رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر دشنام طرازی اور ہمارا رویہ

Spread the love


ثناءاللہ صادق تیمی
(اسسٹنٹ پروفیسر، جامعۃ الامام محمد بن سعود، سعودی عرب)

کملیش تیواری کے قتل کے بعد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو ایک مرتبہ پھر سے سب و شتم کا نشانہ بنانے کی کوشش ہوئی ۔ حق وصداقت اور محبت و رواداری کے دشمن مختلف پلیٹ فارم سے غلط سلط اور اشتعال انگیز مواد شائع کرنے لگےاور اس بات کا اندیشہ ہونے لگا کہ مسلمان کہیں رد عمل میں آکر کوئی غلطی نہ کربیٹھیں ۔ کملیش تیواری کے قتل کے بعد پولیس نے جیسا کہ امید تھی کئی مسلمانوں کو پکڑ لیا ہے اور یہی دلیل دی گئی ہے کہ چوں کہ کملیش تیواری نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی ، اسی لیے ان مسلمانوں نے ہی اسے قتل کیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کملیش تیواری کے اہل خانہ ماں اور بیٹے پولیس کے اس بیانیہ کے برعکس یہ مانتے ہیں کہ قتل کے پیچھے یوگی حکومت کا ہاتھ ہے ۔ خیر یہ حقیقت آج نہ کل تو کھل ہی جائے گی لیکن اس موقع سے مسلمانوں نے جس دانشمندی کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف اور ملت کی سوچ میں آنے والی زبردست اور بڑی تعمیری تبدیلی کی غماز ہے ۔
ٹویٹر اور دوسرے سماجی ذرائع ابلاغ پر مسلمانوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو انگریزی اور ہندی میں پیش کرنا شروع کیا ۔ ہیش ٹیگ The prophet of Compassion دیکھتے دیکھتے سب سے پہلے نمبر پر ٹرینڈ کرنے لگا اور نفرت کےسوداگروں کی ساری سازش ناکام ہوکر رہ گئی ۔ بہت سے غیر مسلم بھائیوں تک رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعلیم پہنچی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے انہیں متعارف ہونے کا موقع ملا ۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے گواہی دی کہ یہ نفرت پر محبت کی فتح ہے ۔انہوں نےتسلیم کیا کہ ایک غلط واقعے کو مسلمانوں نے ایک صحیح سمت دے دیا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور ان کے پیغام سے ہم لوگوں کو روشناس ہونے کا موقع فراہم کیا ۔
اپنے آپ میں یہ بڑا واقعہ ہے ۔ ہمارے اندر آنے والی بہتر او رتعمیری تبدیلی کا اشاریہ ہے اور ان شاءاللہ یہ تعمیری پیش رفت جاری رہے گی ۔
اس موقع سے چند باتیں سمجھنی بہت ضروری ہے ۔
1 ۔ دنیا کی بڑی تعداد ایسی ہے جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ناواقف ہے ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے دینی پشواؤں کی طرح ایک دینی پیشوا سمجھ کر در خو راعتناء نہیں سمجھتے ، ایسے واقعات جب رونما ہوتے ہیں تو ان کے اندر بھی جاننے کی للک پیدا ہوتی ہے ، اب اگر ہم سلیقے سے ان تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور پیغام کو پہنچا سکیں تو بروقت انہیں صحیح معلومات مل سکتی ہے ۔
2 ۔ ان مواقع سے اگر یہی دانشورانہ رویہ اپنایا گیا تو دشمن کو سوائے حسرت و ناکامی کے اور کچھ ہاتھ نہیں لگے گا اور وہ اس قسم کی غلطی کرنے سے گریز کریں گے یوں یہ ایک طرح سے انہیں گالی گلوج اور گستاخیوں سے روکنے کا وسیلہ بھی ثابت ہوگا ۔
3 ۔ ان حادثات کو مواقع میں تبدیل کرکے اگر ہم سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی گئی کوئی مستند اور معتبر کتاب غیر مسلموں کو بطور تحفہ پیش کرسکیں تو یہ ایک اور اچھی بات ہوگی ۔ ہم ایک مشن اور ایک مہم کے طور پر اسے انجام دےسکتے ہیں اور ان شاءاللہ اس کے بہت اچھے نتائج رونما ہوں گے ۔
4 ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ اگر ہم عملا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں خود کو ڈھال لیں اور عملی نمونہ بن کر لوگوں کے سامنےآئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ اپنا رویہ بدلنے پر مجبور نہ ہوں ۔
اس سلسلے میں ان امور پر توجہ دینا ضروری ہے :
ا ۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا خلاصہ صرف ایک اللہ کی عبادت اور انسانوں کے ساتھ حسن سلوک ہے بلفظ دیگر اللہ کی عبادت اور اللہ کے بندوں سے ہمدردی ، محبت اور ان کے کام آنے کا رشتہ ۔ اگر ہم عملا اسے برت سکیں تو بہت اچھی بات ہو ۔
ب ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کریمانہ کے پیکر تھے ، آپ پر شدید ترین دشمن نے بھی کبھی جھوٹ ، بدعہدی ، فریب اور دھوکے کا الزام نہیں رکھا ۔ ہم عہد کریں کہ ہم بھی خود کو انہیں اخلاق کا عملی نمونہ بنائیں گے ۔
ج ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماج کا فائدہ ہوتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیواؤں ، مسکینوں ، غریبوں اور لاچاروں کے بطور خاص مسیحا تھے ، ہم بھی خود کو سماج کا ایک مفید عنصر بنائیں گے ۔
د ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کی اہمیت بتائی ، آپ نےطہارت و نظافت کی تعلیم دی ، طہارت کو شطر الایمان قراردیا ۔ ہم شجرکاری مہم چلائیں ، صفائی ستھرائی مہم چلائیں اور دنیا پر واضح کریں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات انسانیت کے لیے کس قدر اہم او رضروری ہیں ۔
س ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کی اہمیت بتائی ، آپ نے پانی کے سلسلے میں بھی اسراف سے منع کیا ۔ یہ تک کہا کہ اگر آدمی جاری نہر پر ہو اور ضرورت سے زيادہ پانی استعمال کرے تو یہ بھی اسراف ہے ۔ ہم عملا اسے برتیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ ہمارا تصور حیات کیسا شفاف ہے ۔ کبھی جمے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کریں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے ، کبھی راستوں پر نہ بیٹھیں ، کبھی سایہ دار درختوں کے نیچے پاخانہ پیشاب نہ کریں کہ یہ سب اخلاق سے فروتر اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہیں ۔ کسی کے یہاں جائیں تو آداب کا خیال رکھیں ، دستک دیں ، سلام پھیلائیں ، لوگوں کی خبرگیری کریں ، کسی کا کوئی نقصان نہ کریں ، کبھی کسی کو دھوکہ نہ دیں ، پڑوسیوں کا خیال رکھیں اور یوں عملا اسلام کو اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ حقیقت بنادیں ۔
اسی کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کا لازما بائیکاٹ کریں جو اس قسم کے واقعا ت پر اپنی شہرت وناموری حاصل کرنے کا کارڈ کھیلتے ہیں ، سرکاٹ کر لانے پر انعامات کی بات کرتے ہیں اور یوں پوری فضا میں ایک الگ قسم کی نفرت گھورنے کا کام کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم خاموش بیٹھ جائیں ، اوپر جن کاموں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ قانونی چارہ جوئی سے گریز نہ کریں ، ملک کی عدالتوں میں جائیں ، سلیقے سے ایسے لوگوں کے خلاف شکایت درج کریں اور انہیں قرار واقعی سزا دلانے کی کوشش کریں ، ان شاءاللہ رزلٹ بھی اچھا آئے گا اور اس قسم کی گھٹیا حرکتوں پر قابو بھی پایا جاسکے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے