شرجیل امام نے سچ بولا ہے!

Spread the love


سعید الرحمان
جامعہ ملیہ اسلامیہ
آج شرجیل کی تقریر سنی۔ اب تک پوری تقریر نہیں سنی تھی۔ اس کی پوری تقریر سننے کے لائق ہے۔ ایک ایک جملہ معلومات اور تجربات پر مبنی ہے۔ شرجیل بھیڑ جمع کر کے شور شرابہ کرنے کا قائل نہیں ہے۔ وہ نتیجہ خیر حرکت میں یقین رکھتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اس کی آزادی حکومت کی نگاہ میں کھٹکنے لگی۔
دراصل شرجیل خود کو کسی خوش فہمی میں رکھنا نہیں چاہتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے جھوٹ بولنے کا عادی نہیں ہے۔ وہ تاریخ کو بس اسی نظر سے دیکھنے کا قائل نہیں ہے جس سے سارا زمانہ دیکھتا ہے۔ وہ اپنی پہچان کھونا نہیں چاہتا ہے۔ وہ کسی کے رحم و کرم پر جینا نہیں چاہتا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور کمزوری کو بخوبی پہچانتا ہے۔
اس نے سچ بولا ہے۔ اس کا جرم بس یہ ہے کہ کھل کر بلا جھجھک بولا ہے۔ ایسے وقت میں بولا ہے جب حق کی آواز بلند کرنے والوں کا گولیاں اور جیل کی کوٹھریاں انتظار کر رہی ہیں۔ ایک ایسے اسٹیٹ میں بولا جہاں کا حکمران طاقت کے نشے میں وقت کا ہٹلر بنا ہوا ہے۔ ایک ایسی یونیورسٹی میں بولا ہے جس کے خلاف فرقہ پرست زمانے سے سازشیں کر رہے ہیں۔
اس نے اپنی تقریر میں چکہ جام کرنے کی بات کہی ہے۔ کسی کو گولی مارنے یا ریپ کرنے یا گھروں میں ہتھیار رکھنے یا ہتھیار کی ٹریننگ دینے کی بات نہیں کہی ہے۔ یہ سب باتیں کہنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔ چکہ جام کو بھارت میں برداشت کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایک مسلمان نے چکہ جام کی بات کی ہے تو اسے نہ جانے کیا سمجھ لیا گیا ہے۔ شرجیل اسی تفریق کو نہیں مانتا ہے۔ اس لئے وہ کھل کر اس کی بات کر رہا تھا۔ اس نے چھپ کر کوئی بات نہیں کی۔ اس نے آرگنائزڈ طریقے سے کام کرنے کی بات کہی ہے۔ کیونکہ اگر غیرمنظم طریقے سے عوام کا غصہ پھوٹ پڑا تو اس سے ملک کی اکھنڈتا تک کو چیلنج پہنچ سکتا ہے۔ اس بات کا شرجیل نے خود اسی تقریر میں اظہار کیا۔
اس نے کیا غلط کہا کہ اگر آپ زندگی بھر جنتر منتر پر مظاہرے کرتے رہیں تو کون پوچھے گا آپ کو؟ آج ہمارے وجود کا سوال ہے اور لوگ ہم سے راستہ جام کرنے سے لوگوں کی دقتوں کی دہائی دے رہے ہیں۔ آج شاہین باغ جیسی دس شاہراہیں اور جام ہوتی کیا تب بھی سپریم کورٹ ایک مہینے بعد کی تاریخ دیتا؟ گجر اپنے حق کے لئے ریلوے روک دیں، پٹریاں اکھاڑ دیں، ممبئی دلی روٹ کو مکمل طور سے جام کر دیں تب کسی کو محسوس نہیں ہوتا ہے کہ یہ ایک اینٹی نیشنل حرکت ہے۔ لیکن اگر ایک مسلمان چکہ جام کا سوچ بھی لے تو وہ دہشت گردی کے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ اسی دوہرے معیار کو دیکھ کر ہی شرجیل جیسے نوجوانوں کے دلوں میں ملک کے سیکولرازم کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
اور ہمارے خوف کا عالم دیکھیں کہ ہم میں اتنی جرات نہیں ہے کہ ہم کھل کر یہ پوچھ لیں کہ شرجیل کے ساتھ یہ دہرا معیار کیوں اپنایا جا رہا ہے؟ لیکن جب کچھ غیر مسلم حضرات نے کھل کر دو بات کہی کہ شرجیل پر سیڈیشن لاگو نہیں ہوتا ہے تب ہماری چپی ٹوٹی اور ہم میں تھوڑی سی جرأت ہوئی کہ ہم اس کے بارے میں تبصرہ کر رہے ہیں۔ ہمارے اسی خوف کو کوئی لابی ہے جو آزادی کے بعد سے ہی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اور ہم ہیں کہ اپنی کم علمی کی وجہ سے ہمیشہ بھیگی بلی بنے بیٹھے رہے ہیں۔ بزدلوں اور جھوٹے مصلحت پسندوں کی صحبت نے ہمیں انتہائی حد تک بزدل بنا دیا ہے۔ ایک جمہوری اور سیکولر ملک میں سوال اٹھانے کی اجازت تو ہے نہ؟ گرچہ ہمارے سوال غلط ہوتے سوال اٹھانے کی جرأت تو کرتے۔ ہماری بزدلی کا عالم یہ ہے کہ بابری مسجد کا غیر یقینی فیصلہ آیا، دھارا 370 ہٹا دی گئی، کشمیری بھائیوں کو ایک بڑی ریاستی جیل میں قید کردیا گیا، ان کے بنیادی حقوق ان سے چھین لئے گئے، ہمارے دلوں میں مختلف سوالات نے سر ابھارا لیکن ہم منہ کھولنے کی بھی جرأت نہ کر سکے۔
اسی طرح شرجیل اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہتا جس میں اب تک مسلمانوں کو رکھا گیا ہے۔ وہ ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حتی کہ وہ اس سیکولرزم پر بھی سوال اٹھاتا ہے جس کے سائے میں ستر سالوں سے اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ کیا جاتا رہا ہے۔ اس کا سوال بجا ہے کہ اگر CAA اور NRC کے خلاف ہو رہے مظاہروں میں غیر مسلم ہمارے ساتھ ہیں تو کیوں کسی غیر مسلم محلوں میں کوئی شاہین باغ قائم نہیں ہوتا ہے؟ چند دردمند غیر مسلموں کا ہمارے مظاہروں میں شریک ہو جانا یا ریلی نکال دینا یقیناً معنی رکھتا ہے لیکن کیا ہماری لڑائی ایک آدھ ریلیاں نکال دینے سے جیتی جا سکتی ہے؟ سرکار کو اگر کوئی چیز جھکا سکتی ہے تو وہ بڑے پیمانے پر چکہ جام ہی کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے کون غیر مسلم آگے آیا؟ دلت، گجر اور پٹیل برادری اپنے حقوق کے لئے سرکار کو عاجز کر سکتی ہیں تو آج اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں تو کیوں نہیں آگے بڑھ کر وہی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں؟ ایسے میں شرجیل کا یہ بیان کہ یہ مسلمانوں کی لڑائی ہے کیا غلط ہے؟ اور یاد رہے یہ سرکار اتنی بے حس ہے کہ اسی کے دور حکومت میں پارلیمنٹ اسٹریٹ کے اندر کسان مہینوں تک دھرنا دئے بیٹھے رہے۔ چوہے کھانے تک کو مجبور ہو گئے مگر اس سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
اسی طرح ہماری ارزانی کا عالم یہ بھی دیکھیں کہ ہمارے مظاہروں میں کسی نے "اللہ اکبر” اور "لا الہ الا اللہ” کا نعرہ لگا دیا تو ہم حواس باختہ ہو گئے کہ انہیں خاموش کرو ورنہ غیر مسلم بھائی ناراض ہو جائیں گے۔ میں خود منع کرنے والوں میں آگے آگے تھا۔ لیکن اب ہمیں تعاون کے نام پر "وندے ماترم” اور "بھارت ماتا کی جے جے کار” میں لتھیڑا جا رہا ہے اور ہم دل پر پتھر دھرے بیٹھے ہیں کہ برادران وطن ناراض ہو جائیں گے۔ یہ ہمارے غیر مسلم بھائی ناراض ہونے کے بجائے ہمارے جذبات سمجھنا کب سیکھیں گے؟ شرجیل کے انہیں سوالات کے جواب میں اسے قید خانے میں ٹھونس دیا گیا۔
شرجیل پر چارج لگایا جاتا ہے تو سیڈیشن کا۔ حالانکہ شرجیل کے بیان کے بعد ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا, لیکن انوراگ ٹھاکر کے گولی والے بیان کے بعد چند ہی دنوں میں کئی فائرنگ کے واقعات ہوئے لیکن انوراگ کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔ شرجیل کا بیان دراصل سرکاروں کے اسی دوغلے رویہ کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے