مابعد کورونا اور کچھ سوالات!

Spread the love


حسنین اشرف

فرض کیجئے آپ 45 ڈگری درجہ حرارت والی جلتی ہوئی گرمی سے لوٹ کر آئے ہوں۔ گھر میں کولر کی ٹھنڈ ہوا میں چند ہی لمحہ کیلئے آپ بیٹھ پائے تھے اور لائٹ چلی گئی۔ ایسا ہی کچھ اس دنیا اور دنیا والوں کے ساتھ ہوا ابھی لوگ اس دنیاوی کاروبار میں کہیں کسی راحت کی تلاش میں سرگرداں ہی تھے کہ کورونا نے آکر سب کی بجلی گل کردی۔ جو جہاں تھا وہیں تھم گیا۔ پوری دنیاوی سرگرمیوں پر اچانک ایک زوردار بریک لگ گیا۔ اور عام سی زندگی ویسے ہی پریشان ہو کر رہ گئی جس طرح تپتی دوپہر میں لوٹے شخص کا ذہن اچانک بجلی چلے جانے سے ماؤف ہوجاتا ہے۔ لیکن ان سارے انسانی و اقتصادی انجماد کے دور میں ایک انسانی ادارہ (حکومت) نہ صرف یہ کہ سرگرم عمل رہا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ تندہی کے ساتھ انسانی زندگی پر اپنی گرفت سخت کرتا ہوا نظر آیا۔
کورونا وائرس خواہ انسانی تخلیق ہو یا چمگادڑ سے پھیلا ہو مگر یہ طے ہے کہ چائنا سے نکلا اور اٹلی, ایران, اسپین, فرانس اور امیریکہ سمیت پوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے چکا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ابتدا اول اول زد میں آئے بڑے شہروں کی سرگرمیوں کو مفلوج کیا گیا اور پھر پوری دنیا کی حرکت پر تالا لگا دیا گیا۔ گویا کروڑہا برس سے انسانی ضروریات کو پوری کرتی آرہی ہماری یہ زمیں ٹھہر کر کچھ دم کیلئے آرام کی سانس لینا چاہ رہی ہو۔ اور اپنے اندر پیدا ٹوٹ پھوٹ اور ماحولیاتی بگاڑ کو درست اور خود کو تازہ دم کرنا چاہ رہی ہو۔ کارل مارکس نے کہا تھا ” سرمایہ دارانہ نظام دو چیزوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے, ایک *انسان* اور دوسری *فطرت*. کورونا وائرس کے انتشار کی روک تھام کیلئے جو احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور اس کرۂ ارضی پر ا سکے جو اثرات مرتب ہوئے وہ کارل مارکس کے اس قول کی تصدیق کرتی ہیں۔
اٹھارویں صدی میں برپا ہوئے صنعتی انقلاب اور وال اسٹریٹ میں ترتیب دی گئی سرمایہ دارانہ نظام جسکی لعنت کو IMF اور World Bank کے ذریعہ مختلف سنہرے ناموں کے پردے میں پوری دنیا پر تھوپ دیا گیا۔ صنعتی انقلاب اور ترقی (جس کی پشت پناہی یہی سرمایہ دارانہ نظام کرتی آئی ہے) نے ہمارے ماحولیات کو جس قدر نقصان پہونچایا اس کا نتیجہ یہ ہیکہ ہمارے گلیشئرش پگھلنے لگے اور اگلے پچاس سالوں میں جنوبی ایشیا کے کئی جزیرے ڈوبنے کے کگار پر ہونگے۔ اب کورونا وائرس کی پاداش میں اس سہ ماہی لاؤک ڈاون نے فطرت کے ان زخموں کو مندمل کرنا شروع کردیا, اسکے منفی اثرات زائل ہونا شروع ہوگئے ہیں, حالت یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ اٹلی کے شہر وینس کے جھیلوں میں صدیوں بعد ہنس اور چھوٹی مچھلیاں لوٹ آئی ہیں۔ خود ہندوستاں میں ہمالہ کی برفیلی چوٹیاں سیینکڑوں میل کی مسافت سے صاف نظر آنے لگی ہیں۔ دہلی میں غبار آلود ہوا نے نیلگوں آسمان کو جو مٹیالے کلر کی چادر اوڑھائے ہوئے تھی اب وہ چادر چھٹ چکی ہے اور نیلا آسمان صاف نظر آنے لگا ہے۔ اور اس طرح کے کئی اور خوش کن خبریں دنیا کے ہر گوشہ سے رپورٹ کی گئی ہیں۔ لیکن صنعتی ترقی کی ہوڑ میں لگی اس دنیا کیلئے ان تمام خوش کن خبروں کا عارضی اور وقتی ہونا ہی ایک حقیقت ہے۔
یہ وہی سرمایہ دارانہ نظام ہے جس نے اس دنیا کی پوری آبادی کی پانچ طبقاتی تقسیم کر رکھی ہے:
• اشرافیہ (elites or upper class)
• اعلی متوسط طبقہ ( upper middle class)
• ادنی متوسط طبقہ (lower middle class)
• مزدور طبقہ (working class)
• پسماندہ طبقہ (lower class)
اس نظام میں تقسیم دولت کا نظام کچھہ یوں ترتیب دیا گیا ہے کہ طبقہ اعلی جو ہماری مجموعی آبادی کے مشکل سے ایک فیصد بلکہ صحیح معنوں میں اس سے بھی کم ہوں گے اس دنیا کی پوری دولت کے تیسرے حصہ کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ جبکہ اسی آبادی کے آدھے سے زیادہ حصہ کے پاس سر کے اوپر چھت تک نہیں ہے اور ایک وقت کا کھانا مشکل سے میسر آتا ہے۔ 2019 کے OXFAM کے ڈیٹا کے مطابق دنیا کے 26 بلینئرز کے پاس اس دنیا کی آدھی سے زیادہ دولت ہے جبکہ سماج کے نچلے طبقہ کی دولت میں 11 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ خود ہندوستاں میں ارتکاز دولت کی یہ حالت ہے کہ ہندوستانی آبادی کے 10 فیصد اشرافیہ کے پاس 77 فیصد دولت ہے اور پیدا کی گئی مجموعی دولت کا 73 فیصد اس دیس کے ایک فیصد امیر ترین لوگوں تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ جبکہ غریبوں کی آمدنی میں صرف ایک فیصد کا اضافہ ہوا۔ اور ایسا نہیں ہے کہ اس وباء اور عالمی لاک ڈاؤن کا انکی آمدنی اور اقتصاد پر کچھہ فرق پڑا ہو بلکہ CNBC کے 22 مئی کی ایک رپورٹ کی مانیں تو اس لاوک ڈاؤن کی مدت میں امریکن بلینرز کو 434 بلین کا فائدہ ہوا ہے۔ COVID 19 کے Vaccine کے انکشاف کے بعد پوری دنیا جس طریقے سے اس پر ٹوٹ پڑے گی اس کی مثال اس شرابی کی طرح ہوگی جسکو 2 مہینہ سے شراب نہ ملا ہو اور اسکے بعد Bill&Milinda Gates کی تجوری کا کیا حشر ہوگا اسکا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے۔

”ہمیں یاد رکھنا چاہئے یہ دھرتی کبھی بھی نئے آئیڈیاز اور افکار کے بحران کا شکار نہیں ہوئی۔ جب کبھی کسی نظام کی استحصالی فطرت حد سے بڑھی تو اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اسکی جگہ پر کسی دوسرے جدید اور بہتر نظام کو متعارف کروایا اور اسے اپنایا۔ اس زمین کی ابتدائی معیشت شکار پر منحصر تھی۔ جس کے بعد کاشتکاری کو اپنایا گیا اور feudalism کے آقائی چنگل کو توڑ کر اشتراکیت کی کتابی جنت میں مساوات کا خواب دیکھا گیا اوربالآخر اپنے آپ کو Capitalism کے حوالے کردیا۔ اس پورے دورانیہ میں دنیا نے صرف چند سالوں کیلئے اسلامی نظام معیشت کا ذائقہ چکھا۔ اور مملوکیت کیساتھ ساتھ ہی جاگیردارانہ نظام بھی اپنی جڑیں گہری کرتا چلا گیا۔ اور اسکے بعد اسلام کا اقتصادی نظام اور مارکیٹ پالیسیز کتاب البیوع کے ابواب کو ترمذی اور دوسرے فقہ و حدیث کی کتابوں میں مدرسوں کی چہاردیواریوں میں وضاحت اورتشریح کیلئے محصورکر دیا گیا۔ نشأۃ ثانیہ کے بعد بھی مسلم ممالک میں جدید جدید طرز پر تعمیر کی گئی تعلیمی اور تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیز نے بھی ان گراں قدر اصولوں کی تنقیح و تمحیص اور اسکے خدو خال کو مزید رنگ ؤ روپ دے کر موجودہ مارکیٹ میں بیچنے کی کما حقہ کوشش نہیں کی۔ (بہر حال یہ صرف ایک دلی خواہش ہے جو دوربین یا خورد بین کسی کے بھی استعمال سے مستقبل قریب قابل حصول نظر نہیں آتا)۔”

بہر حال اس کورونا وائرس کا دوسرا مثبت پہلو یہ ہیکہ زندگی محدود ضرورتوں کے ساتھ بھی ہنسی خوشی گذارای جاسکتی ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کتنی ہی ایسی چیزیں خرید لیتے ہیں جنکی ہمیں قطعا کوئی ضرورت نہیں ہوتی یا بمشکل مہینہ میں ایک دفعہ اور بسا اوقات سال میں ایک دفعہ استعمال کر پاتے ہوں۔ مگر دوستوں کی صحبت, بازار کی چمک دمک, ٹی وہی یا یوٹیوب پر ایڈز یا ماڈلز اور ہیروز کی نقالی میں خرید لیتے ہیں جنکے بغیر ہماری زندگی میں بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ مستقل اشتہارات کے ذریعہ ہماری لاعلمی اور بےشعوری ان چیزوں کو ہماری ضرورت بنا دیا گیا اور انہیں خریدنے پر مجبور کر دیا جن کے بغیر زندگی زیادہ سہل اور خوشگوار تھی۔ جو ضرورت ایک یا دو جوڑے جوتے اور ایک دو گھڑی سے پوری ہو سکتی تھی, ان اشتہارت اور بے لگام نقالی کیوجہ سے 15 جوڑے جوتے, گھڑیوں کا ذخیرہ اور نہ جانے کیا کیا ہماری اثاث زندگی کا جزء لاینفک بن کر رہ گیا ہے۔
یہیں پہ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا سرمایہ دارانہ نظام کا بدل ہے؟ اگر ہے؟ تو اُس نظام میں دولت کی پیداوار کا کیا سسٹم ہوگا؟ یہ سب سے اہم سوال جو اس استحصالی نظام کو ان تمام برائیوں کے باوجود ایک جواز فراہم کرتا ہے, اور سچی بات یہ ہے کہ اسکے اب تک زندہ رہنے کئ آخری وجہ بھی۔ اسکے مقابل میں اپنایا گیا اشتراکی نظام اسی سوال کا جواب فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ مساوات ما بین جمیع الناس من الأعلی إلى الأسفل کا دعوی لیکر اٹھنے والا نظام انتاج دولت میں ناکامی کے باعث فلاپ ہو کر رہ گیا۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے یہ دھرتی کبھی بھی نئے آئیڈیاز اور افکار کے بحران کا شکار نہیں ہوئی۔ جب کبھی کسی نظام کی استحصالی فطرت حد سے بڑھی تو اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اسکی جگہ پر کسی دوسرے جدید اور بہتر نظام کو متعارف کروایا اور اسے اپنایا۔ اس زمین کی ابتدائی معیشت شکار پر منحصر تھی۔ جس کے بعد کاشتکاری کو اپنایا گیا اور feudalism کے آقائی چنگل کو توڑ کر اشتراکیت کی کتابی جنت میں مساوات کا خواب دیکھا گیا اوربالآخر اپنے آپ کو Capitalism کے حوالے کردیا۔ اس پورے دورانیہ میں دنیا نے صرف چند سالوں کیلئے اسلامی نظام معیشت کا ذائقہ چکھا۔ اور مملوکیت کیساتھ ساتھ ہی جاگیردارانہ نظام بھی اپنی جڑیں گہری کرتا چلا گیا۔ اور اسکے بعد اسلام کا اقتصادی نظام اور مارکیٹ پالیسیز کتاب البیوع کے ابواب کو ترمذی اور دوسرے فقہ و حدیث کی کتابوں میں مدرسوں کی چہاردیواریوں میں وضاحت اورتشریح کیلئے محصورکر دیا گیا۔ نشأۃ ثانیہ کے بعد بھی مسلم ممالک میں جدید جدید طرز پر تعمیر کی گئی تعلیمی اور تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیز نے بھی ان گراں قدر اصولوں کی تنقیح و تمحیص اور اسکے خدو خال کو مزید رنگ ؤ روپ دے کر موجودہ مارکیٹ میں بیچنے کی کما حقہ کوشش نہیں کی۔ (بہر حال یہ صرف ایک دلی خواہش ہے جو دوربین یا خورد بین کسی کے بھی استعمال سے مستقبل قریب قابل حصول نظر نہیں آتا)۔
اسی ضمن جو تیسرا اہم مسئلہ درپیش ہے گرچہ اسکی طرف ہماری دنیا دبے قدموں بہت پہلے ہی بڑھ چکی تھی مگر اسے عامۃ الناس میں قابل قبول بنانے کیلئے ہمیشہ بہانہ جو رہی۔ اور بالآخر اس عالمی وباء نے اسے وہ سنہرا موقع فراہم کردیا۔ وہ اہم مسئلہ آمریت پسند جمہوری نظام کا ہماری ذاتی و نجی معلومات میں دلچسپی ہے۔ گرچہ بعض ممالک جو قبل از کورونا ہی آمریت کے راستے پر چل چکے تھے وہ اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے جبرا ؤ قہرا اپنے شہریوں کیلئے جاسوسی کے مخترق العادات سسٹمس کے جال کو بچھا چکی ہیں اور ان شہریوں کو اف تک کہنے کی ہمت نہیں ہے۔ جو ممالک اپنے ہی عوام کی بےخوف جاسوسی کر رہے ہیں انمیں سر فہرست چائنا,نارتھ کوریا اور اسرائیل ہے۔ مگر یہ معاملہ اب زیادہ سنگین اس لئے ہو گیا ہے کیونکہ جاسوسی کی دیرینہ خواہش پال رہے وہ ممالک جو اب تک ڈیٹا کلکشن کا نام لیتے ہوئے جھجھکتے تھے کورونا کے نام پر انہیں ایک اخلاقی بہانہ مل گیا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہیکہ اسکی وکالت اب بڑے بڑے ڈاکٹرز بھی کر رہے ہیں مثال کے طور پر نکولس رائٹ جو امریکہ کے دماغ اور اعصاب کے مشہور سرجن مانے جاتے ہیں اور طبی ٹکنالوجی کے ایکسپرٹ ہیں انہوں نے نا صرف یہ کہ شہریوں کی نقل و حرکت کی مزید نگرانی کی وکالت کی بلکہ اس کے لئے ایک خوبصورت سا, کانوں کو بھلا معلوم ہونے والا جمہوری نگرانی ( Democratic Surveillance) کے نام سے ایک اصطلاح بھی ایجاد کر لیا ہے۔ انکا کہنا ہیکہ یہ نگرانی انسانی سوسائٹی کیلئے صحت اور اقتصاد دونوں پہلوؤں سے مفید ثابت ہوگی۔ اور یہ ہماری ٹکنالوجی کے * بہتر استعمال* (الاستخدام الحمید) کے ضمن میں آتا ہے۔ مگر 11/9 کے بہانہ سے امریکہ نے جس طرح اپنے شہریوں کی جاسوسی کی ہم اس کی حقیقت ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات سے جان سکتے ہیں اسی طریقہ سے یہ جمہوری نگرانی کا نظام ہمارے لئے کس قدر مہلک ثابت ہوگا, Facebook Analytics کے انکشافات سے یہ واضح ہو جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے متعدد المذاہب اور مختلف ذات پات پر مبنی سوسائٹی میں اپنے مخالفین کو کچلنے کیلئے اس کا کس طرح استعمال کیا جائیگا اسکا اندازہ حالیہ دونوں میں Anti-CAA احتجاجیوں اور اس سے پہلے دلت اور آدیواسی حقوق کے لئے کام کر رہے سماجی کارکنوں کی گرفتاری سے لگایا جا سکتا ہے۔ موجودہ ہندوستانی حکومت آدھار کارڈ پر عدالت عظمی کے فیصلہ کے بعد دوسرے کئی ہتھکنڈے استعمال کر چکی ہے اور Arogyesetu نامی آیپ اس سلسلہ سب سے تازہ کڑی ہے۔
انہی باتوں پر مبنی اخیر میں کچھ سوالات ہیں : کیا کورونا کے بعد کی دنیا بالکل بدل جائیگی۔ جسکی طرف ہنری کیسنجر نے اشارہ کیا ہے, اور اگر بدلیگی تو اسکی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا ہم Digital Authoritarianism کی طرف مکمل طور پر بڑھ چکے ہیں؟ کیا ہمیں Capitalism کا کوئی متبادل مل پائے گا کیونکہ بقول Noams Chomsky کورونا کے اس بحران کے دوران سرمایہ دارانہ نظام اپنی خودکشی کے میلانات کو واضح کر چکا ہے۔ یا پھر فوکویاما کی اینڈ آف ہسٹری والی تھیوری ہی آخری حقیقت بن کر رہ جائیگی؟ کیا ہم اپنے ماحولیات کی حفاظت کیلئے از سر نو سوچنا شروع کریں گے یا پھر موجودہ صنعتی مقابلہ اور قدرتی معدنیات کا استحصال یوں ہی بے لگام جاری رہے گا؟ المختصر کورونا کے بعد کی دنیا آخر کیسی ہوگی ؟ منتشر خیالات میں سے یہ کچھ اہم سوالات ہیں جو عزلت نشینی کے اس دور میں کتابوں اور یوٹیوب سے فرصت کے لمحات میں ذہن میں سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ واللہ اعلم بما تحمله بطون الأیام المقبلة لنا۔

حسنین اشرف
Follow Him
Latest posts by حسنین اشرف (see all)

حسنین اشرف

Hasnain Ashraf is a Research Scholar in Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے