شہریت ترمیم بل، کچھ اہم گزارشات

Spread the love


عبدالغفار سلفی ،بنارس
کل گیارہ دسمبر 2019 کو ملک کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں شہریت ترمیم بل( CAB) پاس ہو گیا، اب صرف اس پر صدر جمہوریہ کے دستخط ہونے باقی ہیں اس کے بعد یہ بل نافذ ہو جائے گا۔ کل پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے لیڈروں نے اس بل کے تعلق سے مختلف سوالات اور اندیشے ظاہر کیے جن کا وزیر داخلہ صاحب نے بڑے مضبوط لہجے اور پر اعتماد انداز میں جواب دینے کی کوشش کی۔ وزیر داخلہ صاحب کی اس تقریر پر پھر بھی کچھ سوالات قائم ہیں جنہیں یہاں ہم پوائنٹ ٹو پوائنٹ نقل کر رہے ہیں۔
1- وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کے مسلمانوں کو اس بل سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ بل شہریت دینے کے لیے آیا ہے نہ کہ چھیننے کے لیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم اس بل کو این آر سی کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بل ان بیشمار مسلمانوں سے ان کی شہریت چھیننے کا کام کرے گا جنہیں معمولی کاغذی گڑبڑیوں کے سبب این آر سی میں جگہ نہیں مل پائے گی اور اس طرح وہ اپنے ہی ملک میں حقوق سے محروم ہو کر ڈٹینشن کیمپوں (جو کسی عقوبت خانے سے کم نہیں) میں جانوروں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ (جس کا ایک بدترین نمونہ ہم آسام کے ڈٹینشن کیمپوں میں دیکھ سکتے ہیں)۔
2-وزیر داخلہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں چونکہ اسلامی حکومتیں قائم ہیں لہذا وہاں کسی مسلمان کو پرابلم نہیں آئے گی، صرف غیر مسلموں کو آئے گی. اول تو یہ بات غلط ہے، اگر ان ملکوں میں مسلمانوں کو کوئی پریشانی نہ ہوتی تو وہاں سے ایک بڑی تعداد (خود حکومت کے بقول) ہندوستان بھاگ کر کیوں آتی۔ پھر یہ ممالک اگر اسلام کے نام پر بنے ہیں تو کیا ہمارا ملک ہندو مذہب کے نام پر یا اسلام کی مخالفت کے نام پر بنا ہے کہ ہم سارے مذاہب والوں کو تو شہریت دیں، صرف مسلمانوں کو نہ دیں۔
3- یہ بل ملک کے آئین کی بنیادوں کے خلاف ہے جس میں ہر قسم کی مذہبی تفریق سے اوپر اٹھ کر سیکولر ازم کی بنیاد پر دیش چلانے کی بات کہی گئی ہے۔ اگر پاکستان یا ہمارا کوئی پڑوسی ملک کوئی غلط حرکت کرتا بھی ہے تو ہم اس کی بنیاد پر اپنے آئین کی بنیادیں اکھاڑ پھینکیں یہ تو بڑی عجیب اور تباہ کن بات ہے۔
4- وزیر داخلہ کا دعویٰ ہے کہ اس بل کے ذریعے ان تین ملکوں سے بھاگ کر آئے ہوئے لاکھوں لوگوں کو راحت ملے گی جو اب تک بنیادی حقوق سے محروم تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی اقتصادی حالت اس کی متحمل ہے؟ جس ملک کی جی ڈی پی برابر گر رہی ہو، بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہو رہا ہو، اقتصادی حالت پتلی سے پتلی ہو رہی ہو، ملک کے اپنے شہری بنیادی ضرورتوں کے لیے جد و جہد کر رہے ہوں وہاں لاکھوں لوگوں کو شہریت دے کر اپنے اوپر ایک بڑا اقتصادی بوجھ ڈالنا سمجھ سے باہر ہے۔
5- میانمار سے بھاگ کر آئے ہوئے روہنگیا مسلمان جو اپنے مذہب کی ہی بنیاد پر اپنے ملک میں ستائے گئے انہیں ہماری حکومت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، انہیں کھلم کھلا گھس پیٹھیا کہا جا رہا ہے۔ کیا ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ کیا یہ کھلا ہوا تضاد اور ملک کے سیکولر ڈھانچے کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے؟
6- کیا اس بات کے امکانات نہیں ہیں کہ ان تین ملکوں کے جاسوس ملک میں مذہبی پہچان چھپا کر داخل ہوں، آسانی سے شہریت حاصل کریں اور پھر ملک کی جڑیں کھودیں. کیا یہ بل ملک کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ نہیں؟
7- بے جے پی سپورٹرس بھی اور اس کے ہمنوا چینل بھی اس بل کے پاس ہونے پر خوش ہو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس سے ہندو شرنارتھیوں کو راحت مل جائے گی۔ گویا اس بل میں بقیہ مذاہب کا نام محض ایک لالی پاپ کی طرح ہے، اس کا اصل مقصد ہندو پناہ گزینوں کو تحفظ دینا ہے اور بقیہ مذاہب کا نام صرف اس لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ وہ اس جابرانہ بل کی مخالفت نہ کر سکیں اور یہ سمجھیں کہ ہمیں تو اس میں شامل کیا گیا ہے۔
اس بل کے پاس ہونے کے بعد ملک میں مسلمانوں کو اپنے سیاسی کردار پر بھی نظر ثانی کرنے کی بھی ضرورت ہے، ملت اسلامیہ ہند کو اس سلسلے میں نہایت سنجیدہ ہونے اور کوئی مضبوط لائحہ بنانے کی ضرورت ہے. ، ہماری نظر میں اس تعلق سے چند اہم گزارشات یہ ہیں :
1- اس بل کا پاس ہونا ملکی سیاست میں مسلمانوں کی بے بسی کا آئینہ دار ہے۔ جن نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو مسلمانوں نے فرقہ پرستی کی مخالفت میں ووٹ کیا آج انہوں نے کھلم کھلا اس بل کی حمایت کی۔ یوں گویا ان کے سیکولر چہرے بے نقاب ہوئے۔ کچھ کے چہرے تین طلاق بل کے موقعے پر سامنے آئے تھے، کچھ اب بے نقاب ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو آئندہ ان سیکولر ڈھونگیوں سےہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
2- بہت سارے سیاسی لیڈروں نے نہ صرف اس بل کی مخالفت کی بلکہ واضح طور پر اسے مسلم مخالف اور آئین مخالف بتایا اور اپنا موقف دو ٹوک انداز میں ایوان میں رکھا۔ یہ لیڈران نی صرف ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں بلکہ انہیں اپنانے اور ان کا سٹیک سیاسی استعمال کرنے کے بارے میں بھی ہمیں سوچنا ہوگا۔
3- بعض مسلم لیڈروں نے بیشک پارلیمنٹ میں ہر محاذ پر ملی مفاد کے حق میں بلا خوف و خطر آواز اٹھائی ہے، ان کے خلوص میں بھی کوئی شک نہیں. مگر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ چودہ پرسنٹ آبادی متحد ہو کر کسی کو ووٹ دے تو بھی وہ حکومت نہیں بنا سکتی اور نہ محض اس کی ناراضگی کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں کوئی بل ہاس ہونے سے رک سکتا ہے۔ ہمیں اول تو اپنا ووٹ اب ہر حال میں متحد کرنا ہوگا پوری خاموشی کے ساتھ اور دوسرے مرکز میں کسی ایسی پارٹی کو سپورٹ کرنا ہوگا جو حکومت سازی میں بنیادی کردار ادا کرے اور مسلمانوں کی متحدہ ووٹنگ کے سبب ان کے مفادات کی بھی حفاظت کرے۔
4- یہ وقت ہمارے ملی قائدین کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ پانی اب سر سے اونچا ہو چکا ہے، اب سیدھے سیدھے جان و مال، عزت و آبرو کا مسئلہ ہے، ملی تشخص کا مسئلہ ہے۔ اب سب سے پہلے تو ملی طور پر متحد ہونے کی ضرورت ہے، اپنی اپنی جمعیتوں اور تنظیموں کی پبلسٹی اور پرچار پرسار حاصل کرنے کے بجائے اور سستے مفادات سے اوپر اٹھ کر ملی مفاد کے حق میں کوئی مضبوط لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی غیر منصفانہ تائید بلکہ تملق اب بند ہونا چاہیے، نہ حکومتی بلاوے پر جھٹ سےمنھ اٹھائے دوڑ جانا چاہیے۔ اب اللہ کے واسطے اس لٹی پٹی ملت کی سُدھ لیں۔ اب معاملہ آپ لوگوں کی جھوٹی مصلحت سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ مصلحت کے نام پر ملی مفادات کا سودا بند کیجیے۔
5- اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ این آر سی کے نفاذ کے بعد مشکل وقت میں کمزور ایمان و عقیدے کے مسلمانوں میں ارتداد کی لہر اٹھے (اور یہ آر ایس ایس کا دیرینہ خواب بھی ہے)۔ ہمیں اس نازک گھڑی کے تدارک کے لیے ابھی سے تیار ہونا ہوگا۔ مسلم عوام بالخصوص معاشی اور سماجی اعتبار سے پچھڑے اور مفلوک الحال مسلمانوں کے ذہن و دماغ میں دین و ایمان کی اہمیت جاگزیں کرنی ہوگی اور انہیں تحفظ کا احساس بھی دلانا ہوگا۔
6-این آر سی بقول وزیر داخلہ جلد ہی پورے ملک میں نافذ ہوگی، اس ڈکٹیٹر حکومت سے اب ہم کسی خیر کی امید نہ رکھیں اور نہ ہی آپس میں کسی قسم کی خود غرضی کا مظاہرہ کریں۔ اس کو ایک ملی اور قومی المیہ سمجھ کر اس کے لیے ابھی سے منظم تیاریاں شروع کر دیں۔ اس مسئلے کو صرف ذاتی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ ایک ملی کرائسس سمجھ کر ایک دوسرے کے تعاون کی فضا بنائیں اور باہم دست و بازو بنیں۔ مساجد، مدارس کا اس سلسلے میں صحیح استعمال کریں۔ شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات میں سادگی کا مظاہرہ کریں اور اپنے مال کو ملی ضرورتوں کے لیے بھی مختص کریں۔ جلسے، کانفرنسیں، مشاعرے اب کم کریں. ملک گیر پیمانے پر بجٹ اکٹھا کر اس المیے سے ملت کو نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
7- یقیناً یہ پوری ملت اسلامیہ ہند کے لیے ایک انتہائی نازک گھڑی ہے، اس موقعے پر خوف و ہراس کا دل میں پیدا ہونا فطری ہے، دل میں اندیشوں کا گھر کر جانا طبعی ہے۔ مگر یاد رکھیں یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ڈرنے ، گھبرانے اور مایوس ہونے سے مسائل اور بڑھیں گے۔ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے اور حتی الامکان انہیں ادا کرے۔ ایک دوسرے کو حوصلہ دیں۔ فرضی قسم کے میسج اور ویڈیو وائرل کرنا بالکل بند کر دیں۔ جذباتی قسم کے مقرروں اور شاعروں سے ہوشیار رہیں۔ انہیں آپ کا استحصال کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔
8- ملک میں ابھی بھی برادران وطن کا ایک بڑا طبقہ سیکولر ہے اور تمام تر اندیشوں کے باوجود ہمارے حق میں حتی الامکان آواز اٹھا رہا ہے، یہ الگ بات ہے کہ طاقت کے زور پر ان کی آواز کو آج دبا دیا گیا ہے۔ ہماری سرد مہری اور خاموشی ایسی کوششوں کو کمزور کرتی ہے۔ ہم ایسے تمام طبقات کو ساتھ لیں اور ان کے ساتھ ساتھ قدم سے قدم ملا کر ہر قسم کے ظلم اور فرقہ پرستی کا مقابلہ کریں۔
9-ایک مسلمان کو یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں کہ قوموں کو عروج و زوال سے دوچار کرنے والا ہمارا مالک حقیقی ہے۔ عزت و ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ ہر شے ہر قادر ہے، اس کی تدبیر کے آگے کسی کی کوئی پلاننگ اور چال چلنے والی نہیں ہے۔ اس نازک موقع پر ہم اس کی بارگاہ میں رجوع کریں۔ اجتماعی طور پر دینی بیداری کا ثبوت دیں۔ اپنے اخلاق و کردار اور ایمان و عمل کی اصلاح کریں۔
رب العالمين ہم سب کی حفاظت فرمائے، ہمارے ملک کی سالمیت اور اتحاد کو برقرار رکھے، ظالموں کے ظلم سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔
(مضمون نگار بنارس ہندو یونیورسٹی سے پی.ایچ.ڈی کر چکے ہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے