یہ کیا غضب کہ مجھے دعوت سفر دے کر!

Spread the love


(مزدور اسپیشل ٹرین کے خصوصی حوالے سے)
ڈاکٹر عبداللہ صابر
اسسٹنٹ پروفیسرڈپارٹمنٹ آف جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن،
بیرکپورراشٹرگروسریندرناتھ کالج، کولکاتا

ملک میں غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن کی وجہ سے مجموعی طور جتنے بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر اور قابل توجہ مزدور اور غریبوں کے مسائل ہیں۔ بد قسمتی سے مرکزی وریاستی حکومتیں سب سے زیاہ انہی مسائل سے بے اعتنائی برت رہی ہیں۔ حکومت کے ساتھ حکومتی ایجنسیاں ، ادارے اور گودی میڈیا کا رویہ قابل اعتراض ہی نہیں قابل گرفت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی لاشوں پر قائم حکومتوں سے کسی بھی قسم کی خیر کی امید حدرجہ حماقت ہے۔ ان کی نظروں میں انسانی جانوں کی قیمت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کی نہیں ہے۔ یہ انسان نما گدھ اپنی حکومت کے قیام اور تخت وتاج کی حفاظت کے لئےانسانی لاشوں کی کھیتی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
لاک ڈاؤن ہوئے تقریبا دومہینے سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔ چند ہی د نوں کے بعد اس کے تباہ کن نتائج سامنے آنے لگے تھے۔ مزدور بے چارےاپنے عارضی ٹھکانوں سے اپنے دائمی ٹھکانوں کی طرف کوچ کرنا شروع کردئے تھے۔ کیوں کہ بے یقینی کی صورتحال سے نمٹنے کی ان کے اندر صلاحیت تھی نہ استطاعت۔ مہاجر مزدور کذاب حکومت کے کسی بھی لالی پاپ سے دل بہلانے کوتیار نہیں تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ حکومت کے وعدوں کی حیثیت کاغذی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
دورانِ سفر مزدوروں کی حالت سے متعلق جو بھی خبریں سوشل اور انٹرنیشنل میڈیا کے حوالے سے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں اس سے ہر دردمند دل درد وکرب سےتڑپ اٹھا ہے۔ ہر آنکھ خون کے آنسو رونے پر مجبور ہے۔ اور کیوں نہ ہو منظر ہی کچھ اس قدر لدوز اور خوفناک ہے۔ بے یقینی، مجبوری،اضطراب اوربے چارگی کی یہ سفر نہ جانے کتنوں کے لئے آخری سفر ثابت ہوا ۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے نہ جانے کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ طویل سفر،مختصر زاد راہ ،موسم کی شدت نے نہ جانے کتنے حوصلوں کو شکست دے کر انہیں بیچ راستے پر ہی دم توڑنے پرمجبور کردیا۔ آہ !اسی خوفناک لاک ڈاؤن نے لوگوں کو صرف روزی روٹی سے محروم نہیں کیا بلکہ بہتوں کو ان کی زندگی بھی سے محروم کردیا۔
یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہورہا ہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔صرف کا غذی وعدوں کے سہارے اس قدر کاری زخم پر مرہم پٹی کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب تک حکومتی سطح پر جتنے بھی وعدے ہوئے اس سے کم ازکم غریب اور مزدوروں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے اور نہ مستقبل میں اس کا کوئی امکان نظر آرہا ہے۔ وہ کل بھی بے یارو مددگار تھے آج بھی ہیں۔ کل بھی عوامی فلاحی تنظیموں کے رحم وکرم پر تھے اور آج بھی ہیں۔حکومت کی طرف سے انہیں کوئی راحت میسر ہوا ہے اور نہ اس کی کوئی امید دور دور تک نظر آرہی ہے۔

مزدوراسپیشل ٹرین ایک تماشا ہے، بہت بڑا گھوٹالہ ہے، لوگوں کو بہکانے اور بھٹکانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس میں سفر کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ اس کے لئے شرائط وقواعد اتنے پیچیدہ ہیں کہ اکثر لوگوں کی یہاں تک رسائی ہی نہیں ہوپاتی اور اگر سب کچھ جھیلنے کے بعد ہو بھی جاتی ہے تودورانِ سفر راستے میں ہی دم گھٹ جانے کا غالب امکان ہوتا ہے۔ مزدور اسپیشل ٹرین میں سفر کرنے کے لئے سب سے پہلے پولس اسٹیشن میں رجسٹریشن کرانی ہوتی ہے۔ رجسٹریشن کے مراحل اس قدر پر پیچ ہیں کہ لوگوں کوکئی کئی دنوں تک پولس اسٹیشن کا چکر لگانا پڑتا ہے۔لوگ رات رات بھر جگ کر لائن لگاتے ہیں ۔ چکر لگاتے لگاتے اگر رجسٹریشن ہوبھی جاتی ہے تو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ سفر کامرحلہ کب آئیگااس کا کو ئی پتہ نہیں۔

مزدوروں کی بے بسی اور بدحالی پر جب سوشل میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں، ہر طرف سے ظالم اور کذاب حکومت کی گھیرا بندی شروع ہوئی، ہر طرف طعن وتشنیع کا بازار گرم ہوا، تو حکومت نے اپنی رسوائی چھپانے اور جگ ہنسائی سے بچنےکے لئےمفت اسپیشل ٹرینیں چلانے کا ڈھونگ رچا۔ مفت سفر کے نام پر مزدوروں کا جس قدر استحصال کیا گیا وہ روح فرسا ہے۔ مفت ٹرینیں مفت میں جان لیوا ثابت ہورہی ہیں۔ نہ منزل کا پتہ، نہ وقت کا خیال ، نہ کہیں کھانا نہ پانی۔ چند گھنٹوں کا سفر کئی دنوں میں مکمل نہیں ہورہا ہے۔ صورتحال اس قدر خطرناک کہ گاڑیاں غلط پٹریوں پر کئی کئی دن بے سمت دو ڑ رہی ہیں۔ بے شعوری کا یہ عالم کہ بہار کے بجائے ٹرینیں یوپی پہنچ جارہی ہیں ، یوپی کے بجائے بہار چلی جارہی ہیں ، جھارکھنڈ کے بجائے اُڑیسہ اور اڑیسہ کے بجائے جھارکھنڈ چلی جارہی ہیں۔ ٹرینوں کی آمد ورفت نہ ہونے کے باوجود جہاں تہاں گھنٹوں گھنٹہ ٹرین روک دی جاتی ہے۔ شاید ہی کسی جگہ سے بغیر احتجاج کے ٹرین آگے بڑھتی ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ اس درجہ غیر ذمہ درانہ اوراحمقانہ حرکتوں پر معافی مانگنے کے بجائے اس پر صفائی پیش کی جارہی ہے۔
مزدوراسپیشل ٹرین ایک تماشا ہے، بہت بڑا گھوٹالہ ہے، لوگوں کو بہکانے اور بھٹکانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس میں سفر کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ اس کے لئے شرائط وقواعد اتنے پیچیدہ ہیں کہ اکثر لوگوں کی یہاں تک رسائی ہی نہیں ہوپاتی اور اگر سب کچھ جھیلنے کے بعد ہو بھی جاتی ہے تودورانِ سفر راستے میں ہی دم گھٹ جانے کا غالب امکان ہوتا ہے۔ مزدور اسپیشل ٹرین میں سفر کرنے کے لئے سب سے پہلے پولس اسٹیشن میں رجسٹریشن کرانی ہوتی ہے۔ رجسٹریشن کے مراحل اس قدر پر پیچ ہیں کہ لوگوں کوکئی کئی دنوں تک پولس اسٹیشن کا چکر لگانا پڑتا ہے۔لوگ رات رات بھر جگ کر لائن لگاتے ہیں ۔ چکر لگاتے لگاتے اگر رجسٹریشن ہوبھی جاتی ہے تو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ سفر کامرحلہ کب آئیگااس کا کو ئی پتہ نہیں۔
انتظار کرتے کرتے ناامید ہوکربہت سے لوگ ذاتی طور پر اپنی جان جوکھم میں ڈال کرپیدل، سائکل، ٹرک اور بس سے نکل پڑتے ہیں۔ بعض مجبور جن کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں ہوتا وہ بے چارہ انتظار اور آس کی ڈور تھامے بیٹھا رہتا ہے۔ بالآخر جب انہیں پولس کی طرف سے بلاوا آتا ہےاور پولس اسٹیشن پہنچ کر دیگر کاروائیاں مکمل کرنی ہوتی ہیں وہ اس قدر تکلیف دہ ہے کہ اس کا اندازہ لگانے کے لئے خود اس مرحلے سے گذرنا ہوگا۔ ہزاروں کی بھیڑ، سوشل ڈسٹنسنگ صرف اعلان کی حد تک۔ دسیوں جگہ انکوائری اور انٹری، مختلف کاغذات اور ہاتھ پر ٹھپہ۔ اتنی فارملٹی شاید کسی قیدی کے بیل کے وقت عدالت میں بھی نہیں ہوتی ہوگی۔ گھنٹوں دسیوں کاؤنٹر کا چکر کاٹنے اور دھکہ کھانے کے بعد کسی ہال یا ٹینٹ کے نیچے بٹھا کر پھر گھنٹوں شدید دھوپ کی تمازت میں مزدوروں کوسینکا جاتا ہے تاکہ سارا وائرس ختم ہوجائے۔
دھوپ کی حدت وشدت برداشت کرنے کی طاقت بے چارے مزدوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اس عذاب کوبھی خوشی خوشی برداشت کر لیتے ہیں۔ پولس اسٹیشن سے ریلوے اسٹیشن تک پہنچانے کے لئے سرکاری بسوں کا انتظام ہوتا ہے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح بسوں میں ٹھونس ٹھونس کر بھرا جاتا ہے اور پیچھے سے ایک تھری اسٹار لمبی لمبی مونچھوں والا افسر سوشل ڈسٹنسنگ کی نصیحتیں فرماتا رہتاہے۔ کچھ دیر کے بعدجب بس چلتی ہےتو لوگ ہواکے ساتھ کچھ راحت کی سانس لیتے ہیں۔ منزل کو قریب ہوتا دیکھ کر شاداں وفرحاں ہوتے ہیں۔لیکن ابھی چند سو میٹر کا بھی فاصلہ طئے نہیں ہوتا کہ بس روک دی جاتی ہے۔ استفسار پر یہ کہاجاتا ہےکہ بسوں میں موجود مزدوروں کی آن لائن لسٹ تیار کی جارہی ہے ،جیسے ہی لسٹ تیار ہوگی پولس کی حفاظتی دستے کے ساتھ گاڑی روانہ کردی جائے گی۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ دسیوں جگہ انٹری ہوتی ہے، لسٹ بنائی جاتی ہے اورکئی جگہ تفتیش ہوتی ہے اس کے باوجود آن لائن لسٹ کے نام پر سڑک کے کنارے گھنٹوں بس روک دی جاتی ہے۔بے چارے مز دوروں میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ کچھ پوچھ سکے یا آواز اٹھا سکے۔اگر کوئی ہمت کرکے بس کی روانگی کے بارے میں پوچھتا ہے تو اسے بھدی بھدی گالیاں دی جاتی ہے۔ پولس کے جارحانہ مزاج اور تیور کو دیکھتے ہوئے دیگر لوگ بھی خاموشی ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔
گھنٹوں بعد جب بس چلتی ہے تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ ایک آدھ گھنٹے کا سفر کئی کئی گھنٹوں میں طئے ہو۔ راستہ قصدایا سہوا بدلا جاتا ہے ۔ بعض دفعہ بھولنے کا بہانا بنایا جاتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن پہنچ کر مزوروں کو کس سمت کی ٹرین پر سوار کیا جائیگا یہ بھی اس کے خواہش پر نہیں بلکہ وہاں موجو افسران اور پولس والوں کی خواہش پر منحصر ہوتاہے۔ فرض کیجئے کسی مزدور کو پٹنہ بہار آنا ہےتوضروری نہیں کہ اسے پٹنہ ہی کے ٹرین میں بٹھایا جائے بلکہ اسے بہار کے کسی بھی ٹرین پر یہ کہہ کر سوار کردیا جاتا ہے کہ وہاں سے مطلوبہ اسٹیشن تک کے لئے بسوں کا انتظام ہے ۔اعتراض کرنے پر لاٹھی ڈنڈوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔
کھانے پینے کے نام پر گھوٹالوں کا دور دورہ ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے تین وقت کھانا اور پانی فراہم کرنے کا بلند وبانگ دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ ہر مسافر کو صبح کا ناشتہ ، دوپہر اور رات کا کھانا مفت فراہم کئے جانے کا پروپیگنڈہ زور وشور سے کیا جارہا ہے، لیکن حقیقت حال دل دہلا نے دینے والاہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی قلعی کھولنے والی خبریں متواتر آرہی ہیں۔ تین وقت کھانا تو درکنار لوگوں اسٹیشن کی ٹوٹی سے پانی تک بھرنے نہیں دیا جاتا ہے۔ لوگ کسی طرح بھوک وپیاس کی شدت برداشت کرکے اور کچھ اپنی ذاتی تیاری کی وجہ سفر مکمل کرلے رہے ہیں۔
حقیقت حال یہ ہے کہ ٹرین جہاں سے چلتی ہے وہاں بمشکل ایک معمولی ناشتے کا پیکٹ اورایک بوتل پانی تھما دیا جاتا ہے اور یہ کہتے ہوئے روانہ کردیا جاتا ہے کہ اگلے اسٹیشن پر کھانا اور پانی کا بھر پور انتظام ہے۔ لیکن سفر مکمل ہونے تک یہ اگلا اسٹیشن کبھی نہیں آتا ہے۔ اگر ٹرین کسی اسٹیشن پر رکتی ہے تو وہاں اترنے کی ایک دم اجازت نہیں ہوتی ۔ ہرکوچ کے سامنے دوچار ظالم پولیس والے لاٹھی ڈنڈوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں اور کسی کوبھی ٹرین سے نیچے اترنے نہیں دیا جاتا ہے۔اگر کہیں بمشکل زور زبردستی اتر جاتے ہیں تو وہاں پانی کی ایک بوند بھی میسر نہیں ہوتا۔ ٹوٹیاں سوکھی پڑی ہوتی ہیں۔ صبر کا باندھ جب ٹوٹ جاتا ہے تو مسافرین چیخ وپکار اور احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ جیسے ہی لوگ سراپا احتجاج بنتے ہیں فورا ٹرین آگے کے لئےروانہ کردی جاتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ اگلے اسٹیشن پر ساری چیزوں کا مکمل انتظام ہے۔
دن بھر بھوکا پیا سارہنے کے بعد اوراسٹشنوں پر کئی دفعہ احتجاج کے بعد اگر کہیں کچھ ملتا ہے تووہ منظراور بھی کربناک ہوتا ہے۔ باسی، بدبودار فنگس آلود بریڈ کے چند ٹکرے ساتھ میں ایک روپیہ کا کیچ اپ پیکٹ اور ایک پانی کاپاؤچ۔ اُسے کسی بھی اعتبار سے ناشتہ یا کھانے کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ایک کوچ میں تقریبا سوسے کم افراد نہیں ہوتے لیکن بمشکل بیس پچیس کی تعداد میں مذکورہ چیزوں پر مشتمل پیکٹ فراہم کیا جاتا ہے،جنہیں حاصل کرنے کے لئے لوگ خونخوار جانور کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ لوٹ پاٹ کی وجہ سے بہت سے لوگ شدید طور پر زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ تقسیم کا کوئی انتظام نہ ہونے اور محدود پیکیٹ ہونے کی وجہ سے چند ہی لوگوں کو وہ مل پاتی ہے۔ پیکٹ کے اندر کی چیزیں اس قدر غیر معیاری ہوتی ہیں کہ انسان تو کجا جانور بھی اسے کھا نہیں سکتا۔ ساتھ دور کھڑا ایک شخص پورے منظرکواپنے کیمرے میں قید کررہا ہوتاہےجوشاید اسی کام کے لئے مامورکیا گیا ہو۔ پیکٹ کی تعداد اونٹ کے منہ زیرہ کے برابر ہونے کی وجہ سے اکثریت منہ تکتی رہ جاتی ہے۔ کئی کئی دنوں کا سفر اسی تکلیف اور بھوک وپیاس کی شدت کے ساتھ طئے کیا جاتا ہے۔ خوش قسمت لوگ گھٹ گھٹ کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ؛بچے،بوڑھے اور عورتیں تکلیفوں کی تاب نہ لاکر راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔
ہرجگہ سوشل ڈسٹنسگ کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ پولیس اسٹیشن، ریلوے اسٹیشن اور دیگر سرکاری اعلانات میں صرف سوشل ڈسٹنسگ کا ہی شور وغوغا ہے لیکن اسپیشل ٹرین کے ڈبوں کی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ جانوروں کی طرح ایک ایک ڈبے میں سوسو لوگوں کو بالجبرلادا جاتا ہے۔ کوئی سوشل ڈسٹنسنگ نہیں ہوتی ہے ۔ کثرت افراد اور گرمی کی شدت کی وجہ سے ڈبوں کی اندرونی منظر ناقابل بیان ہے۔ ہر شخص گھٹن کے ایک عجیب اور اضطراری کیفیت سے دوچار رہوتا ہے۔
دوران سفر اسٹیشن میں موجود پولس اور دیگر سرکاری اہل کاروں کا رویہ اور بھی زیادہ حوصلہ شکن ہوتاہے۔ ان مزدوروں کے ساتھ ان لوگوں کا غیر انسانی رویہ ناگفتہ بہ ہے۔ کوئی دور سے بھی بات کرنے یا کچھ رہنمائی کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ سارے مزدور کورونا پازیٹیو والے ہیں۔ جانوروں کے ساتھ بھی لوگ اس قدر سفاکانہ برتاؤ نہیں کرتے ہیں۔ جب کہ حکومتی سطح پر کتنا خوشنما اعلان کیا جاتا ہے کہ’’ مرض سے نفرت کرو مریض سے نہیں‘‘ ،لیکن یہاں تو معاملہ ہی دیگر ہے۔مریض تو دور کی بات صحیح سالم انسانوں سے بھی اس درجہ نفرت کہ قلم اس تکلیف کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ پورے سفر میں ہر سرکاری عملہ کے برتاؤ سے ایسا لگتا ہے کہ ان کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہےیہ درندوں سے بھی بد تر ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مزدوروں کی آہ ضرور لگے گی اور انہیں ان کے کئے کی دردناک سزا اسی دنیا میں ملے گی۔
دوران سفر گاؤں دیہات میں جہاں بھی ٹرین رکتی ہے وہاں کے عوام کی انسان دوستی اور انسانیت نوازی سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے۔ غریب عوام اپنی استطاعت کے مطابق کوئی پانی کا انتظام کرتاہے تو کوئی بسکٹ کی پیکٹ بانٹتا ہے۔ غرض اینکہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق خدمت خلق کا ایک غیر معمولی نمونہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ رویہ کسی ایک ریاست کے لوگوں کا نہیں بلکہ بلا تفریق ریاست، مذہب وملت جہاں بھی ٹرین رکی ہے ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا۔
دعویٰ یہ کیاجاتا ہے کہ آخری اسٹیشن سے ہر مسافر کو اس کے گھر تک بذریعہ بس پہنچایا جائیگا۔ لیکن اس دعوے کی سچائی بہت کڑوی ہے۔ بذریعہ بس بمشکل اسٹیشن سے باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے اس کے بعد دامن جھاڑ لیاتاہے۔ کون کہاں جائیگا؟کیسے جائیگا اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ مزدور اسپیشل ٹرین کی داستان بہت دلخراش ہے۔ جوکچھ دیکھا گیا اسے لب پر نہیں لایا جاسکتا۔ حالات بہت ہی خطرناک ہے۔ پیدل،ٹرک اور بس والوں کے ساتھ تو پھر بھی عوامی ہمدردی ہے۔ لوگوں کی طرف سے اب اچھا خاصا انتظام بھی ہونے لگا ہے لیکن یہ بے چارے اسپیشل ٹرین والے مزدور اس وقت سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ اس لئے کہ ریلوے اسٹیشنوں تک فلاحی تنظموں کی رسائی نہیں اور سرکاری سطح پر کوئی انتظام نہیں لہذا یہ بے چارے دونوں طرح سے محروم نہایت ہی جانکنی کے عالم میں سفر کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے جو کچھ بھی دیکھا اور سنا جاتا ہے وہ عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اصل حقیقت بہت ہی خوفناک ہے۔اگر بہت جلد اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو اتنا بڑا جانی خسارہ ہوجائیگا جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ دنیا کہاں جارہی ہے ۔ ہر طرف بھیڑ ہی بھیڑ ہے ،آوازیں ہی آوازیں ہیں ،لیکن موجودہ اندھی بہری حکومت کو کچھ سنائی دیتا ہے نہ دکھائی دیتا ہے۔
یہ کیا غضب کہ مجھے دعوت سفر دے کر
کڑکتی دھوپ میں آنکھیں چراگئے اشجار۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں، دی ٹروتھ ویب سائٹ انتظامیہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
ڈاکٹر عبداللہ صابر
Follow Him

ڈاکٹر عبداللہ صابر

Dr. Abdullah Sabir is an Assistant Professor in the department of Journalism and Mass Communication, Barrackpore Rastraguru Suredranath College, kolkata. You may contact him at [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے