جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!

Spread the love


عزیر احمد
میں نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا بے بس نہیں محسوس کیا تھا، جتنا اب کر رہا ہوں، تصویریں، ویڈیوز جو سامنے آ رہی ہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ میں ہندوستان ہار رہا ہوں، وہ ہندوستان جس کا خواب ہمارے پرکھوں نے دیکھے تھے، اس کی تعبیر بہت بھیانک مل رہی ہے، 1947 میں بھی ہندو-مسلمان تھا، 2020 میں بھی ہندو-مسلمان ہے، کچھ بھی نہیں بدلا، بس ہندسے بدل گئے ہیں، وہی نفرت، وہی دشمنی جس نے کبھی دلی کو سڑکوں سے خون نہلا دیا تھا، وہی پھر دیکھ رہا ہوں میں، چاروں طرف خون بہتے ہوئے، سڑکوں پر لاشوں کی طرح پڑے لوگ، اور ان کے ساتھ وردی میں ملبوس غنڈوں کی غنڈہ گردی، مزار کو پھونکتے ہوئے، مسجدوں کے گنبدوں کو توڑتے ہوئے، بیک گراؤنڈ میں عورتوں کی چیختی ہوئی آوازیں، یہ تصویریں اور ویڈیوز مجھے زندگی بھر ڈراتی رہیں گی، میں کبھی انہیں بھول نہیں پاؤں گا، کیونکہ میں اس میں ہارتے ہوئے "آئیڈیا آف انڈیا” دیکھ رہا ہوں، میں اس میں "دلت مسلم یونیٹی” کا خواب چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، مجھے سنگھی غنڈوں کی صف میں وہی لوگ آگے نظر آ رہے ہیں، جو پچھڑی ذات کے ہیں، ان کے کپڑے، ان کے پہناوے اور ان کا لائیو ویڈیو بتا رہا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ نہیں، یہ اونچی ذات کے لوگ نہیں ہیں، یہ مہرہ ہیں، وہ مہرہ جنہیں ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
میں نے گجرات فساد کے بارے میں صرف پڑھا تھا، اسے کبھی محسوس نہیں کیا تھا، مگر میں نے دہلی میں ہو رہے فساد کے ذریعہ اسے جی لیا ہے، جو کچھ گجرات میں ہوا تھا، ہو بہو وہی دہلی میں ہوا ہے، احسان جعفری پولیس اور گورنمنٹ کو فون کرتے رہ گئے تھے، اور انہیں جلا دیا گیا تھا، کل رات بھی لوگ اپیلیں کرتے رہ گئے، دہلی پولیس سے، لیفٹننٹ گورنر سے، ہوم منسٹر سے، پرائم منسٹر سے، کوئی سننے کے لئے تیار نہیں تھا، سب نے آنکھیں موند لی تھیں، نہ کسی کو کچھ دکھائی دے رہا تھا، نہ مظلوموں کا چیخ و پکار سنائی دے رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ اجازت دے دی گئی ہو کہ تم بربریت کا جتنا ننگا ناچ ناچ سکتے ہو، ناچ لو، پولیس تمہارے ساتھ ہے ہی، اور ہماری مہان پولیس نہ صرف دنگائیوں کا ساتھ دے رہی تھی بلکہ انہیں ٹریننگ بھی دے رہی تھی کہ کیسے پتھر پھینکا جائے۔
رات میں جس طرح سے ٹائر مارکیٹ جلایا گیا، اس کی اٹھتی ہوئی لپٹیں سیریا کی یاد دلا رہی تھیں کہ جیسے بم مار دیا گیا ہو، لوگ رحم کی بھیانک مانگ رہے تھے، عورتیں بچے چلا رہے تھے، مگر رام راجیہ کے سپاہیوں کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی، جانوروں سے بھی بدتر لوگ، نفرت ہونے لگی ہے ان کی شکلوں سے، بے اتھاہ غصہ اندر بھر رہا ہے، کوئی ایک فساد ذہنوں سے محو نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے، کیا ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کا لا متناہی سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا، ہندوؤں کا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا طبقہ تو معاملات سمجھ رہا ہے، لیکن عام ذہن نفرت سے کرپٹ ہو چکا ہے، اس کو ان سب چیزوں سے خوشی مل رہی ہے، اس کے دل کی تسلی کے لئے یہی کافی ہے کہ مسلمان مودی ایرا میں ستائے جارہے ہیں، مارے جا رہے ہیں، ذلیل کئے جا رہے ہیں، ورنہ کیا وجہ کہ یہ سب تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل و دماغ میں ہلچل نہیں ہوتی ہے، وہ کھل کر مسلمانوں کے سپورٹ میں نہیں آتے ہیں کہ ہم دنگائیوں کے ساتھ نہیں ہیں، چند مخصوص افراد کی بات الگ ہے، لیکن اکثریت ہے کہاں؟
دلی پولیس کا کردار ہمیشہ مسلمانوں اور اسٹوڈنٹس کے تئیں گھناؤنا رہا ہے، یہی دہلی پولیس ہے جس نے مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کیں ہے، کئی بے گناہ نوجوانوں کو انکاؤنٹر میں مار دیا ہے، اور کئیوں کو گمنامی کے کنوئیں میں پھینک دیا ہے، 1984 میں اس نے کانگریسی حکومت کے چھترچھایہ میں سکھوں کا نرسنہار کرنے میں پورا سپورٹ کیا تھا، 2020 میں کمل کا پھول تھامے لوٹ مار مچا رہی ہے، اس سے زیادہ ذلیل پولیس میں نے کبھی نہیں دیکھی، پتہ نہیں اس کے افراد رات میں جب گھر جاتے ہوں گے تو اتنا ظلم کرنے کے بعد چین کی نیند کیسے لے پاتے ہوں گے، دنگائیوں کو روکنے کے بجائے انہیں کے ساتھ مل کر پتھر بازی کرنا، لوٹ مار کرنا اور اقلیتی طبقے کو کسی اور ملک چلے جانے کے لئے کہنا دنیا کی کون سی پولیس کرتی ہے؟
تڑی پار ایک فسادی تھا، فسادی ہے، اور فسادی رہے گا، خون اس کے منہ کو لگ چکا ہے، جب تک اسے خون پینے کو نہ ملے اسے سکون نہیں ملتا، 2002 میں گجرات جلایا تھا، ابھی پورا ملک جلا رہا ہے، اپنے زعم اور اپنے انا میں پورے ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ مایوس کر رہا ہے, وہ آئیڈیا آف انڈیا کو فیل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے مگر وہ کچھ بول نہیں رہا ہے، شاید وہ سوچ رہا ہے کہ ہمیں اس سے کیا لینا دینا، مگر وہ بھول رہا ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو اس کے لپٹ کی زد میں ارد گرد کے سارے گھر بھی آ جاتے ہیں۔
اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ اس کے ممبران ٹیوٹر پر بس سانتونائیں دے رہے ہیں، اگر اپوزیشن غلط کے خلاف کھڑی نہیں ہوسکتی تو ایسے اپوزیشن کا مر جانا بہتر ہے، اتنا وقت گزر جانے کے باوجود بھی دہلی کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملہ، پتھراؤ اور فائرنگ جاری ہے، کچھ جگہوں پر حالات دوبارہ خراب ہونے کی سنبھاؤنا ہے، چاروں طرف سے شرپسند عناصر نے گھیر رکھا ہے، گھروں میں موجود لوگ کس سیچویشن سے گزر رہے ہوں گے اس کو بس وہی اندازہ لگا سکتا ہے جو کبھی ان حالات سے گزر چکا ہو، بھگوا دہشت گرد کتوں کی طرح گلیوں میں چلا رہے ہوں گے، دکانوں مکانوں پر حملہ کر رہے ہوں گے، اپوزیشن چاہتی تو فورا ایک آل آرگنائزیشن میٹنگ بلا کر گورنمنٹ پر پریشر ڈال سکتی تھی، مگر وہ کچھ بھی نہیں کر رہی ہے
ہماری عدلیہ کو بھی فسادات سے مطلب نہیں، لوگ مر رہے ہیں، اس سے مطلب نہیں، پولیس ظلم کی حدوں کو پار کر رہی ہے، اس سے مطلب نہیں، بیجا NSA/PSA اور Sedition کے چارجز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے مطلب نہیں، اسے مطلب ہے تو بس ٹریفک سے، پروٹسٹ ختم کروانے سے، اور مودی جی کو ایک جینس آدمی قرار دینے سے، بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا پار ہو چکی ہے۔
ابھی فی الحال حالت یہ ہے کہ دماغ کے دروازے بند ہوچکے ہیں، بس چاروں طرف مارو پکڑو کی آوازیں ہیں جو سنائی دے رہی ہیں، مجھے وہ چیختی ہوئی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، مگر بے بسی اتنی ہے کہ کچھ کر نہیں سکتے، لیکن بے حسی بھی طاری نہیں ہورہی ہے کہ کندھے اچکا کر آگے بڑھ جائیں، میں بہت حساس طبیعت کا مالک ہوں اور یہ حساسیت ہی ہے جو مجھے ایک پل کے لئے بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس سے غافل نہیں ہونے دیتی، اسلام نے ایک امت اور جسد واحد کا جو کانسپٹ دل و دماغ میں اتارا ہے اس کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میرا گھر جل رہا ہے, جیسے میرے گھر میں گھس کر میرے اہل خانہ کو مارا جارہا ہے, یہی وجہ ہے کہ یہ سب لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور میری سوچ میں الجھن بھی، میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ میں ان سب کا ذمہ دار بھگوا ٹیرر کے ساتھ ساتھ اور کسے ٹھہراؤں، حکومت کو، یا مظاہرین کہ جن کو Provoke نہیں ہونا تھا وہ ہوگئے، جن کو ان کے خلاف لگائے گئے نعروں پر ری ایکٹ نہیں کرنا تھا، وہ کر بیٹھے، جب لڑائی لمبی تھی، تو اس میں Patience بھی بڑا چاہئے تھا، یا پھر اکثریتی طبقہ کو جن کی خاموشی رضامندی معلوم ہورہی ہے، کہ جن کو جب سڑکوں پر نکل کے لئے آنا تھا، وہ اپنے کمروں میں گھر مورے پردیسیا کے گیت گا رہے ہیں، ذمہ دار کوئی بھی ہو ہندوستان ہار رہا ہے، اور اسے ہارتے ہوئے ہم بس دیکھ رہے ہیں، اور کچھ بھی کر پانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

2 thoughts on “جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!

  • فروری 25, 2020 at 11:20 شام
    Permalink

    کسی سے کوئ امید نہ رکھیں، ہمیں کوئ بھی انسان کی حیثیت سے نہیں دیکھ رہا، اس وقت ہم انڈیا گیٹ پر ہیں، تین سینٹرل یونیورسٹیز کی طرف سیولین مارچ کی کال دی گئ تھی، بہ مشکل سو لوگ آۓ. مسلمان تو بے چارے ڈرے سہمے اپنے گھروں میں پڑے ہیں، باقی دہلی کا غیر مسلم ایلیٹ طبقہ ہمارے تعلق سے کیا راۓ رکھتا ہے وہ بھی سامنے ہے. اللہ سے دعا کریں، اس کے علاوہ کسی سے مدد کی امید نہ کریں، اپنی لڑائ خود لڑنا ہوگا.جو دو چار دس لوگ بظاہر مدد کو آتے ہیں وہ بھی اپنی سیاسی روٹی سینک رہے ہیں،مسلمان اغیار کی باتوں میں بالکل نہ آئیں، چاند باغ کے لوگ چندر شیکھر کا مارچ جوائن کرنے نکلے تھے، دنگائ آگے بڑھے ، چندر شیکھر سمیت جتنے غیر مسلم تھے سب نکل لۓ.

    Reply
  • فروری 29, 2020 at 1:35 شام
    Permalink

    اوراق خونچکاں ہیں کتاب حیات کے
    ’’ جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے ‘‘
    دل رورہا ہے خون کے آنسو میں کیا کروں
    سوزِ دروں سے اب مرا جینا محال ہے
    احمد علی برقی اعظمی

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے