سماجی قدریں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں

Spread the love


اللہ رحم کرے علامہ مودودی رحمہ اللہ پر، ان کی تحریریں آج بھی لاکھوں ذہنوں کو جلا بخشتی ہیں، میں نے بہت پہلے ان کی کتاب "پردہ” پڑھی تھی، اس کے بعد احساس ہوا تھا کہ اگر علامہ نے اس کے علاوہ کوئی اور کتاب نہیں لکھا ہوتا تو بھی ان کا نام لٹریچر کی دنیا میں ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید رہتا.

آج جب انڈین ایکسپریس فرسٹ پیج پہ نظر پڑی تو ایک جملہ نظر آیا "سماجی قدریں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتیں ہیں”، کچھ اسی قسم کی باتیں مجھے علامہ مودوی کی تحریروں میں بھی نظر آئیں تھیں، اسلام نے اقدار، روایات اور اخلاقیات کے لئے انسانی عقل کو معیار نہیں بنایا ہے، کیونکہ انسانی عقل وقت کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے، ضروری نہیں کہ آج اگر کوئی چیز بری سمجھی جارہی ہو تو کل بھی بری سمجھی جائے، بہت ممکن ہے کل کو لوگ اسے اچھا یا کم برا گمان کرنے لگیں، لوگوں کو شاید یاد ہو فلموں کا ایک دور تھا جس میں ہیرو اور ہیروئین کا رومانس دور دور سے ہوا کرتا تھا، ہاتھ پکڑنا، گلے لگانا یا چمٹے رہنے کا کانسیپٹ بہت کم ہی آیا کرتا تھا، پھر وقت بدلا، لوگ بدلے، حالات و خیالات بدلے، آج دیکھ لیجئے، سینما یا کوئی بھی فلم بغیر بیڈ سین کے کمرشیل مانی ہی نہیں جاتی ہے.

علامہ مودوی رحمہ اللہ نے لکھا تھا "لٹریچر پیش قدمی کرتا ہے، رائے عامہ اس کے پیچھے آتی ہے”، جب لکھنے والے لوگ بار بار کسی چیز کے بارے میں اچھا لکھیں اگرچہ وہ معاشرے کی نگاہ میں غلط ہی کیوں نہ ہو، پھر ایک وقت آتا ہے جب لوگوں کے ذہن سے اس کے غلط ہونے کا تصور ختم ہوجاتا ہے، پھر ایک قسم کی رائے عامہ بن جاتی ہے، آپ دیکھئیے ایک زمانے میں لوگ لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ انہیں ایسی تعلیم دلائیں گے جو انہیں کسی کی سکریٹری بنائے، یا لڑکوں کے ساتھ رہنے یا گھومنے پھرنے پہ آمادہ کرے، ایک وہ وقت تھا ایک آج کا وقت ہے کہ جب بیٹی اپنے باپ سے طوائف کو بطور پروفیشن اختیار کرنے کی اجازت مانگتی ہے، اور تعجب خیز امر ایسا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے برا بھی نہیں مانتی بلکہ برا سمجھنے والوں سے طلب کیا جاتا ہے کہ وہ بھی "سیکس ورکرز” کی عزت کریں، میری اس بات سے کوئی صاحب حیران نہ ہوں، آج کی دور کی یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ ہزاروں تنظیمیں عورتوں کے ویلفئیر کے لئے کام کم، حقوق نسواں کے نام پہ انہیں طوائف بننے پہ زیادہ آمادہ کرتیں ہیں، اس کے لئے ان کے پاس بہت خوبصورت دلائل بھی ہوا کرتے ہیں، "مائی باڈی، میری پراپرٹی”، "کچھ بھی کروں، لوگ کون ہوتے ہیں سوال اٹھانے والے”، یہیں پہ بس نہیں بلکہ دلائل دینے کے لئے میاں بیوی کے پاکیزہ رشتوں پہ سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں اور کچھ زیادہ جدید روشن خیال ٹائپ کے لوگ اپنے مضامین کی ٹی.آر.پی بڑھانے اور واہی بٹورنے کے چکر میں ہیڈنگ لگاتے ہیں "بیوی ایک معزز رشتہ یا لائسنس یافتہ سیکس ورکر”.

یونیورسٹیاں آج کے دور میں تعلیم یافتہ خواتین و حضرات تو ضرور پیدا کر رہی ہیں، مگر بچپن سے صحیح تربیت نہ ہونے اور پھر جگہ جگہ بہکاوے کے اسبا ب کے وافر مقدار میں پائے جانے کی وجہ سے اسلام کے سپاہی نہیں تیار کر پارہی ہیں، اور ہندوستان میں یونیورسٹیاں پیدا کریں گی بھی نہیں، کیونکہ کچھ بھی ہو یہ ایک اسلامی ملک نہیں، یہ فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی سمجھیں، اپنے اولاد کو بھی سمجھائیں، ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں بچیوں کی بچپن سے صحیح نہج پہ تربیت کریں، انہیں اسلام کے احکام و فرامین سے روشناس کرائیں، ان کے دل میں یہ احساس جاگزیں کردیں کہ ان کی شناخت اسلام ہے، ان کی پہچان قران وحدیث ہے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب مسلمان تو کروڑوں ہوں گے پر ان کے پاس اسلام نہیں ہوگا.

اخلاقی زوال امت مسلمہ کے زوال میں سے ایک اہم سبب ہے، بڑی بڑی مسلم سلطنتیں بھی اسی وقت زوال پذیر ہوئیں جب ارباب اقتدار شراب و شباب کے نشے میں مدہوش ہوکر امور مملکت سے غافل ہوگئے، جتنی سلطنتیں ظہور میں آئیں ہیں، ان کے زوال کے اسباب کے بارے میں اگر آپ تجزیہ کریں گے تو یقین مانئیے "اخلاقی زوال” بھی آپ کو ایک اہم سبب نظر آئے گا.

بہرحال بات کہیں اور نکل گئی، میں یہی کہہ رہا تھا کہ صحیح اور غلط کی تمیز اسی وقت مٹنا شروع ہوجاتی ہے جب لوگ بار بار کسی غلط چیز کو اپنی تحریر و تقریر میں جسٹیفائی کرتے ہیں، بہت ممکن ہے کہ لوگ شروع میں لکھنے والے کے بارے میں بھی برا خیال کرتے ہیں، مگر گزرتے وقتوں کے ساتھ اس چیز کے برا ہونے کا تصور "انسانی دماغ” میں مدھم ہونے لگتا ہے، دھیرے دھیرے دھندلا ہوتے ہوتے مٹ ہی جاتا ہے، پھر اس کی جگہ اس کے خوشنما ہونے کا احساس انسانی ذہن میں مزین ہوجاتا ہے، اس کی مثال ہم یوں سمجھ سکتے ہیں، جو لوگ گاؤں دیہات سے تعلق رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کبھی کبھار جب کھیتوں میں فصل بو دیا جاتا ہے تو کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے میڑیوں پہ نہ چل کرکے اپنی آسانی کے لئے بیچ کھیت ہی سے چلا جاتا ہے، اس کے چلنے کا نشان کھیتوں میں بن جاتا ہے، پھر اس کے بعد دوسرا شخص آتا ہے، پھر تیسرا، پھر چوتھا، غرضیکہ ایک دن ایسا آتا ہے جب بیچ کھیت سے راستہ بن جاتا ہے، دونوں طرف فصل اگی ہوتی ہے، مگر اتنی جگہ لوگوں کے چلنے کی وجہ سے صاف ہوجاتی ہے، کچھ اسی طرح انسانی دماغ ہے، جب اس کے زرخیز میموری پہ بار بار یہ بات پڑتی ہے کہ یہ چیز صحیح ہے بھلے ہی وہ غلط کیوں نہ ہو تو ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ اس کے دماغ میں بھی راستہ بن جاتا ہے، اور یہ راستہ کوئی اور نہیں بس یہی "تصور” ہوتا ہے کہ ہاں یہ چیز صحیح ہے، کیونکہ اگر یہ چیز صحیح نہ ہوتی تو لکھنے والے اسے "صحیح” نہ لکھتے یا کم سے کم اتنے لوگ نہ لکھتے، ظاہر سی بات ہے اتنے بڑے بڑے انٹلکچول غلط نہیں لکھ سکتے، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کبھی رائے عامہ کو معیار نہیں بنایا ہے، "کوئی بھی چیز صرف اس وجہ سے حق نہیں قرار دی جاسکتی کہ اسے تسلیم کرنے والے بہت زیادہ ہیں، اور نہ ہی کوئی چیز اس وجہ سے باطل قرار دی جاسکتی ہے کہ اس کے ماننے والے بہت کم ہیں.”

آپ دیکھئیے برائی کے بارے میں لکھنے والے بہت ہیں، ہزاروں ویب سائٹیں، جرائد، مجلے، رسالے، سوشل میڈیا غرضیکہ ہر میڈیم کے ذریعہ لوگ برائی کو پھیلا رہے ہیں، دلائل دے رہیں، نوجوانوں کو اپنی طرف Attract کرنے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کررہے ہیں، فیمیزم، مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا Notion اس قدر عروج پہ ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ ایک دن لوگ "قدرت کے اس مرد و زن کی تفریق” پہ ہی سوال کھڑا کردیں گے، اور اسے بھی عورتوں پہ ایک "فطری جبر” سے تعبیر کریں گے، میں آپ لوگوں کو بتاؤں میں ایک جگہ ٹیوشن پڑھاتا تھا، چھوٹے چھوٹے تین بچے تھے، جس میں سے ایک درجہ آٹھ کا اسٹوڈنٹ تھا، وہ مجھ سے ایسے ایسے سوال کرتے تھے کہ میں خود چکرا جاتا کہ جواب کیا دوں یا اسے سٹیسفائی کیسے کروں، وہ مجھ سے پوچھتا کہ اسلام یہ کیوں کہتا ہے کہ عورتیں نقاب میں رہیں، یا وہ گھر سے زیادہ باہر نہ جائیں، یا وہ دوسرے مردوں سے کیوں نہ بات کریں، اسلام مردوں اور عورتوں کے درمیان اتنا زیادہ ڈیفرینس کیوں رکھتا ہے، کیا یہ "ایکوالٹی” کے خلاف نہیں ہے، آخر وہ بھی تو انسان ہیں، بس ساخت کے الگ ہونے سے اس قدر تفاوت کیوں؟ آپ سوچئیے وہ چھوٹے چھوٹے بچے تھے مگر انفارمیشن کے اس ایج میں ان تک وہ سارے سوال پہونچ چکے تھے، یا ان سارے سوالوں تک ان کی رسائی ہوچکی تھی جو عام فیمنسٹ، کمیونسٹ، یا لبرل قسم کے لوگ پوچھا کرتے ہیں، اور یہ سوال ان تک فلموں، ڈراموں، سیرئلوں،ویڈیو کلپس یا اخبار ات و جرائد کے ذریعہ پہونچتے ہیں، اب ذرا دھیان دیجئے کہ جب بچپن سے انہیں اس قسم کے اسلام مخالف سوالوں سے واسطہ پڑے گا، اور ان کی دینی تعلیم بھی بس Nominal ہوگی تو وہ بڑے ہوکے عرفان حبیب یا عمر خالد تو ضرور بن جائیں گے مگر وہ کیا وہ مسلمان بھی بن پائیں گے.؟

ہمارے علماء، دانشوران و مفکرین حضرات کو اس نہج پہ بھی سوچنے اور اس کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ "تحفظ شریعت اور تحفظ مسلک کانفرنس” کے نام پہ کچھ دیر کے لئے پبلک کو جذباتی یا بیوقوف تو ضرور بنایا جاسکتا ہے مگر مسلمان نہییں. آنے والی جنریشن بہت ممکن ہے کہ بہت کچھ بن جائے، بہت کچھ حاصل کرلے، مگر اگر اس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تربیت کا بھی بندوبست نہ کیا گیا تو کیا وہ………….؟؟؟؟؟؟

عزیر احمد
جواہر لال نہرو یونیورسٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے