رام دیو: تمہیں بابا کہوں یا سنگھی؟

Spread the love


ابھے کمار
[email protected]
یوگ گرو اور تاجر بابا رام دیو آج کل پھر تنازعات میں ہیں۔ جیسے ہی سپریم کورٹ نے بابری مسجد – رام جنم بھومی کیس پر فیصلہ سنایا ویسے ہی یہ تنازعہ سامنے آیا۔ کورٹ کا فیصلہ آیا کہ متنازعہ زمین پر رام مندر بنایا جائے اور مسجد کے لیے جگہ کہیں اور دی جائے گی۔ اس فیصلے نے بہت سارے لوگوں کو مایوس کی، اس میں اسدالدین اویسی بھی شامل تھے۔ اویسی نے اوروں کے طرح اپنی رائے پریس کے سامنے رکھی اور پھر بابا رام دیو اویسی کی "اوقات” بتانے کے لیے میڈیا کے سامنے نمودار ہوگئے۔
اویسی ہی کیا تمام انصاف پسند اور سیکولر لوگوں میں اس بات کا دُکھ ہے کہ اقلیتوں کے ایک قدیم عبادت گاہ کو دن کے اجالے میں منہدم کر دیا گیا اور رام کے نام پر ہزاروں لوگوں کا خون بہایا گیا۔ جب کورٹ کا فیصلہ آیا تو ان سوالوں پر خاموشی اختیار کر لی گئی اور جن کی عبادت گاہ کو توڑا گیا اُن کو کہیں اور جانے کو کہا گیا۔ یہ سوالات صرف اویسی کے ہی نہیں ہیں، مگر ٹارگیٹ پر اویسی تھے۔ آخر اس کی بڑی وجہ ان کا ایک خاص مذہب میں پیدا ہونا تو نہیں تھا؟
بابا رام دیو میڈیا کے سامنے آ پہنچے۔ انٹرویو لینے والا کوئی اور نہیں بلکہ ریپبلک چینل کا مدیر اعلیٰ اور مودی حامی ارنب گوسوامی تھا۔ ۹۰ منٹ چلے اس انٹرویو میں بابا رام دیو نے وہ باتیں کہہ ڈالیں جو ایک صحت مند جمہوریت میں قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ انٹرویو کے دوران بابا رام دیو کہیں سے بھی ایک ہندو پیشوا نظر نہیں آ رہے تھے۔ نہ ہی ان کے الفاظ ایک روحانی لیڈر کے تھے۔ نہ ہی ان کا انداز ایک بابا اور سادھو کا تھا۔ در اصل وہ ایک پکے آر ایس ایس کے کیڈر کی زبان بول رہے تھے، جس سے صرف اور صرف ہندوتو کا زہر نکل رہا تھا۔
اویسی پر جارحانہ حملے کرتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا کہ وہ "نفرت” کی سیاست کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اویسی کو ملک کو توڑنے والوں کا "سرغنہ” کہا۔
اویسی پر حملے آر ایس ایس ایک منصوبہ کے تحت کرتا ہے۔ اُن کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اویسی کا خوف ہندوؤں کو دکھلایا جائے اور کہا جائے کہ ملک میں ایک اور "جناح” موجود ہے جو ملک اور ہندوؤں کی ترقی کا مخالف ہے۔ بابا رام دیو اویسی کو نفرت کی سیاست کرنے والا بتلا کر آر ایس ایس کی پوزیشن کو دوہرا رہے تھے۔
اگر بابا رام دیو ایک ہندو پیشوا ہوتے اور آر ایس ایس کے کیڈر نہیں ہوتے تو وہ یہ بھی سوال اٹھاتے کہ آخر جن لوگوں نے بھگوان رام کے نام پر سیاست کی اُن لوگوں نے ملک سے نفرت ختم کیا یا پھر نفرت کی کھیتی کی؟ آخر اتنے لمبے وقت تک مندر مسجد کے فساد کو ابھار کر کیا حاصل ہو گیا؟ بابا رام دیو جس آر ایس ایس کی سرکار کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے تھے اس کی کیا تاریخ رہی ہے؟
اگر بابا رام دیو میں تھوڑی بھی ایمانداری ہوتی تو وہ اس پر بھی بات کرتے ملک کی آزادی میں آر ایس ایس کا کیا رول رہا ہے؟ ملک کو متحد کرنے میں بھگوا طاقتوں نے کیا قربانی دی ہے؟ کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے ہندوتو طاقتوں نے کیا کیا ہے؟ ہندو کوڈ بل اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا نے کون سا مثبت قدم اٹھایا ہے؟ آخر ملک کی فکر کس کو ہے؟
بابا رام دیو کو ان سوالوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اُن کا مقصد تھا کہ مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے ناقدین کو ملک مخالف اور غدار ثابت کیا جائے۔ اویسی کو ٹارگٹ کرنا اسی گیم پلان کا حصہ ہے۔ کانگریس، لیفٹ، دلت، آدی واسی اور پسماندہ ذاتوں کی تحریک کو بھی خارج کرنا اسی سازش کا حصہ ہے۔
آر ایس ایس کی مسلم مخالف ایجنڈا کا یہ حصہ رہا ہے کہ اُن کی طاقتور سیاسی قیادت کو بد نام کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ فلاں مسلم لیڈر، فلان مسلم جماعت ملک کے وکاس میں رکاوٹ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک کے مسلمان کبھی ہندو تھے اور اُن کا خون ایک ہے۔ بابا رام دیو کی ہوشیاری دیکھیے کہ انہیں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے خون اور ڈی این اے کو ایک بتایا مگر یہ نہیں کہا کہ جب ہندو اور مسلمان ایک ہیں تو ان کے ساتھ ایک سا سلوک کیوں نہیں برتا جاتا۔ آخر کیوں بی جے پی مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیتی اور جب دوسری پارٹی ان کو کچھ سیٹیں دے بھی دیتی ہیں تو اسے مسلم اپیزمنٹ کہہ کر ہنگامہ کھڑا کرتی ہے۔ آخر کیوں مودی کی حکومت میں مسلم ایم پی ندارد ہیں؟ آخر کیوں مسلمانوں کے خلاف حملے اور متعصبانہ پالیسی پر سرکار خاموش رہتی ہے؟
آخر کیوں انہیں ہندوستانی سماج کا حصہ نہیں سمجھا جاتا ہے؟
پسماندہ سماج سے آنے والے کچھ لوگوں کو یہ خوش فہمی تھی کہ بابا رام دیو پسماندہ سماج میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کے مفادات کا تحفظ ہر حال میں کریں گے۔ مگر اب کوئی شک کی گنجائش نہیں رہی اور سب کچھ سامنے آ گیا۔ مذکورہ انٹرویو میں بابا رام دیو نے دلتوں اور پسماندہ ذاتوں کو بھی ٹارگیٹ کیا اور آر ایس ایس کی ترجمانی کی۔ مودی بھی پسماندہ سماج سے آتے ہیں اور انتخابی ریلی میں ووٹ کی خاطر اس بات کا ذکر بھی کرتے ہیں مگر آر ایس ایس کا موقف بلکل نہیں بدلا ہے۔ بابا رام دیو نے جب کہا کہ امبیڈکر اور پیریار کے حمایتی اور پیروکار نظریاتی دہشت گردوں کو فروغ دے رہے ہیں تو وہ آر ایس ایس کے دل کی دبی باتوں کو بول رہے تھے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے مودی سرکار سے اپیل کی کہ سرکار ایک ایسا قانون لائے، جس سے ان نظریات پر پابندی لگائی جا سکے۔ افسوس کی بات ہے کہ بابا رام دیو امبیڈکر اور پیریار کے مساوات، سماجی انصاف اور اخوت کے نظریے پر پابندی لگانے کی وکالت کرنے رہے ہیں، جو اُن کے سماج کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو نجات کا راستہ دکھلاتا ہے۔
آر ایس ایس کے دیگر ناقدین بھی بابا رام دیو کے نشانے پر تھے۔ جے این یو کا نام لیے بغیر اُسے ٹکڑے ٹکڑے گینگ کہہ کر مذاق اڑایا گیا اور ان کی آزادی کو ختم کرنے کی وکالت کی گئی۔ لیفٹ پر حملہ کرتے ہوئے انہیں نے کہا کہ مارکس، لینن اور ماؤ کے نظریات بھی ملک کے لیے خطرہ ہے کیوں کہ یہ سب باہر کی آئیڈیالوجی ہے، جس کی ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ بےحد تشویشناک بات ہے کہ رام دیو اور آرایس ایس اُن تمام نظریات کو ختم کرنا چاہتی ہے جو اُن کے ساتھ متفق نہیں ہیں۔ ۔ یہ بھی بےچینی کا سبب ہے کہ سیکولرزم پر سرے عام حملہ کیا جا رہا ہے اور ہندو رشٹر کی تائید کی جا رہی ہے۔ یہ سب رجحانات ملک کی جمہوریت کے لیے کافی خطرناک ہے۔
(مضمون نگار نے حال ہی میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے مطالعات برائے تاریخ میں اپنی پی.ایچ.ڈی جمع کی ہے۔)

(Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے