موت سے کس کو رستگاری ہے

Spread the love


موت ایک ایسی حقیقت ہے, جس کا اعتراف ہر کس و ناکس کو ہے, اتنی ساری ترقیاں, اتنے سارے ایجادات اور اختراعات ہونے کے باوجود سائنس کی دنیا موت کے سامنے عاجز نظر آتی ہے, انسان کتنا بھی امیر کیوں نہ ہوجائے, عروج کی لامحدود وادیوں کو طے کرلے, ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑلے, مذہب سے منحرف ہوجائے, یا مذہب کو اختیار کرلے, دین بیزار بن کے زندگی گزارے, یا دین پسند, خدا کا اقرار کرے یا انکار, ایک دن اس کو مرنا ہی ہے, کوئی بھی اسے موت کے شکنجوں سے بچا نہیں سکتاـ
ہم ہر روز اپنے سامنے لوگوں کو مرتا دیکھتے ہیں, انہیں اپنے ہی ہاتھوں سے قبر کی تاریکیوں میں دفن کرتے ہیں, مگر پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے, ہم میں سے برا اپنی برائیوں سے باز نہیں آتا, چور چوری سے باز نہیں آتا, ظالم ظلم سے باز نہیں آتا, ہاں کچھ دیر کے لئے غمزدہ ضرور ہوتا ہے, مگر پھر کچھ ہی دیر میں بعد سب کچھ بھول بھی جاتا یے اور دوبارہ پھر رب کی نافرمانی کے راستے پہ لگ جاتا ہے, اتنا بھی نہیں سوچتا کہ کل کو ہمارا بھی یہی حشر ہونے والا ہے, کس قدر بے حسی ہے کہ موت سے ڈرتا بھی نہیں, اور کس قدر بے بسی ہے موت سے بچ بھی نہیں سکتا, پھر بھی غرور اور گھمنڈ اتنا کہ وہ رب کو بھی خاطر میں نہیں لاتاـ
جب میں لوگوں کو بچپنے میں مرتے ہوئے, یا نوجوانی میں مرتے ہوئے دیکھتا ہوں, تو مجھے اس دنیا کی ساری رونقیں, رعنائیاں ہیچ معلوم ہونے لگتیں ہیں, میں سوچنے لگتا ہوں کیا زندگی ہے, بالکل پانی کے بلبلے کی طرح, کب ہم اس دنیا سے رخصت ہوجائیں کچھ پتہ نہیں, ہم اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے ہر ممکنہ جتن کرتے ہیں, ہر قسم کے حیلے اختیار کرتے ہیں, مگر وہی زندگی کب دھوکا دے جائے, اس کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے, ہم اپنی خواہشات کے حصول میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ کبھی بھول کر بھی رب کی طرف رجوع نہیں کرتے. ہم دنیا ہی کی زندگی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں, اسی کو اپنا منزل اور اپنا قیام گاہ سمجھ کر اس کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں, ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا منزل نہیں یہ تو ایک راستہ جس پہ چل کے ہم اپنی ابدی اور دائمی منزل تک پہونچ سکتے ہیں, جس کے بعد کوئی اور منزل نہیں ـ
موت نے بڑے بڑے انبیاء, صلحاء, علماء اور عظیم الشان سلطنتوں کے مالک, بڑے بڑے محلات اور قصور میں رہائش اختیار کرنے والوں, اور برج مشید میں قیام پذیر ہونے والوں کو نہیں چھوڑا تو پھر ہم لوگ کس کھیت کے مولی ہیں, نجانے کتبی تہذیبیں اس دنیا میں وجود میں آئیں, اور فنا ہوگئیں, آج ان کے پتھروں سے تراشی ہوئی عمارتیں چیخ چیخ کے کہہ رہی ہیں, دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو, آو, زمین میں گھومو پھرو, سیر کرو, پھر دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے اپنے رب کو جھٹلایا, اس کی عظمت کو خاطر میں نہ لائے, اپنی برائی میں مگن رہے, آؤ, دیکھو, اور اپنی حیثیت کے بارے میں غور کرو, خود ہمارے ملک ہندوستان کا دار السلطنت دہلی ہر صبح و شام آواز لگاتا ہے, لوگو آؤ, میرے سینے پہ بکھرے ہوئے جواہر پاروں پہ غور کرو, تمہیں اپنی اہمیت کا اندازہ ہوجائیگا, جب لال قلعہ, جامع مسجد, تاج محل, قطب مینار, وغیرہ عمارتوں کے بنانے والوں کو اس میں ہمیشہ رہنا نصیب نہیں ہوا, تم لوگوں کو اپنے فلیٹوں میں ہمیشگی کیسے نصیب ہوگی. جن محلات میں کبھی اندھیرا نہیں ہوتا تھا, ہر طرف روشنی اور خوشی بکھری رہتی تھی, رونقوں کا میلہ لگا رہتا تھا, آج اجاڑ, اور سنسان ہیں, کبھی جن کے باسیوں کے رعب اور دبدبے سے پورا ہندوستان کانپتا تھا, جس میں داخل ہونے کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا, آج انہیں محلات میں لوگ بے خوف و خطر دندناتے پھر رہے ہیں, اور انہیں کی اولاد جامع مسجد اور میانمار کے علاقوں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہے, کس دھوکے میں پڑے ہوئے ہو تم لوگ, یہ دنیا نہ کبھی تمہاری تھی, اور نہ رہے گی, یہاں ہر کوئی جانے کے لئے آتا ہے, جب تک زندہ ہو, یاد رہوگے, مر گئے تو قصہ پارینہ بن کر یادوں کی بے انت وادیوں میں دفن ہوجاؤگے, لوگ تمہیں بھول جائیں گے, تمہاری یادوں کو ذہنوں سے کھرچ دیں گے, اس لئے جب تک زندہ رہو, یہ سوچ کے زندہ رہو, کہ ہم زندہ ہیں ایک دن مرنے کے لئے, اور وہ دن کب آجائے کچھ پتہ نہیں, اس لئے تیاری کرو, آخرت کی تیاری, ابدی اور دائمی حیات کی تیاری, کوئی کام آنے والا نہیں, مر جاؤگے, لوگ اپنے کندھوں پہ اٹھا کے لے جائیں گے……قبر میں اتاریں گے……قبر کو بند کردیں گے….اور پھر تمہارے اوپر مٹی ڈال کر…..اپنے ہاتھ جھاڑ کر….واپس چلے جائیں گے…..پھر تم بچو گے اور تمہارے اعمال.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے