مُن مُن

Spread the love


مصطفی علی
ریسرچ اسکالر، شعبئہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ،
نئی دہلی110025-
8299535742
[email protected]

منت میری جان، ارمان، جنون، سکون، امنگ، آرزو، حیات، کائنات سب کچھ تھی۔میں اس سے ازحدمحبت کرتا تھا۔وہ میری روح کا درماں اور میری ذات کی تکمیل تھی۔وہ بھی مجھے ٹوٹ کر چاہتی تھی۔کام سے واپسی کے بعد اکثر اوقات ہم دونوں ساتھ ہوتے۔ایک دوسرے سے باتیں کرتے مگر کچھ دنوں سے ہمارے بیچ ایک اور ذات کا اضافہ ہو گیا تھا،جو رفتہ رفتہ ہماری محبت کے درمیان بھی حائل ہونے لگا تھا۔ ایک دن جب میں گھر واپس آیا تو وہ اس تیسری ذات میں کچھ ایسی مستغرق تھی کہ مجھے میرے سلام کا جواب تک نہ ملا۔اس دن پہلی بارمیں نے چڑھ کر منت سے کہا:
”منت! تم مجھ سے بے پرواہ ہوتی جا رہی ہو۔ نہ جانے کس جنگل سے اسے پکڑ لائی ہو کہ جب دیکھو اسے گلے لگائے بیٹھی رہتی ہو،آخر تمہیں اس سے اتنا لگاؤ کیوں ہے؟“
”اوہ!سوری، کب آئے تم؟ میں نے دیکھا نہیں۔“
”کیسے دیکھو گی جب اس چہ پدی کو لے کر بیٹھی ہوتو تمہیں کوئی اور چیزبھلا سجھائی دے سکتی ہے؟“
”اس ننھی سی جان سے تمہیں جلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔تمہاری محبت سلامت ہے اس کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔دراصل ایسی حالت میں میری اس سے ملاقات ہوئی کہ میرا اس سے شدیدلگاؤہو گیا۔“
وہ شاید ٹھیک کہہ رہی تھی کیوں کہ پہلے کبھی میں نے اسے کسی پرندے میں دلچسپی لیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی پرندوں کی باتیں کرتے ہوئے سنا تھااس لیے میں نے اس سے تفصیل سے بتانے کے لیے کہاتو اس نے اس طائر خوش نوا سے اپنی ملاقات کی روداد سنانی شروع کی:
”دن کے تین بج رہے تھے۔ موسم نہایت خشک تھا۔ مشرق سے چلنے والی گرم اور روکھی ہوائیں جسم میں سستی پیدا کر رہی تھیں۔کسی کام میں جی نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے سوچا چل کر کچھ دیر اپنے باڑے ہی میں بیٹھ جاؤں۔موسم خزاں بھی کوئی موسم ہے!چہار جانب بے برگ و بار درخت نظر آ رہے تھے۔ ندی نالوں کی کوکھ بھی سونی پڑی تھی۔ہرطرف پتیوں کی سیج سی بچھی ہوئی تھی۔ اسی سیج پر ایک طرف ایک سرخ کتا پاؤں پسارے اطمینان سے لیٹا ہوا تھا۔ آس پاس گلہریاں اپنی خوراک تلاشتی پھر رہی تھیں۔ شاخوں پر بیٹھے پرندے الگ ہی اپنا راگ الاپ رہے تھے۔ باڑے کے قریب ہی ایک چھاونی تھی۔اس چھاونی میں دو ستونوں کے درمیان ایک طویل طاق تھا۔اس پرایک گوریا اپنا بسیرا ڈالے ہوئے تھی۔ طاق کے نیچے زمین پر اس کا بچہ پڑا ہوا تھا۔ وہ طاق سے نیچے کس طرح آیا۔ خود گر گیا تھا یا گوریا نے دانستہ اسے زمین پر لاچھوڑا تھا،یہ مجھے نہیں معلوم مگر اس وقت ہر طرف سے میری توجہ ہٹ کر ان ماں بیٹے پر مرکوز ہو گئی تھی۔بچہ اوپر منہ اٹھا کر کچھ کہتا۔ ماں اس کا جواب دیتی پھر نیچے اتر کر اس کے پاس آتی، اس کا بوسہ لیتی،اس کی پیٹھ تھپتھپاتی،ذرا آگے بڑھ کرگردن اٹھاتی، اپنے جسم کونیچے کی طرف دباتی،پھر پر پھیلاتی اور پرواز کر طاق پر بیٹھ جاتی۔ وہاں سے اپنے بچے کو چیں چیں کر چمکارتی۔ جب بھی اس کا بچہ اوپر دیکھ کر چیں چیں کرتا تو وہ وہی عمل پھر دہراتی۔ گویا وہ اسے درس ِ پرواز دے رہی تھی مگر اس کودک ِناتواں کے پروں میں قوت پرواز ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔خوب کیڑے مکوڑے کھلائی ہوتی تو اس کے پرو ں میں توانائی آئی ہوتی یا پھر ہو سکتا ہے کہ ابھی وہ بچہ پندرہ دنوں کا نہ ہوا ہو۔ گوریا کی اس انتھک کارروائی کو میں بڑے انہماک سے دیکھ رہی تھی کہ اللہ جانے کب موا کلب سرخ اس چڑیا کے بچے کے سر پر پہنچ گیا۔ میں دُردُر اور گوریا چیں چیں کرتی ہوئی اسے بچانے کے لیے دوڑی لیکن وہ خبیث اسے جھپٹ کر برق رفتاری سے فرار ہو گیا۔میں اور گوریا مایوسی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔یہ پہلا اتفاق تھا جب میں اس سے ملی۔ پھر جب بھی میں باڑے کی جانب نکلتی میری اس سے ملاقات ہو جاتی۔ اس سانحے نے میرے دل میں اس کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا کر دیا تھا اور آہستہ آہستہ یہ لطافت،انسیت ولگاؤٹ میں بدل گئی۔اب تو میں نے اسے ایک نام بھی دے دیا ہے”مُن مُن“۔
مُن مُن، بہت ہی پیارا نام ہے۔“میں نے منت سے کہا اور اس پرندے کو بغور دیکھنے لگا۔ وہ ایک خاکی مائل بھورے رنگ کی چھوٹی موٹی،گول مٹول چڑیا تھی۔ بمشکل۵۱ گرام اس کا وزن ہوگا۔لمبائی بھی یہی کوئی ۰۳ سینٹی میٹر رہی ہوگی۔ زمین پر پھدک پھدک کر چلا کرتی تھی۔ اس کی چھوٹی سی آنکھوں میں ۴/لاکھ فی ملی میٹر فوٹوریسیپٹرز کی توانائی والی ریٹینا قدرت نے عطا کی تھی۔ اپنی چھوٹی سیاہ چونچ سے وہ انواع و اقسام کی اشیاء کھاتی، زیادہ تر گھاس پھوس کے بیج، جامن اور حشرات الارض کو اپنا نوالہ بناتی تھی۔بالکلیہ وہ بہت خوبصورت اور سودمندچڑیا تھی مگر مجھے جس چیز سے دقت تھی وہ منت کا اس کی طرف اس قدر متوجہ رہنا اور میری جانب سے تغافل برتنا۔ ابھی اس سے ملے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہوں گے اور اتنے کم دنوں میں ہی دونوں کی گاڑھی چھننے لگی تھی۔میں نے منت کو زچ کرنے کے لیے اس سے الٹے سیدھے سوالات کرنے شروع کر دیے:
”کیا تم اس کی باتیں سمجھ لیتی ہو؟“
”ہاں! بالکل۔“
”مکمل؟“
”نہیں،اکثر۔“
”کمال ہے!بھلا وہ کیسے؟میرا مطلب یہ تو ایک بے نطق پرندہ ہے۔“
”بے نطق کیوں۔۔۔اچھا خاصا بولتا تو ہے اور جب گونگوں اور خبط الحواسوں کی باتیں سمجھی جا سکتی ہیں تو اس کی کیوں نہیں؟“اس جواب سے کچھ دیر کے لیے میں لاجواب ہو گیا۔چند لمحے کے توقف کے بعد میں نے کہا:
”ہاں درست ہے مگر اسے باڑے ہی تک محدود رکھونا، یہ کم ذات گھر میں آتی ہے تو گندگی پھیلاتی ہے۔“
”تمہیں یاد ہے ایک بار تمہارے جسم پردورتک بڑے بڑے چھالے پڑ گئے تھے۔ تم اس سے کتنی کراہیت اور درد محسوس کر رہے تھے۔ہے کہ نہیں؟مُن مُن گھرمیں آیا کرے گی تو ہمیں ایسے کیڑے نقصان نہیں پہنچا پائیں گے کیوں کہ وہ ایسے موذی کیڑوں کو اپنی خوراک بنا لیتی ہے۔“
”اور کھیتوں میں بوئے ہوئے دانوں کو بھی اپنی خوراک بنا لیتی ہے جس سے کاشت کاروں کو خسارہ اٹھانا پڑتا ہے،وہ تونہیں بتاؤگی۔“میں نے بازی جیت لینے والے انداز میں منت کی اور دیکھتے ہوئے کہا۔اس پر وہ مسکراتے ہوئے بولی:
”تمہیں اس کی صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ارے اس ننھی سی جان کی خوراک ہی کیا ہے۔یہ تو معمولی کیڑے مکوڑے پر بھی اپنا گذر بسر کر لیتی ہے۔اس سے ہمیں نقصان کم، نفع زیادہ ہے۔ یہ سوال جو آج تمہارے ذہن میں آیا ہے ۰۵۹۱؁ء کے دہے میں چینی سرکار کے ذہن میں بھی آیا تھا۔لہذا، اس نے ان معصوموں کے قتلِ عام کا فرمان جاری کر دیا۔لاکھوں بے گناہ گوریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ باقی ماندہ گوریوں نے دہشت زدہ ہوکر وہاں سے ہجرت کا راستہ اختیار کر لیا۔ یہ کارروائی فصل بچانے کے لیے کی گئی تھی مگر ہوا اس کے بر عکس۔چند ہی برسوں میں وہاں فصلوں پر تباہی آ گئی۔کئی فصلیں برباد ہونے پر جب قحط جیسی حالت پیدا ہو گئی تو حکومت چین نے اس کی وجہ دریافت کی۔معلوم ہوااب فصلوں میں کیڑے لگ جا رہے ہیں،پہلے گوریا انہیں کھا جایا کرتی تھی۔۔۔۔سمجھے کچھ؟ اب اگر بیچاری بطورمعاوضہ کچھ دانے چگ ہی لیتی ہے تو کیا مضائقہ ہے؟“منت نے تیوری پر بل دیتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔
”چینیوں کو عقل نہیں تھی، انہیں کیمیائی مادیات کا استعمال کرنا چاہیے تھا۔گوریا کھا تی نہ کیڑے لگتے اور نہ ہی ان کے سر قتل کا الزام آتا۔کام ایسا کرنا چاہیے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“میں نے منت کو چھیڑنے کے لیے کہا۔
کیمیائی مادیات کا استعمال محض ان کے لیے خطرے کی گھنٹی نہیں ہے جناب بلکہ ہماری صحت کے لیے بھی مضر ہے۔کبھی ماہر اطباء سے مشورہ لو تو پتہ لگے۔یہ کسی زرخرید زہر سے کم نہیں،اور اس وقت ایسی واہیات اشیاء کا چلن بھی نہیں تھاورنہ تمہاری سوچ پر چینی ضرور کھرے اترتے۔“منت نے یہ کہتے ہوئے مُن مُن کی طرف دیکھا اور دردبھرے لہجے میں بولی:”یہ درختوں کا صفایا، باغ بغیچوں کا خاتمہ، بلند اورپکی عمارتوں کی تعمیر، یہ صنعتی ترقی اور ابلاغیاتی انقلاب، یہ موبائل ٹاور کے ریڈیشن، کارخانوں، فیکٹریوں سے خارج ہوتے دھوئیں، یہ کاربن اگلتی گاڑیاں یہ سب ہماری عمریں گھٹا رہی ہیں اورمُن مُن جیسوں کی زندگی بھی خاک میں ملا رہی ہیں۔
منت کچھ زیادہ سنجیدہ ہو گئی تھی اس لیے میں نے سوچا کہ کچھ ایسا بکوں جس سے اس کا ذہنی تناؤ کم ہوجائے، میں نے ہنستے ہوئے کہا:
”عمر سے یاد آیا، تمہاری مُن مُن کتنے سال کی ہے؟“
”کیوں،تمہیں اس سے شادی کرنی ہے؟“
”نہیں،بس یوں ہی پوچھ لیا، نہیں بتانے کا من ہے تو مت بتاؤ۔“
”ارے یار یہ پرندے دو چار سال سے زیادہ نہیں جیتے۔ہاں ڈنمارک میں ایک گوریا انیس سال تک زندہ رہی تھی، جسے ایک ریکارڈ مانا جاتا ہے۔“
”اچھا!۔۔۔اچھا پہلے توگوریا جھنڈ کے جھنڈ چلا کرتی تھیں مگر اب بہت کم نظر آتی ہیں۔“
”کم!ارے اب تو انہیں سرخ بہی(ریڈ لیسٹ) میں ڈال دیا گیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب یہ بھی گدھ اور ماریشس کے ڈوڈو کی طرح تاریخ بن کر رہ جائیں گی، تمہیں تو پھر بھی اس کے کم ہونے کا احساس۔۔۔“
ابھی منت بول ہی رہی تھی کہ میرے فون کی گھنٹی بجنے لگی۔میں وہاں سے اٹھ کر چل دیا۔ اس دن پہلی بار میں نے منت سے اس کی مُن مُن کے سلسلے میں اتنی باتیں کی تھیں۔اس کے بعد روز ہی مُن مُن کچھ نہ کچھ دیر کے لیے ہم دونوں کے لیے بحث کا موضوع بنتی۔ایک دن جب میں دفتر سے گھرلوٹا تو میں نے مُن مُن کے پاس ایک چڑے کو دیکھا،جو اسی کے مشابہ تھا بس اس کی گردن پر بنی پٹی کالی تھی۔میں نے منت سے اس سے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ مُن مُن پرفدا ہے۔اس کا بہت خیال رکھتا ہے۔جب اس کے ذریعے بنایا ہوا مصنوعی آشیانہ خراب ہو گیا تھا تو اسی نے مُن مُن کے لیے نیا گھونسلا تعمیر کیا تھا اور اب مُن مُن زیادہ تراس کے ساتھ ہی رہتی ہے۔منت نے اس فدائی کا نام ”چُن مُن“ رکھ دیا تھا۔ایک دن میں نے منت کو قطب مینار کی سیر کے لیے راضی کیا تو اس نے مُن مُن کو بھی اپنے ساتھ لے لیا اورمُن مُن نے چُن مُن کو۔وہاں خوب تفریح ہوئی۔شام پانچ بجتے ہی قطب مینار کا پھاٹک بند کرنے کے واسطے اس کا پہرے دار آواز لگانے لگا۔سب کے ساتھ ہم بھی نکل ہی رہے تھے کہ ہم نے دیکھا مُن مُن دوبلیوں کے نرغے میں پھنس گئی ہے،ہم اس سے بہت دور تھے اس لیے محض ترستی نگاہوں سے دیکھنے پر مجبور تھے، تبھی ہم نے دیکھا کہ تہتر میٹربلند قطب مینار کی چوٹی سے مُن مُن کا یار برق رفتاری سے اس کے پاس پہنچا۔بلیوں نے اس کی اور جھپٹا مارا،وہ جس رفتار سے آیا تھا اسی رفتار سے بھاگا۔ادھر بلیوں کا دھیان اپنی طرف سے ہٹتے دیکھ مُن مُن نے بھی پرپھیلاکر اڑان بھری۔اس کو ہلکی سی چوٹ آ گئی تھی۔گھر پہنچ کر منت نے اس کی مرہم پٹی کی۔کچھ دنوں بعد وہ بالکل چنگی ہو گئی۔
ایک دن صبح میری آنکھ تاخیر سے کھلی۔میں نے دیکھا منت بھی ا بھی تک سو رہی ہے۔ میں نے اس کو جگا کر پوچھاکہ کیا بات ہے آج تمہاری مُن مُن ہمیں جگانے نہیں آئی،دیکھو کتنی دیر ہو گئی ہے۔یہ سنتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے تم اتنی گھبرا کیوں گئی۔ تو اس نے بتایا کہ:
”کل ہولی کے دن کسی احمق نے مُن مُن پر رنگ پھینک دیا تھا۔جب وہ میرے پاس آئی تو اس کی حالت انتہائی نازک تھی۔میں نے اس کا علاج کرناچاہامگر وہ مجھے کہیں لے جانا چاہتی تھی۔ میں اس کے ساتھ گئی بھی مگر اندھیرا پھیلنے لگا تو میں واپس چلی آئی۔ میں اس کو بھی ساتھ لانا چاہتی تھی پر وہ تو اپنی ہی ضد پر اڑی ہوئی تھی اس لیے میں نے اس کو چھوڑ دیا۔مجھے لگتا ہے جس نے اس کے اوپر رنگ پھینکا تھا وہ اسی کو دکھانے لے جانا چاہتی تھی، پر ابھی تک وہ آئی کیوں نہیں؟اس کی طبیعت بھی ناساز ہے۔چلو نا چل کر اس کو ڈھونڈتے ہیں۔“
ہم دونوں اسے تلاشتے ہوئے ایک باغیچے میں پہنچے۔وہاں کا ماحول ناخوش گوار لگ رہاتھا۔ پھولوں کا رنگ جیسے اڑا اڑا ہو،پتیاں مرجھائی ہوئی اورشاخیں بے جان ہو، ہواؤں میں سوزکی بو لپٹی ہوئی اورپرندوں کی چہچہاہٹ میں ماتم زدگی کی دُھن ملی ہوئی ہو، جیسے وے کچھ گا نہ رہے ہوں بلکہ چمن کی بے وفائی کا ہمیں نغمہ سنا رہے ہوں۔وہیں ببول کے درخت کی ایک شاخ پر مُن مُن مغموم بیٹھی ہوئی تھی۔ ہم نے اس کو آواز دی پر وہ دوسری جانب مڑ کر بیٹھ گئی اور اپنی دم جھٹکنے لگی۔ مسلسل دیر تک آواز لگانے کے بعد وہ ہماری طرف آئی۔منت کے شانے پر بیٹھ کر آنسو کے چند قطرے ٹپکائی پھرچیں چیں کرتی اڑ کر ایک درخت کی طرف چلی گئی جہاں ایک دھاگا درخت کی ٹہنیوں میں الجھا ہوا تھا اور اس دھاگے سے چُن مُن کا پنجہ بندھا ہوا تھااور وہ اس میں پھنسا بے حس و حرکت الٹا لٹک رہا تھا۔یہ دردناک منظر دیکھ کر ہماری چیخیں نکل گئیں۔بیک وقت منت نے مجھے اور میں نے اسے دیکھا۔منت کے چہرے پر اس وقت جو کچھ لکھا تھا اسے میں صاف طور پر پڑھ سکتا تھا۔مُن مُن کل اتنی پریشان کیوں تھی اور وہ منت کو کس لیے اور کہاں لے جانا چاہتی تھی،یہ اب ہم دونوں بہت اچھی طرح سمجھ رہے تھے مگر اب پچھتانے سے کیا حاصل تھا؟کچھ ہی دیر بعدہم نے دیکھا کہ مُن مُن چُن مُن کے قریب جاکرپاگلوں کی طرح اپنی منقار سے اپنے پنکھ نوچ رہی ہے۔ہم نے اسے بارہا آواز دی، ایسا کرنے سے منع کیا لیکن اس پراس وقت جیسے جنون سوار تھا۔اس نے ہماری ایک نہ سنی۔تھوڑی دیر بعدوہ رکی اوراس نے چن من کی طرف دیکھا پھروہ چُن مُن کی چونچ میں چونچ ڈال کر اس کے بے روح جسم سے لپٹ گئی اور خود بھی بے روح ہو گئی۔
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے