یہ وقت بھی کیسی کیسی بوتلیں پی گیا!

Spread the love


ڈاکٹر سعد احمد
علم و عمل والوں کی محفل ہو اور پینے پلانے کا ذکر نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ پینے پلانے کا کاروبار صرف جام اور میخانے تک ہی محدود نہیں بلکہ اور جگہوں میں بھی ہے۔ مثال کے طور سے ہمارے استادوں میں ایسے لوگوں کی لمبی فہرست ہے جو لائبریریاں پی جانے کے لئے مشہور ہیں ، ان کےشاگرد بھی ہیں جنہوں نے ان کی روایت کو باقی رکھا اور پینے پلانے کا سلسلہ بند نہیں ہونے دیا ۔ کچھ علم سے شغف رکھنے والےاور مدرسہ پلانٹ چلانے والے بھی ہیں جو لائبریریاں پی چکے ہیں تو پکے نشیڑی بھی ہیں جو اپنی اس لت کی وجہ سے کہیں عزت وصولتے ہیں تو کہیں سے عزت افزائی ۔ انہیں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی شخصیت کا نشہ مصاحب پہ خوب رہتا ہے اور وہ بھی ہیں جن کی علمیت کے نشہ کے سامنے لوگ ہاتھ جوڑ لیتے ہیں۔ایک بڑاطبقہ کثرت سے مطالعہ کرنے کا خوگر ہے تو اس سے زیادہ بڑے طبقے کو "کثیر التصانیف” مصنف بننے کا جنون ہے۔ کوئی صدر الصدور اور صاحب اسٹیج ہونے سے کم پہ راضی نہیں ہوتا تو کسی کو ہر علمی محفل کا نورچشمی کہلانے کا خبط ہے۔ یہ سب ایک طور کے نشہ میں مبتلا ہیں جن پہ انگلی اٹھانے والے نہ ہم کوئی برخوردار ہیں اور نہ آپ کوئی علمبردار۔ ہم بھی کوئی مزار عشق کی جانب رہنمائی کرنے والے تیر تو ہیں نہیں جوکبھی کسی کو جا لگیں اور کبھی کسی پہ برس پڑیں۔ ہم بس بوتلیں ہیں جنہیں ہم سے بڑا نشیڑھی ایک دن پی جائے گا اور ہتھیلی پہ سرسوں جیسے ہمارے قصے لوگوں کی زبان پر بس کچھ عرصے کے لئے رہ جائیں گے۔
شعر و سخن کی خوبصورت مجلس ہو اور مدح و سرائی کرنے والے موجود نہ ہوں تو بھئی مجلس اٹپٹی لگتی ہے۔اگر مثنوی کہی جاری ہو اور رقص وجود پیش کرنے والے کوئی مولانا رومی نہ ہوں تو رقص، وجود اور ثنا خوانی کے ہزاروں انداز پہ تُف اور ہزار تُف۔ علم و معرفت کا غَلغلہ ہو، عقل و فلسفہ کا غُل غپاڑہ ہو، برہان و ایقان کی ادھم بازی ہو اور کوئی علامہ امام غزالی نہ ہوں تو بعید نہیں کہ علم و معرفت ، عقل و فلسفہ ، برہان و یقین کو کوئی وہم کب پی جائے۔خرد کی کل کمائی محض خبریں ہی تو ہیں، اخبار کا مکان عقل اول ہی تو ہے اور عقل ایک عدد سر اور اسمیں موجود غدود ایک کائناتی نوعیت کی یادداشتوں کو سنبھالے ہوئے بھی تو ہے۔ ایسے میں اگر ارسطاطالیسی حکمتیں اور دینیاتی تصور کو مہمیز دینے والےکوئی فہامہ امام ابن رشد نہ ہوں تو بھئی عقل کے نظام کو درہم برہم ہونے میں، اجتہاد اورمتبرّک کلام کے درمیان رشتہ کے خاتمے میں ، دنیوی اور محض دنیوی کی اصلاح اور اصطلاح کی بدعتوں کی نیکی اکارت جانے میں ایک لمحہ بھی نہ لگے۔ اگر کچھ سمجھ لینے کی کوشش کی جارہی ہو، کچھ کہہ دینے کی جرات بٹوری جارہی ہو اور خواب کے خواب پہ تعیبرات کی چھتریاں راہ بھٹک جانے والوں کو تھوڑا سا سایہ دیئے دے رہی ہوں اور ان سائے کو ایک وجہ دینے والے، کوئی سیدھی لکیر ڈھونڈنے والے شیخِ کبیر امام ابن عربی نہ ہوں تو قرین قیاس ہے علماء کا ایک بہت بڑاکنبہ تقلید کے دلدلوں میں دھنستا چلا جائے، اور علم کا کاروبار بند ہوجائے۔ عقل کے نشہ اور وجود کے نشہ کی کُشتیوں کا باڑہ سجانے والے اور جسم و خیال کے سرور اور مزۂ زیست کو نظر و ملاحظہ کے پیمانے پہ رکھ کر انہیں عقل کی دشنہ مزاج موضوعیت سے دھار لگانے والے کوئی فلسفی حکیم باوا بو علی سینا نہ ہوں تو شعور کی اٹھکیلیوں کو غیاب کی تدبیریں نہ سوجھیں، اور وحی و الہام کا نرم و نازک لاجسمیت کا احساس عقل کے دل میں کبھی نہ دھڑکے۔ یہ جو دل ہے یہی تو جائے پناہ ہےـ "خود” کی بھی اور "خدا” کی بھی۔ نقل کے تابع عقل ہے یعنی یہ وہ دل ہے جو فہم و تفہیم کا انجن ہے ۔ یہ وہ زمین ہے جس پر نور کی بارش ہوتی ہے اور سوندھی سوندھی خوشبو بھی نور کی ہی آتی ہے۔ ایسے میں کوئی دل کامحافظ یعنی نقل کے سمجھدار مرتے دم تک جوان رعنا امام ابن تیمیہ نہ ہوں تو دل مردہ ہوجائے ؛نقل کا تابوت فقط سکون کے احساس کے لئے کھولا اور بند کیا جائے۔ ان سب کے باوجود، ہائے رے افیمچی وقت جس نے ان سبھوں کو نادر شراب کی بوتلوں کی طرح پی لیا۔ مگر پھر بھی۔۔۔ بے چارہ ان کے نشہ سے تقریبا لاعلم انہیں ہضم نہ کر سکا۔ ان کا نشہ ان کی فکری ،ذہنی کاروائیاں تھیں جوآج تک ہمارے پاس محفوظ ہیں ۔ ان کی وجہ سے ہم اپنی تہذیبی ، دینیاتی، تزکیاتی اور تأملاتی کاروائیوں کو محفوظ کر سکے ۔ ان کےقصے ہاتھ کی لکیروں میں بس کر ایک لمبے عرصے تک لوگوں کی زبان پہ رہے، مگر لکیریں تو مٹ ہی جاتی ہیں چاہے ہاتھ کی ہوں یا قسمت کی۔
سخنوران اپنے زور پہ ہوں ، وہ کچھ کہتے ہوں یا کچھ کہہ رہے ہوں تو سامعین، قارئین اور شارحین پہ لازم ہے کہ وہ سخن فہمی کی روایت پہ بٹہ لگائیں یا نہ لگائیں مگر سخنوران سے دل ضرور لگائیں۔خیر سے یہ بھی جان لیں کہ سخن ِنو اور سخن مُو میں کچھ تو فرق ہے۔ لہذا ،بال اور بات کے فرق سےآپ واقف ہیں تو کیوں نہ ایک اور کہانی چھیڑی جائے۔آپ کہیں گے یہ کس قسم کی بات کہی جارہی ہے اور کس مُہانے پہ قاری نامی مہمان کو انتظار کرایا جا رہا ہے۔ جو بھی کہناہے سیدھے سادے لفظوں میں کیوں نہیں کہا جاتا۔ اچھا ، کہیں آپ ناراض ہی نہ ہو جائیں جب یہ کہا جائے گا کہ وقت کی کمینگی مسلّم ہے ۔ اس کی چاہے جتنی عزت کی جائے، اس کے احترام میں چاہے جتنی دیر کھڑا بیٹھا یا سہم کر رہا جائے وہ اپنی رعایا کے ہر ایک فرد کو کھا ہی جاتا ہے۔ وہ ان تمام لوگوں کو نگل ہی جاتا ہے جو سانسوں کے کاروبار میں اپنے اپنے جسم کی آڑھت چلاتے ہیں۔ وہ ظالم ہے، و ہ رحم نہیں کھاتا۔ وہ بےمروت ہے ۔ وہ نشہ باز ہے۔ وہ نشیڑھی ہے جسکے حلق میں جب تک روح نامی مشروب نہ انڈیلا جائے وہ ندیدی آنکھوں سے ہر جسم کو تکتا رہتا ہے۔ ہر وہ بوتل جس کے اندر جان ہے اسے وہ پی جانے کے فراق میں لگا رہتا ہے۔ وہ کس قدر کمتر ، گھٹیا ہے جو کسی کو بھی مہلت نہیں دیتا۔وہ کتنا بُراغُنڈہ مافیا ہے جو محلے کے ہر شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ وہ کتنا خطرناک خائن ہے جو ہر مسکین کی چھٹانک بھر جان ، اس کی امان اس کے جسم سے کھینچ لیتا ہے۔
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بوتل کے اندر کے مشروب سے شاید ہی کسی کو نشہ چڑھتا ہو ، نشہ تو چڑھتا ہے ان رگوں اور شریانوں میں موجود حسیت سے جو سخن یاران رفتہ اور سخنورانِ عہد گرفتہ کہتے اور سناتے ہیں۔ نشہ تو چڑھتا ہے ان سوکھی روٹیوں سے جسے کھا کر ایک مولٰی الہی ملت کا فرد اور مولائیوں کا وفادار بنتا ہے۔حساس ذہن و دماغ کو جن اشیاء سے، جن کی دید سے ، جن کی اُٹھان اور چڑھان سے نشہ چڑھتا ہے وہ چیزیں حساس جسم اور جذبات والوں کے لئے کسی کام کی نہیں۔ خاطرخواہ جسم اور جذبات والے تو تقریباایک عدد داروکی بوتل میں ٹلّی ہوجاتے ہیں یا خواہش کی بھٹّی پہ بُھن جاتے ہیں، مگر حساس ذہن کی بوتلیں کچھ اور طور کی ہوتی ہیں، کسی اور برانڈ کی ہوتی ہیں۔ جبھی تو وقت جیسا نشیڑھی بھی ان بوتلوں کو چڑھا کر ہضم نہیں کر پاتا۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ وقت سے بڑا کوئی نشیڑھی نہیں جو بڑے بڑے سُٹّے بازوں اور ٹُھلّوں کو پل میں ٹکیلا کے چھوٹے پیگ کی طرح شڑاپ کر جائے تو آپ یہ نہ کہیں کہ خبردار؛وقت کی جبروتی قوت دراصل خدائی ہے اسےکوئی کچھ نہ کہے۔ یہ الگ بات ہے اگر وہ کسی کو ہضم کر سکے یا نہیں مگر فطرتا تو وہ کم ظرف ہے ہی ۔ جبھی تو وہ ہر بوتل کو پی جاتا ہے چاہے اس میں نشہ ہو یا نہ ہو۔یقینا وہ ہمیں بھی پی جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اورآپ کو بھی۔

ڈاکٹر سعد احمد
Latest posts by ڈاکٹر سعد احمد (see all)

ڈاکٹر سعد احمد

Dr. Saad Ahmad received his PhD degree from Jawaharlal Nehru University, New Delhi. Currently he is working at Jamia Millia Islamia, New Delhi. Apart from this, he is a part of Madrasa Discourses, a project under Contending Modernities, University of Notre Dame, Notre Dame. He was trained in disciplines such as political science and International relations. His primary interests are philosophy, religious studies and media studies. He writes for different blogs, websites in Urdu and English.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے