بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

Spread the love


ہندوستان آج جس قسم کے صورتحال سے دو چار ہے وہ کسی سے مخفی نہیں. ہر گزرتا لمحہ اسے ایک انجانے مستقبل کی طرف لے کے جارہا ہے _
حالات اتنے نازک ہوچکے ہیں کہ اب تو کچھ لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کب بھیڑ جمع ہوجائے اور موب لنچنگ کردے، کب پولیس گرفتار کرلے اور جیل ہی میں مار ڈالے، ایک عجیب سی فضا بن چکی ہے، ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول ہے، ڈر کی حکمرانی ہے بولنے پہ تو پابندی لگا ہی چکے ہیں، اب سوچوں پہ بھی پہرے بٹھائے جارہے ہیں ایسے حالات میں ہمارے مسلم قائدین کی بے حسی بڑی عجیب معلوم ہو رہی ہے_
آج منہاج کے والد سے ملنے کا موقع ملا, ان کے آنسو بہت کچھ بتارہے تھے, ان کی آہ و زاری دل کو چیر رہی تھی, انصاف کی تلاش میں در بدر بھٹک رہے ہیں, بہت سارے دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں, مگر تمام جگہوں سے مایوسی ہاتھ لگنے کے بعد امید کی آخری کرن ان کو جے.این.یو میں نظر آئی کہ شاید یہاں کے بچے ان کے حق کی لڑائی لڑیں گے, یہاں کے بچے ان کے لئے ضرور لڑیں گے, مگر ان کا جے.این.یو میں آنا, اور غیروں سے مدد طلب کرنا چیخ چیخ کے مسلمانوں کی بے حسی کا اعلان کر رہا ہے, وہ زبان حال سے گویا ہے کہ دیکھو تمہارے مسلم قائد اتنے بے حس ہیں کہ وہ تمہارے لئے نہیں لڑ سکتے, وہ تمہارے حق کی حفاظت نہیں کرسکتے, تم مرجاؤ, بھاڑ میں جاؤ, اس سے انہیں نہیں مطلب ہے, وہ لاشیں اٹھاتے رہیں گے, دو تین بیانات دیکر مسلم ہمدردی بٹورتے رہیں گے, مگر زمینی حالات پہ وہ تمہارے لئے کچھ نہیں کرسکتے, وہ آواز نہیں اٹھا سکتے, سڑکوں پہ نہیں اتر سکتے, پولیس کی لاٹھیاں نہیں کھا سکتے, یہ صرف سال میں ایک عالمی کانفرنس کروا سکتے ہیں, اور واہ واہی لوٹ سکتے ہیں بس, اس کے علاوہ یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے _
آج مسلمانوں پہ جتنے بھی ظلم ہو رہے ہیں, اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں سب سے بڑا ہاتھ مسلم لیڈران کی خاموشی کا ہے, ان کی خاموشی ایک دن قوم کو لے ڈوبے گی _
مسلم لیڈران کی خاموشی کی وجہ سے شرپسندوں کے حوصلے بلند ہیں, انہیں معلوم ہے کہ وہ کچھ بھی کریں, یہ لوگ کچھ بھی کرنے والے نہیں, یہاں تک کہ بولنے والے بھی نہیں, جتنی بے حس قوم ہے, اس سے کئی سو گنا بے حس ان کے زعماء اور قائدین ہیں, چاہے وہ علماء ہوں یا لیڈران _
یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جے.این.یو سے ایک طالب علم آج بیس اکیس دنوں سے غائب ہے, ان کی ماں جے.این.یو کے ایڈمن بلاک پہ بیٹھ کے مسلم رو رہی ہیں, مگر کسی بھی مسلم تنظیم کے ذمہ دار کو آج تک توفیق نہ ہوئی کہ آکے ان کا حال ہی پوچھ لیں, کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم ہمدردی کے دو بول ہی بول دیں, ایسا نہیں ہے کہ یہ مسلم تنظیمیں واقف نہیں ہیں, یا یہ کہ ان کے ہیڈکوارٹر ملک کے دوسرے حصے میں ہیں, کم و بیش ساری مسلم تنظیموں کے ہیڈکوارٹر دہلی میں واقع ہیں, اور بیس دنوں سے یہ موومنٹ چل رہا ہے, جنتر منتر, ہوم منسٹری, آئی.ٹی.او اور نہ جانے کہاں کہاں احتجاج کئے جا چکے ہیں, مگر ان کو ذرا سی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ آکے کم سے کم ان کے گھر والوں کو یہ احساس تو دلا دیں کہ پوری مسلم قوم ان کے ساتھ کھڑی ہےـ
آج ہمارے اوپر جو ظلم ہو رہے ہیں, اس کی سب سے بڑی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس کوئی آواز نہیں ہے, ہزاروں تنظیمیں ہیں, اور ہر ایک ایک کے پاس اپنی اپنی ڈفلی ہے, جس کو وہ اپنے اپنے حساب سے, الگ الگ جگہوں پر, ایک دوسرے کے خلاف ہی بجارہے ہیں. ایسے میں ایک آواز کا ہونا, اور اس آواز کے پیچھے پوری قوم کا ہونا بہت ضروری ہے, ورنہ ہماری حالت ان مرغوں جیسی ہوگی جن میں سے ایک کو جب قصائی ڈربے سے ذبح کرنے کے لئے باہر نکالتا ہے تو وہ پھڑپھڑاتا ہے, جب کہ باقی مرغے آرام سے اپنا دانا چگنے میں مشغول ہوتے ہیں, انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی ہے کہ ان کا ایک ساتھی ذبح ہونے جارہا ہے, پھر شام تک سارا ڈربہ خالی ہوجاتا ہے _
اگر ہم حالات کو سمجھ کر متحد نہیں ہوئے تو ہماری یہی حالت ہوگی, ہر روز منہاج مرے گا, ہر روز نجیب غائب ہوگا, ہر روز انڈر ٹرائل لوگوں کا قتل ہوگا, پھر ایک دن آئے گا کہ ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں ـ
یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے, تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے, بہت ساری جگہوں سے ہم مسلمان حرف غلط کی طرح مٹائے جاتے رہے ہیں, اسپین یاد ہی ہوگا, آٹھ سو سال حکومت کی ہے ہم نے, آٹھ سو سال, کیا ہوا, آج اسپین کی تاریخ میں ہمارا کہیں نام و نشان نہیں, چلو اسپین تو دور کی بات ہے, سیریا تو یاد ہوگا, وہ تو مسلم ملک تھا, کیا ہوا اس کا, ہمیں یاد ہے ذرا ذرا, تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو, اس طرح سے سازشیں رچی گئیں کہ وہ زمین اپنی کشادگی کے باوجود مسلمانوں کے لئے تنگ ہوگئی, اور وہاں سے ایسے بھگائے کہ نہ ان کو یوروپ کے مرغزاروں میں جگہ مل سکی, نہ افریقہ کے صحراؤں میں, کچھ لوگ ترکی کے ساحلوں پہ آباد ہوگئے, اور بچے کھچے لوگ سمندروں میں بہہ گئے _
کتنے افسوس کہ بات ہے کہ پوری دنیا میں انڈونیشیا کے بعد دوسرے نمبر کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہونے کے باوجود بھی ہماری حالت سمندروں میں بہنے والے جھاگ کے مانند ہے, کوئی اوقات نہیں, کوئی حیثیت نہیں, ہمیں ہمارے گھروں میں گھس کے گائے کا گوشت کھانے کے نام پہ مار دیا جاتا ہے, اور پوری قوم صم بکم عمی کی تصویر بنی رہ جاتی ہے, احتجاج کرنا تو چھوڑیے, ہم تو ان لوگوں کا ساتھ بھی نہیں دے پاتے جو جان ہتھیلی پہ رکھ کے ہمارے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں _
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ملک میں تمام تر زیادتیوں کے باوجود ابھی بھی کچھ سیکولر لوگ موجود ہیں, جو ہماری لڑائی لڑ رہے ہیں, مگر جس طرح سے ان کو ڈرایا, دھمکایا جاتا ہے, اگر کہیں وہ ہمت ہار گئے تو ان مسلمانوں کا کیا ہوگا, یہ تو اپنے مسلکی خول سے اوپر اٹھ کر کچھ کر ہی نہیں پاتے ہیں. ان کی گرمی, ان کے زبان کی تلخی, اسی وقت سامنے آتی ہے جب ان کے مسلک پہ وار کیا جاتا ہے, بصورت دیگر ان کے اوپر کتنے ہی مظالم کیوں نہ کر لئے جائیں, یہ خاموش ہی رہتے ہیں _
ہم جب تک اپنی خاموشی توڑیں گے نہیں, اپنے مسائل پہ متحد نہیں ہوں گے, اپنے حقوق کی لڑائی خود سے لڑنا نہیں شروع کریں گے, تب تک لوگ مرتے رہیں گے, اور ہم تماشا دیکھتے رہیں گے _
مجبور نہیں مضبوط بنو. اور اپنی آواز خود بنو _
#بول کہ لب آزادہیں_تیرے _
#بول زباں اب تک تیری_ہے _

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے