شہریت قانون کے لئے اب امبیڈکر کا استعمال!

Spread the love


ابھے کمار
[email protected]
شہریت ترمیمی قانون کی ملک گیر مخالفت سے گھبرائی آر ایس ایس اب بابا صاحب امبیڈکر کی دوہائی دینے لگی ہے۔ فرقہ پرست بھگوا تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قانون اُن ہی کے خوابوں کو پورا کرتا ہے۔ یہ دلیل آر ایس ایس کے ترجمان "آرگنائزر” کے تازہ شمارے میں پیش کی گئی ہے۔
"بابا صاحب کے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے” کے عنوان سے گنیش رادھا کرشن نے”آرگنائزر” (22 دسمبر) میں ایک متنازع مضمون لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 امبیڈکر کے خواب کو منزل تک پہنچاتا ہے۔”اگر بابا صاحب امبیڈکر آج زندہ ہوتے تو وہ شہریت ترمیمی بل 2019 کے پاس ہو جانے پر سب سے زیادہ خوش ہوتے، کیونکہ پاکستان کے ہندو وہاں اسی طرح سے ظلم کے شکار ہیں جیسا کہ انہوں نے 1947 میں پیشن گوئی کی تھی”.
یہی نہیں اس مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں مقیم ہندو اقلیتوں کی جو موجودہ حالات ہیں وہ تقسیم ہند کے وقت کی گئی غلطیوں (جو ہندوستانی ریاست نے اس وقت کی تھی) کا سیدھا نتیجہ ہے، ان "تاریخی غلطیوں” کا شہریت بل "دائمی حل” پیش کرتا ہے۔
اس مضمون میں امبیڈکر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ "اسلامک ریپبلک” آف پاکستان میں پھنسے ہندوؤں کے حالات سے پریشان تھے اور وہ چاہتے تھے کہ دلت وہاں سے کسی طرح نکل کر بھارت آ جائیں۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو وہ پاکستانی کی ہندو آبادی کو وہاں سے ہندوستان میں منتقل ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔
بر سر اقتدار بی جے پی کی پرينٹل تنظیم آر ایس کا ہفتہ وار میگزین اتنا کہہ کر ہی نہیں رکی، بلکہ اس نے اپنے حریف نہرو اور کانگریس کو بھی نشانہ بنایا۔ نشانہ بھی اس نے امبیڈکر کے کندھوں پر بندوق رکھ کر بنایا۔
مذکورہ مضمون میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امبیڈکر نہرو کی مسلم پرستی(مسلم مینیا ) سے نالاں تھے۔ مگر سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ مضمون میں امبیڈکر کا ایک اقتباس شائع کیا گیا ہے، جس میں وہ خود دلتوں سے مسلمانوں کو اپنا دوست نہ سمجھنے کے لیے ہدایت دے رہے ہوتے ہیں! یہی نہیں امبیڈکر کی کتاب "پاکستان اور تھا ٹس آن پاکستان” سے بھی کچھ اقتباسات اس کے سیاق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے اور امبیڈکر کو مسلم اور اسلام مخالف پیش کیا گیا ہے۔
مگر کوئی اس مضمون کو غور سے پڑھےگا تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ مضمون نگار نے آر ایس ایس کی سیاست کو صحیح ثابت کرنے کے لیے امبیڈکر کے باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ امبیڈکر کے جو بعض متنازعہ اقتسابات مضمون میں پیش کیے گئے ہیں، اس کو کسی مستند ماخذ سے نہیں لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی ایماندار محقق کے دلوں میں شبہات پیدا ہونا لازمی ہے۔
کچھ ایسی ہی کمزوری دھننجے کیر کی امبیڈکر والی سوانح (ڈاکٹر امبیڈکر لائف اینڈ میسن) میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کیر بھی اپنی کتاب میں بعض اوقات بہت ساری متنازعہ باتیں بیان کر دیتے ہیں، مگر قاری کے سامنے مستند ماخذ نہیں چھوڑتے، جس سے ان کو یقین ہو جائے کہ یہ مصنف کی نہیں امبیڈکر کی بات ہے۔ "آرگنائزر” بھی کیر کی کتاب کا ہی استعمال کرتی ہے، مگر اس میں بھی ایمانداری اور تحقیقی ضابطوں کا خیال نہیں رکھتا جاتا۔
ایک اور بات غور کرنے کی ہے کہ کیر نے امبیڈکر کے علاوہ ہندو مہاسبھا کے صدر اور ہندوتو نظریہ کے خالق وی ڈی ساورکر کی بھی بائیو گرافی لکھی ہے۔ خود ساورکر کیر کی امبیڈکر والی کتاب کی تعریف میں آگے آئے اور کہا کہ یہ کتاب "حقیقت” پر مبنی ہے اور امبیڈکر جیسی عظیم شخصیت کے بارے میں واقعات کو ریکارڈ کرنے کے لیے کیر جیسا عظیم سوانح نگار کی ضرورت تھی۔ کیر کے ساورکر کے ساتھ اسی تعلقات کا اثر اُن کی امبیڈکر والی کتاب میں بھی بعض اوقات دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیر کی کتاب اور اُن سے جڑی ہوئی متنازعہ باتیں پر الگ سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا موازنہ امبیڈکر کی مراٹھی میں لکھی گئی مستند بائیو گرافی سے بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اس لیے کہ اکثر آر ایس ایس امبیڈکر کے حوالے سے جو بات کہتی ہیں وہ کیر کی کتاب سے ہی لیتی ہے۔
مستند ماخذ کے فقدان یا اس میں پائے جانے والی گڑبڑی کی دو مثالیں آپ کے سامنے پیش ہیں، جو آرگنائزر کے مضمون سے متعلق ہیں۔ مضمون نگار نے کیر کی بیوگرافی کے صفحہ 399 سے امبیڈکر کا مذکورہ بیان لیا ہے, جس میں وہ پاکستان کے دلت ہندوؤں سے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی موقع پا کر بھارت آ جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ دلتوں کو نصیحت بھی دیتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اپنا دوست نہ سمجھیں۔
کیا امبیڈکر نے واقعی ایسی بات کہی ہوگی؟ جو شخص پوری زندگی وہ اونچ نیچ اور تعصّب سے لڑتے رہے، کیا وہ مسلمانوں کو اپنا دوست مت سمجھو جیسی بات کہہ سکتا ہے؟،جو انسان سیکولر آئین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے لڑتا رہتا ہے، کیا وہ آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست تنظیم سے متفق ہو سکتا ہے؟ جب کیر کی امبیڈکر والی بیوگرافی کے صفحہ 399 کو الٹ کر دیکھا گیا تو پایا گیا کہ خود کیر نے امبیڈکر کے حوالے سے اتنی متنازعہ بات کہہ تو ڈالی مگر کوئی مستند ماخذ سپورٹ میں نہیں دیا! کیا اس کا یہ مطلب نہیں لگایا جائے کہ کیر کی طرح آر ایس ایس بھی امبیڈکر کو مسلم مخالف ثابت کرنے کے لیے کچھ زیادہ ہی بے چین ہے؟
مگر مضمون نگار کی ایک اور غفلت دیکھیے کہ وہ امبیڈکر سے جوڑے اقتسابات کو مستند ثابت کرنے کے لیے "فری پریس جرنل” (نومبر 1948) کا بھی حوالہ دیتا ہے، جس کو کیر نے کسی دوسرے پرا گراف کے لیے استعمال کیا تھا۔ مضمون نگار کو اتنی ایمانداری تو ہونی ہی چاہیے تھی کہ وہ دوسری جگہ استعمال ہوئے ماخذ کو اپنی سہولیات کے لیے استعمال نہ کرتے!
اسی طرح کیر کی کتاب سے صفحہ 338 پر دیے گئے امبیڈکر کے بیان کا بھی استعمال مضمون نگار کرتا ہے، جس میں امبیڈکر یہ کہتے ہوئے پیش کیے گئے ہیں کہ "کانگریس کے دلوں میں ایس سی کے لیے کئی جگہ نہیں ہے اور نہرو "مسلم مینیا” میں مبتلا ہیں اور ان کے دلوں میں ایس سی کے لیے کوئی رحم نہیں ہے۔”
ایک بار پھر امبیڈکر کے اس متنازع اقتباس کو کیر کی کتاب میں تلاش کیا گیا۔ اقتباس مل تو گیا، مگر کیر نے پھر کوئی ثبوت امبیڈکر کے اس بیان کے پیچھے نہیں دیا۔ آرگنائزر کے مضمون نگار نے تو کیر کی کتاب میں شائع شدہ پیراگراف میں کوما لگا کر اسے اور مستند کرنے کی بھی کوشش کی ہے!
یہ مضمون پڑھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آر ایس ایس شہریت ترمیمی بل کے خلاف اٹھ رہے احتجاج کو بدنام کرنے کے لئے دلت کارڈ کھیل رہی ہے اور امبیڈکر کو اپنے فرقہ پرست اور مسلم مخالف سیاست کو تقویت پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ جہاں تک امبیڈکر کا تصّور قوم یا قومیت ہے، وہ آر ایس ایس کے ہندو نسل پر مبنی قوم اور قومیت کے نظریہ سے بلکل بھی میل نہیں کھاتا ہے۔ امبیڈکر کے نزدیک قومیت کے لیے سب سے اہم جز "سوشل فیلنگ” یعنی بھائی چارگی اور اخوت کا پایا جانا ہے۔ ذات پات اور طبقاتی نظام پر مبنی بھارتی سماج نہ صرف قومیت کے جذبے بلکہ جمہوریت کے لیے بھی خطرہ ہے، تبھی تو امبیڈکر نے کاسٹ کو جمہوریت کے لیے خطرہ بتایا۔ اگر آر ایس ایس صحیح معنوں میں امبیڈکر کے نظریوں کا پیروکار ہے، تو اسے ذات پات اور طبقاتی نظام کے خلاف آواز بلند کرنے چاہیے نہ کہ مذہب پر مبنی شہریت قانون کو عوام پر تھوپنا چاہیے۔
(مضمون نگار نے حال ہی میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے مطالعات برائے تاریخ میں اپنی پی.ایچ.ڈی جمع کی ہے۔)

(Abhay Kumar has recently submitted his PhD at Centre of Historical Studies, Jawaharlal Nehru University, Delhi. A regular contributor to newspapers and web portals, Kumar has been working on the broad theme of the Indian Muslims and Social Justice. His other writings are available at abhaykumar.org. You may write to him at [email protected])

مضمون نگار کے دوسرے مضامین پڑھنے کے لنک پر کلک کریں۔
سگریٹ، شراب اور ملک مخالف نعرے!
جامعہ تیرے جذبے کو سلام!
مسلمان اپنی ترقی کیسے کریں؟رام دیو: تمہیں بابا کہوں یا سنگھی؟
میرا ضمیر مجھے جشن منانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے