شرجیل امام اور ہندو لبرل ازم کا دوہرا معیار!

Spread the love


تحریر ارشد عالم (بیآنڈ ہیڈ لائن جنوری29/2020)
(ارشد عالم مشہور آزاد ریسرچر اور سماجی وسیاسی معاملات کے ناقد ہیں۔)
شرجیل امام کے ذریعہ دی گئی متعلقہ تقریر جس پر باغیانہ اور ملک مخالف ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے اگر اس کا پورا جائزہ لیا جائے تو بمشکل ہی ایسا ظاہر ہوگا کہ وہ باغیانہ اور ملک مخالف ہے، بڑے پیمانے پر موجودہ سی اے اے مخالف تحریک کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے شرجیل کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جس طرح سے مختلف جگہوں پر دھرنے ہورہے ہیں اس سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہوسکتا، علیگڑھ اور جامعہ جیسے کیمپس میں پروٹیسٹ کرنے کے بجائے وہ طلبہ کو اس پر ابھار رہا ہے کہ وہ یہاں سے نکلیں اور اپنے احتجاج و مظاہرہ کو زیادہ سے زیادہ عوامی مقامات تک لے جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی بتا رہا ہے کہ موجودہ تحریک چکن نیک (باقی ہندوستان کو نارتھ ایسٹ سے جوڑنے والی پتلی پٹی) کو جام کردینے سے آسام میں چل رہی سی اے اے مخالف تحریک کے لیے کس طرح مددگار ہوسکتی ہے۔
چنانچہ یہ بیان کرتے ہوئے کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ تشدد کے لیے یا ملک کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دے رہا ہو۔
اس حکمت عملی کے ذریعے پوری تقریر کا یہ مقصد تھا کہ حکومت کو مظاہرین کی بات سننے پر مجبور کیا جاسکے جس نے اب تک اس پورے عمل کو بری طرح سے نظر انداز کیا ہے، کوئی کہہ سکتا ہے کہ موجودہ سیاق میں جو اس نے کہا ہے وہ احمقانہ بات ہے لیکن پھر بھی بلا شک اس حکمت عملی پر بحث کرنا کہ سی اے اے مخالف تحریک کس طرح مؤثر بن سکتی ہے یا کس طرح تحریک کی بات ماننے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے باغیانہ اور ملک مخالف نہیں ہے۔
یہ یاد کرنے کے قابل ہے کہ اس ملک میں اس سے کہیں زیادہ بدترین عمل کرنے کے باوجود لوگ محفوظ رہے ہیں، 2008 میں دائیں بازو کے لوگوں نے تقریباً ایک مہینے تک قومی شاہراہ کو بلاک کردیا تھا جس وجہ سے کشمیر حقیقت میں باقی ہندوستان سے کٹ گیا تھا لیکن پھر بھی ان پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی۔
اسی طرح پرگیہ ٹھاکر کو لے لیجئے جس نے گوڈسے کو محب وطن کہا تھا لیکن پھر بھی وہ ہندوستان کے پارلیمنٹ میں بیٹھی ہوئی ہے، پوجا شکلا پانڈے جس نے گاندھی جی کے پتلے میں گولی ماری تھی وہ اب تک بابائے قوم کے تئیں آزادانہ نفرت پھیلا رہی ہے، اسی طرح اور بھی بہت سے لوگ جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا پیشہ ہی اختیار کررکھا ہے، ابھی دو دن پہلے ہی کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نے کھلے عام یہ کہا ہے کہ مسلمانوں نے اگر سی اے اے مخالف تحریک جاری رکھی تو "وہ ان کو ان کی اوقات یاد دلا دینگے”۔
حکومت بوڈو کے ساتھ بات چیت کرکے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کررہی ہے باوجود یکے کہ ان میں کچھ ہتھیار بند جنگجو بھی رہے ہیں لیکن مسلمانوں سے ان کے جائز خدشات اور خوف کے تئیں بات چیت نہیں کررہی ہے، بلاشبہ ماضی میں مسلمانوں کے ووٹ کے حقوق ختم کردئیے جانے کے مطالبات ہوتے رہے ہیں اور اب بھی اس طرح کی باتوں کے خلاف بمشکل ہی سچی ناراضگی دیکھنے میں آتی ہے، اب اس سے بھی بڑھ کر ہم ایک ایسا طریقہ دیکھ رہے ہیں کہ جو کوئی بھی مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے اسے عوام کے ذریعہ یا پھر حکومت کے ذریعہ انعام سے نوازا جاتا ہے، یہ بالکل صاف ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی حب الوطنی کو الگ الگ پیمانے سے ناپا جاتا ہے،ہندو تشدد بھڑکانے کے باوجود بچ جاتے ہیں اور مسلمانوں کو صرف ایک تقریر کرنے کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے۔
پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ منافقت صرف متشدد ہندؤوں تک محدود نہیں ہے بلکہ آزاد خیال ہندو بھی اس میں شامل ہیں، شرجیل کے کیس میں ہم لیفٹ اور لبرل دونوں کی مکمل دوری اور دستبرداری دیکھ رہے ہیں،حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کنہیا کمار پر ملک مخالف ہونے کے الزامات کے خلاف ایک پوری مہم چھیڑ دی تھی اور اب جبکہ شرجیل کے خلاف یہی الزامات لگائے گئے ہیں تو وہ خاموش ہیں،اور صرف خاموش ہی نہیں بلکہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ گرفتار کیا جائے اور سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے،اسی لئے ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس طرح کا دو مختلف ردعمل ان دونوں کی مذہبی شناخت کی وجہ سے ہے،ہمیں یہ معلوم ہے کہ اس ملک کا لبرل اسٹیبلشمنٹ بنیادی طور پر غداری وطن کے قانون اور نظریہ کے خلاف ہے لیکن اس مسئلہ پر کچھ لوگوں کے بیان نے یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان کا لبرل ازم صرف دکھاوا ہے، اس سے بھی کہیں بدتر یہ ہے کہ ان کے رویے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب مسئلہ مسلمانوں کا ہو تو ان کا لبرل ازم دیکھ کر لاگو ہوتا ہے، ہم اس گرفتاری پر جے این یو جیسی لبرل یونیورسٹیوں کی خاموشی کی تشریح اور کس طرح سے کریں؟ لیفٹ کے ایک طبقہ کی طرف سے اس کی جلد گرفتاری کی تقریباً متعصبانہ مہم کو ہمیں اور کس طرح سے سمجھنا چاہیے؟ہمیں اس حقیقت کو اور کس طرح سمجھنا چاہیے کہ Sedition کے خلاف بنیاد پرست طاقتوں نے اس مسئلہ پر ایک الگ ہی طرح کی خاموشی اختیار کر رکھی ہے؟
ایک ممکنہ جواب یہ ہے کہ شرجیل کانگریس کے ساتھ ساتھ لیفٹ پر بھی بے باکی سے تنقید کرتا رہا ہے، مختلف مواقع پر اس نے مغربی بنگال کے مسلمانوں کی پسماندگی کا براہ راست ذمہ دار اس وقت کی لیفٹ فرنٹ حکومت کو قرار دیتا رہا ہے، وہ کنہیا کمار جیسے لوگوں پر بھی تنقید کرتا رہا ہے جو مسلمانوں کے دھرنوں اور مظاہروں کو اپنی فالوئنگ اور امیج مزید مضبوط کرنے کے لیے کرتے رہتے ہیں، کیا یہ جائز سوال نہیں ہے کہ کیوں کنہیا کمار جیسے لوگ سی اے اے کے خلاف بیگو سرائے کے ہندوؤں کو آرگنائز نہیں کررہے ہیں؟ کیا یہ جائز سوال نہیں ہے کہ جب مسلمانوں کا مسئلہ آتا ہے تو بی جے پی اور کانگریس سے لیفٹ کی نیشنلسٹ سوچ کتنی مختلف ہوتی ہے؟ اسی طرح اس نے بہت سے مواقع پر ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار کانگریس کو قرار دیا ہے،کیا بابری مسجد قضیہ پر کانگریس کی سازش اور ساز باز پر سوال کھڑے کرنا جائز نہیں ہے؟ شرجیل مسلمانوں سے اگر کانگریس اور لیفٹ کی قیادت کے بجائے اپنی قوت پیدا کرنے کی بات کررہا ہے تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا یہ صحیح پرابلم ہے جسے لبرل اسٹیبلشمنٹ اس بندہ کے تئیں رکھے ہوئے ہے؟
برسوں تک مسلمانوں نے ایک ایسا سیاسی طریقہ اپنا رکھا تھا جہاں وہ خود پیچھے رہتے تھے اور دوسری پارٹیوں کو نمائندگی کے لئے آگے کردیتے تھے لیکن ان پارٹیوں نے بدلے میں مسلمانوں کو بیوقوف بنایا اور صرف ووٹ کے لیے ان کا استعمال کیا، سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران یہ بالکل واضح ہوگیا ہے کہ جو نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹوں پر منحصر رہتی تھیں وہ بمشکل ہی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکلیں، مسلمانوں کے اندر یہ شعور بڑھ رہا ہے کہ انہیں اپنا سیاسی منصوبہ بنانا ہوگا اور مسلم کمیونیٹی کے درمیان شرجیل اور اس جیسے بہت سے لوگ اسی داخلی غور وفکر کا نتیجہ ہیں، شاید مسلم خود اعتمادی کے اسی مظہر سے لیفٹ اور لبرل ناراض اور خفا ہیں۔
اور شاید یہی وہ اصلی سبب ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں ٹارگیٹ کر رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں، بلا شبہ شرجیل کے نظریات سے کسی کے بھی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ایسے موقع پر اس کا دفاع نہ کرنے کا یہ مطلب ہوگا کہ بنیادی طور پر ہندو لبرل ازم سیڈیشن کے اس ظالمانہ قانون کے خلاف نہیں ہیں اور اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ہندو انتہا پسندوں سے ان کی کچھ رائے ملتی جلتی ہے کہ اقلیت کے ساتھ اس ملک میں کس طرح کا معاملہ کیا جانا چاہیے۔
تاریخ آئیڈیا آف انڈیا کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں کو یاد رکھے گی کہ جب ایک مسلم طالب علم کا تعاقب ہندو انتہا پسندوں کے ذریعہ کیا گیا تو وہ کنارے کھڑے ہوکر اس کا نظارہ کررہے تھے،اور اس سے بھی بدترین عمل یہ تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ اس مذہبی نشانہ اور حملہ میں دشمنوں کے معاون اور مددگار ہوگئے تھے۔
(مترجم: احمد الحریری، جواہر لال نہرو یونیورسٹی)

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں, ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے