیوٹی پر رہتے ہوئے امتحان پاس کر لیا، پاتال لوک میں بھی ہم نے ایک مسلم کانسٹبل کو ڈیوٹی کرتے کرتے امتحان پاس کرتے دیکھا تھا، پر سوچا نہ تھا کہ کوئی سرپھرا بعینہ وہ کردار حقیقت کی دنیا میں بھی ادا کردے گا، انسپریشن لینے کے لئے ہمارے اردگرد ایسے ہزاروں کردار بکھرے پڑے ہیں جو گرتے ہیں، اٹھتے ہیں، جھکتے ہیں، مگر ٹوٹتے نہیں، اور وہی تو اصل ہے کہ امیدوں کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوڑا نہ جائے، اگر تنکے کے سہارے سمندر نہیں پار کی جاسکتی ہے تو لکڑی کی تلاش کیوں چھوڑی جائے؟ کیا ضروری ہے کہ ہمارے صاحب جبہ و قبہ و دستاران پارلیمنٹ میں ہی جا کر بیٹھیں تبھی قوم کی حالت کی سدھرے گی؟ معیشت اور ایجوکیشن ہی تو کسی قوم کی ترقی کے لئے ضروری ہیں، خاموشی کے ساتھ مسلمانوں کو ان دونوں محاذ پر کام کرنا چاہئے، مارکیٹ پر قبضہ کرنا ضروری ہے، مگر ہلا گلا کرنا، ہو ہو کار مچانا، جشن کا اہتمام کرنا بالکل ضروری نہیں، شاید اگر میں کہوں تو آر ایس ایس کی طرح مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اتنی خاموشی سے کام کریں کہ غیر مسلموں کو پتہ اس وقت چلے جب مارکیٹ پر مسلمانوں‌ کا قبضہ ہوجائے، بعنیہ اسی طرح سے کہ مسلمانوں کی آنکھ اس وقت کھلی جب ہندوستان کے تینوں اہم عہدوں پر آر.ایس.ایس کا قبضہ ہوچکا تھا، ہمارے یہاں شادیوں میں جتنا خرچ کردیا جاتا ہے، اتنے میں کسی غریب بچے کو پڑھایا جا سکتا ہے، کسی ہنرمند کو کام پر لگایا جا سکتا ہے، لیکن بس معاملہ وہی ہے کہ ہمارے پاس ترجیحات نہیں ہیں، اور ہماری قوم مسلم کی اکثریت کو مستقبل سے کوئی لینا دینا نہیں، ذمہ داری کا احساس نہیں ہے، جن کے پاس پیسہ انہیں قوم و ملت سے کوئی مطلب نہیں، اور جو ذمہ داران قوم ہیں، جو باہر ملکوں سے غریبوں، ناداروں اور مسکینوں کے نام پر پیسہ اٹھاتے ہیں، یا ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے نام پر پروجیکٹ اٹھاتے ہیں، انہیں اپنے پیٹ ہی سے فرصت نہیں، وہ تو بھلا ہو یوگی اور مودی کا, کہ ان کے آنے سے مسلمانوں پر ظلم و ستم ہوئے, اور اس سے مسلمانوں میں تھوڑی بیداری پیدا ہوئی, انہیں احساس ہوا کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے ستایا جارہا ہے, اور یہی وجہ ہے کہ اب اکثر لبرل مسلمان بھی مسلم آئیڈنٹٹی اور مسلم حقوق کے لئے لڑنے لگے ہیں, ورنہ حالت یہ تھی کہ وہ ابھی تک اپنے آپ کو شرمندہ محسوس کرتے تھے۔
بہرحال زکوة فاؤنڈیشن ایک خواب تھا, جو اب حقیقت ہے, اور اب وہ ایک رول ماڈل بننے کی پوزیشن میں بالکل ہے, ضرورت ہے اسی طرز پر مزید اداروں کو کھڑا کرنے کی, یا اسی زکوة فاؤنڈیشن کو اسے ملک کے دیگر حصوں میں بھی پہونچانے کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے