لنچنگ نئے ہندوستان کا تازیانہ

Spread the love


ہرش مندر
(ہرش مندر ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ، ٹیچر اور رائٹر ہیں، ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، اقلیتوں خاص کر مسلمانوں پر ہورہے ظلم و زیادتی جیسے اہم موضوعات پر ان کی تحریریں ہندوستان کے مؤقر روزنامے "دی ہندو” اور "انڈین ایکسپریس” میں شائع ہوتی رہتی ہیں. زیر نظر مضمون دی ہندو میں 16اکتوبر 2019 کو شائع ہوا تھا. مضمون کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ احمد الحریری کے قلم سے پیش کیا جارہا ہے. احمد الحریری جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں طالب علم ہیں)
نریندر مودی کے 2014 میں منتخب ہونے کے بعد سے ہی ناپسندیدہ ہجومی نفرت سڑکوں ٹرینوں اور لوگوں کے گھر بار تک پھیل چکی ہے.

بے قابو ہجوم نہتے لوگوں کو جن میں بیشتر مسلم ہوتے ہیں کو گھیر کر بے دردی سے ان پر حملہ کردیتا ہے اور کبھی کبھی ان کو قتل بھی کردیتا ہے.
اس بھیڑ کا یہ الزام ہوتا ہے کہ متاثر اور مقتول شخص گائے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہا تھا یا وہ چور تھا لیکن کبھی کبھی ان کا واحد جرم ظاہری طور پر مسلمان ہونا ہوتا ہے جیسا کہ دہلی کے قریب ایک بچہ کو چاقوؤں سے حملہ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔
لنچنگ سے انکار
ہجوم کے ذریعہ قتل کے ان واقعات کو ہم لنچنگ کہتے ہیں، مودی کے عہد حکومت میں لنچنگ کے اس خوفناک بڑھتے ہوئے گراف پر تنقید کا پہلا رد عمل حکمراں ادارہ کی طرف سے انکار کی صورت میں ہوا، دونوں ہی بھارتی جنتا پارٹی کی قیادت اور اس کے نظریاتی مربی وسرپرست راشٹریہ سویم سیوک(آر ایس ایس ) کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ سب صرف نظم و ضبط کی ناکامیاں اور ایسے عام جرائم ہیں جو ہر عہد حکومت میں رونما ہوتے رہے ہیں.
بی جے پی اور مسٹر مودی کی قیادت کی مخالفت پر اعداد و شمار کی رو سے ان معمولی، اتفاقی اور اچانک جرائم کو ذاتی مفادات کی خاطر ایک طریقہ بتا کر ان جرائم کو لنچنگ کی وبا کہا گیا ۔تاہم اب اس طرح کے دفاع کو کوئی توجہ حاصل نہیں ہے کیونکہ مسلسل لنچنگ کے حملوں نے ملک کے بیشتر حصہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
دوسری تاویل جس کی گونج ٹیلیویژن اسٹوڈیوز میں لنچنگ کے ہر واقعے پر سننے کو ملتا ہے اور جس نے ہمارے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ حملے اس لئے ہورہے ہیں کیونکہ مسلمان مسلسل گائے کی خرید و فروخت اور انہیں ذبح کر رہے ہیں، اور اس عمل سے ان کے ہندو پڑوسیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں.
اس جواز کے مطابق ہندوؤں کو جان بوجھ بھڑکایا جاتا ہے،اس پر نہ یہ کہ وہ تشدد اختیار کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی وہ ایک حد سے آگے بھی بڑھ جاتے ہیں جو قابل افسوس تو ہے لیکن فطری بھی ہے، اس طرح کا تشدد صرف اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب مسلمان اور عیسائی اکثریتی ہندو کمیونٹی کے جذبات کی قدر کرنا سیکھ لیں گے اور گائے ذبح کرنے کے عمل سے باز آ جائیں گے۔
بیان میں خامیاں
اس بیان میں بہت سی ظاہری خامیاں ہیں:ہندو بشمول دلت اور آدیواسی،ہندوستان کے بہت سے حصوں میں بیف کھاتے ہیں؛ ہندو کسان اپنے بوڑھے مویشیوں کو چارہ کھانے کے لیے آزاد چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ اب یہ ان لوگوں کے لیے اقتصادی اعتبار سے زیادہ قابل عمل نہیں رہتے کہ وہ ان غیر مفید مویشیوں کو چارہ کھلائیں؛مسلم ڈیری کے کسان بھی ہندؤوں کے مقابلے اپنے مویشیوں کے حق میں کسی طرح بھی کم مخلص اور عقیدت مند نہیں ہوتے؛ اکثر ہجومی حملوں میں(مثلاً پہلو خان حملہ کو لے لیجۓ) اس میں جانور ڈیری کے کاروبار کی غرض س منتقل کۓ جا رہے تھے نہ کہ ذبح کرنے کے لیے؛موجودہ حکمراں ادارہ کے تحت ملک کے بہت سے علاقوں میں لنچنگ کے اچانک آغاز کے تعلق سے کچھ بھی وضاحت اور تفصیل موجود نہیں ہے(2010 سے گاۓ سے متعلق 98% لنچنگ2014 کے بعد رونما ہوئی ہیں ).
اپنے دسہرہ کی سالانہ تقریر میں میں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے لنچنگ کے تعلق سے کچھ اہم وضاحت پیش کرنے کے لیے خود کو مجبور محسوس کیا اور لنچنگ کے بارے میں انہوں نے بات کی۔
اپنے زبردست اثر کی وجہ سے جس کا استعمال آر ایس ایس بی جے پی حکومت پر کرتا ہے،اس وجہ سے آر ایس ایس چیف کے الفاظ کو اس موضوع پر قریب قریب اندازہ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے چار نکات بیان کئے ہیں، پہلا نکتہ یہ ہے کہ لنچنگ ایک ایسا غیر ملکی عمل ہے جو بائیبل کے نظریہ پر قائم ہے اور یہ ہندوستانی روایت کے لیے بلکل اجنبی ہے، دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہندوستانی تہذیبی اعتبار سے تشدد پسند نہیں ہوتے ہیں، تیسرا نکتہ یہ ہے کہ آر ایس ایس کا لنچنگ کے ان حملوں میں کوئی رول نہیں ہے اور وہ انہیں روکنے کی کوشش کرتا ہے، چوتھا نکتہ یہ ہے کہ بھت سے معمولی جرائم کو غلط طریقہ سے لنچنگ کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، اور آخری نکتہ یہ ہے کہ ان جرائم کے قصورواروں کو سزا دینے کے لیے اگر ضرورت پڑی تو قانون کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔
اب آئیے ان میں سے ہر ایک کو اصطلاح کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ بیشتر ہندوستانی زبان میں لنچنگ کا لفظ موجود نہیں ہے(سواۓ بنگالی زبان کے جس میں ایک لفظ ہے- گانادھولائی ہے اور یہ شاید اس لیے ہے کہ کلکتہ برسوں سے جیب کتروں کی لنچنگ کا عینی گواہ رہا ہے)

لیکن مسٹر بھاگوت کا دعویٰ کہ لنچنگ ایک ایسا عمل ہے جو ان مذاہب کے ذریعے وجود میں آیا جن کی مقدس کتابیں ہندوستان سے باہر لکھی گئیں یہ مسلم اور عیسائی مذاہب کے پیروکاروں کے عقائد کے خلاف روایتی آر ایس ایس کے تعصب کو واضح کرتا ہے۔
جو مثال بھاگوت بائبل سے پیش کر رہے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ اس مثال کا مقصد پیار و محبت اور شفقت و ہمدردی کی تعلیم دینا ہے نہ کہ نفرت کی تعلیم دینا ۔
حضرت عیسیٰ مسیح ایک ہجوم سے جو ایک بالغ خاتون کو سنگسار کرنے کے لیے تیار تھا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ-‘ تمہارے درمیان وہ شخص جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو وہی اپنا پہلا پتھر اس عورت پر مارے .
لفظ لنچنگ کی اصل:

بلا شبہ اٹھارویں صدی کے وسط میں امریکا میں لنچنگ لفظ کی ابتدا ہوئی، تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ اس اصطلاح کا سب سے پہلے استعمال پرائیوٹ لوگوں کے ذریعے سنبھالے گئے اضافی عدالتی اختیار کو بیان کرنے کے لیے پلانٹر چارلس لنچ کے ذریعے کیا گیا، پھر گزرتے وقت کے ساتھ انیسویں صدی کے اواخر میں اس کا استعمال بھیڑ کے ذریعے جو زیادہ تر افریقی-امریکی ہوتی تھی کے اضافی عدالتی قتلوں پر ہونے لگا۔
حالانکہ لنچنگ لفظ کی ابتدا غیر ملکی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ہندوستان کے لیے اجنبی ہے، صدیوں سے جادوگرنی اور چڑیل کہہ کر تنہا عورت کو اکثر لنچ کیا جاتا رہا ہے ، ہزاروں سال سے دلتوں کو پوری سفاکیت کے ساتھ لنچ کیا جاتا رہا ہے، جھجھر، کھرلانجی اور اونا تو صرف دلت کی بھیانک لنچنگ کے تین حالیہ مقامات ہیں۔
حالیہ سالوں میں دلتوں کو صرف مونچھیں بڑھانے، گھوڑے پر سوار ہونے اور دومنزلہ عمارت بنانے کی وجہ سے لنچ کر دیا گیا۔
مسٹر بھاگوت کا دعویٰ کہ ہندوستانی تہذیبی اعتبار سے تشدد پسند نہیں ہوتے ہیں اور ان کی تہذیب پر امن بقائے باہمی کو فروغ دیتی ہے بھی تاریخی اور موجودہ تحقیق کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔
جو مثال وہ پیش کر رہے ہیں کہ پانی کے تنازعات میں مخالفین سے دوستانہ انداز میں بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا تھا بالکل بھونڈا مذاق ہے کیونکہ دلتوں پر بھت سے بھیانک لنچنگ کے حملے اس وقت واقع ہوئے ہیں جب انہوں نے صرف پانی کے اشتراک کی خواہش کی ظاہر کی حتی کہ ایسا آج بھی ہورہا ہے.
یہ ایک عوامی تالاب سے پانی ہی لانے کا واقعہ تھا جب مسٹر امبیڈکر نے شدید عوامی احتجاج کیا تھا۔
سچ کا تعلق:
لیکن شاید سب سے بے باک جھوٹ مسٹر بھاگوت کی یہ بحث ہے کہ آر ایس ایس کا لنچنگ حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور آر ایس ایس ان حملوں کو روکتا ہے، "کاروان محبت " کے ساتھ لنچنگ کے مقامات کے31 سے زیادہ سفروں میں میں نے پایا ہے کہ کوئی بھی لنچنگ اچانک اور اتفاقی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی لنچنگ ایسی تھی جس میں کسی آر ایس ایس کے ممبر نے اسے روکنے کی کوشش کی ہو، امن کے کارکنوں کی نظروں سے ان لوگوں کی شدت پسند ہندوتوا عقائد کی پیروی اور جڑاؤ کا راز پوشیدہ نہیں ہے، اور یہ بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ زیادہ تر لنچنگ کے متأثرین مسلمان ہیں اور جنہیں کبھی کبھی "جے شری رام” کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ایک سخت تکنیکی شعور میں ان کے آر ایس ایس کے ممبر شپ کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ ان کے رسمی تعلق اور جڑاؤ کا کوئی بھی عوامی ریکارڈ نہیں ہوتا ہے، ناتھو رام گوڈسے ہی کو لے لیجۓ، گوڈسے اس وقت جب اس نے گاندھی جی کو قتل کیا تھا آر ایس ایس کا رسمی ممبر نہیں تھا لیکن اس حقیقت کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ گوڈسے آر ایس ایس کے ہندو بالادستی کے نظریہ پر کاربند تھا۔
مسٹر بھاگوت کا چوتھا دعویٰ یہ تھا کہ بھت سی لنچنگ معمولی جرائم کا نتیجہ ہوتی ہیں جبکہ یہ ایک پرانی تاویل ہے جس کا مقصد لنچنگ کی صورت کو نفرت پر مبنی جرم کہہ کر چھپانا ہوتا ہے کیونکہ نفرت پر مبنی جرم لوگوں کو اس کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بناتا ہے، یہ اتفاقی واقعہ نہیں ہوسکتا ہے کہ 86% لوگ جو گائے سے متعلق حملوں میں مارے گئے ہیں وہ سب مسلمان ہیں.
بھاگوت کی آخری بات کہ ہجومی تشدد کے متأثرین کو انصاف دلانے کے لیے سخت قانون کی ضرورت ہے، اس پر کم ہی بھروسا کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان حملوں میں سے اکثر حملے انہیں ریاست میں واقع ہوئے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، اور حملہ آوروں کے خلاف انصاف کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ قوانین ہی کافی ہیں، بجائے اس کے تقریباً بلا استثنا ان تمام ریاستوں میں پولیس انتظامیہ قاتلوں کو تحفظ دینے اور متأثرین کو مجرم ٹھرانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
اس طرح مسٹر بھاگوت غیر ملکی مذاہب کو تشدد کا حامی بتا کر؛ ہندوستانی تہذیب کو بنیادی طور پر امن کے قابل قرار دے کر اور آر ایس ایس کو تشدد کرنے اور اس کی تحقیق و جانچ کی ذمہ داری سے آزاد کرکے،اسی طرح ریاستی حکومتوں کو لنچنگ روکنے اور انصاف کو یقینی بنانے کی ناکامیوں سے بری کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے بہت سے قدیم محاوروں پر آج بھی یقین رکھتے ہیں-
یہ بہت ہی حیرت انگیز بات ہے کہ لنچنگ کے حملوں سے بچ جانے والے لوگوں کے لیے ان کے اعلان میں کوئی تحفظ، تسکین اور تسلی کا سامان نہیں تھا.
ان کے الفاظ شفقت ومحبت سے خالی تھے، ان میں نہ ہی غلطیوں کا اعتراف تھا اور نہ ہی افسوس وندامت کا اظہار، اسی لیے ایسا لگتا ہے کہ نفرت اور خوف کی طویل اور تاریک رات جس میں لنچنگ کو بے لگام کردیا گیا ہے جلد رخصت نہیں ہوگی۔۔۔ اور یہی نئے ہندوستان کا تازیانہ ہے۔۔۔
( مترجم :احمد الحریری. جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے