مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا اہم سبب

Spread the love

۶ اپریل ۲۰۱۸ (عزیر احمد، بلاگ)
مسلم پرسنل لاء بورڈ کا شریعت کی حفاظت کے نام پہ عورتوں کے ذریعے پروٹسٹ کرانے کا فیصلہ کتنا صحیح تھا، کتنا غلط، اس سے قطع نظر آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اس کو دوسرے زاویے سے بھی دیکھیں کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پہ حکومت کو شریعت میں مداخلت کا موقع مل رہا ہے، یا جسے بنیاد بنا کے حکومت کہہ رہی ہے کہ مسلمان عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے ہیں، یا مسلم پرسنل لاء ایکٹ کی وجہ سے وہ عورتیں ہندوستانی قانون کے ذریعے عطا کردہ بہت سارے حقوق سے مسلم معاشرے میں محروم ہیں۔

ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ اپنے مسلم معاشرے میں عورت واقعی ایک مظلوم شخصیت ہے، بچپن سے لے کر جوانی تک اور شادی سے لے کر اس کی ازدواجی زندگی تک، مکمل ایک Struggle کی زندگی ہوتی ہے، بیٹی پیدا ہوتے ہی باپ کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے، اور جہاں دو تین لگاتار بیٹیاں پیدا ہوئیں، پھر تو بیوی کو طعنے دے دے کر مار دیا جاتا ہے، بیٹوں کو چراغ تسلیم کیا جاتا ہے، اور بیٹیوں کو صرف ایک بوجھ.بیٹی جب بڑی ہوجاتی ہے تو اس کا رشتہ تلاش کرنا باپ کے لیے بڑا مشکل امر ہوتا ہے، ایک تو اچھے رشتے جلدی ملتے نہیں ہیں، اور مل بھی جائیں تو ڈیمانڈ اتنے کہ باپ بیچارہ اسے دینے کے بعد بقیہ زندگی قرض ادا کرنے میں ہی گزار دیتا ہے ۔

شادی کے بعد ایک لڑکی کی اصل زندگی شروع ہوتی ہے، مسلم معاشرے میں ازدواجی زندگی لوگ کیسے گزارتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، شوہر بیوی کو غلام سمجھتا ہے اور شوہر کے گھر والے بیوی کو لونڈی، جس کو صرف خدمت کے لیے لایا گیا ہوتا ہے، خدمت کرایا جائے کوئی مسئلہ نہیں، بیوی کا حق ہے کہ اپنے شوہر کی خدمت کرے، یا اس کے ماں باپ کی خدمت کرکے اپنے شوہر کے ساتھ احسان کرے، لیکن بدلے میں اسے کم سے کم مکمل حق تو دیے جانے چاہئیں، اس کی عزت نفس کو مجروح تو نہیں کیا جانا چاہیے، اسے برابر اور Equal تو سمجھا جانا چاہیے، بیوی کوئی کمتر یا حقیر چیز نہیں ہوتی ہے، جسے بازار سے خرید کے لایا جاتا ہے، بلکہ نکاح اور بہت سارے رسموں رواجوں کو ادا کرنے کے بعد لایا جاتا ہے، تو ہونا یہ چاہیے کہ اسے فیملی کا ایک باعزت ممبر مانا جائے، اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، لیکن ہوتا کیا ہے، شوہر بات بات پہ کاٹنے دوڑتا ہے، موقع پڑنے پہ مار بھی بیٹھتا ہے اور سب سے بڑا مسئلہ جو ایک عورت کے لیے بے انتہا اذیت کا حامل ہوتا ہے وہ ہے “کبھی بھی، کسی بھی وقت طلاق دیے جانے کا خدشہ”.نکاح کو اپنے مسلم معاشرے میں ایک کچے دھاگے سے بھی کمزور رشتہ مان لیا گیا ہے، ہمارے ادیب اور قلمکار حضرات بھی اسے کچا دھاگا ہی باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ نکاح کے دو بول بھلے ہی ہوتے ہوں، لیکن اس میں مضبوطی ہونی چاہیے، ڈر اور خوف کا شائبہ ایک عورت کو نارمل زندگی نہیں جینے دیتا ہے، اسے ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس کی ذرا سی بھی غلطی پہ اس کا شوہر اسے طلاق نہ دے دے، باوجود یہ کہ طلاق کے واقعات اپنے یہاں کم ہوتے ہیں، لیکن شوہر طلاق کے ڈر کو ہمیشہ ایک ٹول کے طور پہ استعمال کرتے ہیں، اور اسی ٹول کے ذریعے وہ بیوی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے ہیں.طلاق دیے جانے کا خوف ایک عورت کے لیے اتنا بڑا ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ہر جائز و ناجائز خواہش کے سامنے سر خم تسلیم کرنے پہ مجبور ہوجاتی ہے، ہر غم اور مصیبت کو جھیل جاتی ہے، عورتیں نازک ضرور ہوتی ہیں مگر اللہ رب العالمین نے انھیں الگ ہی قسم کی مضبوطی عطا کی ہے، وہ بڑے سے بڑے غم اور بڑی مصیبت کو صرف یہ سوچ کے جھیل جاتیں ہیں کہ کہیں اس کی وجہ سے خاندان اور معاشرے میں اس کے ماں باپ اور اس کے گھر والوں کی بے عزتی نہ ہو، اس کے باپ کی پگڑی کہیں اچھالی نہ جائے، یا اس کی وجہ سے اس کے باپ کا سر کسی کے سامنے کبھی جھکے نا.
لڑکی کے گھر والے بھی داماد اور اس کے گھر والوں کے سامنے سہمے سہمے رہتے ہیں، بیٹی کو ہر مصیبت اور ہر غم جھیل جانے کی تلقین کرتے رہتے ہیں، ایک باپ اپنی بیٹیوں کے ستائے جانے کی داستان سنتا ہے، پھر بھی اسے ہمت نہیں ہوتی ہے کہ اپنے داماد سے پوچھ سکے کہ آپ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں، ایک بھائیاپنی بہن کے اوپر ہورہے ظلم و ستم کے بارے میں جانتا ہے لیکن پھر بھی جب بہنوئی سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ملتا ہے، اور ایسا بہانہ کرتا ہے جیسے اسے کچھ پتہ ہی نہیں، صرف اور صرف اسی ڈر سے کہ مبادا کہیں اس کے کسی عمل سے اس کی بہن کو مزید نقصان نہ پہنچ جائے.آپ دیکھیے ایک عورت اپنے شوہر اور اپنے بچوں کے لیے کتنی قربانیاں دیتی ہیں، لیکن پھر بھی ذرا سی غلطی پہ اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتا ہے، بسا اوقات شوہر غصے میں آکر یکبارگی تین طلاق دے کر اسے اپنی زندگی، گھر، جائیداد سے بے دخل کردیتا ہے، اور ایک ہی منٹ میں ہنستے کھیلتے پریوار کو اجاڑ دیتا ہے، کچھ تو اتنے ظالم ہوتے ہیں کہ صرف طلاق کے الفاظ کو بولنے پہ کفایت نہیں کرتے، بلکہ اس کے سر سامان کو اٹھا کے گھر سے باہر پھینک دیتے ہیں، اور اسے نان و نفقہ تک بھی دینا گوارا نہیں کرتے، ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک عورت کو شوہر کے گھر والوں نے اس طرح گھر سے نکال پھینکا کہ اسے اس کا نقاب تک دینا گوارا نہیں کیا، بیچاری باپ کے دوپٹے سے اپنا چہرہ چھپا کے اپنے باپ کے گھر تک گئی.خود جن عورتوں نے تین طلاق کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کیا، ان پہ ہی غور کیجیے اور پھر اپنی بہنوں کو ان کی جگہ پہ رکھ کے سوچیے تو آپ کو بہت غصہ آئے گا، آپ کو لگے گا کہ اس کے خلاف کچھ ایکشن ہونا چاہیے، یہ کون سی بات ہوئی کہ ایک ہی لمحے میں ایک عورت کی زندگی تباہ کردی جائے اور پورا معاشرہ تماشا دیکھتا رہے۔
اسی طرح تعدد ازواج کا بھی مسئلہ دیکھیے، اسلام نے تعدد ازواج کی اجازت دی ہے لیکن اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا استعمال بیوی کو ستانے، ڈرانے یا دھمکانے کے لیے کیا جائے، ایک عورت کے لیے یہ بہت بڑا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس کی محبت بٹ نہ جائے، وہ سب کچھ گوارا کر سکتی ہے پر محبت میں بٹوارہ کبھی قبول نہیں کرسکتی ہے، ہمارے مسلم معاشرے میں تعدد ازواج کا اتنا غلط استعمال کرتے ہیں کہ پوچھو مت، پچاس سال کا بڈھا پچیس سال کی عورت سے شادی کر رہا ہوتا ہے، جس عمر میں اسے بیٹیوں کی شادی کی فکر ہونی چاہیے، اس عمر میں وہ خود کی شادی کا فکر کر رہا ہوتا ہے، حالانکہ لوگ اتنے ڈبل اسٹینڈرڈ ہوتے ہیں کہ خود تو ڈبل شادی کرنا چاہیں گے، لیکن کبھی نہیں گوارہ کریں گے ان کی بہن یا ان کی بیٹیوں کے شوہر دوسری شادی کرلیں، بلکہ اگر ان کے داماد یا بہنوئی نے دوسری شادی کرلی تو یہی لوگ سب سے پہلے مار پیٹ پہ اتریں گے.میں نہیں کہتا کہ میں تعدد ازواج کا مخالف ہوں، ہاں مگر اس کا استعمال ڈرانے اور دھمکانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، اسلام نے تعدد ازواج کی اجازت “عدل” کے شرط کے ساتھ دیا ہے، ارشاد فرمایا کہ “اگر تمھیں ڈر ہو کہ عدل نہیں کرسکوگے تو ایک ہی شادی کرو”، جب کہ اپنے مسلم معاشرے کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں عدل تو دور کی بات، دوسری شادی ہی نا انصافی کی بنیاد پہ ہوتی ہے،بیوی اگر شوہر کی کسی بات سے راضی نہیں ہورہی ہے، یا شوہر کے کسی فیصلے کے آڑے آرہی ہے، تو شوہر انتقام کے طور پہ دوسری بیوی لا کے بٹھا دیتا ہے، پھر پہلی بیوی کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ملازموں جیسا سلوک کرنے لگتا ہے۔
یہ اور اس قسم کی باتیں ہیں جو مجھے ذاتی طور پہ لگتا ہے کہ مسلم معاشرے کو ان سب چیزوں کے تئیں بیداری لانے کی ضرورت ہے، بیوی کے ساتھ کیسے رہنا ہے، کیسے ان کے ساتھ سلوک کرنا ہے، تعلقات کی کشیدگی کی صورت میں کیسے معاملات کو ڈیل کرنا ہے، یہاں تک کہ اگر طلاق کی نوبت آجائے تو طلاق کیسے دینا ہے، اس کا پروسیجر کیا ہے، یا ضرورت کے وقت دوسری شادی کیسے کرنی ہے، اس میں پہلی بیوی کا کیا رول ہو، اور دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی سے عدل کیسے ہو، ان سب چیزوں کے تعلق سے جب تک بیداری نہیں پیدا کی جائے گی تب تک عورتوں پہ ظلم کیا جاتا رہے گا، اور پھر عورت انصاف پانے کے لیے کبھی سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے گی، اور کبھی حکومت کے ایوانوں میں اپنی آواز بلند کرے گی، یا پھر جب شریعت کے نام پر شریعت کے متوالے شریعت کی دھجیاں اڑائیں گے، نہ “امساك بمعروف” کے فارمولے پہ عمل کریں گے، اور نہ “تسریح باحسان” کے حکم کو بجا لائیں گے، تو ان عورتوں کو یہی لگے گا کہ شریعت نے انھیں کوئی حق ہی نہیں دیا ہے، یا شریعت ان کے تئیں Biased ہے، اس لیے اس شریعت ہی پہ پابندی لگوا دو، جس کا سہارا لے کر یہ مرد حضرات ہم عورتوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور جسے بنیاد بنا کے ہمارے اوپر اتنا بڑا ظلم کرتے ہیں.جتنی عورتیں تین طلاق یا تعدد ازواج کے خلاف آگے آئیں، وہ کوئی بہت زیادہ پڑھی لکھی یا اسلامی شریعت سے واقف عورتیں نہیں ہیں، ان کے ساتھ اسلام کے نام پہ ظلم ہوا، یہ ظلم مردوں نے کیا، تو ان کو اٹھ کھڑا ہونا ہی تھا، آج نہیں تو کل، کب تک اسلام کا نام لے کر ان پہ ظلم کیا جاتا، اب یہ الگ بات ہے کہ ان کی ٹائمنگ نے بی.جے.پی گورمنٹ کو موقع فراہم کردیا کہ وہ اسی بہانےشریعت میں مداخلت کی راہ ہموار کرکے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی طرف بڑھ سکیں.لیکن حقیقت یہی ہے کہ صرف ان عورتوں کو گالی دینے یا برا بھلا کہنے سے کام نہیں چلے گا، جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کا ذمہ دار مرد طبقہ ہے، اور اسی طرح وہ Clergy بھی ذمہ دار ہے، جس نے اپنے فرض منصبی کو صحیح طریقے سے نہیں کیا ہے، جس نے طلاق کے صحیح پروسیجر سے لوگوں کو متعارف نہیں کروایا، جن کے پاس عورتیں اپنے مسائل کے حل کے لیے گئیں، تو انھیں حل کرنے کے بجائے ان کے شوہروں کی موافقت کی یا پھر ان کی بات پہ کان ہی نہیں دھرا.یہ سب اللہ رب العزت کی مار ہے جو ہندوستانی مسلمانوں پہ اسلام، شریعت، اور اپنے فرض منصبی سے بغاوت، نیز اللہ کے احکام و فرامین سے دوری کا نتیجہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے