نجیب کے غائب ہونے کے ایک سال

Spread the love



نجیب کو غائب ہوئے تیرہ تاریخ کو ایک سال ہوجائیں گے، کیس سی.بی.آئی کے ہاتھ میں ہے، کیس آج بھی اسی مقام پہ ہے جس مقام پہ نجیب کے غائب ہونے کے بعد تھا، نہ کوئی پیش رفت، نہ کوئی سراغ، اندھیرا ہی اندھیرا، اب یہ اندھیرا کس نے Creat کیا، یہ قابل غور ہے، شاید حکومت نے، انٹلیجینس ایجنسیوں نے، شاید نہیں بلکہ یقینا، یہ اندھیرا مکڑی کے جال کی طرح انہیں لوگوں کو پھیلایا ہوا ہے، ورنہ جو حکومت زمین کے تہوں سے لوگوں کو ڈھونڈ کے لانے کا دعوی کرے، دہشت گردوں کو یوں چٹکی بجاتے پکڑلے، اور ان کے سارے حرکات اس طرح ڈیٹیل کے ساتھ بیان کردے گویا کہ اس کے افراد اور آفیسرز بنفسہ ان کے ساتھ موجود رہے ہوں، یقینا اس کے لئے یہ نہایت شرم کی بات ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود بھی پتہ نہ لگا سکے، یہ سیکرٹ ایجنسیوں کی کارکردگی پہ بھی ایک دھبہ ہے.
آج بھی نجیب کی ماں دروازے پہ نظریں ٹکائے بیٹھی رہتی ہے کہ کسی روز اس کا لاڈلا واپس آئے گا، اس کے چہرے وہی مسکان سجی ہوگی جو ماں سے ملتے وقت کبھی اس کا خاصہ ہوا کرتی تھی، آج بھی بوڑھے باپ کی نظریں اپنے بیٹے کو تلاش کرتیں رہتیں ہیں، ہر اجنبی پہ انہیں اپنا بیٹا ہونے کا گمان ہوتا ہے، ہر سامنے سے گزرنے والے شخص کو دیکھ کے انہیں خیال آتا ہے، شاید یہ ان کا کھویا بیٹا ہوگا، ابھی لوٹ کے گھر کو واپس آئے گا، نظریں دور تلک پیچھا کرتیں ہیں، پھر مایوس ہوکر خود بخود جھک جاتیں ہیں، بہن بھائی کی یاد میں آج بھی چھپ چھپ کے آنسو بہا رہی ہے، اس کی مسکراہٹوں پہ دھندلکا سا طاری ہوچکا ہے، بھائی غم و اداسی کی تصویر بنا دور کہیں خلاؤں میں تکتا رہتا ہے، عجب غمگساری کا ماحول ہے، بھلے ہی گھر میں نجیب کو چھوڑ کے سارے افراد ہوں، مگر در و دیوار سے وحشت ٹپکتی ہے، ایسا لگتا ہے گھر بار بھی اس کی جدائی پہ ماتم کناں ہیں، مسکراہٹ سب کے چہروں سے کب کا غائب ہوچکی ہے، اداسی اور ویرانی نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے.
میں سوچتا ہوں تو مجھے وحشت ہونے لگتی ہے، ذرا تصور کیجئے کہ یہ ایک سال نجیب کے گھر والوں پہ کس طرح گزرے ہوں گے، ایک ایک پل ایک ایک لمحہ کس قدر بے قراری، کس قدر آہ و زاری، موت کے بارے میں یقین ہوجاتا تو شاید گھر والوں کے دل کو یہ سوچ کے تسلی ہوجاتی کہ چلو ہمارا لاڈلا اب رب کے پاس ہے، کچھ دن جی بھر کے رو لیتے، وقت زخموں پہ مرہم رکھ دیتا، یہاں تو ہر آن دل لگا رہتا ہوگا، کہاں ہوگا میرا بیٹا، کس حال میں ہوگا میرا نجیب، گھر والوں کے آنسؤں کے خزانے شاید خالی ہوچکے ہوں گے، بہت ممکن ہے اب نجیب کو یاد کرکے خون کے آنسو نکل آتے ہوں.
یہ حادثہ نہیں، پوری فیملی پہ اسٹیٹ اسپانسرڈ ظلم ہے، اور یہ ظلم کسی کے اوپر بھی ڈھایا جاسکتا ہے، کوئی شخص خیر نہ منائے کہ جو ظلم نجیب یا اس کے گھر والوں پہ پیش آیا، وہ کسی اور کے ساتھ نہیں پیش آئے گا، ہر کسی کے ساتھ پیش آسکتا ہے، اس وقت جو ضرورت ہے وہ یہ کہ مسلم تنظیموں کو سول سوسائٹی، سیکولر آرگنائزیشنز، این.جی.اوز، اور ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ کے ساتھ مل کے نجیب کے کیس کو ری-اسٹڈی کرنے اور حکومت پہ پریشر ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ جلد از جلد اس کی پر اسراریت کو ختم کیا جاسکے، اور اس کے سلسلے میں حقائق دنیا کے واضح کئے جاسکیں، ورنہ اگر اسے ایسے چھوڑ دیا گیا، اس پہ کوئی لیگل ایکشن نہ لیا گیا تو اسی طرح نجانے کتنے نجیب غائب ہوتے رہیں گے.
ہر مسلمان کو چاہیئے کہ وہ غور کرے، آکر وہ کس مقام پہ ہے، ہم بڑی آسانی سے ایران توران کی ہانکتے رہتے ہیں، دوسرے ممالک کے بارے میں الٹے سیدھے تجزیے پیش کرتے رہتے ہیں، لیکن ہم خود کیا کرتے ہیں، اس کے بارے میں کبھی غور نہیں کرتے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، فیسبوک پہ اپنی اسلامیت دکھانے، جذباتی باتیں کرنے کے علاوہ آخر ہم یا ہماری تنظیمیں کیا کرتیں ہیں، طلاق کا مسئلہ آتا ہے، ساری تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوجاتیں ہیں، لیکن کیا مسلمان کے جان و مال کی اتنی بھی اہمیت نہیں کہ ساری مسلم تنظیمیں مل کے ایک Collective Stand لے سکیں، یا اس کیس مسلم پرسنل لاء ہینڈل کرے کیونکہ وہی ایک مسلمانوں کی سپریم باڈی ہے جس کے ذریعہ سارے مسلمان کم سے کم ایک پلیٹ فارم پہ تو دکھ جاتے ہیں.
ہواؤں میں اسلامیت کو قائم کرنا بڑا آسان لگتا ہے، زمینی سطح پہ اتر کے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم کتنے غیر ایکٹیو ہیں اپنے ہی معاملات کو لیکے، اب دیکھئیے گا، تیرہ تاریخ کو نجیب کی ماں نے سی.بی.آئی. دفتر پہ احتجاج کے لئے بلایا ہے، جے.این.یو میں جگہ جگہ پوسٹرز لگے ہوئے، اور جے.این.یو کے لڑکے اس میں شریک بھی ہوں گے، لیکن مسلم طبقوں سے کتنے لوگ آئیں گے، موقع ملے تو غور کیجئے گا، تیس کروڑ آبادی، مان لیتے ہیں کہ اکثریت دور ہونے کے سبب شریک نہیں ہوسکتے، لیکن کیا دہلی میں ہزار دو ہزار مسلمان بھی نہیں رہتے، ارے جاؤ عزیر، تم بھی کہاں کی بات لیکے بیٹھے ہو، اب لوگ اپنا بزنس دیکھیں، یا سی.بی.آئی کے ہیڈکوارٹر پہ احتجاج کرنے چلیں، ہاں جب بات آئے گی طلاق کی، تب چلیں گے رام لیلا میں اجلاس کرنے، کچھ سیر و تفریح بھی ہوجائے گی، کچھ مفت میں بریانی بھی کھالیں گے.
عزیر احمد
جواہر لال نہرو یونورسٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے