ہندوستانی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی پسماندگی

Spread the love


کرسٹوف جیفرلوٹ/کلائیاراسن اے( دی انڈین ایکسپریس،1نومبر 2019)
2019 کے لوک سبھا انتخابات نے مسلمانوں کی سیاسی پسماندگی کو پھر ثابت کردیا ہے، پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں مسلم کمیونیٹی کے ممبران کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ یہ عمل مسلم کمیونیٹی کی یکساں طور پر واضح سماجی اور اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے ہورہا ہے. 2005 میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد بھی مسلمان دلتوں اور ہندو او بی سی کے مقابلے مسلسل پسماندگی کا شکار ہیں۔
ہندوستان میں دوسری سماجی جماعتوں کے مقابلے مسلم نوجوانوں کی سماجی اور اقتصادی حالتوں کا جائزہ حالیہ این ایس ایس او (پی ایل ایف ایس- 2018) اور این ایس ایس-ای یو ایس(2011-12) کی پوشیدہ رپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے لیا گیا ہے. ہم نے2011 میں شمار کئے گئے 170 ملین مسلمانوں کے89 فیصد کو شمار کرتے ہوئے 13ریاستوں کے اسی گروپ کا استعمال کیا ہے، ہم نے ان تین تغیر پذیر چیزوں کا استعمال بھی کیا ہے اور وہ تین چیزیں یہ ہیں:ان مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں کا فیصد جنہوں نے21 سے 29 سال تک کی مدت میں گریجویشن مکمل کر لیا ہے، تعلیمی اداروں میں15سے 24 سال تک کے مسلم کمیونیٹی کے نوجوانوں کا فیصد اور NEET(جو نوجوان ملازمت،تعلیم اور ٹریننگ کا حصہ نہ ہوں)کے زمرہ میں آنے والے مسلم نوجوانوں کا فیصد۔
یہ تغیر پذیر چیزیں ایک ساتھ ملک کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی سرگرمی کے طریقے واضح کرتی ہیں۔
ان نوجوانوں کا تناسب جنہوں نے گریجویشن مکمل کر لیا 2017 تا 18 مسلمانوں کا تناسب 14 فیصد ہے، جبکہ دلتوں کا تناسب 18فیصد ہے، ہندو او بی سی کا تناسب 25فیصد ہے اور37فیصد اعلی ذات کے ہندوؤں کا تناسب ہے۔ 2017-18 میں مسلمانوں اور ایس سی کے درمیان فرق 4 فیصد پوائنٹ کا ہے، 6 سال قبل (2011-12) میں ایس سی نوجوان تعلیمی حصول میں مسلمانوں سے صرف ایک فیصد پوائنٹ اوپر تھے۔ 2011-12 میں مسلمانوں اور ہندو او بی سی کے درمیان فرق 7 فیصد پوائنٹ تھا اور اب یہ بڑھ کر 11 فیصد پوائنٹ ہو گیا ہے، 2011-12میں تمام ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کا فرق9 فیصد پوائنٹ سے بڑھ کر2017-18 میں11 فیصد پوائنٹ تک ہوگیا ہے۔
ہندی کے مرکزی خطوں میں مسلم نوجوانوں کی حالت اور بھی خراب ہے۔ 2017-18 میں مسلم نوجوانوں کے تعلیمی حصول کا تناسب ہریانہ میں3 فیصد ہے؛ راجستھان میں یہ اعداد و شمار 7 فیصد ہے اور اترپردیش میں یہ 11 فیصد ہے۔
صرف شمالی ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش ہی وہ ریاست ہے جہاں مسلمان نسبتاً تعلیم میں اچھا کر رہے ہیں-ان کے تعلیمی حصول کا تناسب17 فیصد ہے. سوائے مدھیہ پردیش کے ان تمام ریاستوں میں ایس سی مسلمانوں سے بہتر کر رہے ہیں۔ تعلیمی حصول کے اعتبار سے ایس سی اور مسلمانوں کے درمیان فرق ہریانہ اور راجستھان میں 12 فیصد پوائنٹ ہے جبکہ اترپردیش میں 7فیصد پوائنٹ ہے۔2011-12 میں ان تمام ریاستوں میں ایس سی اس پیرامیٹر پر مسلمانوں سے تھوڑا اوپر تھے۔
مشرقی ہندوستان کے مسلم نوجوانوں کے تعلیمی حصول کا تناسب بہار میں8 فیصد ہے، جبکہ اس کے برعکس ایس سی نوجوانوں کے تعلیمی حصول کا تناسب7 فیصد ہے، مغربی بنگال میں یہ 8 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس ایس سی کا9 فیصد ہے، آسام میں یہ7 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس ایس سی کا8 فیصد ہے. باوجودیکہ مسلمانوں اور ایس سی کے درمیان کا فرق گذشتہ چھ سالوں میں کم ہوا ہے، لیکن ایس سی نوجوان پھر بھی بہترکر رہے ہیں۔
مغربی ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلیمی حصول کا تناسب 2011-12 کے مقابلے بہتر ہے، لیکن یہ تناسب ہندو او بی سی اور ایس سی کے مقابلے کوئی اہم تعلیمی ترقی کا اشارہ نہیں کرتا ہے 2017-18میں ،گجرات میں مسلمانوں اور ایس سی کے درمیان تعلیمی حصول کا فرق14 فیصد پوائنٹ ہے؛ چھ سال قبل یہ صرف8 فیصد پوائنٹ تھا. 2011-12 میں مہاراشٹر میں مسلمان معمولی طور پر -دو فیصد پوائنٹ-ایس سی سے بہتر تھے، اب ایس سی کے مقابلے نہ یہ کہ وہ پسماندہ ہوگئے ہیں بلکہ ایس سی نوجوان اب ان سے8 فیصد پوائنٹ آگے چلے گئے ہیں۔
ملک میں مسلم کمیونیٹی کے اعتبار سے تعلیمی حصول کے پیرامیٹر میں تامل ناڈو 36 فیصد گریجویٹ مسلم نوجوانوں کے ساتھ سب سے آگے ہے. کیرالا میں یہ اعداد و شمار28 فیصد ہے، اندھراپردیش میں یہ اعداد و شمار21 فیصد ہے اور کرناٹک میں 18 فیصد مسلم نوجوان گریجویٹ ہیں۔
حالانکہ مسلم کمیونیٹی تامل ناڈو اور اندھراپردیش میں ایس سی سے قریبی مقابلے پر ہے جبکہ کیرالا میں یہ نقصان میں جا رہی ہے۔
جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کی پسماندگی کے مقابلے نسبتاً ایس سی کی تیز سرگرمی کے لیے مزید ترقیاتی عمل کی ضرورت ہے، مثبت امتیازی سلوک کے سیاق میں کمیونیٹی کی حصولیابیاں دکھ رہی ہیں، ان ریاستوں میں مسلمان خوشحال ہیں، دلت اور اور او بی سی مسلمانوں کو او بی سی کوٹا کے تحت ریزرویشن کی سہولیات فراہم ہیں۔
اقتصادی اور سماجی میدانوں میں مسلمانوں کی پسماندگی اس وقت واضح ہوجاتی ہے جب ہم تعلیمی اداروں میں نوجوانوں سے متعلق حالیہ اعداد و شمار کی جانچ کرتے ہیں. مسلمانوں میں ان نوجوانوں کا تناسب جو حالیہ دنوں میں تعلیمی اداروں میں رجسٹرڈ ہیں بہت ہی کم ہے، 15-24 عمر والے کمیونیٹی کے نوجوانوں کا فیصد صرف 39 ہے جبکہ اس کے برعکس ایس سی44 فیصد ہیں، ہندو او بی سی51 فیصد ہیں اور اعلی ذات کے ہندو59 فیصد ہیں۔
مسلم نوجوانوں کا ایک خاصا بڑا تناسب رسمی تعلیمی نظام کو چھوڑ کر NEET کے زمرے میں داخل ہو رہا ہے، کمیونیٹی کے اکتیس فیصد نوجوان اس زمرہ میں آتے ہیں- اور یہ فیصد ملک کی تمام کمیونیٹیوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے-یہی ایس کے درمیان26 فیصد ہے، ہندو او بی سی کے درمیان23 فیصد ہے اور اعلی ہندو ذاتوں کے درمیان17 فیصد ہے۔
یہ رجحان ہندی بیلٹ میں اور بھی واضح ہے، راجستھان میں 38 فیصد مسلم نوجوان NEET کے زمرے میں آتے ہیں، اترپردیش اور ہریانہ میں یہ اعداد و شمار 37 فیصد ہے اور مدھیہ پردیش میں35 فیصد. جنوبی ہندوستان میں رسمی تعلیمی نظام سے باہر مسلمانوں کا تناسب نسبتاً کم ہے-تلنگانہ میں 17 فیصد، کیرالا میں19 فیصد، تامل ناڈو میں24 فیصد اور اندھراپردیش میں27 فیصد ہے۔
حالانکہ مسلمانوں کی پسماندگی کی شروعات کئی سالوں پہلے ہوئی، لیکن حالیہ سالوں میں اس کے مظاہر تیزی سے ظاہر ہورہے ہیں۔
جیسا کہ سام اشہر اور دیگر نے اپنے حالیہ مطالعہ’intergenerational Mobility in India:Estimates from New Methods and Administrative Data ” میں اشارہ کیا ہے’ کہ ہندوستان میں مسلمان تعلیمی سرگرمی سے دور ہورہے ہیں جبکہ ایس سی اس سرگرمی میں شامل ہو رہے ہیں ” اس پریشان کن عمل کو مسلمانوں کی سیاسی پسماندگی سے جوڑنے کے لیے مزید مطالعے کی ضرورت ہے.محافظ جماعتوں کی سرگرمیاں ممکنہ طور پر نوجوان مسلمانوں کو تعلیمی مقاصد کی طرف واپس لانے کا کردار ادا کر سکتی تھیں۔

(مترجم:احمد الحریری، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے