میرا ضمیر مجھے جشن منانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

Spread the love


ابھے کمار
[email protected]
کیا ہوتا اگر 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کے بجائے رام مندر کو منہدم کردیا گیا ہوتا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تب بھی ایسا ہی ہوتا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ منہدم ڈھانچہ اسی فریق کو دے دیا جاتا جو اس کو زمین پر گرانے یا اس کے انہدام میں معاون تھا؟ یہ وہ سوال ہے جسے مباحثوں اور ٹی وی شوز میں اٹھائے جانے کا کوئی امکان نہیں۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ مین اسٹریم میڈیا، اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی ممبران کے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ میجوریٹیرین جنون کے خلاف جاسکیں؟ نام نہاد سیکولر اور آزاد خیال لوگون نے بھی ہمیں مایوس کیا ہے۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ وہ ہندو میجوریٹی کمیونٹی کی آستھا کے سامنے "غیر مقبول” اور "غیر حساس” ظاہر ہوں۔
ایک طویل انتظار کے بعد نو نومبر کو فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایودھیا میں متنازعہ جگہ پر ہندوؤں کو رام مندر بنانے کی اجازت دیدی۔ اس تنازعہ کے ایک اور فریق مسلمانوں کو ایودھیا میں کسی اور جگہ پر مسجد بنانے کے لئے کہا۔
ہندوتوا طاقتوں کا موقف ہے کہ بابری مسجد ، جو 16 ویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی ، رام مندر کے عین مقام پر کھڑی ہے۔ ان کی من گھڑت تاریخ کے مطابق ، "مسلمان حملہ آوروں” نے مسجد کی تعمیر کے لئے مندر کو منہدم کردیا تھا۔ حالانکہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نامور مورخین نے بھی اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے۔
سیکولرجماعتوں کے ذریعہ چھوڑ دئیے جانے کے بعد اس وقت مائنارٹی مسلم کمیونٹی سب سے زیادہ کمزور نظر آرہی ہے۔انہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ وہ زیادہ ”روادار” ظاہر ہوں، میجورٹی ہندؤوں کے ساتھ "دوستانہ” ماحول پیدا کریں، ملک کے "وفادار” بن کر رہیں، اور ہندوستانی کلچر (برہمن کلچر پڑھیں) میں بالکل "گھل مل” جائیں۔
اپنی سلامتی کو لے کر ممکنہ خطرہ کے پیش نظر مسلم کمیونٹی اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اگر چہ وہ اس بات کی چوٹ محسوس کر رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ اسے مایوس کردیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متضاد بیانات دے رہا ہے، بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں ، پھر بھی وہ اس سے مایوسی محسوس کرتے ہیں۔ بورڈ ، جوکہ بہت دباؤ میں ہے، "خاموش” رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مسلمان اپنی حفاظت کے لئے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے بچنے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ، مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پیغامات لگائے ہیں۔ کچھ دوسرے ہندوتوا تنظیموں کے زیر اہتمام جلوس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ میڈیا کے سامنے اس "تاریخی” فیصلے پر "اپنے ہندو بھائیوں کو مبارکباد دینے” کے لئے بھی پیش ہوئے ہیں۔
اقلیتی برادری کے برعکس ، اکثریتی برادری فیصلے کا جشن منا رہی ہے۔ اس جشن میں سوشل میڈیا پر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانا اور لکھنا بھی شامل ہے۔ ان میں سے ایک کا استدلال ہے کہ "اگر ایودھیا میں مندر تعمیر نہیں کیا گیا تھا تو کہاں کیا گیا ہوگا!”، ان میں موجود انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ کاشی اور متھرا کے تنازعہ کو بھی حل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ جبکہ ان کے درمیان نام نہاد لبرلز نے اس عمل میں جبر کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ ہندوؤں کی پوزیشن برقرار رکھنے کے بعد مندر بنانے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔
اس بات کو دھیان میں رکھیں کہ کس طرح میجوریٹیرین فورسز کی پوزیشن کو عدالت عظمی کے فیصلے ذریعہ وجہ جواز بخشا جا رہا ہے، کسی کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہندوتوا طاقتیں ابھی تک یہی کہہ رہی تھیں کہ مندر بنانے کا مسئلہ عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔
باوجود یکے کہ ہندو کمیونٹی کی اکثریت سپریم کورٹ کے ذریعہ رام مندر-بابری مسجد فیصلے کا جشن منا رہی ہے، مگر میرا ضمیر مجھے جشن منانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔
میرا ضمیر مجھے اس ظلم کو فراموش کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے جسے 6 دسمبر 1992 کو دن کے اجالے میں انجام دیا گیا۔
ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ اس دن ہزاروں ہندو جنونی اقلیتوں کے صدیوں پرانے مذہبی مقام کو مسمار کرنے کے لئے موبلائز کئے گئے تھے؟
ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ رام مندر تحریک نے تشدد اور فسادات کو جنم دیا تھا جس میں دو ہزار سے زائد لوگوں کی جانیں گئی تھیں؟
ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ ایک ایسی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کے نام پر بے گناہ معصوم لوگ زخمی کئے گئے، مارے گئے اور بے گھر کئے گئے کہ جس کے بارے تاریخی شواہد موجود ہی نہیں کہ وہاں کبھی مندر بھی تھا۔
مجھے ایک بار پھر سے کہنے دیجئے میرا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دے رہا کہ میں کسی ایسے فیصلے پر جشن مناؤں جسے اکثریتی طبقے کے "جذبات” کو مد نظر رکھ کر دیا گیا ہو، وہ فیصلہ میرے ضمیر کو اپیل نہیں کرسکتا کہ جو میجوریٹیرین گورنمنٹ کی طاقت کو چیلنج کرنے کی ہمت نہ دکھا سکتا ہو۔
اس بات سے قطع نظر کہ مین اسٹریم میڈیا اور حکمران طبقہ کیا کہتا ہے مجھے لگتا ہے کہ 6 دسمبر ہندوستانی تاریخ کا سب سے تاریک دن ہے، اس دن صرف ایک مسجد کا گنبد نہیں گرایا گیا تھا بلکہ سیکولرزم اور جمہوریت کے ستون بھی توڑ دئیے گئے تھے۔
لہذا انصاف استبدادی ظلم ، امن و امان اور آئین کی خلاف ورزی ، بے انتہا قتل اور تشدد کے سوالوں کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ لیکن آج کے فیصلے میں ہندوتوا طاقتوں کے ذریعہ تیار اور مینٹین کئے گئے اکثریتی طبقے کے جذبات کو خوش کرنے کی جلدی دکھائی گئی۔ متعدد ججوں پر مشتمل نام نہاد بینچ نے ‘ہندوستان (ہندوؤں پڑھیں) کو ایک "روادار” اور "سیکولر” ہونے کی غلط تصویر پینٹ کرکے تاریخی غلطی کی۔
مجھے شک ہے کہ اس فیصلے سے معاشرے میں امن آئے گا اور فرقہ وارانہ سیاست کا خاتمہ ہوگا۔

میری خواہش ہے کہ میں غلط ثابت ہوں، مگر مجھے شک ہے کہ اس فیصلے کے بعد فرقہ وارانہ تنازعات ماضی کی باتیں بن جائیں گی، مجھے نہیں لگتا کہ رام مندر-بابری مسجد کیس جیتنے کے باوجود اکثریتی طاقتوں کو خوش کیا جا سکتا ہے۔
مجھے ڈر ہے کہ آج کے فیصلے سے فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے اس حد تک بلند ہوجائیں گے کہ وہ قانون کو بھی اپنے ہاتھ میں لینے لگیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستانی ریاست کا رویہ اقلیتوں کے خلاف مزید جارحانہ اور دشمنی کا شکار ہوجائے گا۔
مجھے ڈر ہے کہ ایودھیا کے فیصلے سے اکثریتی طاقتوں کو اقلیتی کمیونٹی کے دیگر مذہبی مقامات پر بھی دعوی کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ میرے خیالات میجوریٹیرین جنون کے خلاف ہیں۔ اس تحریر کو لکھتے وقت میں الاؤ کے پاس بیٹھا ہوں۔ میرے ارد گرد کے لوگ مجھے ‘جے شری رام’ کے ساتھ مبارکباد دے رہے ہیں۔ مجھے کل رات اپنے واٹس اپ نمبر پر ایک پیغام بھی ملا جس میں مجھ پر بابر کا "ایک مخصوص مقامی دوست” ہونے کا الزام لگایا گیا جو اب اس فیصلے کے بعد "اپنے گھر سمرقند واپسی کے لئے لمبے سفر کا آغاز کرے گا”۔

ان سارے الزامات اور ہندو ہندوستان کے جنونی مزاج کے برخلاف ، میں اپنی اختلاف رائے درج کرنا چاہتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آج میرے بیان سے زیادہ اثر نہیں پڑتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ تاریخ اور آنے والی نسل میرے دل کے درد کو سمجھیں گی۔

(ابھے کمار نے حال ہی میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے مطالعات برائے تاریخ میں اپنی پی.ایچ.ڈی مکمل کی ہے۔)
یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

One thought on “میرا ضمیر مجھے جشن منانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

  • نومبر 10, 2019 at 9:59 شام
    Permalink

    دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اس بے باک تحریر پر۔ یقینا آج ہر مسلمان کے یہی جزبات ہیں لیکن خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ خدا تیرے قلم کو طاقت دے اور زیادہ

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے