مسئلہ القدس پہ ہندوستانی مسلمانوں کی جذباتی سیاست

Spread the love

۲۲ جولائی ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
القدس پہ ہندوستان میں جذباتی سیاست کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا، الٹا نقصان پہونچ جائے گا، پانی پی پی کے اسرائیلیوں کو کوسنے اور اخبارات و فیسبوک پیجوں پہ ان کے خلاف چلانے سے بہتر ہے کہ اندر ہی اندر کام کیا جائے، جذباتیت ہمیشہ نقصان پہونچاتی ہے، کامیاب وہی ہوتے ہیں جو جذباتیت کو پرے رکھ کر ٹھنڈے اور سنجیدہ دماغ سے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں، قومی سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی سیاست پہ بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ جس اسٹیٹ سے ہم ہمدردیاں جتا رہے ہوں، اور جس اسٹیٹ کی مخالفت میں ہم چلائے جارہے ہوں، ان دونوں کے درمیان ہمارے خود کے ملک کی پالیسی کیا ہے، ہمیں دھیان ہی نہ ہو.
ہندوستان میں ہندو توا فاشزم کے عروج کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ تقریبا سیکولر ہندوستان سے ختم ہوتا جارہا ہے، اسرائیل ایک نہایت ہی مضبوط دفاعی پارٹنر بن چکا ہے، اولیات تبدیل ہوچکیں ہیں، دونوں کی آئیڈیالوجی میں یکجائیت کی تلاش برسوں سے جاری تھی، جسے وہ ریاست کے مسئلے میں پاچکے ہیں، لہذا ہندوستان میں رہتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سرعام سرعام ہنگامہ کرنے سے پہلے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ قدم خود ہمیں ہی نقصان پہونچانے والا تو نہیں.
وقت اور حالات بدل چکے ہیں، ایک مومن کی شان فراست اور عقلمندی ہوتی ہے، عالمی سیاست کی جو بندشیں ہیں ان حالات میں ایک ہندوستانی مسلمان دوسرے اسٹیٹ کے لئے کچھ بھی نہیں کرپائے گا، واقعیت سامنے ہونا چاہیئے، خواہ مخواہ کا مسلمانوں کو بھڑکانے کا کوئی فائدہ نہیں، ورنہ اگر ہندوستانی اہجنسیوں کی نظر میں کوئی آئے گا تو حالات جس طرح ہیں، فورا ملک مخالف قرار دے کے مار دیا جائے گا، اور خود پوری مسلم قوم ہی ساتھ نہیں دے گی.
جس مسلم مسلم کے لئے ہم دن رات چلاتے ہیں، اسی مسلم کی حالت کیا ہے کبھی زمینی گراؤنڈ پہ اتر کے دیکھئیے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی مسئلے میں پھنس جائیں گے، مان لیجئے آپ پہ دہشت گردی کا الزام لگادیا تو کیا یہ مسلم قوم فورا آپ پہ لگے الزامات کو جھوٹا کرنے کے لئے سامنے آئے گی، شاید پوری قوم تو نہ آئے مگر ممکن ہے کہ ایک دو تنظیم ضرور آجائے وہ بھی دو تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد، ہاں پوری قوم آپ پہ الزام لگتے ہی آپ اور آپ کے گھر والوں سے پلڑا ضرور جھاڑ لے گی، آپ کے گھر والوں کو گاؤں، سماج اور محلے کے لوگ "دہشت گرد کا اہل خانہ” کے نام سے یاد کرنے لگیں گے، یہ کوئی افسانہ یا گھڑی ہوئی بات نہیں ہے، دہشت گردی کے الزام سے چھوٹنے والے ہر نوجوان سے جاکے پوچھئیے گا، کہ جب آپ پہ دہشت گردی کا الزام لگا اس وقت آپ کے اہل خانہ کے ساتھ آپ کے سماج، گاؤں اور معاشرے نے کیا برتاؤ کیا تھا، یقین مانئے جو جواب آپ سنیں گے ہوسکتا ہے اس کی توقع آپ نے کبھی نہ کی ہو.
ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچئے، کیا کررہے ہیں، بابری مسجد تو آج تک بنا نہیں پائی، اب اس کو بھی سپریم کورٹ کے حوالے کرکے خود چین کی بنسری بجا رہے ہیں، تو بیت المقدس پہ کیا کرلیں گے، ظاہر سی بات ہے ایک دو کانفرنس کرکے اور تحفظ بیت المقدس کے نام پہ عوام کو الو بنائیں گے، قومی سیاست کی بندشیں اتنی کہ بابری مسجد کے لئے کچھ کرنا مشکل تو عالمی سیاست کی بندشیں کیا اتنی آسان ہوں گی کہ آپ آسانی سے اس کی گرہیں کھول کے مسئلہ کو حل کردیں گے؟
ہندوستان کے لوگوں کے لئے تو مشکلات اور ہی زیادہ ہیں، ہندوستان کا مسلمان کبھی بھی دوسرے کسی ملک کے لئے کچھ بھی نہیں کرپائے گا، کیونکہ ایسا تو ہے نہیں کہ وہ اسلامی ریاست رہتے ہیں، اور جو وہ سوچیں گے، چاہیں گے، حکومت وہی کرے گی، اپنی حیثیت ہے نہیں تو دوسروں کی حیثیت کیا خاک بنوا دیں گے، ہاں تحفظ القدس پہ وہ لوگ اگر کودیں جو کسی مسلم ملک میں رہتے ہوں تو شاید اس کی کچھ بھی ہو، کہ ہاں بھائی یہ لوگ احتجاج اور مظاہرہ کریں گے تو حکومت ان کی آواز پہ کان دھرے گی، مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے، ستاون اسلامی ممالک میں سے کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں جو اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھا سکے، بلکہ اکثر مضبوط ممالک کے تو باقاعدہ اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں، خود برصغیر میں ایٹمی طاقت کا مالک پاکستان اس سلسلے میں کیا کررہا ہے، کبھی موقع ملے تو بیٹھ کے سوچنا.
ہندوستان میں فی الحال حالات صحیح نہیں ہیں، اپنے ملک میں جب ہماری سنوائی نہیں تو دوسرے ملک کے لئے کاہے چیخنا، جب ہم کچھ کر بھی نہیں پائیں گے تو ان کے لئے شوروغل مچانے سے کیا ہوگیا، یقین مانئے فی الحال ہندوستانی مسلمانوں کے لئے القدس القدس چلانے میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے.
حالات اور واقعات کو سامنے رکھئیے، اگر اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ آپ کے آواز اٹھانے سے حکومت اپنی پالیسیوں کو تبدیل کردے گی تو شوق سے آواز اٹھائیے بلکہ صرف فلسطین پہ نہیں بلکہ کشمیر پہ بھی آواز اٹھائیے، لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ ہونے والا نہیں، نہ آپ کی آواز کہیں سنی جائے گی، نہ حکومت آپ کے مطالبات پہ کان دھرے گی، تو پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنائیے ورنہ آپ کا ہر قدم صرف جذباتی سیاست کے نام سے جانا جائے گا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے