کاش ہم خاموش رہتے!

Spread the love


عزیر احمد
کہتے ہیں عقلمندی صرف بولنے میں نہیں ہے, خاموش رہنا بھی بیسٹ آپشن ہوسکتا ہے, ضروری نہیں ہے کہ ہر مسئلے میں ٹانگ اڑائی جائے, بلکہ کبھی کبھار لازمی ہوتا ہے کہ جس طرح لوگ کانٹوں سے بچ بچا کر نکلتے ہیں, اسی طرح کچھ مسئلوں سے بھی بچ کر نکل جایا جائے, اب یہی عرفان خان کا مسئلہ دیکھئے, اسے ابھی دفن نہیں کیا گیا تھا کہ بھائی لوگ جنت جہنم کا رجسٹر تھامے اس کے سرہانے پہونچ گئے, ایک ایسے شخص کی وفات پر کہ جس کے مرنے پر ہر آنکھ نم ہے, کہ جس کے جانے سے لگا ہے کہ ہاں کوئی اس شہر سے اٹھ کر گیا ہے, اس کے کرافٹ کی پختگی تھی کہ جو لوگ مسلمانوں کو دن رات گالیاں دیا کرتے تھے, وہ بھی اس کے مرنے پر غمناک تھے, پرائم منسٹر سے لے کر پریزیڈنٹ تک, عام انسان سے لے کر ریاستوں کے وزرائے اعلی تک, ہر کوئی اظہار تعزیت کرتا نظر آ رہا تھا, دوسری طرف کچھ بھائی لوگ سوشل میڈیا پر الگ ہی "رَچنا” رچتے ہوئے نظر آ رہے ہیں, ایک طرف کچھ بدبو دار سڑے ہوئے سنگھی تھے جو لکھ رہے تھے کہ "آج ایک اور دہشت گرد کا خاتمہ ہوا”, وہ دہشت گرد کہہ رہے تھے, کیونکہ عرفان نے اپنی تمام تر کمیوں کے باوجود اپنا نام نہیں تبدیل کیا تھا, وہیں دوسری جانب متقی اور پرہیزگاروں کی ایک جماعت تھی, جو خوشی منا رہی تھی کہ ایک اور کافر و ملحد کا خاتمہ ہوا, حالاں کہ ان متقی اور پرہیزگاروں کی حقیقت بس سوشل میڈیا تک ہی ہے, حقیقی دنیا ان کے فساد اور ذہنی گند سے پہلے ہی کراہ رہی ہے, کبھی پتہ تو کیجئے کہ جس معاشرے میں وہ رہتے ہیں, اس میں ان کی حیثیت کیا ہے؟
بہرحال بات صرف اتنی ہے کہ ایک ایکٹر کا خاتمہ ہوا, وہ بھی ایسا ایکٹر جس کی میں نے کوئی فلم دیکھی نہیں, میں فلمیں کم دیکھتا ہوں, البتہ اداکاروں کو پڑھتا (مضامین) اور سنتا (انٹرویوز) زیادہ ہوں, عرفان کے بارے میں ہر کسی کی رائے یہی ہے اس نے پردہ پر کرداروں کو جیا ہے, اور Realistic کردار زیادہ کئے ہیں, ایسے کردار جن کا تعلق ہماری اپنی زندگی سے ہوتا ہے, یعنی حقیقی دنیا سے, جہاں ضروری نہیں ہے کہ ہر انسان Privileged ہی پیدا ہو, ہر شخص کو Heroic Look ہو, وہ پان سنگھ تومر بھی ہوسکتا ہے, اور Jurassic World کا سائمن مسرانی بھی, تو ظاہر ہے اس کے چاہنے والے لوگ ہوں گے ہی, جو اس کے لئے غمناک ہوں گے, کچھ ایسے بھی ہوں گے جن کے دلوں پر وہ اس قدر راج کرتا ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے روک نہیں سکتے, تو کیا ان کی دعاؤں سے آپ کی جبین نازک پر اس قدر اثر پڑ رہا تھا کہ آپ ری ایکشن میں اتر آئیں, در گزر بھی تو کیا جا سکتا ہے؟ "چھوڑو”, "ہٹاؤ”, "جانے دو” یا "بعد میں دیکھا جائے گا” کی پالیسی بھی تو اپنا جا سکتی ہے؟ افسوس تو ایک کافر کی موت پر بھی ہونا چاہئے کہ راہ ہدایت ہر چلے بغیر مر گیا, پھر تو یہ خیر سے مسلمان تھا, جو دو سال سے مریض تھا, کتنی راتیں, کتنی تنہائیاں, کتنے درد جھیلے ہوں گے, کیا ہمارا اسلام اتنا تنگ نظر ہے کہ "انا للہ” پڑھنے سے بھی منع کرتا ہے؟
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم ہندوستان میں ہیں, اور ہم "امت دعوت” ہیں, اور "امت دعوت” کا کام سرٹیفکیٹ بانٹنا نہیں ہوتا ہے, ہمارا ایکشن ہی ہمارے مذہب کو ڈیفائن کرتا ہے, جب ہم سوشل میڈیا پر کسی کی موت پر خوشی مناتے ہیں تو اس کا لوگوں پر منفی اثر پڑتا ہے, میری اپنی ذات کے حد تک میں اسلام کے بڑے دشمنوں کے مرنے پر بھی ان کا جشن سوشل میڈیا پر نہ مناؤں, دل میں خوش ہوسکتا ہوں, اپنوں کے درمیان شئیر کر سکتا ہوں, لوگوں کو شخصی طور پر بتا سکتا ہوں کہ اچھا ہوا مر گیا, اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا, ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا اسلام بہت عظیم مذہب ہے, اس میں انسانیت اور انسانی اعلی اقدار کی ایسی مثالیں ہیں کہ دنیا دنگ رہ جائے, میں اکثر کہتا ہوں کہ ہم نے اسلام کے اخلاقی پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے, اللہ کے رسول صلی اللہ مردوں کا ذکر خیر کرنے کا حکم دیتے ہیں, صحیح بخاری کی حدیث ہے "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ مر گئے ان کو برا بھلا نہ کہو, کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا وہ خود پہونچ چکے ہیں, انہوں نے بھلے برے جو بھی عمل کئے تھے, ویسا بدلہ پالیا” صحیح البخاری۔
اسلام کی ان عظیم الشان اخلاقیات کا ذکر ہی کیا کرنا, اسلام تو وہ مذہب ہے کہ جب عکرمہ بن ابوجہل اسلام لائے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ نے لوگوں کو ان کے والد کو برا بھلا کہنے سے منع کردیا کہ اس سے ان کو تکلیف ہوگی, ارشاد فرمایا «يَأْتِيكُمْ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا، فَلا تَسُبُّوا أَبَاهُ، فَإِنَّ سَبَّ الْمَيِّتِ يُؤْذِي الْحَيَّ، وَلا يَبْلُغُ الْمَيِّتَ». میت کو گالی دینے سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے, اور میت کو وہ پہونچتا ہی نہیں ہے, اللہ کہاں وہ اسلام, اور کہاں نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کا عمل؟
واضح رہے کہ میرے لکھنے کا مقصد عرفان کو ولی قرار دینا نہیں ہے, جیسا کہ بہت سارے لال بجھکڑ سمجھ لیں گے, اور نہ ہی اس کے لئے غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کرانا ہے, بلکہ میرے لکھنے کا مقصد بس یہی بتانا ہے کہ وہ جیسا بھی تھا, اور جو بھی تھا, انسان تھا, اور انسان کی موت پر جشن, یہ کسی مینٹل آدمی کا کام ہوسکتا ہے, مذہبی نہیں, ضروری نہیں تھا کہ عرفان پر اس کی عرفان ذات کو لے کر سوال اٹھایا جاتا, کیونکہ سوال اٹھانے کا نقصان یہ ہوا کہ لوگ اسکرین شاٹ لے کر اسلام پر سوال اٹھانے لگے, میں نے ٹویٹر پر بہتیروں کو دیکھا جو علی سہراب کے ٹویٹ کو شئیر کرکے لکھ رہے ہیں کہ جب پورا ہندوستان رو رہا ہے, کچھ نفرت کے سوداگر جشن منا رہے ہیں, اور تو اور سنگھی OnpIndia نے اسلامسٹوں کے نام سے ہیڈلائن لگادی, تو کہنے کا مقصد یہی ہے کہ کبھی کبھار خاموش رہنا ضروری ہے, کیونکہ ایسا نہ کرکے بہت سارے لوگوں کو ہم یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کیا اسلام سچ میں محبت اور رحم کا مذہب ہے؟ کیونکہ ہندوستان میں زندوں کا احترام بھلے نہ کیا جاتا ہو, مگر جنازہ جا رہا ہو تو ہندو بھی احترام میں کھڑے ہوجاتے ہیں, پھر تو عرفان بیچارہ مسلمان تھا, بھلے نام کا سہی, تو کم سے اگر وہ ہمارے "انا للہ” کا بھی مستحق نہیں تھا, تو ہماری خاموشی کا ضرور تھا…..کاش ہم خاموش رہتے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے