نوبل انعام یا بربریت کا صلہ!

Spread the love


ڈاکٹر حلمی القاعود
مجلۃ المجتمع ۱۹ اکتوبر ۲۰۱۹
مترجم: محمد اویس ندوی

نوبل انعام کو اب اعلی اقدار ، اخلاقیات ،انسان دوست رویہ اور امن کے نشان کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ، خاص طور پر وہ انعامات جو ادیبوں ، سیاست دانوں اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں سرگرم افراد کو دیئے جاتے ہیں ۔ یہ پہلے ہی کچھ ایسے لوگوں کو دیا جا چکا ہے جو انسانیت سے عاری ، سفاکیت ، دوسروں کے حقوق لوٹنے اور لوگوں کو زندگی کے حق سے محروم کرنے جیسے جرائم میں ملوث رہ چکے ہیں۔ مثال کے طور پریہ انعام دہشت گرد میناشم بیگن ، قاتل شمعون پیریز، میانمار (برما) کی قاتل نسل پرست آنگ سان سوچی اور آخر میں ایتھوپیا کے وزیر اعظم کو دیا گیا جو مصری عوام کو نیل کے حقوق سے محروم رکھنے کی بات کرتا ہے کہ وہ پیاسے مرے!
ادب کے میدان میں یہ ایوارڈ بعض اوقات مبہم ادیبوں کو دیا جاتا تھا ، جن کی ادبی پیداوار کی کوئی بڑی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ وہ مغربی یا صہیونی ثقافت کے وفادار ہوتے۔ اس سال یہ ایوارڈ بوسنیا ، ہرزیگوینا اور کوسوو کے مسلمانوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث انتہا پسند سربی صلیبیوں کی تعریف کرنے والے ایک فاشسٹ نسل پرست کودیا گیا۔ اس نے نہ صرف ان کی تعریف کی بلکہ ان کا اور ان کے جرائم کا دفاع بھی کیا۔ اسی طرح سربیا کے سب سے بڑے قاتل سلوبوڈن میلوسویچ کی آخری رسومات میں شامل ہوا۔ہیگ میں بین الاقوامی عدالت برائے جنگی جرائم کے سامنے اس کے بری ہونے کی گواہی دینے کے علاوہ اس کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایوارڈ کے اسپانسر اپنے آپ کو انعام حاصل کرنے والے کے طرز عمل یا خیالات کے لئے غیر ذمہ دار سمجھتے ہیں ، چاہے وہ انسانیت کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔اور ان کے پاس ایوارڈ کے اہداف کو نظر انداز کرنے والے انعام یافتہ سے انعام واپس لینے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر امن انعام یافتہ میانمار کی صدر ایک ایسی حکومت کی نمائندگی کرتی ہے جو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم میں ملوث ہےاس نے ان کے افراد کو قتل کرنے کے بعد سرحد سے باہر نکال دیا تھا۔ لیکن ایوارڈ دینے والی تنظیم اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوجاتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اس نے ایوارڈ سے نوازا دیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔
مغربی دنیا اپنے کم انعامات میں کچھ فائزین سے انعام واپس لے لیتی ہے ، مثال کے طور پر اگر یہ کہا جائےکہ ان میں سے ایک شخص سامی مخالف ہے ، چاہے وہ سامی ہی کیوں نہ ہو ، یا یہ کہ وہ فلسطین پر قابض اور اس کے لوگوں کو غلام بنانے والے خونخوار صہیونی وجود کے بائیکاٹ کی حمایت کرتا ہے۔اور آخر میں جرمنی میں ان لوگوں کو ایوارڈ سے نوازنے کا فوبیا پھیل چکا ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف صہیونیت کے مجرمانہ طرز عمل پر اعتراض کرتے ہیں۔ جرمنی میں دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں (اکتوبر 2019) ایوارڈز حاصل کرنے والوں سے ادبی اور فنی ایوارڈ واپس لے گئے جنہوں نے مبینہ طور پر غاصب صہیونی وجود کے بائیکاٹ کی تحریک میں حصہ لیا۔
پہلے واقعے میں 10 ستمبر ؍ 2019 کو ڈورٹمنڈ شہر کی جانب سے پاکستانی نژاد برطانوی مصنفہ کامیلا شمسی کو”نیلی سیکس”ایوارڈ دینے کااعلان کیا گیا، اسی مہینے کے آخر میں قبل اس کے کہ ایوارڈ کے منتظمین بیان جاری کرتے جس میں وہ یہ کہتے کہ جیوری نے کامیلا کو ایوارڈ دینے کے سلسلے میں اپنا ارادہ بدل لیا ہے ۔ اور سال 2019 کا ایوارڈ نہیں دیا جائے گا۔ ایوارڈ کے بارے میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جیوری نے مصنفہ کامیلا شمسی کو ان کے شاندار ادبی کارنامے کے لئے ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔مگر جیوری بورڈ کے ممبران کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ مصنفہ نے سنہ 2014 کے بعد سے فلسطینیوں کے خلاف قابض حکومت اور ان کے تئیں اس کے طرز عمل کے خلاف بائیکاٹ کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔
کامیلا شمسی نے مڈل ایسٹ آئی میں شائع کردہ ایک بیان میں اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جیوری کے دباؤ کے سامنے جھکنے پر افسردہ ہیں۔
دوسرا واقعہ یہ تھا کہ جرمنی کے شہر آچن نے صیہونی وجود کے بائیکاٹ کی مہم کی حمایت کرنے کی وجہ سے لبنانی فنکار ولید رعد کو دیا گیا ایوارڈ واپس لینے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا۔
خوش قسمتی سے لبنانی فنکار کو اپنے دفاع کے لئے ایک ایسا شخص مل گیا جو معروضی وجوہات کی بنا پر ایوارڈ واپس لینے کی راہ میں حائل ہوگیا۔ شہر کے میئر مارسل فلپ نے ایک سرکاری بیان میں اعلان کیا کہ اس انعام کو واپس لینے کی وجہ جس کی رقم دس ہزار یورو ہے یہ ہے کہ ولید رعداسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی تحریک کی حمایت کرتے ہیں، سرمایہ کاری کو واپس لینے اور پابندیاں عائد کرنے کی وکالت کرتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں کو برابری کا حق دینے کے لئے قابض حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ ’’لڈوگ انٹرنیشنل آرٹ کونسل‘‘ نے قرار داد پر عمل درآمد کرنے سے انکار کردیا اور یہ اعلان کیا کہ 2018 کے انعام پر اب بھی ولید رعد کا نام ہوگا۔ کونسل نے بتایا کہ اس کے ممبران کو یہ ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ رعد یہود مخالف ہے۔ .جرمن میگزین ’’ڈوئشلینڈ فونک‘‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ میوزیم کو ایوارڈ کے لئے حمایت اور فنڈ مل چکا ہے۔ اور اسے شہر کی میونسپلٹی سے رعد کو ایوارڈ دینے کے لئے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم آسٹریا کے ناول نگار ، ڈرامہ نگار اور شاعر ’’پیٹر ہینڈکے ‘‘ کا ادب میں 2019 کا نوبل ایوارڈ حاصل کرنا اس کے عطیہ دہندگان اور ایوارڈ کی تاریخ میں ایک بدنامی کا دھبہ ہے ، اس نے مقامی اور بین الاقوامی ادبی حلقوں کے صاحب ضمیر افراد میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ سویڈش اکیڈمی نے پیٹر ہینڈکے کے انتخاب کی تائید کی کہ وہ اس کے ان موثر کاموں میں سے ہے جس نے لسانی قابلیت اور انسانی تجربے کی خاصیت کو دریافت کیا۔ ایوارڈ نے ہینڈکے کی تاریخ اور 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کی خونی نسل پرستانہ جنگ کو متحرک کرنے والے سربوں کی مدد کرنے کے تجربے کو نظرانداز کیا اور اس جنگ کے وحشیانہ قتل عام سے انکار کیاجس کو بہت سے لوگوں نے غیر اخلاقی اور ناجائز سمجھا ۔ وہ سابق سربیا کے نسل پرست رہنما سلوبوڈن میلوسیک کا نہایت قریبی ہے ۔اس نے ایک بار سریبرینیکا میں سربیا کے قتل عام کی تردید کی۔اس نے سربیا کی تقدیر کا موازنہ ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں سے کیا تھا ، حالانکہ بعد میں اس نے اس کو "سبقت لسانی” کہہ کرمعذرت کرلی۔
سویڈش اکیڈمی کے ہنڈکے کی کامیابی کا اعلان کے بعد ایک سوال پیدا ہوتا ہے :آپ نے برسوں تک اس کا نام کیوں خارج کیا؟ اس نے کون سا نیا کارنامہ انجام دے دیا جس نے آپ کے موقف کو تبدیل کردیا؟ کیا یہ انتخاب یوروپ میں انتہا پسند صلیبی عروج کی ایک صدائے باز گشت ہو سکتا ہے؟ کیا ہوتا اگر مصنف Semitism کے مخالفین سے ہمدردی رکھتا ، مثال کے طور پر کیا وہ انعام جیتتا؟ یہ اعمال”جو لسانی قابلیت کے ذریعہ انسانی تجربے کی گہرائیوں میں ڈوب چکے ہیں”کس حد تک فاشزم یا بربریت کی اپنی مضبوط شکل میں حمایت کرتے ہیں؟
ہینڈکے کی کامیابی کو بڑے پیمانے پر مسترد کیا گیا ، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود بھی اس کامیابی پر حیرت زدہ ہے۔ اس نے ایوارڈ جیتنے کے بعد کہا تھا کہ”سویڈش اکیڈمی کی طرف سے یہ فیصلہ بہت ہی جرأت مندانہ ہے۔” واشنگٹن پوسٹ میں نقاد رون چارلس نے ایوارڈ کے بارے میں اپنی عدم اطمینانی کا اظہار کیا،اور اکیڈمی کی جانب سے ایوارڈ پر اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں کہا کہ :”اچھے فیصلے کا مظاہرہ کرنے یا اعتماد بحال کرنے کا یہ کوئی مثالی طریقہ نہیں ہے۔سویڈن کی ایک جماعت جس کو دنیا کی ناحق اور بے جا توجہ حاصل ہے کی جانب سے یہ صرف ایک حیلہ ہے ۔” انہوں نے اس جانب بھی نشاندہی کی کہ اس انعام کا ان مقامات کے ادیبوں کو اجاگر کرنے میں ایک اہم کردار سمجھا جاتا ہے جن کے ادبی قد بلندہونے کے باوجود مناسب طریقے سے پیروی نہیں کی جاتی ہے ، حالانکہ یہ ممکن تھا کہ ان کی قدر کی جائے اور اس طرح ادارے کے تئیں اعتماد بحال ہوجائے۔
بی بی سی کی ویب سائٹ نے البانیا کے وزیر خارجہ ’’جینٹ کاکاج‘‘ کے ٹویٹ کو نقل کیا ہے ۔ ’’یہ انعام شرمناک تھا اور یہ ایسے شخص کو دیا گیا ہے جو نسل کشی کا منکر ہے ‘‘البانیا کے وزیر اعظم ’’إدی راما‘‘نے لکھا: ’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نوبل انعام کی وجہ سے میں قے محسوس کروں گا‘‘۔جبکہ کوسوو کے صدر "ہاشم پاکی "نے کہا :” نوبل انعام کے فیصلے نے ان گنت متاثرین کو بے حد تکلیف پہنچایا ہے ۔ "
دلچسپ بات یہ ہے کہ1999 میں گارڈین میگزین نے لکھا تھا کہ برطانوی مصنف سلمان رشدی نے پیٹر ہینڈکے کو "سلووڈن میلوسیک کے ذریعہ نسل کشی کرنے والی حکومت کے سلسلے میں تسلسل کے ساتھ جذباتی معافی نامہ لکھنے کی وجہ سے "بین الاقوامی احمق” قرار دیا ہے۔ جب ہینڈکے کو نوبل انعام دینے کا اعلان کردیا گیا تو اسی اخبار نے رشدی کے ایک بیان کو شائع کیا جس میں اس نے کہا: "میرے پاس آج اضافہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ، لیکن میں نے جو کچھ پہلے کہا تھا اب بھی اسی پر برقرار رہوں گا۔” (سنہ 1999 میں اس کے سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے)۔
مصنف ہیری کونزارو نے کہا ، "نوبل کمیٹی کے لئے ہینڈکے ایک پریشان کن انتخاب ہے ، جو حالیہ رسوائی کے بعد انعام کو صحیح راستے پر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔” وہ ایک بہت اچھا مصنف ہے، جو بڑی بصیرت کے ساتھ ساتھ شدید اخلاقی اندھا پن کا بھی حامل ہے ۔ "
عرب مصنفین اور ادبا ء کی عمومی یونین کے ذریعہ ایک عمدہ کام یہ کیا گیا کہ اس نے ایک بیان جاری کیا جس میں دائیں بازو کے مصنف اور آسٹریا کے انتہا پسند پیٹر ہینڈکے کو 2019 میں ادب کا نوبل انعام دینے کے فیصلے کو مسترد کیا ہے ۔
واضح رہے کہ عمومامقامی اور بین الاقوامی سطح پر ادبی انعامات عطیہ دہندگان کے اپنے غیر اعلان کردہ اہداف کے یرغمال بن چکے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس نمایاں اور ممتاز انعام کو کچھ غیر مستحق افراد حاصل کرتے ہیں۔ شاید قارئین کو وہ عرب فرقہ پرست شاعر یاد ہو جس نے اسلام کی توہین اور پوری تاریخ میں اس کو مجرم ٹھہرایا اور اس کے ذریعے وہ مسلسل نوبل عطیہ دہندگان کے قریب ہونے کی کوشش میں لگا رہا اس امید میں کہ وہ نوبل ایوارڈ حاصل کرسکے ۔ لیکن وہ لوگ ابھی بھی اس سے مزید انتظار میں ہیں! ایک عرب مصنف نے ایک بار کہا تھا کہ جو لوگ اپنے ملک کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں وہ حکومت کی مالی اعانت سے دیا جانے والا انعام کبھی حاصل نہیں کرسکتے !
ادبی ایوارڈ اپنے مختلف اقسام میں وفاداری حاصل کرنے ، حمایت تبدیل کرنے اور بربریت کا جواز پیش کرنے کے لئےغیر حتمی رشوت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے