شہریت (ترمیمی) ایکٹ کا فائدہ اٹھانے کے لئے روہنگیائی مسلم مہاجرین اپنا رہے ہیں عیسائی مذہب!

Spread the love


دی اکانومک ٹائمز کی خصوصی رپورٹ
راہل ترپاٹھی

شہریت ترمیمی ایکٹ نے بہت سارے افغان اور روہنگیائی مسلم مہاجرین کو اس بات پر آمادہ کردیا ہے کہ وہ عیسائی مذہب اختیار کرلیں تاکہ وہ ہندوستانی شہریت کے حصول کے اہل ہوسکیں، بعض جانکارلوگوں کے مطابق مرکزی ایجنسیوں نے اس سلسلے میں حکومت کو آگاہ بھی کیا ہے۔ ایجنسیوں کے حالیہ assessment کے مطابق تقریبا پچیس افغان مسلمانوں کے عیسائیت قبول کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل کو پاس کیا گیا تھا اور رواں سال 10 جنوری کو اس کا نفاذ عمل میں لایا گیا، اس کے تحت افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے غیر مسلم تارکین وطن ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست دے سکتے ہیں، حالانکہ ابھی مرکزی وزارت داخلہ کو CAA 2019 کے سلسلے میں رولز اور ریگولیشن کو نوٹیفائی کرنا باقی ہے۔
جنوبی دہلی میں ایک افغان چرچ کے سربراہ ، ادیب احمد میکسویل نے اکانومک ٹائمز کو بتایا کہ سی اے اے کے بعد عیسائی مذہب اپنانے کی خواہش ظاہر کرنے والے افغان مسلمانوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری تخمینے کے مطابق بھارت بھر میں 40،000 کے قریب روہنگیا مسلمان ہیں ، جن کی سب سے زیادہ تعداد جموں و کشمیر میں ہے۔ ان تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد 2012 کے پہلے سے ہندوستان میں مقیم تھی اور اب وہ عیسائیت قبول کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے ہونے کا دعویٰ کررہی ہے۔

34 سالہ میکس ویل 21 سال کی عمر میں ہندوستان آئے تھے۔ ان کے والدین افغانستان میں کابل کے قریب رہتے ہیں اور سنی اسلام کی پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، "زیادہ تر افغان پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر) کے تحت سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دہلی ، خصوصا East کیلاش ، لاجپت نگر ، اشوک نگر اور آشرم میں 150،000-160،000 افغان مسلمان مقیم ہیں۔ اس برادری نے حال ہی میں ہندوستانی ایجنسیوں کو افغان سکھ ندان سنگھ سچدیوا کا پتہ لگانے میں مدد بھی کی تھی ، جنہیں مشرقی افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے طالبان عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ سنگھ افغانستان کے ایک گرودوارے میں سماجی خدمات انجام دینے گئے تھے۔
اس کے علاوہ ، سرکاری تخمینے کے مطابق بھارت بھر میں 40،000 کے قریب روہنگیا مسلمان ہیں ، جن کی سب سے زیادہ تعداد جموں و کشمیر میں ہے۔ ان تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد 2012 کے پہلے سے ہندوستان میں مقیم تھی اور اب وہ عیسائیت قبول کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے ہونے کا دعویٰ کررہی ہے۔
روہنگیائی مسلمانوں کا تعلق میانمار کے صوبہ راکھائن سے ہے اور انہوں نے میانمار کی مسلح افواج کے ظلم و ستم کے بعد 2011 کے آخر میں ہندوستان ہجرت کرنا شروع کردیا تھا۔
افغان چرچ کے ایک رکن عزیز سلطانی نے کہا ، "ہم ہندوستان میں کئی چرچوں کی حمایت سے پروٹسٹنٹ مشن پر عمل پیرا ہیں۔
پچھلے چھ سالوں میں ، افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان سے چار ہزار افراد کو بھارتی شہریت دی جاچکی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق ، بنگلہ دیش کے ساتھ 2014 میں ہونے والے سرحدی معاہدے کے بعد بھارت کے ذریعہ بنگلہ دیش کے 50 سے زیادہ بستیوں کو اپنی سرزمین میں شامل کرنے کے بعد تقریبا 14،864 بنگلہ دیشی شہریوں کو بھی ہندوستانی شہریت دی گئی تھی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق ، تین پڑوسی ممالک سے تعلق رکھنے والی چھ اقلیتی برادری یعنی ہندو ، سکھ ، بدھ ، پارسی ، جین اور عیسائی ، مذہبی ظلم و ستم کی بنیاد پر شہریت کے لئے درخواست دینے کے اہل ہیں۔ تاہم ، اس قانون کی رو سے ہندوستانی شہریت کے لئے صرف وہی لوگ اپلائی کرسکتے ہیں جو 31 دسمبر 2014 سے قبل ہندوستان ہجرت کرکے آ چکے ہیں۔
سرکاری عہدیداروں کے مطابق سی اے اے کا استحصال ان لوگوں کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے جنہیں یا تو یو این ایچ سی آر کے ذریعہ پناہ کے لئے مسترد کر دیا گیا ہے یا وہ مہاجر مسلمان ہیں جو کٹ آف تاریخ سے پہلے ہی ہندوستان آئے تھے۔ ایک سرکاری اہلکار ، جو اپنی شناخت نہیں ظاہر کرنا چاہتے تھے انہوں نے کہا ، "افغانستان سے 20-25٪ مہاجرین کی درخواستیں مسترد کردی جاتی ہیں ، جس کے بعد وہ اپیل دائر کرسکتے ہیں۔”
افغان پادری سی اے اے کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان کا یہ بھی ماننا کہ اس سلسلے میں گورنمنٹ کو ان لوگوں کے خلاف کچھ ایکشن لینا چاہئے جو شہریت کے حصول کے لئے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اپنا رہے ہیں۔
میکسویل کا ماننا ہے کہ ہر اپلیکیشن (درخواست) کی انکوائری ہونی چاہئے اور پھر افغان چرچ کے ذریعہ اس کی توثیق کرائی جانی چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اسلام چھوڑ کے عیسائیت قبول کرنے کے خواہش مند ہیں انہیں کبھی بھی ایسا کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاتا ہے۔ غلام سخی جو عیسائیت قبول کرنے والوں میں سے شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ چرچ ہمیں پڑھنے، عبادت کرنے اور عیسی مسیح علیہ السلام کی تعلیمات پر مبنی کلاسیز کو اٹینڈ کرنے کی اجازت دیتا ہے، ایک بار جب فیملی فیصلہ کرلیتی ہے تو پھر ہمیں حلف نامے پر دستخط کرنی ہوتی ہے اور بپتسمہ کرانا پڑتا ہے، انہوں نے کہا کہ عیسائیت قبول کرنے کی دوسری بڑی وجہ ، یو این ایچ سی آر کی مدد سے کینیڈا اور دوسرے یورپی ممالک میں آسانی سے ہجرت کرنا بھی ہے۔

انگریزی میں اصل رپورٹ پڑھنے کے لئے کلک کریں!
Muslim, Rohingya refugees convert to Christianity to take benefit of the Citizenship (Amendment) Act

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے