دہشت گردی (فکری و عملی) ایک مذموم عمل

Spread the love

۲۴ جون ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
بلاشبہ جو لوگ مسلمان ممالک میں قتل و غارت گری اور خونریزی پہ ابھارتے ہیں، اور جو اس فعل کو انجام دیتے ہیں دونوں ہی خوارج ہیں. دہشت گردی کسی بھی روپ میں ہو، چاہے غیر مسلموں کی بھیڑ میں ہو یا مسلمانوں کے اجتماع میں، دونوں ہی مطعون اور مذموم عمل ہے _
دہشت گردی کا سب سے بھیانک چہرا خودکش بمباری ہے، اور یہ کام کوئی بھی شخص اسی وقت انجام دے سکتا ہے جب اس کے دل میں یا تو مخالف کے خلاف بے انتہا نفرت بھری ہو، اتنی نفرت کہ خود کو اڑا لینا اس کے لئے آسان ہو برخلاف اس کے کہ وہ اس نفرت کے ساتھ جئے، یا پھر اسے مخالف کے خلاف سبق پڑھایا گیا ہو، اور مرنے کے بعد اس کے لئے جنات النعیم کا وعدہ کیا گیا ہو، دہشت گرد جماعتیں یہی کرتیں ہیں، دین اور اسلام کی بقاء و سربلندی کے نام پہ معصوموں کو اپنے جال میں پھنساتیں ہیں، ان کے دلوں میں دوسرے مسلمانوں کے تئیں نفرت پیدا کرتیں ہیں، اور انہیں کافر قرار دے کر انہیں مار ڈالنے کی ترغیب دلاتیں ہیں، انہیں بار بار یہ احساس دلاتیں ہیں کہ سارے فساد اور مصیبت کی جڑ یہی لوگ ہیں، اگر یہ لوگ ختم ہوجائیں تو اسلام کی ترقی اور شان و شوکت میں اضافہ ہوجائے _
حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ خون چاہے مسلم کا ہو، یا غیر مسلم کا، اگر ناحق بہایا جائے گا، تو گویا کہ وہ پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہوگا _
اسلام تو امن و شانتی کا پیغام عام کرنے کے لئے ہے، نہ اسلام کے نام پہ درندہ صفت جبلتوں کی تسکین کے لئے، کہ اللہ کا نام لیکے صرف مار دھاڑ کیا جائے، قتل و غارے گری پھیلائی جائے، اللہ کے بندوں کے لئے اللہ کی زمین کو تنگ کردیا، نہ مخالف انسان کو جینے کا حق رہے، نہ ہی پھلنے پھولنے کا _
"ولو شاء ربك لآمن من في الأرض كلهم جميعا، أفأنت تكره الناس حتى يكونوا مؤمنين” _القران.
قران کی یہ آیت ہے، اللہ رب العالمین صاف صاف ارشاد فرمارہا ہے کہ اگر تمہارا رب چاہ لیتا تو سارے لوگ ایمان لے آتے، کیا آپ لوگوں سے اس وقت تک نفرت کریں گے جب تک کہ وہ مؤمن نہیں ہوجاتے _
سارے لوگ مسلمان نہیں ہیں، مختلف مذاہب ہیں، اور مذاہب میں مختلف مسالک، پھر مختلف مسالک میں مختلف نظریات، سب کا کسی ایک نقطے پہ جمع نہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی اللہ کی مرضی سے ہے، تو لوگ کون ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف جاکے بم دھماکوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذریعہ اسلام کو پھیلانے کی کوشش کرنے والے، یاد رکھیں دہشت گردانہ کاروائیاں اسلام کے کو روشن نہیں کرتیں ہیں بلکہ اسلام کے خوبصورت چہرے کو لتھاڑ دیتی ہیں، اللہ تعالی قران میں ایک اور جگہ فرماتے ہیں "وما کان لنفس أن تؤمن إلا بإذن الله” اگر سختی اور تشدد سے لوگ اسلام لے آتے تو پھر کیا بات تھی، مسلمانوں کو یہی حکم ہوتا کہ جہاں دیکھو مارنا شروع کردو، مگر اللہ تعالی نے حکم دیا "لا اکراہ فی الدین”، دین میں نہ کوئی زور نہ کوئی جبر، ہم کسی کو اسلام لانے کے لئے مجبور نہیں کرسکتے، نہ ہم جسے چاہ لیں اسے ہدایت دے سکتے ہیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا "إنك لا تهدي من أحببت، ولكن الله يهدي من يشاء”. ہم چاہے جتنی کوشش کرلیں کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے اگر اللہ نہ چاہے، پھر اتنی تشدد اتنی سختی کیوں، یہ ظلم و فساد، یہ سرکشی اور عناد کیوں، یہ ڈر اور خوف و وحشت کی کھیتی کیوں، کیا ہم اختلاف دین اور اختلاف مسالک کے ساتھ نہیں جی سکتے ہیں، کیا ہم علمی تنقید کے نام پہ تنقیص اور گالی گلوچ سے پرہیز نہیں کرسکتے ہیں _
ہمارا کام صرف دعوت ہے، ہمیں روئے زمین پہ اتارا گیا ہے لوگوں کو امر بالمعروف والنہی عن المنکر کے لئے، كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر” ہم کو خیر امت کا لقب دیا گیا لیکن کیا وجہ ہے بدترین امت شمار کرنے لگے، ہمارے اعمال، ہمارے افکار، ہمارا لٹریچر چیخ چیخ کے اعلان کرتا ہے کہ حاکمیت الہ ہی ہمارا مقصد ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہمیں پوری دنیا کا خون بہانہ پڑے تو ہم گریز نہیں کریں گے، آخر جب اس قسم کے ہمارے افکار غیر مسلموں تک پہونچیں گے تو کیا وہ ہم سے نفرت نہیں کریں گے، کیا ان کا ہم سے نفرت کرنے کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم ان سے نفرت کرتے ہیں، میں نے کہیں ایک quotation پڑھا تھا.
"If your religion requires you to hate someone, you need a new religion _
اگر آپ کا مذہب آپ کو کسی سے نفرت کرنے پہ آمادہ کرتا ہے تو آپ سمجھ لئے کہ آپ کو نئے مذہب کی ضروت ہے، اور یہی بات علامہ اقبال نے بھی کہا تھا "مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا”، مگر آج حالت یہ ہے کہ ہم اپنے سے غیر مذہب والے کو مار ڈالنے سے کم پہ راضی نہیں ہوتے، چاہے بم دھماکوں کے ذریعہ یا خودکش حملوں کے ذریعہ، اور آج حال ایسا ہے کہ ان بم دھماکوں سے سب سے زیادہ متاثر خود مسلمان ہیں، یہاں تک کہ حرمین بھی محفوظ نہیں، پچھلی مرتبہ مسجد نبوی کو نشانہ بنائے جانے کی کوشش کی گئی، اس مرتبہ بیت الحرام کو، جو لٹریچر ہم نے پروڈیوس کیا ہے اس کا کچھ نہ کچھ تو وبال ہم پہ ضرور آئے گا، کیا بیت اللہ پہ حملہ کرنے والے کو یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ اللہ کا گھر ہے، یہاں پہ عبادت کرنے والے سارے لوگ مسلمان ہیں، بالکل معلوم تھا، مگر اس کے ذہن میں یہ بات گھسائی گئی ہوگی کہ یہ عبادت کرنے والے، اللہ کا نام لینے والے حقیقی مسلمان نہیں ہیں، یہ لوگ منافق ہیں، یہ لوگ غیر مسلک کے ہیں، یہ لوگ فلاں ہیں، یہ لوگ ڈھکاں ہیں _
جب ہم اسلامی مسالک پہ غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جو جس مسلک کا ہے وہ اپنے غیر کے مسلک کو کافر قرار دینے سے کم پہ راضی نہیں ہوتا، اور اس کے تئیں اتنی نفرت اتنا غصہ اپنے دل میں دبا کے رکھتا ہے کہ اگر موقع ملے تو گردن مارنے سے کم پہ راضی نہیں ہوتے _
یاد رکھئیے لفظی تشدد ہی عملی تشدد کی طرف لیکے جاتی ہے، اگر ہمارے افکار و خیالات اور ہماری تحریروں میں تشدد اور سختی پائی جائے گی تو وہی ہماری عملی زندگی میں بھی نظر آئے گی _
اختلاف مذاہب کے ساتھ ساتھ اختلاف مسالک کو بھی برداشت کرنا سیکھئیے، مخالف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو جینے کا حق نہیں، زندگی اللہ رب العالمین کی دی ہوئی امانت ہے اسے چھین لینے کا حق کسی کو نہیں _

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے