ایمیزون (Amazon ) میں نو ماہ!

Spread the love


خضر شمیم
[email protected]
جیسے ہی آپ ایم اے (MA ) میں آتے ہیں آپ کو اپنے مستقبل اور کیریئر کی فکر ستانے لگتی ہے ، کیونکہ کب تک آپ اپنے والد کی جیب پہ بوجھ بنے رہیں گے ، اور میں بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں تھا ۔ ایم اے میں آنے کے بعد سے ہی یہ احساس زور پکڑنے لگا تھا کہ اب مفت خوری اور آرام پسندی کی زندگی کا انجام ہونے والا ہے اور جلد ہی اپنے خون پسینے کی کمائی والی زندگی کا باب کھلنے والا ہے ۔ لوگوں کو الگ الگ کمپنیوں میں جاب کرتے دیکھا ، کچھ لوگوں نے تو میڈیکل ٹورزم سے ہی کما کما کر دلی میں فلیٹ تک خرید لیا تھا ۔ لیکن جاب کے نام سے ایک عجیب قسم کی گھبراہٹ بھی ہوتی تھی جیسے کسی انہونی کا خوف ہو، اس دوشیزہ کی طرح جو سہاگ رات میں اپنے کمرے میں پہلی بار کسی مرد کے ساتھ اکیلی بند ہو اور اس کی نسیں پھولی جا رہی ہوں کہ پتہ نہیں اگلے لمحے کیا ہوگا۔
جہاں تک جاب کے پیکج کی بات ہے تو جب میں 2014 میں دہلی آیا تھا اس وقت مجھے بخوبی یاد ہے کہ ہمارے عربی لائن میں کارپوریٹ میں جاب کرنے والے ایک نووارد (fresher ) کی تنخواہ بھی 35-40 ہزار سے شروع ہوا کرتی تھی لیکن زمانے کا عروج و زوال دیکھئے کہ دو تین سال میں یہ نیچے کی طرف لڑھکتے لڑھکتے نوبت بایں جا رسید کہ اب اس دور میں عموماً ایک نووارد 25 ہزار سے شروعات کرنے پر مجبور ہو گیا ہے ۔
لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب کمپنیوں میں سے ایمیزون ( جسے میں "ایمیزون” میں جاب کرنے سے قبل "امیزن” کہتا تھا لیکن اب امریکہ و انگلستان میں اپنے خریداروں سے بات چیت کرنے کے بعد یہ پتہ چلا کہ صحیح تلفظ "ایمیزون” ہے) کا نظام تنخواہ ہمیشہ سے اچھا رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمیزون اپنے ملازمین کو براہِ راست چنتا ہے جبکہ دوسری کمپنیاں ملازمین کی ہائرنگ کا کام کسی تیسری پارٹی کو سونپتی ہیں ۔ اور میرے ایک ہم جماعت بی اے کے فوراً بعد ایمیزون میں کام کرنے لگ گئے تھے، لہذا میں ہمیشہ ان پہ رشک کرتا اور دل میں یہ تمنا کرتا کہ کاش مجھے بھی ایمیزون میں جاب لگ جاتی۔
جیسے جیسے ایم اے اختتام کو پہنچتا جا رہا تھا، دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں کہ اب کیا ہوگا ۔ لہذا چھٹی کے ایام میں ایک دو جگہ جاب کے لئے تگ و دو شروع کی ۔ ایک بندے نے ایک جگہ میڈیکل ٹورزم میں میرا نام دلوایا۔ ادھر سے ایک بندے نے مجھ سے واٹساپ پے رابطہ کیا ۔ میں نے تنخواہ کی تفصیلات پوچھی تو اس نے بتایا کہ ہر دن شاید (مجھے اب صحیح صحیح یاد نہیں رہا ) 800 یا 900 کے حساب سے ملے گا ۔ میں نے ناگمنی دوم ( شاہد جمالی ) سے اس بارے میں مشورہ کیا جو اس وقت میرے روم پہ ہی رہا کرتا تھا ۔ وہ مارکسزم اور کمیونزم سے زیادہ متاثر تھا ، اس نے مجھے بتایا کہ یہ طبقاتی استحصال ہے کہ 9 – 9 گھنٹے کے بعد اتنی کم اجرت ہو۔ لہذا میں نے بھی اسی قسم کا جواب میڈیکل ٹورزم کے اس بندے کو دے دیا جس نے مجھ سے واٹساپ پہ رابطہ کیا تھا ۔ میں نے اس کو دو ٹوک کہہ دیا کہ یہ مزدوروں کا استحصال ہے اور میں اس استحصال کے لئے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوں ۔ حالانکہ مجھے بعد میں احساس ہوا کہ کم سے کم 14 – 15 روز مجھے وہاں جاب کر لینا چاہیئے تھا تاکہ دو تین مہینے تک کام چلانے کے لئے پیسے ہاتھ میں آ جاتے ۔ برا ہو مارکسسٹ اور کمیونسٹ سوچ کا جو ہاتھ آتی ہوئی جاب سے آپ کو محروم کر دیتی ہے ۔
ایک بار گڑگاؤں میں انٹرویو دینے جانے کا اتفاق ہوا ایجز(Aegis ) کمپنی میں ۔ اس وقت بہت سے لوگ ایجز میں جاب پا چکے تھے ۔ بہت سے ایسے لوگ اس میں جاب پا چکے تھے کہ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میرا وہاں سیلیکشن ہونا اولین حق ہے ۔ میں اپنے ایک ہم جماعت کو لے کر زندگی میں پہلی بار کسی جاب کے انٹرویو کے لئے نکلا ، فارمل (formal ) لباس میں ۔ مجھے اس وقت تک یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ کیزویل (casual ) اور فارمل ڈریس میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ اب تک میں زیادہ تر کرتا پاجامہ یا کرتا پینٹ پہنتا آیا تھا۔ سیدھی سادی زندگی تھی۔ لباسی تہذیب کی ان گوناگوں باریکیوں سے قطعاً ناواقف تھا۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اگر آپ شرٹ کو ان (in ) کرکے پہن رہے ہیں تو آپ کو پینٹ پر بیلٹ لگانا تہذیبی لحاظ سے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک نوشادی شدہ دولہن کا پہلی بار سسرال جانے پر خاموش رہنا اور ہر وقت سر جھکا کر بیٹھی رہنا ضروری ہوتا ہے۔ بہرحال میں زندگی میں پہلی بار فارمل ڈریس پہن کے اپنے ایک ہم جماعت کے ساتھ انٹرویو کے لئے نکلا۔ راستے میں قے کرتا ہوا گڑگاؤں پہنچا۔ انٹرویو ہوا اور انٹرویو لینے والے نے ہمیں کہہ دیا کہ جاؤ انگریزی مضبوط کرکے اگلی بار آنا۔ مجھے تو اس پر اتنا غصہ آیا جتنا آپ کو اس وقت آتا ہے جب آپ زور کی قضائے حاجت محسوس کر رہے ہو اور پاجامے کے ازار بند کی گرہ نہیں کھل رہی ہو ۔ لیکن کوئی آپشن نہیں تھا ۔ وہاں سے راستے میں بریانی کھاتے منہ لٹکائے واپس ہوئے ۔
پھر ایک اور جگہ جاب کے بارے میں پتہ چلا ۔ اب کی بار میں ایک دوسرے ہم جماعت کے ساتھ نوئیڈا کا رخ کر رہا تھا دوسری مرتبہ انٹرویو کے لئے۔ یہاں معاملہ آسانی سے گزرا اور اسی دن میں سیلیکٹ بھی ہو گیا حالانکہ میرے ہم جماعت کو ناکامی ہاتھ لگی اور وہ پہلی ہی بار میں اس طرح امید ہار بیٹھا جیسے کہ اس کے بعد اب اسے کوئی اور موقع نہیں ملنے والا ۔ مجھے تین دن بعد اپنے کاغذات لے کے آفس پہنچنا تھا اور زندگی کی پہلی جاب شروع کرنی تھی۔ لیکن عین اسی موقع پر مجھے گھر سے فون آیا کہ میرے بڑے ابو کی طبیعت بہت خراب ہے ۔ میرے بڑے ابو کو کوئی اولاد نہیں تھی اور چچی کا بھی کچھ سالوں قبل انتقال ہو چکا تھا لہذا وہ ہمارے ہی گھر پر رہتے تھے۔ جب مجھے یہ خبر آئی کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے تو میں فوراً گھر کے لئے روانہ ہو گیا۔ اور اس طرح سے یہ دوسری جاب بھی ہاتھ سے گئی۔
پھر ایم اے کا اختتام بالکل قریب آتا جا رہا تھا اور میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں ۔ لیکن عین اسی موقع پہ پتہ چلا کہ ایمیزون کمپنی کیمپس سیلیکشن کے لئے اپنی یونیورسٹی آ رہی ہے۔ مجھے ایک امید کی کرن نظر آئی گویا کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو ۔ خدا خدا کرکے 9 فروری کا دن آیا جس دن کمپنی سیلیکشن کے لئے یونیورسٹی آ رہی تھی۔ صبح سویرے نہا دھل کے جائے انٹرویو پر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے راقم الحروف بھی تھا ۔ خدا خدا کرکے چار راؤنڈ امتحان ہوا اور اتنی آسانی سے میں سیلیکٹ ہو گیا کہ پتہ ہی نہیں چلا ۔
بہرحال اب جاب پے جانے کے انتظار میں یہ آخری سیمسٹر کسی طرح کاٹنے لگا ۔ ابھی سیلیکشن تو ہو چکا تھا لیکن کب سے جاب جوائن کرنا ہے یہ پتہ نہیں چلا تھا اور نہ ہی ہمارے ہاتھ میں جوائننگ لیٹر آیا تھا لہذا ایک بے یقینی کی صورتحال سے ہم سب نوچنیدہ گزر رہے تھے۔ لیکن پھر بھی اپنے آپ کو دارالسلام حیدرآباد میں تصور کرنے لگے تھے کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہمیں وہیں جانا ہوگا جاب کے لئے۔ دارالسلام حیدرآباد ہمارے لئے پہلے سے ہی بہترین جگہ تھی اور پہلی بار دکن جانے کا اتفاق ہو رہا تھا، یہ تصور کرکے بھی خوشی ہو رہی تھی کہ ایک نئی سرزمین کو اکسپلور کرنے کا موقع ملے گا۔
کسی طرح کرکے 23 مئی کا دن آیا ۔ وہ دن بھی مجھ سے بھلائے نہیں بھول سکتا ۔ صبح سے پورا موڈ خراب تھا کہ بی جے پی دوبارہ پوری اکثریت کے ساتھ سرکار بنا رہی تھی ۔ اسی دن انتخاب کے نتیجے آ رہے تھے ، دوسری طرف اسی دن شام کو عصر کے بعد ہمیں کمپنی کی طرف سے فائنل کال آئی کہ ہم اپنا ٹکٹ بک کر سکتے ہیں 17 جون کے لئے، کہ اس دن سے ہمیں جاب جوائن کرنا ہے ، لیکن دل برداشتہ کرنے والی بات یہ تھی کہ ہمیں اس دن بتایا گیا کہ اب ہمیں حیدرآباد نہیں بلکہ بنگلور بھیجا جا رہا ہے ، ایک طرف کنفرمیشن کال سے خوشی ہوئی تو دوسری طرف اس تبدیلی سے تھوڑی ناراضگی۔ مجھے 23 مئی کا وہ دن اب بھی اچھی طرح یاد ہے، اس دن پہلے تو میں سینٹر گیا کہ امتحان کے نمبرات پتہ کر سکوں ، وہاں عبید سر اپنے چیمبر میں بلال بھائی اصلاحی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور آنے والے طلبہ کو نمبرات سنا رہے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ انتخاب میں مایوس کن نتیجوں پر بحث بھی چل رہی تھی۔ وہ رمضان کا دن تھا ۔ پھر میں وہاں سے لائبریری آیا ، وہاں بھی اس دن لوگ پڑھائی سے زیادہ انتخاب کے نتیجے پر مرکوز تھے ، بار بار طلبہ نتیجہ سرچ کرتے جیسے وہ میچ کا اسکور دیکھ رہے ہو ، پورا دن خراب تھا اسی وجہ سے ۔ گنگا ڈھابا واٹساپ گروپ جو کچھ دنوں سے کنہیا کمار اور تنویر حسن کے مؤیدین کا اکھاڑا بنا ہوا تھا آج ہر کوئی کرب انگیز منہ بنائے ہوئے تھا ، نہ تو تنویر حسن جیت رہے تھے اور نہ کنہیا بھائی۔
اس دن میں نے ظہر اور عصر کی نماز لائبریری میں ہی ادا کی تھی اپنے دو تین ہم جماعتوں کے ساتھ ۔ سب کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا ، ایک عجیب طرح کی پژمردگی چھائی ہوئی تھی۔ عصر کی نماز کے بعد میں حسنین اور سلمان بھائی کے ساتھ وہی آٹھویں فلور پے لیٹ کے اس سوچ میں غرق ہو گیا کہ اب مسلمانانِ ہند کا مستقبل کیا ہوگا۔ ان آر سی کے بارے میں سوچ سوچ کے مجھے سب سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا کیونکہ بی جے پی نے اپنے چناوی منشور میں پورے ملک میں ان آر سی کرانے کی کھلم کھلا بات کی تھی اور اب جب کہ وہ پوری اکثریت سے جیت کے آ چکی تھی تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اس سے روک نہیں سکتی تھی ۔ ہمیں ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار پر ترس آ رہا تھا ۔ اور ہم اس کے مسائل کو حل کرنے سے قاصر تھے ۔ جب ہم اسی غور و خوض میں غرق تھے مجھے کمپنی کی طرف سے کال آئی۔ میں نے اسے بے مطلب کال سمجھ کے کاٹ دیا ، دوسری بار گھنٹی بجی پھر کاٹ دیا، جب تیسری یا چوتھی بار بجی تو میں نے اٹھایا، اٹھایا تو پتہ چلا کہ ایمیزون کی طرف سے کال تھی، اسی وقت ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی تھی اور جب میں بات کرکے فارغ ہوا تو بارش اپنے پورے شباب کے ساتھ آ دھمکی تھی۔ میں اپنے آپ کو پانی سے بچانے کے لئے لائبریری کے اندر چلا آیا۔ کالے بادل پورے آسمان میں چھا چکے تھے اور ایسا لگا جیسے شام تاریک رات میں تبدیل ہو گئی ہو ۔ اب افطار کا وقت قریب آ گیا تھا اور بارش کا زور کچھ کم ہو گیا تھا ۔ لہذا ہم لوگ دوڑتے ہوئے اپنے ہاسٹلوں کو نکلے تاکہ وقت پر افطار کر سکیں، میرے دل میں تھوڑی خوشی ، تھوڑے غم اور تھوڑے اندیشوں کے احساسات آپس میں مل کر ایک عجیب قسم کا ملغوبہ تیار کرنے میں لگے ہوئے تھے …
عید گھر پر منانے کے بعد 15 جون کو میں نے زندگی میں پہلی بار بنگلور کے لئے پرواز کیا ، یہ میری زندگی کا پہلا اتنا طویل سفر تھا حالانکہ پہلا ہوائی سفر نہیں تھا کیونکہ میں دہلی سے پٹنہ اور پٹنہ سے دہلی ہوائی سفر کر چکا تھا۔ جب میں جہاز میں اوپر سے نیچے جھانکتا تو عجیب عجیب قسم کے خیالات دل میں آ رہے تھے، پہلی بار دکن کا سفر اور ایک نئی زندگی کی شروعات ۔ اوپر جہاز سے دیکھنے پر جنوبی ہندوستان کی زمین مجھے قدرے سرخ لگی ۔ میں جب بنگلور کیمپےگوڑا ہوائی اڈے پر اترا تو ایک عجیب قسم کا جوش و خروش محسوس کر رہا تھا ، ایسا لگ رہا تھا جیسے اب زندگی میں سب کچھ پہلی بار ہو رہا تھا ، چنانچہ لینڈ کرتے ہی میں نے اپنے کلاس کے واٹساپ گروپ گنگا ڈھاپا پر میسیج کیا کہ پہلی مرتبہ جنوبی ہندوستان میں میں پہنچ چکا ہوں ۔ اس دن ہم پانچ چھ لوگ مختلف جگہوں سے بنگلور پہنچ رہے تھے الگ الگ وقتوں پر ، یہاں بھی سب سے پہلے پہنچنے والا راقم الحروف ہی تھا ۔ میرے ہم کار (colleague ) اویس بھائی نے اویو ( Oyo ) ہوٹل بک کر رکھا تھا جسے عرف عام میں لیلی مجنو ہوٹل بھی کہتے ہیں ، تاہم یہاں پہ کسی کو غلط فہمی نہ ہو کہ ہمارے ساتھ کوئی دوشیزہ بھی تھی کیونکہ ایسا کچھ نہیں تھا ، دوشیزہ کا وجود ابھی بھی ہماری زندگیوں سے کوسوں دور تھا…
ہوائی اڈے سے ہوٹل تک کا فاصلہ کافی زیادہ تھا لیکن بس کا جو کرایہ لگا وہ تو تصور سے بھی کہیں زیادہ تھا ، چناچہ ہمیں تقریباً 42 کیلومیٹر کے اے سی بس سفر کے لئے پونے تین سو روپے ادا کرنے پڑے ۔ اب ہمیں احساس ہو گیا تھا کہ زندگی کے سب سے مہنگے شہر میں داخل ہو چکے تھے، بس اسٹاپ پر رکی تو میں نے ہوٹل تک پہنچنے کے لئے آٹو کیا اور آٹو والے نے بھی ہمیں خوب چونا لگایا ، چنانچہ ایک ڈیڑھ کیلومیٹر کے سو روپے ۔ بہرحال میں کیا کر سکتا تھا اس نئے شہر میں ، ابھی میں ہر چیز سے انجان تھا اور نہ ہی ٹکنالوجی میں اتنا ماہر تھا کہ اوبیر یا اولا (Uber / Ola ) کر سکوں ۔ بلکہ اگر سچ کہوں تو مجھے اس وقت تک آن لائن ادائیگی کرنا اور فون پے یا گوگل پے جیسی چیزوں سے کوئی واقفیت نہیں تھی ۔ شاید اس معاملے میں میں اپنی کلاس میں سب سے پیچھے تھا ۔ کیونکہ پڑھائی کے دوران میرے پاس جو موبائل تھا وہ اتنا گھٹیا تھا کہ زیادہ ایپ انسٹال کرنے کا اس میں اسپیس ہی نہیں تھا ، نہ اچھا موبائل اور نہ زیادہ پیسے ۔ انہی سب وجوہات سے میں ان ٹکنالوجی سے انجان رہ گیا تھا ۔
یہاں آتے ہی میں نے اپنی طرز زندگی کو تھوڑا بلند کرنا شروع کیا ، چنانچہ آتے ہی ایک اچھا سا موبائل لیا ، اور اب مجھے احساس ہوا کہ کیوں لوگ خودی ( selfie ) کے لئے اتنے پریشان رہتے تھے ، اب تک میں فوٹو اور سیلفی جیسی چیزوں سے تھوڑا دور دور رہتا تھا بلکہ ایسے لوگوں سے مجھے تھوڑی چڑھ ہوتی تھی جو بار بار سیلفی لیتے ہوں لیکن جیسے ہی ایک اچھا کیمرے والے موبائل کا میں مالک ہوا میں بھی اسی لت کا شکار ہو گیا اور اب پتہ چلا کہ جب اتنا اچھا اچھا فوٹو آئے گا تو کوئی کیوں نہ بار بار سیلفی لینا چاہے ۔

”جنوبی ہندوستان میں جب آپ ٹرین سے سفر کریں تو بہت مزہ آئے گا ، ہر کچھ دوری پر پہاڑ ، ندیاں اور وادیاں نظر آتی ہیں ، اس طرح کے مناظر شمالی ہندوستان میں دوآبہ کے علاقے میں جہاں سے میرا تعلق ہے دیکھنے کو نہیں ملتے ، آپ کو خواہش پیدا ہوگی کہ کاش کہ آپ کا بھی انہی وادیوں میں سے کسی وادی میں ایک گھر ہوتا ، اور خاص کر ان وادیوں کی دلکشی میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب شام کے وقت ان پے سورج کی سنہری کرنیں پڑتی ہیں اور پوری وادی سنہرے رنگ سے جگمگا اٹھتی ہے” ۔

دو دن ہوٹل میں لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے ٹھہرنے کے لئے پی جی (PG ) تلاش کر لی ۔ یہ بھی ایک نئی چیز تھی ۔ اب تک میں اس نام سے واقف نہیں تھا ، لیکن یہاں آکر اس نئی قسم کی رہائش گاہ سے آشنائی ہوئی، پی جی ان لوگوں کے لئے صحیح ہے جو نئے نئے کسی شہر میں جاب کے لئے جا رہے ہیں ، اگرچہ ان کا کرایہ تھوڑا زیادہ ہوتا ہے لیکن ان میں ہر طرح کی سہولیات موجود ہوتی ہیں جسیے واشنگ مشین ، ریفریجریٹر، گیزر وغیرہ اور تینوں وقت کے کھانے کا بھی انتظام ہوتا ہے لہذا آپ کے زیست کا سب سے بڑا مسئلہ یعنی پیٹ کا حل وہاں موجود ہوتا ہے ۔ تاہم یہ ابتدائی کچھ مہینوں کے لئے ہی مناسب ہے کیونکہ ان میں کچھ پابندیاں اور خامیاں بھی ہوتی ہیں جیسے کہ اگر آپ کا کوئی مہمان آیا تو اسے ٹھہرانے کے لئے آپ کو ہوٹل کی طرح ہر رات کی قیمت ادا کرنی ہوگی ، اسی طرح ان میں جو بستر ہوتے ہیں وہ زیادہ چوڑے نہیں ہوتے ہیں اس لئے اگر کوئی آدمی موٹا ہے تو اسے سونے میں دقت ہو سکتی ہے اور پھر کھانے کا مسئلہ ہے کہ ہو سکتا ہے آپ کچھ دنوں میں وہاں کے کھانوں سے اوب جائیں وغیرہ وغیرہ..
17 جون کو صبح سویرے نہا دھل کر جاب پے پہلے دن جانے کے لئے تیار تھے ہم ۔ ہمارے سینوں میں اکسائٹمنٹ کا ایک طوفان بپا تھا ۔ ہر چیز نئی لگ رہی تھی ۔ بلڈنگ میں داخل ہوئے ۔ بڑی سے عمارت تھی اور وہاں بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے ۔ داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے ہم یورپ و امریکہ میں داخل ہو گئے ہوں، ہم نے پھر سے وہاں اپنا رجسٹریشن کروایا اور ہمیں اندر جانے کے لئے بیج (badge ) دیا گیا۔ وہاں کچھ دروازے ایسے تھے کہ پاس پہنچتے ہی اپنے آپ کھل جاتے تھے ۔ جیسے ہم کسی طلسماتی دنیا میں داخل ہو چکے تھے ، اور مجھے خیال آیا کہ کم سے کم ڈاکوؤں کو بھی دروازہ کھولنے کے لئے "کھل جا سمسم” بولنا پڑتا تھا لیکن یہاں تو بنا کچھ بولے ہی دروازہ اپنے آپ کھلتا چلا گیا۔ اندر جا کے کچھ دروازے بیج لگانے پر کھلتے تھے ، اب ہم آٹومیٹک جہان یا طلسماتی دنیا میں آ چکے تھے، پہلے دن تعارف وغیرہ ہوا ، لیپ ٹاپ بانٹے گئے ، ہم نے کھانا کھایا ، ٹرینر سے ہماری ملاقات ہوئی اور ہمیں ہماری شفٹ کا وقت بتایا گیا اور پھر چھٹی کر دی گئی۔
اب زندگی کا ایک نیا باب کھل چکا تھا ، طالب علمی کا سنہرا دور اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ رخصت ہو چکا تھا ۔ اب ہمیں بہت سی پابندیوں کا پابند بننا تھا ، ٹریننگ پیریڈ تقریباً ایک مہینہ تک چلا جس میں ہمیں وقت کا پابند رہنے اور کام کاج سے متعلق چیزیں سکھائی گئی، اب ہمیں بیڑیوں میں جکڑا جا رہا تھا ، چنانچہ جب ہم جاب پر ہوں تو کھانا کھانے اور تھوڑا آرام کرنے کے لئے آدھے آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں لے سکتے تھے ، اگرچہ ہمارے سروں پے ہر وقت کوئی گارڈ کھڑا نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی وہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرا لگا ہوتا تھا لیکن ہمارے لیپ ٹاپ کا سسٹم ہر چیز کا حساب رکھتا تھا ۔ اور ان تمام چیزوں کا ریکارڈ ہمارے مینیجر کے پاس پہنچتا تھا اور اس کے سامنے ہمیں جوابدہ ہونا پڑتا تھا ۔
تاہم جاب پہ آنے کے اپنے بہت سے فائدے بھی تھے ، اب جب میرے ہاتھ میں لیپ ٹاپ آیا تو مجھے پتہ چلا کہ کنٹرول سی دبانے سے کوئی عبارت کاپی ہوتی ہے اور کنٹرول وی دبانے سے وہ پیسٹ ہو جاتی ہے ، اب مجھے یہ بھی پتہ ہوا کہ لیپ ٹاپ کو کیسے کھولنا اور بند کرنا ہے اور پہلی بار زندگی میں مجھے کریڈٹ کارڈ اور دیبٹ کارڈ کا فرق پتہ چلا ، اور ساتھ ہی ساتھ آن لائن خریداری کرنا بھی آیا۔ اب میں کئی کارڈوں کا مالک ہو چکا تھا جسیے کریڈٹ کارڈ ، دیبٹ کارڈ ، زیٹا کارڈ وغیرہ ۔ اور ایسا لگا جیسے کہ پہلی بار زراعتی دور سے نکل کر میں صنعتی اور ما بعد صنعتی دور میں داخل ہو رہا تھا ۔
پھر ہم سب نے مل کر جنوبی ہندوستان گھومنے کا ارادہ بنایا کیونکہ اب ہمارے ہاتھوں میں پیسے تھے، اب طالب علمی کا وہ کسمپرسی کا زمانہ رخصت ہو گیا تھا جب ہمیں کسی کو چائے پلانے سے قبل بھی تھوڑا سوچنا پڑتا تھا ، اور بادل ناخواستہ پلانا پڑتا تھا ، اب پیسہ ہمارا تھا اور دنیا ہمارے مٹھی میں تھی ، سو ہم نے بنگلور شہر اور اس کے اطراف کو گھومنے کا پلان بنایا اور گھوما ، ہم بنگلور کے اندر لال باغ گئے ، اور ٹیپو کے گرمائی قلعے گئے اور دیگر بہت سی جگہیں ، ہم میسور گئے جو بنگلور سے بہت دور نہیں ہے ، میسور کا سفر کافی شاندار رہا ، ہم پانچ چھ لوگ ایک بڑی سی گاڑی بک کرکے صبح سویرے نکل پڑے ، گیارہ بارہ بجے تک ہم میسور میں تھے ، وہاں سلطان ٹیپو کی قبر پر حاضری دی ، دل اندر سے اشکبار تھا اس عظیم سلطان کو تصور کر کے ، ہم اس جگہ بھی گئے جہاں سلطان کی لاش جنگ کے بعد ملی اور جسے اب گھیر دیا گیا ہے ۔ میسور کا محل جو کہ بعد کے کسی بادشاہ کا بنایا ہوا ہے بہت شاندار لگا ، محل دیکھ کر ایسا لگا جیسے ابھی ابھی دربار لگا ہوا ہو ، میسور کا محل ایک زندہ محل ہے ، یہ شمالی ہندوستان کے اجڑے ہوئے محلوں کی طرح نہیں ہے ، تمام شمعیں وہاں روشن ہوتی ہیں اور تمام تر ساز و سامان سے سجا ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ ابھی تک زندگی میں اس جیسا محل دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ، ہم چڑیاگھر گئے ، میسور کا چڑیاگھر کافی شاندار لگا ۔ پھر شام میں لوٹنے سے قبل ہم اس پہاڑی پر گئے جو چامنڈی کی پہاڑی کے نام سے جانی جاتی ہے اور شہر سے باہر قریب ہی واقع ہے ، وہاں سے میسور شہر کا نظارہ بہت شاندار ہوتا ہے ، پہلی بار زندگی میں مجھے پہاڑی پر چڑھنے کا اتفاق ہو رہا تھا ، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور ہم پہاڑی کی چوٹی پر ایک مندر تک پہنچنے کے لئے دوڑ کا مقابلہ کر رہے تھے ، مجھے آرزو ہوئی کہ کاش میرا بھی ایک گھر اس پہاڑی یا میسور شہر میں ہوتا ۔
پھر کچھ دنوں بعد میں اکیلے دارالسلام حیدرآباد گیا۔ وہاں پہلے سے میرے کچھ جاننے والے موجود تھے لہذا ٹھہرنے کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی ، جنوبی ہندوستان میں جب آپ ٹرین سے سفر کریں تو بہت مزہ آئے گا ، ہر کچھ دوری پر پہاڑ ، ندیاں اور وادیاں نظر آتی ہیں ، اس طرح کے مناظر شمالی ہندوستان میں دوآبہ کے علاقے میں جہاں سے میرا تعلق ہے دیکھنے کو نہیں ملتے ، آپ کو خواہش پیدا ہوگی کہ کاش کہ آپ کا بھی انہی وادیوں میں سے کسی وادی میں ایک گھر ہوتا ، اور خاص کر ان وادیوں کی دلکشی میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب شام کے وقت ان پے سورج کی سنہری کرنیں پڑتی ہیں اور پوری وادی سنہرے رنگ سے جگمگا اٹھتی ہے ۔
دارالسلام حیدرآباد کا سفر بہت شاندار رہا اور وہاں کی مشہور ڈش نندی سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ، مجھے اگر زندگی میں موقع ملا تو ایک گھر وہاں بھی ضرور بناؤں گا۔ وہاں جاکر اور ٹولی چوکی میں رہ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ہم بٹلہ ہاؤس اور اوکھلا میں آگئے ، ایک مغل احساس جو مسلم شہروں میں جاکر ہوتا ہے اور جسے میں بنگلور میں آنے کے بعد سے کھوج رہا تھا وہ وہاں جاکر ملا ۔ پھر مجھے سمندر دیکھنے کا شوق پیدا ہوا کہ زندگی میں ابھی تک میں نے سمندر نہیں دیکھا تھا اور میں سمندر دیکھے بغیر مرنا نہیں چاہتا تھا ، لہذا میں نے دوسروں کو تیار کرنے کی کوشش کی لیکن اب تک ہم سب لوگوں کی شفٹ ٹائمنگ اور ہفتے کی چھٹی کے دن بدل چکے تھے لہذا اب ایک ساتھ جماعت کے ساتھ سفر کرنا ممکن نہ تھا ، یہ صورتحال دیکھ کے میں نے اکیلے رابرٹ کلائیو کے شہر چینئی جانے کے لئے ٹکٹ بنایا اور وہاں پہلی بار بحر ہند کے ساحل پر موجوں سے مرا سامنا ہوا ، وہاں کھڑا ہو کر ایک عجیب خوف کا احساس ہوا اور ان موجوں کی طاقت کے سامنے اپنی کمزوری ، خاکساری اور ہیچمدانی کا احساس ہوا ۔
اگر ایمیزون میں جاب کی بات کروں تو شاید مجھے کہنے کے لئے زیادہ کچھ نہیں ملے گا ، زندگی پھر سے یکسری سے بور ہو گئی تھی ، اب ہمیں کام کرنا پڑتا تھا آٹھ گھنٹے اور یہ میرے لئے ایک بار گراں سے کم نہیں تھا ، ہمارے دن ہفتے اور مہینے کے انتظار میں گزرنے لگے ، ہفتہ کا انتظار تاکہ دو دن کی چھٹی مل سکے اور مہینہ کا انتظار تاکہ موٹی تنخواہ ..
اس طرح جاب کرتے کرتے چند مہینے جب گزر گئے تو بیزاری اپنی انتہا کو پہنچی اور مجھ میں پھر سے تعلیمی زندگی کی طرف واپسی کا رجحان زور پکڑتا گیا اور میں نے جاب سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا جس کے نتیجے میں یہ تحریر آپ کے حضور پیش خدمت کر سکا ۔ اور ٹھیک نو مہینے کے بعد جس طرح ایک نومولود اپنی ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے میں بھی ایمیزون کے بطن سے اسے داغ مفارقت دیتے ہوئے نکلا اور آزادی کی فضا میں سانس لی …

خضر شمیم

خضر شمیم

Muhammad Khizr Shamim hails from Muzaffar pur, Bihar. After learning the Quran by heart in his childhood, he turned to the famous seminary Madrasa al-Islah and there studied up to Fazilat. For higher education, he got admitted at Jawaharlal Nehru University in Delhi, where he did BA and MA in Arabic Language and Literature, then worked for a few months at Amazon and now works as a freelancer. From time to time his articles keep on appearing on various newspapers and social media platforms. You may contact him: [email protected]

4 thoughts on “ایمیزون (Amazon ) میں نو ماہ!

  • مئی 9, 2020 at 4:55 صبح
    Permalink

    life is struggle

    Reply
  • مئی 9, 2020 at 2:35 شام
    Permalink

    بڑے محنت سے پڑھا بھائی وہ بھی مکمل جو شاید اکثریت کے حصہ میں نہیں آتی. کافی تفصیل اور دلچسپ آپ بیتی ہے

    خوشی ہوئی ماشاءاللہ تحریر عمدہ اور پرکشش ہے بہت تجربات حاصل ہوئے اور مستقبل کے تعلق سے وافر مقدار میں باتیں سمجھ میں آئیں خاص کر یہ کہ جاب مشکل امر ہے بنسبت( ٹیچنگ یا بجنس کے )

    Reply
  • مئی 9, 2020 at 6:50 شام
    Permalink

    آپ کی آپ بیتی کو بہت تہہ میں جاکر پژھنے کا موقع ملا؛ اس کا مطالعہ کرکے بہت کچھ سیکھ نے کو ملا خاص طور پر جاب کیلے، بھاگ دوژا کی مشکلات اور حالات سے دو چار ہونا،

    آپ کی حالات زندگی کو دیکھ کر اپنی زندگی میں گم ہوا
    جاتا۔ ہوں۔۔

    Reply
  • مئی 11, 2020 at 5:51 شام
    Permalink

    Bahut dilchasp tehreer, tumhe men ne chhote bhai ki tarah dekha he. Kuchh na kuchh likhte raho, tehreer men bandh Lene ki taqat he. Agar satiric ho to zindagi mil jaegi. Ye bhi aik hunar hai.

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے