بڑھتی کثافت پرعدالت عظمیٰ کی سرزنش

Spread the love


کاشف شکیل
سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں آلودگی سے متعلق سخت مؤقف اپنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے پنجاب اور ہریانہ حکومت کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پروازیں موڑ دی جارہی ہیں اور لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ اس کے بعد بھی آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی؟ عدالت نے کہا کہ یہ کروڑوں لوگوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ہمیں اس کے لئے حکومت کو ذمہ دار بنانا ہوگا۔واضح رہے کہ بدھ کے روز جسٹس ارون مشرا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے فضائی آلودگی کے بارے میں سماعت کی۔ اس دوران ، دہلی ، پنجاب ، ہریانہ کے چیف سکریٹری عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے پرالی جلانے کے مسئلے سے نمٹنے پر حکومت پنجاب کو سرزنش کی اور کہا کہ آپ اپنی ڈیوٹی میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ اب براہ کرم اس بات کو یقینی بنائیں کہ پرالی جلانے کا کوئی مسئلہ نہ ہو۔جسٹس مشرا نے کہا کہ اس سال بھی پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلی۔آخرحکومتیں پہلے کیوں تیار نہیں تھی اور مشینیں کیوں نہیں دی گئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلے پرسال بھر سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ یہ ہرگز اچھی صورتحال نہیں ہے۔ یہ دیکھنے کے بعد کہ ہریانہ کی ریاست اس مسئلے سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے ہریانہ کے چیف سکریٹری سے پوچھا کہ انہوں نے ریاست کے 4 اضلاع میں پرالی جلانے کے معاملے میں لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟
جسٹس مشرا نے سختی سے کہا کہ بہتر بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے لئے ورلڈ بینک کی جانب سے آنے والے فنڈز کا کیا ہو رہا ہے۔ اتنا پیسہ آگیا مگر اسمارٹ سٹی کا تصور کہاں ہے؟۔ سڑکیں کیوں بہتر نہیں ہوئیں؟ دہلی میں ابھی تک تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ آلودگی کی سطح دیکھیں۔ براہ کرم خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔جسٹس مشرا نے دہلی کے چیف سکریٹری سے پوچھا کہ آپ سڑک کی دھول اورتعمیر سےنہیں نمٹ سکتےتو آپ یہ عہدہ کیوں سنبھال رہے ہیں؟ صرف یہی نہیں ، انہوں نے ہریانہ کے چیف سکریٹری سے پوچھا کہ آپ نے ریاست کے چار اضلاع میں لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟؟
سپریم کورٹ نے ہریانہ ، یوپی اور پنجاب حکومتوں کو حکم دیتے ہوئے کہاکہ حکومتیں چھوٹے اور درمیانی درجے کے ہر کسان کو پرالی جلانے کے لئے 100 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے سات دن کے اندرمالی مدد دینےکو یقینی بنائیں۔ اس سے پرالی جلانے کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔
پنجاب کے چیف سکریٹری نے سپریم کورٹ سے کہاکہ کاشتکاروں کو ان کھیتوں میں لے جایا گیا ہے جہاں پرالی نہیں جلائی گئی تھی۔ ہم نے کسانوں کو مشینیں استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ جسٹس مشرا نے پوچھا کہ آپ نے کتنی مشینیں استعمال کیں؟ اس پر چیف سکریٹری نے کہا کہ 24 ہزار مشینیں ہیں اور 18 ہزار سے زیادہ تقسیم کی گئی ہیں۔ اس کے بعد جسٹس مشرا نے ڈیٹا طلب کیا ، جو چیف سکریٹری فراہم نہیں کرسکے۔
مضحکہ خیز بات ہے کہ بی جے پی نیتا ونیت اگروال شاردانے دہلی-این سی آر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ بتایا۔انھوں نے کہا کہ پرالی جلانے سے ہوا کی آلودگی نہیں ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ زہریلی ہوا پاکستان بھیج رہا ہو جو ہم سے خوفزدہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی کابینہ سکریٹری نےبدھ کو قومی خطہ راجدھانی دلی میں ہوائی کثافت کی روک تھام کے انتظامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔انھوں نے کہا کہ یہ بات مشاہدے میں آئی کہ پنجاب اور ہریانہ میں اب بھی فصلوں کے باقیات جلانے کا عمل جاری ہے اور اس سلسلے میں مزیدارتکازی توجہ درکار ہے ۔ ان ریاستوں کو اب یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اب وہ اپنے یہاں کھیتوںکی نگرانی کے لئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں نگرانی ٹیمیں تعینات کریں تاکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر معقول جرمانے عائد کئے جاسکیں۔راجدھانی میں جہاںمختلف ایجنسیاںاس کام میں تال میل بناکر اپنا تعاون دے رہی ہیں ، صورتحال پر تبادلہ خیالات کے گئے۔اور یہ محسوں کیا گیا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے مزیدکوششوں کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے