نزول عیسی علیہ السلام

Spread the love

۱۴ مئی ۲۰۱۹ (عزیر احمد، بلاگ)
ہمارے کچھ بھائیوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قرآن میں تدبر کے نام پر خصوصا عقائد کے باب میں ایسے ایسے ایسے عجیب نکات لے کر آتے ہیں جنہیں پڑھ کر ایک عام شخص گمراہی کے دہانے تک بھی جاسکتا ہے، اور پھر اپنے اس تدبر پر انہیں اصرار بھی اس قدر ہوتا ہے کہ گویا کہ وہ قرآن کے صحیح مطالب پہونچنے والوں میں پہلے اور آخری ہوں، بھلے ہی ان کا تدبر ائمہ متقدمین و متأخرین کے تفاسیر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
آج کل ایک صاحب عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام پر بھڑکے ہوئے ہیں، اور اپنا سارا زور لگا کر اس بات کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے، اور مسلمان آج سے چودہ سو سالوں سے جو انتظار کررہے ہیں ان کا انتظار کبھی ختم ہونے والا نہیں، انہیں ان کے مولویوں نے انہیں گمراہ کررکھا ہے، اور ان کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے: إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (55) سورة آل عمران۔ان بھائی صاحب کا کہنا ہے کہ "متوفیك” کا اصل معنی "وفات دینے والا” ہے، عرب زبان میں اسی معنی میں استعمال کیا جاتا رہا ہے، پھر آخر کیوں اسے اس کے غیر معنی میں استعمال کیا جارہا ہے؟، یہ قرآن پر ظلم ہے، ان کا کہنا ہے کہ "عیسی دوبارہ آئیں گے، اسی بے بنیاد عقیدے نے قادیانی اور دوسروں کو مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعوی کرنے کا موقع فراہم کیا”.
میں کہتا ہوں کہ "متوفیك” کا معنی آپ طے نہیں کریں گے، بلکہ اسے آپ سے زیادہ قابل علماء کی تفسیروں کی روشنی میں دیکھا جائے گا کہ انہوں نے کیا سمجھا ہے، تفصیل کے لئے آپ تفسیر قرطبی ملاحظہ کرسکتے ہیں، سرِ دست عرض یہ ہے کہ اگر "متوفیك” کا اصل معنی مراد بھی لے لیا جائے تو آپ دوسری آیت "وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (157) بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (158) وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (159) سورة النساء کی کیا تفسیر کرتے ہیں، جب آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ "رفعه الله إليه” کا مطلب ہے کیا ہے تو اس کی تأویل کرتے ہیں اس طریقے سے کہ جیسے اردو میں بولا جاتا ہے کہ "اللہ نے اپنے پاس اٹھالیا” مطلب طبعی موت ہوگئی، تو میں کہتا ہوں کہ بھائی صاحب یہ تو آپ کی تاویل ہوگئی نا، "رفعه الله إليه” کو اس کے ظاہری معنی پر کیوں نہیں رکھتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ ایک جگہ (متوفیك) آپ تاویل کے خلاف ہیں دوسری جگہ آپ تأویل کرتے ہیں باوجودیکے کہ علماء و محدثین نے "رفعه الله إليه” کو "اپنی طرف جسمانی طور پر اٹھا لینا” ہی مراد لیا ہے، اور جس اردو محاورے (اللہ نے اٹھالیا) کو بنیاد بنا کر آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے، اس طرح کی تعبیر عربی میں ہوتی ہی نہیں ہے، اس کے لئے "أماته” یا "قبض الله روحه” وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح پھر جب مزید پوچھا جاتا ہے کہ "لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه” کا مطلب کیا ہے؟ تو کہتے ہیں کہ "ه” کی ضمیر کا مرجع "کتاب” کی طرف راجع ہے، میں کہتا ہوں کتاب کی طرف کیسے راجع ہوسکتا ہے جب کہ وہ "اھل” کی طرف مضاف ہے، یا "أھل الکتاب” کی طرف راجع ہوگا جو کہ صحیح نہیں ہے، جملے کی ساخت کے اعتبار سے "به” میں جو "ہ” کی ضمیر ہے وہ، اور "موته” میں جو "ہ” کی ضمیر ہے وہ، دونوں کا مرجع ایک ہی ہے، اب اگر "به” میں "ہ” کی ضمیر کا مرجع کتاب کی طرف لوٹاتے ہیں تو "موته” میں بھی "ہ” کا مرجع کتاب کی طرف لوٹانا پڑے گا جو کہ ممکن نہیں ہے کیونکہ کتاب کی موت نہیں ہوسکتی، لہذا اگر ہم دونوں میں "ہ” کا مرجع عیسی بن مریم کی طرف لوٹائیں تو سارا معاملہ کلئیر ہوجاتا ہے، علماء امت کا تعامل اسی پر رہا ہے، اور نصوص بھی اسی کے متقاضی ہیں، لیکن چونکہ آپ کو دیگر لوگوں سے لینا دینا نہیں ہے اس لئے آپ کے نزدیک جو آپ نے لکھا ہے وہی درست ہے، اس لئے میں آپ سے پھر اپنا سوال دہراؤں گا کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے تو کیا قادر مطلق انہیں دوبارہ بھیجنے پر قادر نہیں ہے جس کی طرف متواتر احادیث اشارہ کرتی ہیں اور قرآنی نص سے اس کا کوئی ٹکڑاؤ بھی نہیں، کیونکہ اگر قرآن میں نہیں کہا گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ نہیں بھیجے جائیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ نزول کے ثبوت میں جو احادیث ہیں ان کا انکار کردیا جائے یا انہیں رافضی یا عیسائی اثر مان لیا جائے؟
صحیح بات تو یہ ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام کے تعلق سے قرآن اور احادیث میں کوئی اختلاف ہے ہی نہیں، اگر بفرض محال "متوفیك” کا ترجمہ "ممیتك” مان لیا جائے، تو اس سے کہاں لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ نہیں بھیجا جاسکتا؟ کیا قرآن میں نزول مسیح کا تذکرہ نہ ہونے سے ان احادیث کا انکار کردیا جائے گا جو تقریبا تواتر کی حد تک پہونچی ہوئی ہیں؟ ایسے تو پھر بہت سارے اعتقادی اور فقہی مسائل کا انکار کردیا جائے گا؟ ضروری ہو کہ ہر چیز قرآن میں ہو تبھی مانا جائے گا؟ بھلے ہی وہ صحیح اور صریح نصِ حدیث کے ذریعہ ثابت کیوں نہ ہو؟
اہم بات یہ ہے کہ کسی منھج کا نہ ہونا آدمی کی فکری گمراہی کا سبب ہے، نصوص کے فہم کے لئے سلفِ صالح یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعینِ عظام، تبع تابعین، ائمہ اربعہ، اور دیگر محدثین و فقہاء کو معیار بنانا بہت ضروری ہے، انہوں نے کسی آیت کے تعلق سے کیا سمجھا ہے یہ آیت سمجھنے کے لئے کے لئے بہت ضروری ہے، نصوص میں یوں ہی بے لگام عقلی گھوڑے دوڑانا بہت ساری گمراہیوں کا سبب ہے، اس کی ایک مثال ہم دور جدید میں اسامہ بن لادن کے فتاؤوں کی دے سکتے ہیں، کہ کس طرح اس نے محض نصوص کی بنیاد پر حکم لگاکر خودکش حملوں کا جواز فراہم کیا، "وقاتلوا المشرکین حتی لا تکون فتنة” کے ذریعہ محارب غیر محارب کے درمیان بغیر کسی تفریق کے "صلیبی صیہونی جنگ” کے نام پر ہر کسی کو قتل کردینے کو جسٹیفائی کیا، جس کے ذریعہ اس نہ صرف اسلام کے پُر امن چہرے کو مسخ کیا، بلکہ پہلے ہی سے بہت سارے مسائل سے جھوجھتی امت کو مزید فتنے میں مبتلا کردیا۔
قرآن کی تفسیر کے سلسلے میں مجھے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا منھج بہت پسند ہے، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "مقدمة فی أصول التفسیر” میں اپنا تفسیری منھج اس طریقے سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قرآن کی تفسیر کی ہے، کوئی بھی جزء ایسا نہیں چھوڑا ہے جو بیان یا تفصیل یا تقیید کا محتاج ہو، اور جنہوں نے اس تفسیر کو حاصل کیا وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بذات خود سکھایا کرتے تھے، اور اس وجہ سے بھی کیونکہ صحابہ کرام سب سے زیادہ "معانی القرآن” پر توجہ دینے والے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنے کی وجہ سے ہی وہ اس درجے تک پہونچے کہ قرآن کے معانی کو جان سکیں، اس کی دلیل ابوعبدالرحمان السلمی کا یہ قول ہے « حَدَّثنَا الَّذِینَ کَانُوا یُقرِؤُونَا القُرآنَ: عُثمَانُ بن عَفَّان وَ عَبدُ اللّهِ بن مَسعُود وَغَیرِھِماَ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا تَعَلَّمُوا مِنَ النَّبيِّ صَلّی اللّٰه عَلیهِ و سَلَّم عَشْرَ آيَاتٍ لَمْ يَتجَاوَزُوهُا حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِيهِنَّ مِنَ العِلمِ وَ الْعَمَلِ، قَالُوا: فَتَعَلَّمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ جَمِيعًا”۔
ترجمہ: ابوعبدالرحمان السلمی کا کہنا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان و عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور ان کے علاوہ دیگر اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمیں قرآن پڑھایا کرتے تھے وہ ہم سے بیان کرتے ہیں کہ جب ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں سیکھ جایا کرتے تھے تو اس سے تجاوز نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ ان میں جو علم اور عمل ہے اسے واقف نہ ہوجائیں، وہ کہتے ہیں: اسی طرح ہم نے قرآن اور علم و عمل ساتھ ہی میں سیکھا”۔

تفسیر میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے أصح طریقے کا خلاصہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ علامہ ابن تیمیہ قرآن کی تفسیر قرآن کے ذریعہ کرتے ہیں، پھر جب قرآن میں نہیں پاتے ہیں تو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تفسیر کرتے ہیں، پھر جب کسی آیت کی تفسیر نہ وہ قرآن میں پاتے ہیں اور نہ ہی حدیث میں، تو وہ صحابہ کے اقوال کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور پھر جب وہ تفسیر نہ قرآن میں، نہ حدیث میں اور نہ ہی اقوال صحابہ میں پاتے ہیں تو وہ تابعین کے اقوال کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ اس میں تابعین کا اختلاف ہے تو جن کا قول قرآن و سنت کی زبان یا عام عرب کی زبان یا صحابہ کرام کے اقوال سے قریب تر ہو تو اسے اختیار کرلیتے ہیں۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ تفسیر بالمأثور ہی کے قائل ہیں، جب وہ "أثر” پاجاتے ہیں تو اس کے علاوہ کی طرف وہ متوجہ ہی نہیں ہوتے، وہ تفسیر میں صحابہ کرام پھر تابعین عظام پھر تبع تابعین سے أخذ کرتے ہیں، یہاں تک کہ تیسری صدی ہجری تک کے علماء و فقہاء کے آراء کو قبول کرتے ہیں، اور مجرد رائے کے ذریعہ أخذ کرنے کو نہایت شدت سے انکار کرتے ہیں، اور اس سلسلے میں کہتے ہیں "أما تفسیر القرآن بمجرد الرأی فحرام”، اس سلسلے میں وہ بہت ساری احادیث اور مرویات صحابہ کا ذکر کرتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام کسی آیت کی تفسیر کرنے پر توقف اختیار کرلیتے تھے اگر وہ کوئی ایسی حدیث نہیں پاتے جو اس آیت کی تفسیر نہ کررہی ہو، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کسی ایک ہی مسئلے میں مختلف اقوال کو جمع کرنے کے قائل تھے تاکہ ضرورت کے وقت ان میں سے کسی ایک قول کو راجح قرار دیا جاسکے، اور بسا اوقات کسی ایک رائے کو ترجیح دئیے بنا ہی چھوڑ دیا کرتے تھے..انتہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے