محکمہ پولیس اور مسلمان

Spread the love


سیف ازہر

ہمارے دیش میں پولیس کی چھ بڑی کٹیگریز ہیں ۔۔۔ ان میں سے چار کے لیے گریجویشن کے ساتھ مرکز اور اسٹیٹ سول سروسز اگزام کریک کرنا درکار ہے جبکہ دو کے لیے صرف بارہویں اور ایلیجبلٹی ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے۔
2012 کی مرکزی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس دیش میں کل سولہ لاکھ ساٹھ ہزار پولیس ہیں اور ان میں مسلمان صرف ایک لاکھ اسی ہزار ہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں بھی چھیالیس ہزار دوسو پچاس صرف کشمیری مسلم ہیں ۔۔۔ ویسے تو ہماری حصہ داری چھ فیصد بنتی ہے لیکن اگر کشمیری مسلمانوں کو الگ کردو تو ہماری حصہ داری محض تین فیصد پر آکر رک جاتی ہے۔
دہلی جہاں تقریباً پچہتر ہزار ایک سو سترہ پولیس اہلکار کام کرتے ہیں ان میں صرف ایک ہزار پانچ سو اکیس مسلم اہلکار ہیں ۔۔۔ یعنی دو فیصد مسلمان ہیں۔
ایس پی ، ڈی ایس پی ، انسپکٹر ، سب انسپکٹر یہ سب وہ عہدے ہیں جن کے لیے آپ کو سول سروسز کا اگزام کریک کرنا ہوگا ۔۔۔ ہر سال سول سروسز کے ذریعے تقریباً ایک ہزار لوگوں کا سلیکشن ہوتا ہے ان مسلمانوں کی تعداد تیس سے پچاس کے آس پاس ہوتی ہے۔
کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے لیے صرف بارہویں کے ساتھ ساتھ ایلیجبلٹی ٹیسٹ دینا ہوتا ہے۔

 

یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ بھارت میں کوئی بھی فساد ایسا نہیں ہوتا جس میں پولیس ملوث نہ ہو یا جس کے پیچھے پولیس اہلکار نہ ہوں ۔۔۔ ابھی حالیہ دہلی نسل کشی میں بھی آپ نے پولیس کے کردار کو بخوبی دیکھا ہوگا۔
کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل یعنی سپاہی ۔۔۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو سماج میں اتر کر کام کرتے ہیں ۔۔۔ فسادات میں بھی اکثریت انھیں لوگوں کی ہوتی ہے ۔۔۔ کنٹرول کرنا اور کردار نبھانے میں یہی لوگ کام آتے ہیں ۔۔۔ ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر شامل تو ہوتے ہیں لیکن براہ راست خود نہیں اترتے ۔۔۔۔ فسادیوں کے شانہ بشانہ سپاہی ہی ہوتے ہیں۔
کشمیری مسلم پولیس اہلکار کو چھوڑ دیں تو مطلب ہم سو پولیس اہلکار میں سے صرف تین ہیں ۔۔۔ تین کو چھٹی پر بھیج کر مسلمانوں کے ساتھ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ اگر چھ فیصد ہی مان لیں تو سو میں صرف چھ افراد کیا معنی رکھتے ہیں ۔۔۔ سوال یہ بھی ہے کہ ان میں سے کتنے لوگوں کے پاس قومی حمیت ہے۔۔۔؟
بھارتیہ مسلم ایک غریب کمیونٹی ہے ۔۔۔ ہائر ایجوکیشن کی بات چھوڑ ہی دو ہماری لٹریسی ریٹ کل 53.3 فیصد ہے ۔ مطلب صرف سو میں 53 لوگ اسکول جاتے ہیں باقی اسکول بھی نہیں پہنچتے ۔۔۔ان میں بھی صرف سترہ فیصد یعنی سو میں سے بمشکل دس بچے بارہویں پاس کر پاتے ہیں باقی وہ بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔ ان میں محض پانچ فیصد ہائیر ایجوکیشن میں جاتے ہیں ۔۔۔ ایسے عالم میں ہر سال تیس سے پچاس بچوں کا سول سروسز میں کامیابی کسی معجزے سے کم نہیں ہے ۔۔۔ اس سمت میں ہم اچھی خاصی محنت اور کام بھی کر رہے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ بارہ فیصد بچے جو بارہویں کے بعد کہیں رہ جاتے ہیں، کیا ان پر ہم نے کوئی کام کیا۔۔۔؟
سوچیے اگر ان بارہ فیصد سے صرف دو تین فیصد بچوں کو ہم نے پولیس میں بطور سپاہی گھسا دیا تو ہماری تصویر دس سالوں میں کچھ اور ہی ہوگی۔
ہمیں اس سمت بھی سوچنا چاہیے کیونکہ آزادی کے بعد بحیثیت مسلم اس دیش میں ہمارا تحفظ ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے ۔۔۔ اب یہ مزید گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے ۔۔۔ اسے روکنا ہے تو مذکورہ مسئلے پر توجہ دینا ہی ہوگا۔

سیف ازہر
Latest posts by سیف ازہر (see all)

سیف ازہر

Saif Azhar is a social activist, blogger and writer. Currently he is studying in Jamia Millia Islamia, New Delhi. His articles are published in various web portals and newspapers.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے