منریگا!

Spread the love


عاصم افضال

آج بازار بند تھا، پورے شہر میں بندی تھی، شیام کو آج بھی کام نہیں مل سکا، انتظار کی گھڑی موت سے بھی سخت ہوتی ہے، سورج کی ٹکیا زردی مائل ہونے لگی تو وہ گھر کی واپسی کو سوچنے لگا، اس کا گھر شہر سے دس کلومیٹر کی دوری پر تھا، ایک پرانی سائیکل اس کی آمدورفت کا ذریعہ تھی تھوڑی سی تاخیر ہوتی تو گھپ اندھیرا ہوجاتا اسی لیے جلد ہی وہ گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔
شیام گھر کی چنائی کا کام کرتا ہے، یہ اس کا آبائی پیشہ ہے، دن بھر کی مزدوری سے کچھ رقم ہاتھ لگتی ہے، اسی سے اپنا گھربار چلاتا ہے، اس کے گھر خوشی آنے والی ہے، اس کی بیوی امید سے ہے، ہر چند وہ چاہتا ہے کہ کچھ پیسے جمع کر لے تاکہ آنے والے حالات سے نبردآزما ہوسکے لیکن آئے دن بندی کی وجہ سے جمع کردہ پونجی بھی ختم ہونے کی کگار پر ہے۔
شیام کی شادی اس کے باپ نے اس وقت کردی تھی جب اس کی مسیں بھیگ رہی تھیں، ابھی عنفوانِ شباب کا ابتدائی مرحلہ تھا،اس کے باپ کا خیال تھا کہ بچے کسی نفسانی اذیت میں مبتلا ہوں اس سے پہلے ہی ان کے ہاتھ پیلے کردیے جائیں۔ شیام کی دلہن ایک خوبرو اور بلا کی ذہین نوخیز لڑکی تھی، صحت وتوانا، بڑی بڑی آنکھیں، چوڑی پیشانی اور گھنگریالے بال نے اس کے حسن میں جلوہ نمائی بکھیر دی تھی، آنکھوں میں کاجل، مانگ میں سندور اور پیشانی پر بندیا لگالیتی تو اس کی خوبصورتی دوچند ہوجاتی، دیکھنے والے حسرت و رشک کی نگاہ سے دیکھتے۔

آج گاؤں بہت سجا ہے، پنڈال میں کافی بھیڑ ہے، تھوڑی ہی دیر میں ضلع کے ممبر اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا ہے، ممبر صاحب کی متوقع آمد کو ایک گھنٹہ ہوچکے ہیں، دھوپ کی تمازت اتنی تیز ہے کہ گاؤں کے لوگ تپے جارہے ہیں۔
آج راحت پیکیج کا اعلان ہوگا؟ : شیام نے بغل میں بیٹھے ہوئے پسینے سے شرابور شخص سے پوچھا۔
بالکل، ضرور ہوگا : اس نے جواب دیا، یہ خون پسینہ آخر کب کام آئے گا۔
مجھے تو لگتا ہے یہ بھی ہاتھی کے دانت کی طرح ہوگا!؟ : شیام نے ایک قیاس ظاہر کیا۔
شبھ شبھ بولو : آدمی پر امید ہوکر بولا….

گاڑیوں کی آواز سے کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ادھر اسٹیج کے استقبالیہ کی بلند آواز سماعت کے لیے الگ بوجھ بن رہی تھی۔ گرمی کی شدت سے اجلاس میں آئی عورتوں کی حالت قابل رحم تھی، ممبر صاحب کابینی وزارت میں ماحولیات کے وزیر تھے۔ صوتی آلودگی پر مختصر تمہیدی کلمات کے بعد گاؤں کو گرین زون پلاننگ کمیشن کے تحت گود لینے کا وچن لیا اور اس سلسلے میں ہونے والے کاموں پر کئی نوکریوں کا اعلان کیا۔

آج شیام بہت خوش تھا، گاؤں کے ایک کنارے منریگا کے کواٹر کی تعمیر کے لیے اسے ایک مہینے کا ٹھیکہ ملا تھا، لیکن یہ غیر متوقع ٹھیکہ اتنی آسانی سے کیسے مل گیا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
تمہاری شبھ کامنائیں پوری ہونے والی ہیں: اس نے بیوی سے ہنس کر کہا۔
اگر میں جلسہ نہ جاتی تو یہ کامنائیں اشبھ ہوجاتیں :بیوی نے جواب دیا۔
کیوں؟ :شیام نے پوچھا۔
آج کومل مجھ سے تمہارے کام کے بارے پوچھ رہی تھی ہونہ ہو اسی نے کچھ کیا ہو۔
وہی کومل جس کا شوہر ممبر صاحب کا بہت قریبی آدمی ہے: شیام نے پوچھا
ہاں : اس کی بیوی نے جواب دیا

______________؛
سورج ڈھلان سے اتر رہا تھا، دن کی سفیدی سرخی میں بدل رہی تھی اور قوس و قزح نے ماحول کو رنگین بنادیا تھا، شفق کی لالی کسی نوخیز بیوہ کی سندور جیسی معلوم ہورہی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش ایسی لگ رہی تھی جیسے کوئی نوبیاہتا اپنی بیوی کے اچانک انتقال پر آنسو بہا رہا ہو، موسم میں ایک تازگی کے باوجود شیام اداس تھا، اس کے پاس ایک خوش آئند خبر تھی لیکن موسم کی اس نزاکت نے اسے اور پریشان کردیا۔ وہ اپنی اس کیفیت کو کسی نتیجہ خیز مقام تک نہیں پہنچا سکا۔
گھر کے قریب پہنچا تو کومل اس کے گھر سے نکلتی نظر آئی اس نے اس کے حال احوال پوچھے اور گھر میں آتے ہی کھانا کھایا اور بستر پر لیٹ گیا، اس نے بیوی کو دیکھا جو آج بہت حسین نظر آرہی تھی، اس کی آنکھ کا کاجل اس کے حسن میں مزید نکھار پیدا کر رہا تھا. اس نے سوچا ضرور قیس کو لیلی کی آنکھوں سے پیار ہوا ہوگا کیونکہ اس کی صورت میں تو کچھ رکھا نہیں تھا، اس نے بیوی کو آواز دی، مشک گزیدہ غزال کے مانند وہ قریب آئی، اس نے اسے غور سے دیکھا اور لب لعلیں سے ایک شئ چراتے ہوئے گویا ہوا، کام بہت جوروں پر چل رہا ہے، مالک نے کہا ہے کہ مجھے رات کی بھی ڈیوٹی کرنی ہے، تنخواہ ڈبل ملے گی، میں بہت خوش ہوں ہمارے آنے والے بچے کو کوئی دقت نہیں ہوگی۔

_________________؛
رات کا تہائی پہر ہوچلا تھا، کؤاٹر کی تعمیر اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ رہی تھی، کچھ دن کے کام رہ گئے تھے، شیام تھکا ماندہ اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھا، کچھ ہی دور چلا تھا کہ اسے سامنے سے ایک گاڑی آتی ہوئی نظر آئی، اسٹریٹ لائٹ کے پاس جب گاڑی گذری تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ تو وہی گاڑی ہے جس میں اجلاس کے دن ممبر صاحب کو دیکھا تھا۔ گھر کے قریب پہنچا تو مہیب سناٹا چھایا ہوا تھا، ایک ہو کا عالم تھا، گھر کے پاس برگد کا پیڑ اسے منحوس زدہ نظر آیا، ہر شئ سے بدفالی ٹپک رہی تھی، دروازے پر پہنچا تو اسے اسے کچھ شک ہوا کیونکہ وہاں کی ہیئت بدلی ہوئی تھی، چیزیں درہم برہم تھیں، اس نے اپنی بیوی کو آواز لگائی جو روزانہ آخری پہر اٹھ کر اس کا انتظار کیا کرتی تھی لیکن کوئی آواز سنائی نہیں دی، وہ گھبرا گیا، بیک وقت کئی اندیشے اس کی ذہن و دماغ میں گھوم گئے، اس نے تیزی سے دروازہ کھولا، کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہے، ہوس کے پجاریوں نے اپنا کام تمام کردیا تھا،اسے پوری دنیا تاریک نظر آرہی تھی، وہ منظر کی ہیبت ناکی کی تاب نہ لاسکا اور بے ہوش ہوکر گر پڑا، ہوش آیا تو اس کا چہرہ سرخ تھا، اس نے چیخنا چاہا لیکن اس کی آواز دور صحرا میں ڈوبتی ہوئی سنائی دی، اچانک اسے ایک جھٹکا لگا اور اس نے کومل کے گھر کی طرف سرپٹ دوڑ لگادی……

عاصم افضال
فالو کریں
Latest posts by عاصم افضال (see all)

عاصم افضال

Asim Ifzaal writes short stories in Urdu Language. Currently he is pursuing M.A from Jamia Millia Islamia, New Delhi.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے