امن کے لئے نوبل انعام جیتنے والے ابی احمد علی اور ان کا رول

Spread the love


ہندوستانی روزنامچہ ‘دی انڈین اکسپرس’ سے ترجمہ
مترجم : خضر شمیم
ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی کو ان کے مفاہمت، یکجہتی اور سماجی انصاف جیسے اہم کاموں کو آگے بڑھانے کےلئے سال 2019 کا نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ناروے کی نوبل کمیٹی نے ابی احمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا :” ابی احمد علی نے اہم اصلاحات شروع کی ہیں جو کئی شہریوں کو ایک بہتر زندگی اور درخشاں مستقبل کی امید بخشتی ہیں۔"

ابی نے کیا کیا ؟
ابی احمد جب سال 2018 میں ایتھوپیا (حبشہ) کے وزیراعظم بنے ، ایتھوپیا اریٹیریا کے ساتھ 20 سالوں سے جاری تنازعہ میں پھنسا ہوا تھا۔ اسی سال جولائی کے مہینے میں فوجی افسر سے وزیراعظم بنے ہوے 41 سالہ ابی احمد نے سرحد پار قدم بڑھایا ، اریٹیریائی صدر ایسائیس افویرکی (Isaias Afwerki) سے گرمجوشی سے معانقہ کیا اور امن کی کاوش و مساعی کو ہری جھنڈی دے دی دنیا کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہ جنگ اب آپشن نہیں ہے۔ نوبل کمیٹی نے اس بات کو نوٹ کیا کہ کیسے ابی احمد نے، افویرکی کے ساتھ تعاون کرکے، امن معاہدے کی مبادیات تیار کی جو دونوں رہنماؤں کے اعلانات میں سامنے آیا جس پر انہوں نے اس سال جولائی میں زیارت کے دوران اسمارا میں اور ستمبر کے مہینے میں جدہ میں دستخط کئے۔ اس میں ابی کے ذریعہ حاصل کیے گیے متعدد کامیابیوں کا بھی ذکر ہے جیسے ایمرجنسی ہٹانا، ہزاروں سیاسی قیدیوں کو معافی دینا، میڈیا سینسر شپ ہٹانا، غیر قانونی قرار دیے گیے اپوزیشن جماعتوں کو قانونی بنانا، کرپشن کے مشتبہ سویلین اور فوجی لیڈروں کو برخواست کرنا، اور سیاسی اور سماجی زندگی میں عورتوں کا اثر بڑھانا۔

.تنازعہ اور اس کی جڑیں :
وہ تعطل جسے ابی احمد نے توڑا ایک سرحدی تنازعے کا ہے جو 1998 میں شروع ہوا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس تنازعے کی تاہم ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔

اریٹیریا جو کبھی اٹلی کی کالونی ہوا کرتا تھا بینیٹو موسولینی کی حکومت کے دوران 1936 میں ایتھوپیا کے ساتھ ملا دیا گیا، پھر برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران اس پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے بعد، اقوام متحدہ کے فیصلے سے 1950 میں اریٹیریا کو ایتھوپیا کے ساتھ وفاق کا ایک حصہ بنا دیا گیا۔ جب اریٹیریا کی جماعتوں نے 1961 میں آزادی کے لیے جد و جہد شروع کی ، ایتھوپیا نے وفاق کو تحلیل کر دیا اور 1962 میں اپنے میں ضم کر لیا۔ 30 سال جاری جنگ کے بعد اریٹیریا نے سال 1993 میں ایک آزاد ملک کے طور پر بین الاقوامی اعتراف حاصل کر لیا۔ تاہم محض پانچ سال بعد بدمے کی سرحد کو لے کر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ یہ تشدد جو کہ سن 2000 تک دشمنی ختم کرنے کے لئے کئے گئے معاہدے تک جاری رہا 80000 جانیں لے چکا تھا اور متعدد خاندانوں کو جدا کر چکا تھا۔ تب سے دونوں ممالک ایسی حالت میں تھے جسے نوبل کمیٹی نے "نہ امن، نہ جنگ” کے طور پر بیان کیا۔
امن کیا لاتا ہے؟
ابی کی زیارت کے پہلے اور بعد کے دونوں معاہدوں میں ، دونوں ممالک نے تجارت ، سفارت اور مواصلات کے تعلقات کو از سر نو شروع کرنے اور افریقہ کی سینگ میں امن اور دوستی کے ایک نئے دور کی شروعات کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی روزنامچہ نیو یورک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق "… مواصلات بحال کر دیے گئے ہیں، وہ خاندان جو جنگ کے دوران ایک دوسرے سے جدا کر دیے گئے تھے انہیں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس اہم کامیابی کے بعد آنے والے دنوں میں ایتھوپیا کے کچھ لوگوں نے رینڈملی کچھ اریٹیریا کے نمبروں پر اور اسی کے برعکس صرف سرحد پار کے کسی آدمی سے بات کرنے کے لئےادھر سے بھی کال کی، محض اس لیے کہ وہ اب ایسا کر سکتے تھے۔ دوسروں نے اپنے والدین، بھائی بہنوں اور دوستوں کا پتہ لگایا۔”
ایتھوپیا آبادی کے لحاظ سے افریقہ کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے لیکن چاروں طرف خشکی سے گھرا ہوا جبکہ چھوٹا اریٹیریا سمندر سے متصل مشرق وسطی سے جا ملتا ہے۔ سالوں تک چلے اس تنازعہ کے دوران ایتھوپیا عدن کی کھاڑی اور اس سے آگے بڑھ کر بحر عرب تک رسائی کے لیے بھاری طور پر جیبوتی پر منحصر رہا ہے۔ اب اس امن معاہدے نے ایتھوپیا کے لیے اریٹیریا کی بندرگاہیں کھول دی ہیں۔
آگے کے چیلنجز
جبکہ امن کی کوشش آگے کی طرف ایک قدم ہے حالیہ سالوں میں ایتھوپیا میں نسلی دشمنی میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور ملک کے اندر لاکھوں اندرونی طور سے بے گھر ہوئے لوگ ہیں۔ نوبل کمیٹی نے کہا کہ بےشک کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ اس سال کا انعام وقت سے پہلے دیا جا رہا ہے۔ تاہم نوبل کمیٹی یہ مانتی ہے کہ یہی وقت ہے کہ ابی احمد کی مساعی اعتراف کی مستحق اور حوصلہ افزائی کی ضرورت مند ہیں۔

کمیٹی نے افویرکی کا بھی اعتراف کیا :” امن صرف ایک جماعت کے کاموں سے نہیں آتا۔ جب وزیراعظم ابی احمد نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو صدر افویرکی نے اسے تھام لیا…”
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے