یہ ناداں گر گئے سجدوں میں!

Spread the love


ثاقب سبحانی
ایم اے جواہر لال نہرو یونیورسٹی

جے این یو ،جامعہ اے ایم یو اور مختلف یونیورسٹیز کے جیالوں تمہاری عظمتوں کو سلام ۔
تمہاری بہادری و بے خوفی و بے باکی کو سلام ۔
تمہاری اسلام سے محبت کو ہزاروں سلام۔
تمہارے جذبۂ ایمانی حرارت ایمانی کو ہزاروں سلام ۔
تم نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کو مورخ سنہرے قلم سے سنہری روشنائی سے قرطاس زریں پر تحریر کرے گا ۔
زمانہ تمہارے کارنامے کو سالہا سال عقیدت کی نظر سے دیکھے گا۔
جامعہ اور علی گڑھ کی بہنوں نے اپنی حمیت اسلامی کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ انہوں نے مردوں کو مُردوں میں بدل دیا۔ بزدلی کی خزاں کو امید کی بہادری کا لبادہ پہنادیا ۔ مایوسی کی تیرگی کو اجالوں کا پیرہن پہنادیا ۔ مردوں کے ہاتھ سے زندگی کی شمشیریں چھین کر انہیں چوڑیاں پہنادیں۔
میری بہنوں تم نے مصر کی زینب الغزالی کی شجاعت کی یاد تازہ کردی ۔ الجیسیا کی جمیلہ بو پاشاہ کی دلیری کی یاد تازہ کردی ۔ تم نے لیلیٰ خالد کی جانبازی کی یادوں کی شمع کو پھر فروزاں کردیا ۔ تم نے حضرت صفیہؓ کی جرأت رندانہ کو پھر یاد دلادیا۔
آفریں صد آفریں!
آج اسلام کو ایسی ہی دختران کی ضرورت ہے جو ا پنے آنچل کو پرچم انقلاب بنالیں۔ جو اپنے ڈوپٹے کو ا پنا کفن بنالیں۔
کم ہمتی بزدلی، ایمان فروش ضمیر فروش، مفاد پرست ، مفادات ملی کے سوداگروں کی زندگی گیدڑوں کی زندگی ہوتی ہے ۔ شیرنیوں کی طرح جینا تو تم نے سکھادیا۔
زندہ باد ۔ زندہ باد
اللہ کے شیروں نے حق گوئی و بیباکی بھول کر روباہی کی زندگی سیکھ لی ہے، اور اپنے چہروں پر مصلحت پسندی کا گھونگھٹ ڈال لیا ہے، انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کرلیا ہے۔
جو قال اللہ اور قال الرسول کا درس دیتے تھے۔
جو وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ کی تفسیر کرتے تھکتے نہیں تھے۔
جو شاملی کے میدان کے رن کو اس طرح بیان کرتے تھے، جیسے بنفس نفیس وہ خود اس میں شریک رہے ہوں۔
جو معرکہ بالاکوٹ کے خود کو پشتینی وارث سمجھتے تھے۔
جو خود کو سید احمد شہید کے خاندان سے ہونے کا بلند دعوی کرتے تھے۔
جو اپنے آپ کو انبیا کا وارث شمار کراتے تھے۔
جو الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر کی عملی تفسیر پیش کرنے کا ببانگ دہل دعویٰ کرتے تھے۔
جو پینٹ شرٹ والوں کو نجس سمجھتے تھے آج یہی ان کے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔
جن یونیورسٹیز اور کالجز کی طالبات کو یہ ترچھی نگاہوں سے دیکھتے تھے، آج وہی اسلام کی حفاظت کے لیے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا
ان نام نہاد مصلحت پسند قائدین کو اتنی موٹی بات سمجھ نہیں آتی……
جب اسلام ہی نہیں رہے گا اس دیش میں تو تم مدارس اور خانقاہیں لے کر کیا کروگے؟
جب تمہارا وجود ہی خطرے میں پڑجائے گا تو تم ایسے دسیوں مسلم پرسنل لا کیا کروگے؟
جب تم ہی نہیں رہوگے تو امارات کا لے کر کیا کروگے؟
جب تمہارے بچے ہی نہیں رہیں گے تو تم دارالعلوم، ندوہ اور سلفیہ میں کسے پڑھاؤگے؟
حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے
مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے
(آغا شورش کاشمیری)
شیخ الہند رح کی یہ عبارت بار بار پڑھیے اور نام نہاد قائدین کا جائزہ لیجیے۔
اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا۔
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی پھر ایک بار ٹکرانے والا ہے۔ عصائے موسیٰ اور فرعون کے اژدہوں کی پھر ٹکر ہونے والی ہے ۔حق وباطل کے معرکے بگل بج چکا ہے۔
کیب دونوں ایوانوں میں پاس ہوکر، صدر جمہوریہ کی دستخط سے بالآخر ہندوستانی ایکٹ(CAA) بن چکا،جس کی میں سارا ہندوستان آج سڑک پہ جا اترا ہے، یہ کوشش مختلف یونیورسٹیز کے طالب علموں سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے پورے ملک کے پھیل گئی اور اس کی مخالفت میں لوگ سڑکوں پہ آگئے، اس کی مخالفت میں دار العلوم کے طلبہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور جی ٹی روڈ جام کیا، پولیس افسران نے جب دار العلوم کی انتظامیہ سے سوال کیا، تو وہ بھیگی بلی بن گئے اور سیدھا مکر گئے کہ وہ ہمارے بچے نہیں تھے، ناظم دار الاقامہ منیر صاحب نے اجازت دے دی کہ آپ ان پر لاٹھی چارج کر سکتے ہیں اور مہتمم صاحب نے بتلایا کہ سڑکوں کو جام کرنا غیر اسلامی ہے۔
بھائی آپ تو اسی احتجاج، مظاہرہ اور پروٹیسٹ کی پیداوار ہیں، اگر یہ غیر اسلامی ہے تو آپ بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیجیے، کیوں کہ یہ عہدہ بھی آپ کو اسی احتجاج اور مظاہرے کے سبب ملی ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ اہتمام ملنے کے چند دن کے بعد بھورا سویٹس والے سے طلبہ دار العلوم کی کچھ جھڑپ ہوئی، بات انتظامیہ تک پہنچی، مغرب بعد مسجد رشید میں جلسہ بلایا گیا، اس میں مہتمم صاحب نے کہا کہ اب تک جو ہو چکا وہ ہو چکا؛ آج سے کسی اسٹودینٹس یونین کا وجود نہیں رہے گا اور جو اس میں ملوث پایا گیا، اس کا بلا چوں چرا اخراج کردیا جائے گا، اسی اسٹودینٹس یونین نے آپ کو تخت اور گدی تک پہنچایا، آپ نے ایک دون کے اندر بہانہ ڈھونڈ کر اسے ہی ختم کردیا کہ کل کہیں یہی طلبہ ہمارے خلاف متحد نا ہوجائے۔
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے۔
دوسری طرف ارشد مدنی صاحب ہیں، جو دوران درس، جلسوں اور تقریروں میں اپنے ابا شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رح کی بہادری اور انگریزوں کے سامنے ان کی جرات و بے باکی کے قصے سناتے نہیں تھکتے، جب ایک بار پھر یہ انگریز اور ساوکر کی اولاد ان سے وہی قربانی اور بہادری دہرانے کو کہا، تو حضرت گوشہ نشیں ہوگئے۔
‏باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر صاحبِ میراثِ پدر کیونکر ہو ؟؟
ایک ہیں محمود مدنی صاحب جو ہمیشہ اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخی میں رہتے ہیں، جب گورنمنٹ نے کشمیر پہ لاک ڈاؤن کیا تو حضرت کو اتنی پریشانی ہوئی کہ حضرت نے جنیوا میں جاکر گورنمنٹ کے اشتراک سے اردو میں کانفرنس کیا اور حکومت کے موقف کو سراہا، جب گورمنٹ نے کیب کو لانا چاہا، تو انہوں نے اسے سراہا اور مستحسن قرار دیا، جس کے نتیجے میں حضرت کو ایل سی ٹی گھوٹالے میں ضمانت ملی ہے اور آج جب سارے لوگ سڑکوں پہ اتر گئےاور دباؤ بنایا تو تو احتجاجی ریلی کی کال دی اور اسے غیر دستوری قرار دیا۔
شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2010-2011 کی بات ہوگی میں دار العلوم میں داخلہ کے لیے گیا ہوا تھا، رمضان کا مہینہ تھا، مسجد رشید میں ہم طلبہ اپنی تیاری کررہے تھے ہم چند طلبہ نے مسجد رشید میں ہی اپنی سورہ تراویح پڑھ لی تھی، حضرت 27 پارہ تراویح میں سنارہے تھے، جب سورہ رحمن کی آیت يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ پہ پہنچے، تو حضرت آیت کو بار بار دہراتے رہے اور روتے رہے اتنا روئے کہ آواز میں گھگی بندھ گئی اور ایک سما طاری ہوگیا سارے متوسلین معتکفین اور مصلیین رونے لگے، ہم طلبہ بھی رونے لگے.. اور عقیدت کی مالا اپنے گلے میں ڈال لی. وہ تو اچھا ہوا کہ داخلہ ہونے کے بعد جب پرانے طلبہ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا کہ پگلے یہ سب مولویوں کے ڈھکوسلے ہیں چونکہ ان سے پہلے ان کے ابا فدائے ملت رح یہاں مسجد رشید میں رمضان میں خانقاہ لگاتے تھے، تو اب ان کی جگہ انہوں نے لے لی ہے تو کچھ تو کرنا پڑے گا نا انہیں اپنے قابو میں کرنے کے لیے، یہ ابو زید سروجی (ابو زید سروجی کے نام کا استعمال اعلی درجہ کی منافقت کے لیے کیا جاتا ہے) کے بھی دادا ہیں میں نے ناک بھوں چڑھائی، تو اس نے کہا کہ سارا مطلع دھیرے دھیرے صاف ہوجائے گا، کچھ وقت لگا الحمد للہ دارالعلوم کے زمانے میں ہی سارا مطلع صاف ہوگیا۔
اور ایک عالم دین ہیں امیر شریعت جی جنہوں نے لاکھوں لوگوں لوگوں سےطلاق کے نام پہ چندہ لیا، اپنی طاقت دکھانے کے لیے انہیں سڑکوں پہ اتارا اور ایک ایم ایل سی کی ٹکٹ کے عوض ساری قوم کا سودا کردیا حضرت جی اتنے بڑے شیر ہیں کہ ایک دو اردو نیوز چینل کے بونے رپورٹرز کو بلاتے ہیں، چیخ چلاتے ہیں ان پر اور شیر بن کر بل میں گھس جاتے ہیں۔
وہ زہر دیتا تو سب کی نگاہ میں آجاتا،
سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں۔
اور ایک ہیں اصغر علی امام مہدی سلفی جو ابن الوقت، بے غیرت، بزدلی اور ضمیر فروشی کے لیے جانے جاتے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں 370 کی تائید کے دوران ہندوستان کو سارے دنیا کا باپ کہا ہے، کسی بل میں جا گھسے ہیں۔
اے مجھ کو فریب دینے والے،
میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں۔
ایک ہیں مقر آتش فشاں سلمان صاحب جو یمن پر سعودی ظلم وستم، فلسطین پر صہیونی زیادتی اور شام پر بشار الاسد کی درندگی مصر پر السیسی کی ڈکٹیٹر شپ اور لیبیا تیونس پر ظلم و زیادتی اور عالم اسلام کی خاموشی پر ہر جلسہ میں ایمانی حمیت کا چورن بیچتے نہیں تھکتے تھے اور لگتا تھا کہ حضرت جی کے بس میں نہیں ہے اگر حضرت کے پاس وہاں کی شہریت ہوتی تو ابھی جاتے اور نوجوانوں کو لے کر رن میں کود پڑتے؛ یہ ایسے بزدل ڈھکوسلے باز ثابت ہوئے کہ جب خود اپنی سر زمین پر طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کا وقت آیا تو بھیگی بلی بن گئے ؛فیسبک کے ذریعے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں اور امت کے نوجوانوں کو راستہ دکھاتے ہیں، تففف ہے۔
تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں ،
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں۔
تفف ہے ایسے قائدین پر جو اسٹیج پر آتے ہی ببر شیر بن جاتے ہیں اور ایمانیات، اور مجاہدات کا جعلی چورن بیچتے ہیں اور جب وہی جعلی چورن انہیں کھانے کے لیے کہا جاتا ہے، تو چیں بہ جبیں ہوتے ہیں۔
اے طائر لاہوتی اس رزق سے ہے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔
میں عموماً قائدین پر لکھنے سے بچتا ہوں لیکن اب کیا کیا جائے سو……
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے