ایک ملاقات (دوسرا خط)

Spread the love


ڈاکٹر سعد احمد

بستروں کی سلوٹ، گڑبڑائے تکیے، شکن زدہ چادریں، نڈھال گلاس، بدحال بوتل، گنگناتا پانی، سنسناتا پنکھا، ٹیبل لیمپ کی پر امید روشنی، ہلکی ہلکی ہواؤں کی خوش گپیاں، کرسی کی بیچارگی، ٹیبل کی حیرت، کونے میں سجا ہوا حقہ، دوعدد اداس چپلیں، متعجب رینگتی ہوئیں خوشبوئیں، دماغ میں ایک جھناکا طاری کررہے ہیں۔
میرے صاحب، میرے بزرگوار، مجھے علم ہے اس سے ملتی جلتی حالت تمہارے کمرے کی بھی ہے۔ ہاں مجھے یقین ہے ایسا ہی ہے۔ تمہاری ڈوب ڈوب کر ابھرتی سانسیں، سانسوں کا زیر وبم، زیر وبم پہ چالاکی سے لگام لگاتی ہوئی بےہنگم سنجیدگی، غنودگی کے بہانے ہر لمحہ میں ہزار زندگیاں جینے والی شخصیت، اک کیسے.. اچھا.. سچ،.. بہت اچھا.. دلگیر.. کے ہپناٹزم سے چالیس چوروں کی پوٹلیاں کھول لینے والے رابن ہوڈ سے میں واقف ہوں۔ ہاں جناب… ہماری پچھلی ملاقات کم سے کم میرے لئے ایسی شب برات ثابت ہوئی کہ میں نے خود کو ایصال ثواب کے جھنجھٹ سے آزاد کرلیا۔ میں نے تمھارے استفسار پہ بھی تمھیں نہیں بتایا تھا کہ میں کس ملک سے ہوں۔ میں تمھارے دوست محمود حمود کے ملک سے ہوں۔ شاید کبھی محمود نے تمھیں اپنی منسوبہ اور منگیتر کا بتایا ہو۔ میں اسی خوش قسمت کی تایازاد ہوں. محمود کی منگیتر کا مجھے افسوس نہیں خوشی ہے اور محمود بھی خوش ہے کہ تہذیب کے بھنبھوڑئیے کے ہاتھ نھیں لگی۔ اللہ کی قسم وہ ہم سب کی جان تھی ذہین ترین عرب دوشیزہ…… وہ بچپن سے ہی ہم سب پہ اپنے حفظ کی بنا پر حاوی تھی۔ اسکا شوق تھا حدیثیں یاد کرنا، اسے تقریباً بخاری اور مسلم زبانی یاد تھے۔ ہم عرب لڑکیاں بھی عجیب ہیں خود کو متن کے سپرد کردیتے ہیں، ہماری سپردگی اتنی رچاؤ بھری ہوتی ہے کہ ہمیں علم تک نہیں ہو پاتا؛ کہ متن اور لفظ سے والہانہ عشق میں ہمارا خود کا وجود کہاں رہ گیا۔ نہیں، یہ نہ سمجھنا کہ میں عرب لڑکیوں کی سپردگی اور دیانت داری سے عجمیوں کو چت کرنا چاہتی ہوں۔ نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ہماری شریانیں اور بہت اندر تک خلیے تک حفظ سے ایک قسم کا سکون محسوس کرتے ہیں۔ تمہیں تو خوب علم ہے ہم پہلے صرف خواہشات کی راکھی باندھتے تھے. ہم عیاشیوں سے لیکر خون تک کی ہولیاں تفریحا کھیلتے تھے۔ہم میں کا ظالم صدیوں ایک کرسی پہ بیٹھ کر ہم میں کے مظلوم پہ اپنے نعل سے ٹکا ٹک احکامات ٹکاتا رہتا. پھر ایک لفظ آیا جس نے ہم سب کو یوں پرویا کہ ہم بہت سے معنوں کے معانی ہونے کے بجائے اسی ایک لفظ سے جڑ گئے ، اسی کی تشریح ہو گئے۔ تمہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ وہ لفظ ہماری یاد داشتوں میں اس طرح منقش ہو گیاہے کہ ہمارا وجود………… ہمارا سانس لیتا وجود اسی لفظ کے مرہون منت ہے۔ ہماری تایازاد کا چہرہ اس لفظ کے ورد سے، قرات سے……… پڑھنے سے یوں تمتما اٹھتا گویا اس نے براق دیکھ لیا ہو۔ جب بھی وہ تجارب کے متن پہ سوار ہوکر الفاظ کی وادیوں سے گذرتی،واللہ، میرا پورا گھرانا، اطراف کی عورتیں بوڑھے، جوان ہوتے ہوئے بچے، بوڑھیاں اور پردہ میں بیٹھنے کے پہلے سال والی لڑکیاں،، تمھیں یہ جان کر شاید تعجب ہو کہ ان میں عرب غیر مسلم بھی ہوتے تھے، یوں اسے گھیر لیتے جیسے کسی ولی نےابھی ابھی کوئی معجزہ دکھایا ہو۔ اسے الفاظ کی وادیوں میں کسی معانی کی جستجو نہیں تھی۔ وہ تو…تو۔۔ لفظ… الفاظ کے ان تجارب سے گذرتی، میرے صاحب کہ بنا کسی وجہ کے اجتماعی طور پہ اشکوں کے پرنالے جاری ہوجاتے۔آہوں اور ہچکیوں کی چھوٹی چھوٹی کشتیاں یوں رکتی جیسے شارع عام پہ کوئی بھڑنت ہوگئی ہو۔ پھر یوں چلنے لگتی گویا بھڑنت نے کسی معصوم کی زندگی بخش دی ہو ۔یہ اس کے لفظوں کا تجربہ ہی تھا جو گنتی کے لوگوں سے ہوتے ہوئے ہر خاص و عام عرب کو پکڑ پکڑ کر اسے یاد دلاتا .. کچھ نہ کچھ یاد دلاتا … میرے صاحب.. گئے دنوں میں اسے اور اسکے والدین کو بھمبھوڑیوں کی بمباری نے نگل لیا. میں….. میں بھی یورپاسی مہینہ وارد ہوئی جب آپ کی تمہاری یہاں تشریف وری ہوئی تھی۔ میں نے اپنی تعلیم کے دوران بارہا محمود کی رندھی ہوئی آواز سننی چاہی۔ بارہا اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھنے چاہے،میرے صاحب،..مگر.. وہ بھی آخر عرب ہی ہے سارے جذبات چھپا گیا۔
صاحب العالی، آپ جانتے ہیں کہ ہم اس قدر تکلیف میں کیوں مبتلا ہیں؟ ہميں موت کیوں نھیں آتی؟ ہم ہر روز مرتے ہیں پھر بھی موت کا رعب ہم پہ طاری نہیں ہوتا؟
میرے صاحب، کیا آپ کو لگتا ہے موت ہمیں شکست دے رہی ہے. میں نے تو اب عربوں سے بھی سنا ہےکہ ہار کیوں نھیں مان لیتے؟ ایک مرتبہ تم اپنا سب کچھ ہار بیٹھے تھے کسی لفظ کے، کسی کلام، کسی زبان سے نکلے ہوئے فرمان پہ دل و دماغ ، عزت و افتخار سب جس کے سپرد کیا تھا اسی کے لئے پھر کیوں ہار نہیں مان جاتے…؟
میں نے لوگوں کو سننا بھی شروع کردیا ہے جو کہتے ہیں کہ تم لوگ بلا کے بیوقوف ہو،،، ویسے ہی بیوقوف جیسے پہلے تھے؟ آپس میں خوب لڑتے تھے اور باہر والے سے ڈرتے تھے کہ تم کوئی گدلا نہ کر دے۔۔ عرب اور بزدلی دراصل ایک شئی کے دو نام ہیں! کیا تمہیں بھی ایسا ہی لگتا ہے؟
میرے صاحب خیر سے یہ بھی نا سمجھنا کہ میری زبان پہ یہ صاحب صاحب کی رٹ کسی نو آبادیاتی مجبور فکر کی زبان ہے۔ میرے صاحب مجھے تمہاری تہذیب کا یہ لفظ اس قدر پیارا لگتا ہے جسمیں بہت سے مفہوم کوٹ کوٹ کربھرے ہوئے ہیں۔ تمہیں پتہ بھی ہے کہ ہم لفظ صاحب کی سند سے بخوبی واقف ہیں۔ ابھی تک دنیا ضن و اوہام کے سپولئے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پالتی تھی۔ ان کی تعمیم، اور تجسیم میں دل کیا جان سے بھی ہارتی تھی۔ان کے لیے آنکھیں بچھائے رکھتی تھی، نظریں جمائے رکھتی تھی۔خوابوں اور باتوں میں مضراب کی قطاریں تھیں یہ قطار یں اس قدر گتھی ہوئی تھیں کہ کبھی کسی تہہ خانہ میں جا ملتیں اور کبھی کسی مئے خانہ سے جا لگتیں۔ نتیجہ وہی ہوتا جو روایات کہتیں۔ میرے صاحب تمھاری دور تک دیکھنے والی آنکھوں نے کیا کبھی وہ چیز دیکھی ہے جو دنیا کی تمام لذتوں کو شکست دے دے۔ کیا کبھی ایسا لفظ سنا ہے جو اگر لوگوں کی آنکھوں سے گذار دیا جائے تو انکی آنکھیں روشن ہوجائیں اور اگر بےآنکھ والوں کی انگلیاں اس پر مچل جائیں تو مرتے دم تک ان کے دل مسرور ہوں۔ میرے صاحب غرور عرش پہ بیٹھے ہوئے ان معنوں کے سوداگروں کو کبھی آپ نے غور سے دیکھا ہے۔ یہ معنوں کے مداری ہیں. چند لفظوں کی ڈگڈگی بجا کر ایسا شعبدہ دکھاتے ہیں کہ لوگ بد مست ہو جائیں اور کہنے لگیں ناچ برابر ناچ شرابی زلف سے گرتا پانی شتابی…… یہ بھی کوئی بات ھے… کہ لوگوں کی چالوں کو اپنی بانسری سے قابو میں کر لیا اور مجذوب اعلی ٹھہرے۔ یہ مداریوں کی حرکت کتنی ہی ہنگامہ خیز کیوں نہ ہو لفظ حقیقی کو پہچاننا ہو تو آؤ …. ذرا قریب آؤ شوق کا مرتبان تو کھولو، اپنی عبائیں، قبائیں اور وفائیں ایک بڑی تھالی میں رکھ دو، اپنے دل سے وہ سارے بندھن توڑ دو جو تمھیں دنیا بازی کے گر سکھاتے ہیں… اب میں تمھیں وہ بتاتی ہوں جو واقعتاً تم پہ ایسی ہوا چلائیں گی کہ تم عرصہ تک اس کے تصور کو کوچہء یاراں پہ ترجیح دو گے۔
لفظ لفظ کا پر تو ہے. لفظ کبھی میں ہوں اور کبھی تو ہے۔ میرے صاحب تمھاری بھوری آنکھوں میں پگھلتی ہوئی غموں کی برفانی جُھگیاں مجھے صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ آپ غور سے ذرا دیکھیں کہ جو لفظ ہے وہی معنی بھی تو ہے۔ جنہیں انسان معنی سے تعبیر کرتے ہیں وہ تو فقط لفظ کی لفظیت سے چھیڑ چھاڑ ہے۔ یہ تو سراسر تحریف ہے، انسانی تگ ودو، یہ پوست کی کس قدر دیوانی ہے کہ لفظ کو انکی ماہیت سے نہ سمجھ کر ان پر جاذبیت کے پوست چڑھا دیتی ہے، اس کی خواہشات کس قدر ندیدی ہوتی ہیں کہ اس پوست کو نگاہوں، بدرنگ عقیدتوں اور خالص جواریوں کے مثل ہر دم داؤں پہ لگائے رکھتی ہیں ۔ اپنی متعفن اور قبیح باتوں سے ہر لحظہ اسے گرمائش فراہم کرتے ہیں۔ پھر جب یہ پوست خاصہ سوندھا ہوجاتا ہے. زبان کی تڑپ اور مزاج کے پھڑک کے عین مطابق ہوجاتا ہے تو گلیوں گلیوں چیختے پھرتے ہیں کہ یہ ہمارے معانی ہیں اور یہ ہمارے مفاہیم۔ اس کی قیمت اس والے کی قیمت سے ایک گونہ زیادہ ہے۔ اور یہ والا معنی یزداں کے راز ہائے گلپاشی کو یوں کھول دےگا کہ کون مالک ہے اور کون نہیں یہ فرق ہی زائل ہوجائے۔ ایک بقعہ نور ہو جسے نوری آنکھیں دیکھتے دیکھتے سرور میں مبتلا ہوجائیں اور پھر عہد عدم کے وجود کی خاطر غلطاں پھرے۔کبھی اشراق سے پھوٹتی (برقی) چاشت کے تعاقب میں خود کے جسم پہ یوں اعتراض کرتے ہیں کہ اہورموزژدہ نے ان پر کس قدر ظلم کر دیا، لہذا خود کو فنا کر جانے کی خاطر رجحان غیبی نامی شئی کی ایجاد کو بقاء افہام سے بھی بعید تر عین بقا انضمام تصور کرتےہیں۔ کوئی متلاشئ حق جب ان کی بوریوں کا پردہ ذرا اٹھا دے یا جھانک لے تو کہہ اٹھتے ہیں نم نم غازی.. دل ہے راضی…….(اے غازی تو سو جا اسلئے کہ تجھ سے دل بالکل راضی ہو چکا ہے)۔
جسموں کے پنگھٹ پہ مسموم ٹوکریوں میں بہت اہتمام اور نظافت سے رکھی ہوئی خواہشوں کی ابکائی آور ٹوکریاں اور ان میں غلیظ معجون کے نسخے کس مقصد اور کس ماورائی جسم کے لئے وضع ہوتا ہے اسے شاید حضرت خضر بھی نا بتا سکیں۔
میرے صاحب، بات یہ ٹھہری کہ لفظ کے بطن میں کیا ہے اس کی تفہیم نا تو جسم کی تفحیص سے ممکن ہے نا ہی بطن کو بطانت مان کر اس میں سرایت ہو جانے سے حاصل! اگر مان بھی لیں باطنیت نامی کینچلک میں انسان روپوش ہوجائے پھر وہاں سے تاثیراتی اندراجات کی ایک طویل فہرست اخذ کرلائے اور کہے، جگ جیتی سائیں کا یہی خطاب ہے، دنیا دنیا نہیں بلکہ فنائے ناگہانی کا آفتاب ہے۔ لفظ کی معنویت میں فنا ہونے کے لئے لفظ کی باطنیت کا ادراک ہی اصل ادراک لازوال ہے تو صاحب آپ ہی بتائیے کہ ان خیالات کا حامی کا اس دنیا سے کیا سروکار۔ اس کی دنیا کوئی اور ہے جہاں وہ خود اصل خدا کا ایک دور ہے، اگر یوں ہے تو اس انسان لافانی کے یہاں کرب اور لذت کے معنی ایک کُٹیا میں بیٹھ کر ہی کیوں طے ہوتے ہیں. وہ متبرک مشروب کو پی چکے ہیں تو انھیں کس کا خوف ستاتا ہے۔ وہ کیوں چھپ چھپ کر مافیاؤں کے مثل چیتھڑوں کے اوٹ سے بات کرتے ہیں۔ اگر وہ خدا کا دور ہیں تو ان کا دور کس دور میں ہے؟ لفظ کے بطن میں داخل ہو کر وہ کس دور میں نکل چکے ہیں؟
میرے سچے صاحب! یہ فقط ایک دھندا ہے. لوگ اس دھندے میں اپنے جسموں میں داخل ہوکر جاتے ہیں اور اپنی روحیں بیچ کر آتے ہیں۔ روحیں بیچنے کے بعد ان کا جسم انتہائی ہلکا اور لطیف معلوم ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں گلوخلاصی مل گئی۔ یہ میرا فیصلہ نہیں ہے بلکہ لفظ کا نقطہ نظر ہے جسے آج بھی عرب سمجھتے اور بچاتے آئیں ہیں۔
میرے صاحب!
عالی مرتبت، یہ تو لفظ کے اندرون کی داستان ہے۔
کیا آپ آج چنگھاڑتا ہوا یہ شور سن رہے ہیں. جس کے نتیجے میں ہم اور آپ ایسے چنندہ حسیت کے قائل ہوچکے ہیں کہ ہر شخص کبوتروں کے زیر زمین بنے ہوئے ڈربہ کا ساکن ہوتاجاتا ہے نا اسے شر کی خبر ہوتی ہے اور نا شراروں کی۔وہ تو بس اپنے موضوعہ محسوسہ لفظ کی دنیا میں تیرتا جاتا ہے. کبھی اپنے سر کو پاؤں کی جانب والے حصے تک پہنچا دیتا ہے اور کبھی پاؤں کو سر تک. وہ لفظوں کے بہانے معانی میں روپوش ہونا نہیں چاہتا اور نا ہی معنی کے بہانے لفظوں کے سر و قد سنوارتا ہے۔اسکا مجموعہ اعتقاد؛ اسکی اندھادھند لن ترانیوں کا محض ایک ملغوبہ ہے۔ صاحب میں قسم کھاتی ہوں کہ اس نے ایک لمحہ بھی اپنی تفکیری تعبیرات پر خرچ نہیں کیا، نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہر "تڑی پار” شہری کی قسمت ہوتی ہے نا اسکے پاس کوئی ماں ہوتی ہے جو چیزوں کی تاویل کر سکے نا تعبیرات کی ممتا۔
میرے صاحب.! جی کرتا ہے کہ آپ سے باتیں کرتی جاؤں.. باتیں کرتی جاؤں… اپنی زمین کے واقعات، اپنے دل کی واردات، اپنی روح کی ترجیحات سب ایک طشتری میں سجا کر آپ کے سامنے رکھ دوں۔میرے صاحب! آپ سے ملاقات بہت مہنگی تھی. میرے دل میں جو بستیاں آباد تھیں وہ خرابات میں بدل گئیں۔ جو شہر روشن ہو چکے تھے انھیں ایسی تاریکی لاحق ہوئی کہ واللہ رستہ سجھائی نھیں دیتا۔ تصورات کے سارے مظبوط ہالے آپکی ریشمی باتوں نے توڑ دیئے ہیں ۔ اب آپ یہ نا کہیے گا میں آپ کو تم نا کہوں. جس شخص نے کسی کی دیوانگی کا پورا عہد ختم کردیا اس کی مٹھیوں میں کون سا اسم اعظم چھپا ہوا ہے میں ضرور دیکھوں گی۔۔۔
ہم نے سنا ہے تمہارے یہاں کشکہ کھینچ کر دھونی رمانے والی مخلوق بھی ہے مگر تم دیکھنا صاحب کہ میں نے جو خط رفاقت کھینچی ہے وہ تمھارے نفیس مزاج اور خوبصورت خیالات کے ساتھ تمھیں کھینچ کر لائیں گی، آپ تم ہو جاؤ گے. اور گر بہت قریب ہوئے تو تُو کی چاشنی سے تم پگھل ضرور جاؤ گے۔۔۔
میرے صاحب، میں تمھارے شعور کی بہت زیادہ قدر کرتی ہوں. حیرت کن بینائی کے ساتھ صاف ستھرے خیالات والے انسان کو میں نے اس وقت پہچان لیا تھا جب میں پہلی ملاقات میں تمہارے لئے ہوئے فلافل اور کافی کے پیسے دینے چاہے تھےاور تم نے میرے پرس میں میرے والدین کی تصویر دیکھ کر کہا تھا..
"کجوھرتین بل اغلی "
واللہ میں نے اتنا حساس شخص نھیں دیکھا۔۔
میرے صاحب،
مجھے معلوم ہے تم بھولتے نہیں.. ایک مختصر ملاقات کے درمیان میں نے تم سے جتنی باتیں کیں میرے لئے مخطوطات کی مثل ہو گئیں جو میرے ذہن کے میوزیم میں ترغیب قومی کے نام پہ ہر دم زندہ اور روشن رہتی ہیں۔۔۔
میرے صاحب!
دل نے تمہیں جان لیا
جان ہومیرے جان لوتم
دل میں اب آباد ہو تم
تنہا دل کے واحد شہری
دل کی سچی میقات ہو تم
آؤ آکر لگ جاؤ دل سے
جہاں گھر تمھارا روشن ہے
وہاں جب تم نھیں تب روشنی کا چلمن ہے
اور روشنی، ہاں! تمھاری باتوں کی ہے
اور باتوں سے گھر روشن ہے
غالباً آپ سمجھ رہے ہوں گے میرے ملک کے حالات نے میرے فرار کی راہ اختیار کرنے کے لئے دل کے کواڑ کھولے ہیں تو آپ بالکل غلط ہیں، بلکہ میرے دل کے حالات نے ملک کو فراموش کر دیا ہے حدیں ختم ہو گئیں، سرحدیں اب ملکوں سے نہیں ملتیں بلکہ دل اور دماغ سے ملتی ہیں۔ تہذیب کی بربادی کا معنی ہر گز یہ نہیں کہ وحشتوں کی حکومت مسلّم ہو گئی بلکہ اب وحشتیں مہذب ہوگئیں۔ مجھے آپ کا انتظار ہے آپ کی پیشانی پہ لکھا ہے کہ آپ کو بھی انتظار نامی شئ سے حد درجہ انس ہے۔
میرے لفظوں کے بکھراؤ کا معنی نا نکالیے گا۔ میرے معانی کے انتشار کو کوئی نام نا دیجئے گا۔ جس کی یادداشت سلامت ہے وہ ٹکڑوں میں بھی جئے وہ ٹکڑا نہیں ہوتا۔ آپ دیکھیں گے، آپ ضرور دیکھیں گے کہ اتحاد معجزاتی ہوتا ہےیہ معجزہ خواہ بربادی کی صورت ہو یا آبادی کے….. ٹکڑے کب جسم میں بدل جاتے ہیں اور جسم میں کب روح داخل ہوتی ہے یہ میں جانتی ہوں یا تم.. میرے صاحب!
اگر میرے اس خط کی ترجمانی تم کر سکو تو کر دینا.. آج نھیں تو کل میں تمھارے لفظ کے تجربے سے گذروں گی۔ لفظ کا تجربہ ہی اصل تجربہ ہے۔معانی کے کھیل تو سیدھے راستوں کو بھی منحنی کر دیتے ہیں۔
میرے صاحب!!!
میں تمھاری رفاقت کی مشتاق ہوں اگر دائمی ہو تو فبھا!
میں نے خوابوں کےسارے گھروندے توڑ دئیے ہیں۔خواہ مخواہ ہی وہ معانی کے دروازے وا کرتے ہیں۔
اب تو تمھاری آمد کو عین عید سمجھا جائے گا۔ اب عین عید پہ خوشیوں کی لاٹریاں کُھلیں گی۔میں دل کھول کر ہنسوں گی، ہر دم مسکراؤں گی۔ تمھارے قدموں پہ اپنے سارے ارمان، قیمتی خیالات، سرگوشیوں سے جھانکتی شرم،حیا کی دبیز چادریں بچھا دوں گی میں جانتی ہوں تمھارے لمس میں سنوار دینے کی صلاحیت بدرجہ اتم ہے۔
میرا کمرا، میری کتابیں، الماریاں، قلم، ادھ کھلا روزنامچہ، داوت کی بوتل، یمنی جڑی بوٹیوں سے اگتی سلگتی خوشبو، ابا کی چمکتی زندہ نشانی؛ انکا سگار، سرد موسم اور باہر باورد کاغبار، کھڑکی کا چہک کر کھلنا پھر بند ہونا، پائیں باغ کی دیواروں پہ گولیوں کے ہونق نما نشانات، گھر کے ایک کونے میں چھپا الو کا گھروندا، چھت پر کبوتروں کی خوشیوں سے بھری پھڑپھڑاہٹ کہ وحشت کے اس عہد سے بالکل بیزار، بلب کا ملگجی حصار، بھنّاتی ہوئی مگس کا آخری کنبہ ایک ہلکی امید جگاتے ہیں کہ عہد وحشت پہ مہر لگنی ہی ہے۔ میں خوش ہوں میری وحشت سے جڑا ایک مہذب فرد ہے اور وہ مہذب تُو ہے۔ زناٹا بھرتے جھناکے دم توڑ چکے ہیں۔ سکون اور اطمینان جذب و مسرت کی راہ سے ہوتا ہوا مجھ تک پہونچ چکا ہے، میرا ملجأ، میرا مداوا مجھے مل چکا ہے۔ انتظار خوش آئند ہے۔ تکلیف اور تعذیب وقتی ہے،یہ نا قسمت چرا سکتی ہیں نا جرأت میں چپہ لگا سکتی ہیں۔

زینب العریفی

پہلی قسط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں!
ایک ملاقات
ڈاکٹر سعد احمد
Latest posts by ڈاکٹر سعد احمد (see all)

ڈاکٹر سعد احمد

Dr. Saad Ahmad received his PhD degree from Jawaharlal Nehru University, New Delhi. Currently he is working at Jamia Millia Islamia, New Delhi. Apart from this, he is a part of Madrasa Discourses, a project under Contending Modernities, University of Notre Dame, Notre Dame. He was trained in disciplines such as political science and International relations. His primary interests are philosophy, religious studies and media studies. He writes for different blogs, websites in Urdu and English.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے