ریاست بہت طاقتورہوتی ہے!

Spread the love


سہیل اختر
یہ بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ عدالت کے ایک فیصلہ نے کروڑوں کی آبادی کونفسیاتی طورپرشکستہ کردیا۔ میں بھی ایک مسلمان ہوں، پیشہ سے صحافی، آپ سب لوگوں نے ٹی وی کے سامنے یا موبائل اسکرین پریہ فیصلہ دیکھاہوگا، میں تواس دن عدالت میں موجودتھا، فیصلہ آتے ہی میں انصاف کے اس مندر سے باہرنکلا، میری پیشہ ورانہ ضرورت تھی، مجھے کہیں اورجاناتھا، میری حالت بہت بری نہیں تھی اورنہ ہی میرے پیروں سے زمین کھسکی تھی، لیکن ذہن ودماغ میں افکارپریشاں اورخیالات کاایک طوفان برپاتھا۔ باربارانگلیاں سوشل میڈیا کے باکس میں جاتیں اور میں اظہار کی قدرت سے محروم باربارسائٹ بند کردیتا تھا، کسی سے زیادہ بات نہیں کی، کچھ ضروری پریس کانفرنس میں شامل ہوا، خبرنویسی کی اورمسکراہٹوں کے ساتھ ملاقاتوں کاسلسلہ جاری رہا، لیکن ذہن میں طوفان کاسلسلہ تھمانہیں۔
گزرتے وقت کے ساتھ ذہنی سوچ میں تلخی بڑھتی گئی، نفرت بھی آئی، تباہی کے خیالات، مٹ جانے کی سوچ، دھواں ، آگ اورخون کی تصویریں ذہن میں چلتی رہیں، فرصت کے ہر لمحے میں بہت کچھ سوچا، کیا کیا بننے کی خواہش نہیں ہوئی، تاریک راہوں کواپنانے کا خیال بھی آتارہا، افسانوں اورکہانیوں کے طاقتورکرداروں میں سمٹ جانے یا معجزاتی طورپراس میں حلول کرجانے کی دعائیبں بھی مانگیں،کبھی ’دیوتا‘بنناچاہا، کبھی ایوبی، آج تک جتنی سائنس فکشن دیکھی تھی، ان کے تمام مافوق القدرت کرداروں میں اپنے آپ کوجینے کے خواب بڑی شدت سے آئے، بس من چاہتاتھا کہ کچھ ہوجائے، لوگوں کواپنی شکستگی کااحساس دلاسکوں، انہیں شرمندہ کرسکوں اورانہیں بتلاسکوں کہ طاقت حاصل کرنا اورپھراسے آزماناکتنا خطرناک ہوسکتاہے۔
اچھے خیالات بھی آئے،کچھ اچھابننے کی، اچھی مثال پیش کرنے کی، ایساعام شہری بننے کابھی خیال آیا، جس سے لوگوں کوشکایت ہو؛ لیکن تکلیف نہیں، جوضرررساں نہ ہوں، تشکیل سماج کاحصہ بن کربساط کے مطابق کچھ کرنے کی فکربھی آئی، لیکن یہ فکراوریہ سوچ بہت ہلکی تھی، تباہی کے ان افکارکے سامنے، اس کاقدبہت بوناتھا، ذہن ودماغ بھی انہیں قبول کرنے کوتیارنہیں تھا۔
مجھے یہ احساس تھا اورابھی بھی ہے کہ یہ خیالات میرے جیسے درجنوں یا سیکڑوں نوجوانوں کوآئے ہوں گے یاآرہے ہونگے۔ میں اپنے آپ سے لڑا، ہارا، لڑا،ریاض کیا اورمیں نے جواپنے آپ سے کہا، وہ آپ سب سے کہناچاہتاہوں، بڑے من سے یہ حروف لکھ رہا ہوں میں۔ بہت امیدسے کچھ کہنا چاہتا ہوں آپ سب کو،باوجوداس کے کہ میں زیادہ نہیں لکھتا اورنہ ہی میراپیشہ ورانہ معاہدہ مجھے آپ سے بے باک مخاطب ہونے کی آزادی دیتاہے۔ لیکن میں آپ سے کچھ کہناچاہتاہوں۔
جومیرے ذہن میں آیا، وہ خطرناک تھا، وہ ایک بے راہ روی تھی، وہ ایک بیماری ہے، میں مانتاہوں کہ ذہن سوچنے کے لئے آزادہے، اس کاعمل سے کوئی تعلق نہیں،لیکن زہریلی سوچ خطرناک ہوتی ہے۔ اگرایساکچھ سوچ رہے ہیں تویہ بھی سوچئے کہ آپ کے مقابل جوطاقت کھڑی ہے، اسے آپ کے ذہن میں پنپنے والی غیرمحسوس طاقت جھکا نہیں سکتی، کیونکہ عملی میدان میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ریاست سے کوئی شہری مقابلہ نہیں کرسکتا، ریاست سب سے طاقتوراورعظیم ہوتی ہے، بے پناہ قوت اورجباریت ہے اس کے پاس۔ اتنی طاقتورکہ ہمارے اندازے سے بھی پرے۔ یقین نہیں آتاتوہٹلرکی تاریخ کی ورق گردارنی کرلیجئے۔ نازی ریاست کے ہاتھوں بربریت کے شکارہونے یہودیوں کی تعداد90لاکھ سے زائدہے۔ ایک پوری قوم کوپوری طرح بربادکردیا۔ ہٹلرجب یہ ظلم کررہا ہوگا تو کیا اس وقت یہودی نوجوانوں نے کچھ سوچانہیں ہوگا؟ انتقامی جذبات کے شکارنہیں ہوئے ہونگے؟ ردعمل کے سیکڑوں واقعات ہیں، لیکن سب پس گئے، مٹ گئے، ہٹلرمٹا، مگریہودی بھی تباہ ہوگئے، روح کوتڑپادینے والی لاکھوں سیاہ کہانیاں پیداہوئیں، ہٹلرکی ریاست کے سامنے سب ہارگئے۔ اتنے دورکیوں جائیں، ذراپاس دیکھیں ، جموں وکشمیرتوجانتے ہی ہونگے، 80لاکھ کی آبادی ریاستی زورزبردستی سے کراہ رہی ہے، مگراس کی آوازبھی ہم تک نہیں آرہی۔ ریاست کے سامنے سب ہارے ہوئے پیادے لگ رہے ہیں۔ نفرت سے بھرے ہزاروں لوگ تہہ تیغ کردئے گئے، ان میں سے کئی بدنصیبوں کی نفرت جائزبھی ہوسکتی ہے، مگرسب ڈھیرہوگئے، برسوں قیدوبند کا سامنا رہا، تشدداورتعذیب کے شکارہوئے۔ خاندان کے خاندان بربادہوگئے۔ ریاست کی طاقت ایسی ہے کہ ٹکرانے والے بربادہوگئے، خاص طورپروہ لوگ جن کی تہذیب الگ تھی، جن کی تاریخ منفردتھی، وقت بدلنے پرکروٹ لینے کی کوشش کی اوراسٹیٹ دشمن بن کرسامنے کھڑاتھا، کچھ نہیں کرپائے۔
ہانگ کانگ تودیکھ ہی رہے ہونگے، عوام نے پوری طاقت جھونک دی، اسٹیٹ توڈٹاکھڑاہے، فوجیوں کی ایک قطارپژمردہ ہوتی ہے توتازہ دم سنتریوں کی دوقطاریں کھڑی کردی جاتی ہیں، ریاست کی طاقت کے سامنے ہانگ کانگ کی عوا م نے گرچہ گھٹنے نہیں ٹیکے مگرٹکرانے کاخطرناک انجام بھگت رہے ہیں، ہانگ کانگ میں مدافعت جمہوری ہے، ریاست کے خلاف نہیں ریاست کی سیاست کے خلاف ہے، جس دن یہ مدافعت ریاست کے خلاف ہوئیں اسی دن مرگ انبوہ کی تصویرسامنے آئے گی۔
میں یہی کہناچاہتاہوں، ریاست بہت طاقتورہوتی ہے، اس سے ٹکرایانہیں جاسکتا، اس ریاست کے پس پردہ سیاست سے ٹکرانا اورخودریاست سے ٹکرانا دوالگ الگ چیزہے۔ ریاست کے پاس سب کچھ ہے، بے پناہ طاقت ہے، وہ ناقابل شکست ہے۔ ہم ایک ایسے انسانی اسٹیبلشمنٹ میں رہ رہے ہیں جہاں نظریاتی جنگ نے ریاست کوسیاست کے تابع بنادیاہے، اس طرح کی ریاست اقلیتی معاشرہ کے لئے اورخطرناک ہوتی ہے، بسا اوقات یہ خودچاہتی ہے کہ وہ کمزورمعاشرہ اس کے پھیلائے جال میں آئے تاکہ نشانہ لگاناآسان ہو، گولیاں داغناجائزاورتباہی کرنا بہادری قرارپائے۔
یہ لکھتے ہوئے یہ خیال آتاہے کہ کیانادانی ہے؟ یہ سب کیوں لکھ رہاہوں؟ یہ مفروضہ کیوں کہ کسی کے من میں ریاست کوتباہ کرنے کاخیال آئے؟ پھرمجھے لگاکہ ہم انسان ہیں تونادان بھی ہیں۔ نادانی جرم نہیں، لیکن نادانی میں پیدا شدہ سوچ جرم کی طرف مائل کرسکتی ہے۔
اگرکچھ کرناہے تواس ریاست کے پس پردہ سیاست کا سامناکرسکتے ہیں، لیکن اس کے لئے بھی اہلیت چاہئے، ایسی اہلیت جوہمیں قد اورشوکت دے سکے، جس کے سہارے ہمارے اندر اس سیاست کے سامنے کھڑاہونے کاحوصلہ پیداہوسکے۔ میں آپ میں سے کسی کویاا پنے آپ کومایوس کرنانہیں چاہتا، صرف یہ بتلاناچاہتاہوں، افکارپریشاں اورخیالات کے طوفان سے دورایک بہتر دنیا تشکیل دینے کی سوچ پیداکریں، ذہن میں نہ آئے توریاض کریں، تاکہ آپ کاذہن اس کوقبول کرے، ایک بہتردنیا، یعنی ایسی دنیا جہاں آپ فوق الفطرت قوت کے حصول کی دعاء نہ کریں بلکہ جوقدرت آپ کے پاس ہے، ہمارے پاس ہے، اس کے سہارے ایک اچھی قوم بنیں، ایک تعلیم یافتہ قوم، مہذب معاشرہ، خوبصورت خاندان اورصاف ستھرے شہری، بہترین لوگ مددکریں، ایک دوسرے کی نفرت ختم کریں، نہ کرپائیں تومصالحت کریں۔ اپنے آس پاس ایک خوشحال اورمضبوط سماج تشکیل دینا ہی سب سے بڑی مدافعت ہوسکتی ہے۔ انسانی خامیوں اورعادتوں کے ساتھ کسی کی ترقی کے لئے اقدام کرنااوربساط سے زائد پہل کرنے سے ہی ہمارے اندروہ اہلیت پیداہوگی، جس سے سیاست اورپھراس کے ذریعہ بے پناہ طاقتورریاست کوقابومیں کیاجاسکتاہے۔
(مضمون نگار ای ٹی وی بھارت میں سینئرنمائندہ ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے