جامعہ تیرے جذبے کو سلام!

Spread the love


ابھے کمار
[email protected]

(یہ مضمون 19 دسمبر 2019 کو انقلاب میں چھپ چکا ہے)

چوٹ بھلے ہی آپ پر کی گئی ہو، مگر درد ہر طرف محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا دن دیکھنے کو مل رہا ہے جب تعلیم کے ادارے خون سے لت پت ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور آسام کے بہت ساری درس گاہیں بھی پولیس کی زیادتی کے شکار ہیں۔ شہریت ترمیمی بل، جو اب قانون بن گیا ہے، بلا شبہ ایک کالا قانون ہے۔ اس کے خلاف آواز بلند کر آپ نے ملک کو ایک نئی قیادت دی ہے۔ فرقہ پرست جو بھی افواہ پھیلائیں، آپ سب ہی سچے دیش بھکت اور محب وطن ہیں۔
ہندوتوا کے نظریہ ساز وی ڈی ساورکر نے اپنی پوری زندگی وطن پر مبنی شہریت کی مخالفت کی۔ وہ چاہتے تھے کہ قوم اور شہریت کی بنیاد نسل (race)، ثقافت (culture) اور تاریخی تعلقات (historical affinities) ہو۔ یہ ایک بڑا خطرناک نظریہ تھا، جو شہریوں کو آپس میں بانٹ دیتا۔ خیال رہے کہ ساورکر نے اپنی تحریر میں مذہب یا دھرم کا نام نہیں لیا مگر اصل میں وہ بات دھرم اور مذہب کی ہی کر رہے ہوتے تھے۔ شہریت دینے کی جو سیکولر بنیاد ہوتی ہے، اس کو وہ ختم کرکے ہندو نسل کو لانا چاہتے تھے۔ ہندو نسل بھارتی قوم کی بنیاد بنے، ایسا وہ چاہتے تھے۔ انہوں نے مسلمان اور عیسائی کو ہندو نسل سے الگ رکھا تھا کیوں کہ اُن کے مقدس مقامات بھارت سے باہر ہیں۔ شہریت ترمیمی بل کو لا کر مودی حکومت اپنے نظریہ ساز کے اسی فرقہ پرست نظریہ کو ہم پر تھوپ رہی ہے اور سیکولرزم اور ہندوستانی آئین کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ آپ نے اس کالے بل کے زہر کو سمجھ لیا اور اس کے خلاف آواز بلند کی۔ صحیح معنوں میں جامعہ، علی گڑھ، جے این یو، آسام کی یونیورسٹیاں آج ملک کی سچی اپوزیشن ہیں۔ ملک کے مظلوم عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آپ کے لیے دعا بھی کر رہے ہیں۔
آپ کے احتجاج نے ارباب اقتدار کو بھر یاد دلایا کہ یہ ملک نہ تو صرف ہندوؤں کا ہے اور نہ صرف مسلمانوں کا ہے۔ ملک کے ہر خطے میں رہنے والا ہندوستانی، خواہ وہ کسی دھرم کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو، سب آئین اور قانون کی نظر میں برابر ہے۔ مودی سرکار آئین کے اسی بنیادی ڈھانچہ کو شہریت ترمیمی قانون سے بدلنا چاہتی ہے۔ مگر یہ بات مودی سرکار فراموش کر بیٹھی ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ہے کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو کسی بھی حال میں نہیں بدلا جا سکتا۔ آپ کی تحریک نے ان باتوں کو صحیح سمت میں رکھیں، جو آپ کی دانشوری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آپ کے نعروں نے فرقہ پرستوں کو پھر سے یاد دلایا ہے کہ ہندوستان کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے ملک کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔ آپ نے یہ زور دے کر کہا کہ آپ کی لڑائی کسی مذہب یا فرقے کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ بھارت جیسے ایک خوبصورت گل دستے کو بچانے کی ہے۔ آپ نے جامعہ کی تاریخ یاد دلائی، جس نے ایسے مجاہد آزادی دئیے جنہوں نےانگریزوں سے لڑ کے ملک کو آزاد کروایا۔ یہ سرزمین جتنی ذاکر حسین کی ہے، اتنی ہی گاندھی کی ہے۔ اس کا قیام ہی قومی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے تھا۔ آپ اسی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے دیسی انگریزوں سے مقابلہ کر رہے ہیں اور یہاں کی آزادی پر چھائے فرقہ پرستی کے اندھیرے سے لڑ رہے ہیں۔
امید ہے کہ آپ کی تحریک ایسے ہی پر امن طریقے سے جاری رہے گی۔ مجھے یقین ہے آپ گھاس کی مانند ہر ظلم اور زیادتی کے بعد اُگ آئیں گے۔آپ گھاس کے جیسے نازک بھلے ہی معلوم پڑتے ہوں، مگر آپ کے اندر طاقت بڑے بڑے درخت سے بھی زیادہ ہے۔ بڑے بڑے درخت زلزلے اور سیلاب کے شکار ہو جاتے ہیں اور گرمی میں سوکھ جاتے ہیں، مگر گھاس پھر بھی اپنی ہمت نہیں کھوتا۔آپ غیر معمولی اور غیر موافق حالات میں بھی زندگی کے گیت گاتے رہتے ہیں۔ آپ نے جینے کا پاٹھ ہمیں پڑھایا ہے اور یہ درس دیا ہے کہ زندگی مزاحمت کا ہی دوسرا نام ہے۔
آپ کے اوپر پولیس نے جو بھی زیادتیاں کی اس کو کبھی بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ سرکار کے اشاروں پر جس طرح وہ جامعہ کے کیمپس میں داخل ہوئی وہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی سرکار لاٹھی اور گولی کی سرکار بن گئی ہے۔ پولیس بغیر جامعہ انتظامیہ سے اجازت لئے کیمپس کے اندر گھس کر بچوں پر لاٹھیاں برسانے لگتی ہے۔ یہی نہیں باتھ روم اور لائبرری میں داخل ہو کر انہیں مارتی ہے۔ لائبریری کے اندر پولیس نے نہ صرف توڑ پھوڑ کی، بلکہ مظاہرہ کر رہے طالبات پر وار بھی کیا۔ یہی نہیں کیمپس سے بچوں کو ہاتھ اوپر کروا کے باہر لایا گیا اور ان سے سڑکوں پر پریڈ کروایا گیا۔ یہ سارے منظر دل دہلا دینے والے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ دوسرا ہاشم پورہ ہونے جا رہا ہے۔ خبر تو یہ بھی آ رہی ہے کہ پولیس نے خود سرکاری بس میں آگ لگائی تھی تاکہ آپ کو بد نام کیا جا سکے۔ آپ کے اوپر پولیس نے جو ظلم کیا وہ تو سمجھا جا سکتا ہے، مگر پولیس کے ساتھ کچھ فرقہ پرست بھی ڈنڈے لے کر گھوم رہے تھے اور اپنی درندگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔یہ سب دیکھ کر پورا ملک سو گوار ہے اور آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ جب زیادتی اس قدر ہو تو صبر اور تحمل کی بات کرنا کبھی کبھی اچھا نہیں لگتا۔ آخر آپ بھی تو انسان ہی ہیں اور آپ کا دل بھی تو یہ سب دیکھ کر مجروح ہوا ہے ہوگا؟
پولیس کی زیادتیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، مگر میرے دوست وقت کا یہ تقاضا ہے کہ احتجاج کے دوران بھی صبر اور تحمل کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ جذبات کی رو میں بہہ جانے سے فرقہ پرستوں کا کھیل آسان ہو جاتا ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اپنے صفوں کو مزید مضبوط کیجئے۔ پورا ہندوستان آپ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جو لوگ آپ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ فرقہ پرستی کے زہر کے اثر میں اپنا ہوش گوا بیٹھے ہیں۔ اُن کی باتوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ایسا اس لیے کہہ رہے ہیں کہ وہ ہم دھیرے دھیرے ہم سے دور چلے گئے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی سے ہم نے مکالمہ کرنا کم کر دیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے پوچھا ہے کہ آپ کیسے ہیں؟ فرقوں کے درمیان سکڑتی آپسی رابطوں اور سیکولر جماعتوں کی سستی کی وجہ سے ہمارے بہت سارے ساتھی بھگوا کیمپ میں چلے گئے ہیں۔آج ضرورت ہے کہ اُن تک بھی پہنچا جائے اور اُن کو سچ بتلایا جائے۔
اتوار کی شام جیسے ہی خبر آئی کہ جامعہ کے بعض طلبہ کو پولیس نے اٹھا لیا ہے ویسے ہی جے این یو کے طلبہ دلّی پولیس ہیڈکوارٹر آئی ٹی او کی طرف روانہ ہو گئے۔ آپ کو بتا دوں کہ وہاں پہنچنے والے طلبہ میں سے بہتیروں نے اپنا ڈنر چھوڑ دیا اور پیدل آئی ٹی او کی طرف بھاگنے لگے کیونکہ پولیس نے میٹرو بند کروا دیا تھا اور آٹو کو روک کر واپس بھگا رہے تھے۔
پھر بھی جے این یو کے طلباء وہاں ہزاروں کی تعداد میں پہنچے اور اور رات بھر احتجاج کرتے رہے۔ اس وقت سرد بہت زیادہ پڑ رہی تھی، تیز ہوا کپڑوں کو چیر کر اندر داخل ہو جا رہی تھی، مگر اُن کے دلوں سے اٹھنے والی آوازیں بالکل گرم تھیں-احتجاج کرنے والوں میں سارے مذہب کے لوگ تھے۔ وہ بھی تھے جو مذہب کو نہیں مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کالے قانون کو فرقہ ورانہ رنگ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ مودی بھلے ہی بیان دے کہ شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ایک خاص قسم کے پوشاک میں ہیں، مگر وہ اگر اس وقت دلّی پولیس ہیڈکوارٹر ہوتے، تو ان کو معلوم ہوتا کہ ہر پوشاک والے اس کی مخالفت کر رہے تھے۔
اُمید ہے کہ آپ کی تحریک پہلے کی طرح پر امن بنی رہے گی، خواہ آپ کو جتنا بھی اکسانے کی کوشش کی جائے، آپ کوئی جذباتی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ نام نہاد موقع پرست لیڈروں سے بھی اس تحریک کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے صفوں کو بھی بڑا کرنا ہے اور اپنی باتوں کو سب تک ہر زبان میں پہونچانی ہوگی۔ مجھے معلوم ہے آپ ایسا کر رہے ہیں۔ ملک کی سیکولرزم، گنگا جمنی تہذیب، اور مشترکہ قومیت کے آپ محافظ ہیں۔آپ اپنا خیال رکھیں اور جاتے جاتے آپ کے جذبے کو سلام کرنا چاہتا ہوں۔
(مضمون نگار نے حال ہی میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے مطالعات برائے تاریخ میں اپنی پی.ایچ.ڈی جمع کی ہے۔)

(Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے